فہرست
تعارف
نظم ”سیّد کی لوحِ تُربَت“ علامہ اقبال کے دورِ اوّل کی ایک بصیرت افروز اور تاریخی نظم ہے جس میں شاعر نے تخیل کی آنکھ سے سر سید احمد خان کے مزار کی لوحِ کتبہ کو گویا کر کے ملتِ اسلامیہ کے تین بنیادی رہنما طبقات یعنی علماء، اربابِ سیاست اور شعراء کو ایک جامع فکری و عملی منشور عطا کیا ہے۔
سر سید کی زبان سے اقبالؔ علماء کو تنبیہ کرتے ہیں کہ تعلیمِ دین کے نام پر قوم کو ’ترکِ دنیا‘ نہ سکھائیں، فرقہ واریت اور دل آزاری سے بچیں اور بے فائدہ ماضی کے قصے نہ دہرائیں؛ مدبرین و سیاست دانوں کو درس دیتے ہیں کہ اخلاقی دلیری، بے باکی اور خوف و ریا سے پاک نیت ہی سیاست کا اصل عصا ہے؛ جبکہ شعراء کو اپنی زبان بے آبرو ہونے سے بچانے، اور اپنے اعجازِ کلام و شعلۂ آواز سے خوابیدہ قوم کو جگانے اور باطل کو جلانے کی تلقین کرتے ہیں۔
سر سید احمد خان کے تاریخی کردار اور 1857ء کے بعد ان کی تعلیمی و ملی خدمات پر پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-
سر سیّد احمد خان مرحوم و مغفور انیسویں صدی میں انقلابِ 1857ء کے بعد ہندوستان کے مسلمانوں کی مادی اور سیاسی پشت پناہ تھے۔ مولانا محمد قاسم نے دیوبند میں مسلمانوں کے دین کی بقا کے لیے مدرسہ قائم کیا۔ سر سیّد نے علی گڑھ میں اُن کی دنیا سنوارنے کے لیے کالج قائم کیا۔ اگرچہ علی گڑھ تحریک سے اسلام کو اور ضمناً مسلمانوں کو کئی پہلوؤں سے نقصان پہنچا، لیکن اس کی ذمہ داری سر سیّد پر نہیں ہے۔ اُن کی نیت بھی نیک تھی اور وہ انگریز پرستی کے بھی خلاف تھے۔ نیز ان کے اندر اخلاقی جراءت تو اس قدر تھی کہ آج کل کے لیڈروں میں اس کا عشر عشیر بھی نظر نہیں آتا۔ اقبالؔ نے سر سیؔد کی زندگی اور اصلاحی کارناموں سے جو اثر قبول کیا، اس کو سر سیّد موصوف کی لوحِ تُربت کی زبان سے اپنی قوم کے علماء، سیاسی قائدین اور شعراء کو نظم ”سیّد کی لوحِ تُربَت“ کی صورت میں پیغام دیا ہے۔
سر سید علماء کو ان الفاظ میں نصیحت کرتے ہیں کہ اگر آپ حضرات اپنی قوم کو دینی تعلیم دینی چاہتے ہیں تو بڑے شوق سے دیجیے، لیکن:
1۔ دین کے ساتھ ساتھ دنیا کی اہمیت بھی ان کے دماغوں میں جاگزیں کیجیے۔
پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بانگِ درا
2۔ فرقہ بندی سے اجتناب کرنے کی تلقین کیجیے، کیونکہ اس سے قوم تباہ ہو جاتی ہے۔
3۔ تصنیف و تالیف میں دِل آزاری کا رنگ پیدا ہونے نہ پائے، ورنہ تصنیف کا مقصد فوت ہو جائے گا۔
4۔ اُن باتوں کو زیرِ بحث نہ لائیے جو گزر چکی ہیں۔ اور اب اُن کے دہرانے سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔
5۔ اِس کے بعد مدبّرین (اربابِ سیاست) کو یہ نصیحت کرتے ہیں کہ قوم کے لیڈروں میں دلیری اور اخلاقی جراءت کا پایا جانا پہلی شرط ہے۔ مُسلمان کی پہچان یہ ہے کہ نہ وہ ڈرپوک ہوتا ہے اور نہ ریاکار یا منافق اور بادشاہوں کے سامنے کلمۂ کہنے سے ڈرتا ہے۔
6- اس کے بعد شعراء کو نصیحت کرتے ہیں کہ اپنی زبان کو ہجو، مذمت اور بدگوئی سے پاکر رکھو اور کسی کی خوشامد مت کرو کیونکہ پھر تمہارا کلام بے وقعت ہو جائے گا اور اپنی شاعری کو قوم کو بیدار کرنے اور صداقت کی تبلیغ کے لیے وقف کر دو۔
نظم کی اشاعتِ اول اور تیس اشعار پر مشتمل متن کی تصدیق کرتے ہوئے درج ہے:-
یہ نظم 1903ء کے مخزن میں شائع ہوئی تھی۔ اصل نظم کے تیس شعر تھے۔ نظرِ ثآنی میں صرف چودہ باقی رکھے۔
سر سیّد احمد خان وہ بزرگ رہنما تھے جنہوں نے زوالِ حکومت کے بعد مسلمانوں کی مستقل ملّی ہستی کی بنیاد رکھی اور قومی زندگی کے احیاء کا وہ کارنامہ انجام دیا، جس کی بدولت مسلمان اس سرزمین میں اعزاز و اکرام کے بلند رتبے پر پہنچے۔ سیّد مرحوم مسلمانوں کے شہرۂ آفاق رہنما، مصلح اور مدبّر تھے۔ مسلمانوں میں جدید تعلیم کا آغاز آپ ہی نے کیا۔ علی گڑھ رہتی دنیا تک ان کا نام زندہ رکھے گا۔ وہ 1817ء میں پیدا ہوئے اور 1897ء میں وفات پائی۔ قومی اصطلاح میں عزیمت کا جو مقام انہیں حاصل ہوا، وہ کسی دوسرے رہنما کے حصے میں نہ آیا۔
”مخزن“نے یہ نظم چھاپتے وقت مندرجہ ذیل تمہیدی نوٹ لکھا:-
مطالبِ بانگِ درا از مولانا غلام رسول مہرتخیّل کے کانوں نے سر سیّد مرحوم کی قبر سے وہ صدائے درد سُنی، جس کی ایسے دِل سے جو مرحوم کے پہلو میں تھا، ہو سکتی تھی۔ خوبی یہ ہے کہ سر سیّد زندگی میں کئی حیثیتوں کا جامع تھا۔ اسی طرح اس کی لوحِ تُربت سے وہ کلماتِ نصیحت شیح محمد اقبال کی طبعِ رسا نے اخذ کیے ہیں جو زندگی کے مختلف مشاغل کے جامع ہیں اور جن سے ہر طبقے کے لوگ مستفید ہو سکتے ہیں۔ اس زمانے میں جب دہلی میں محمڈن کانفرنس کے جلسے زور و شور سے ہو رہے ہیں، اِن کا شائع ہونا ایک لطفِ مزید رکھتا ہے۔
ماہنامہ ”مخزن“ (بابت جنوری 1903ء، صفحہ 73)
نظم کے فکری پس منظر اور قومی قائدین کے فرائض پر ڈاکٹر شفیق احمد تحریر کرتے ہیں:-
نظم سیّد کی لوحِ تُربَت علامہ اقبال کے نزدیک اہلِ ہند کے لیے سر سید احمد خان کے پیغام کی حیثیت رکھتی ہے۔ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ کسی قوم کی رہنمائی کا فرض، مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کے علاوہ شاعروں اور ادیبوں پر ہوتا ہے۔ اس لیے علامہ اقبال نے سر سید کے پیغام کے طور پر اُن طبقوں کو مخاطب کیا ہے اور اُنہیں ان کا وظیفۂ منصب بھی بتایا ہے۔ پُر لطف بات یہ ہے کہ جب علامہ نے یہ نظم کہی اُس وقت مذہبی رہنماؤں، سیاست دانوں اور شعراء میں یہ امراض عام طور پر پائے جاتے تھے، جن سے اس نظم میں بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اس نظم کا قابلِ غور پہلو یہ بھی ہے کہ علامہ اقبال نے اس نظم میں سر سید کے جن خیالات کو پیش کیا ہے، آخر عمر میں سر سید احمد خان خود ان کو مسترد کو چکے تھے اور انہوں نے مختلف تلخ تجربات کے بعد ہندو مسلم علیحدگی پر زور دیا تھا۔
ڈاکٹر شفیق احمد، شرح بانگِ درا
بند نمبر 1
اے کہ تیرا مرغِ جاں تارِ نفَس میں ہے اسیر
اے کہ تیری رُوح کا طائر قفَس میں ہے اسیر
اِس نظم میں اقبالؔ نے سر سید احمد خاں کا پیغام اپنے الفاظ میں پیش کیا ہے۔ سر سیّد کی لوحِ تُربت (لوحِ تُربت: مزار کا پتھر، جس پر نام اور تاریخِ وفات کندہ ہوتی ہے) ہندوستان کے لوگوں سے مخاطب ہو کر کہہ رہا ہے کہ:-
اے میری قبر کی زیارت کرنے والے! تیری جان کا پرندہ (مرغِ نفس) تیری سانس (موجِ نفس) کے رشتے (تار) میں بند (اسیر) ہے، جبکہ تیری روح کا پرندہ (روح کا طائر) پنجرے (قفس) میں قید (اسیر) ہے۔ مراد یہ ہے کہ تیری سانسوں کا سلسلہ جاری ہے اور تیری روح تیرے بدن میں موجود ہے، یعنی تُو ابھی زندہ ہے۔
اس چمن کے نغمہ پیراؤں کی آزادی تو دیکھ
شہر جو اُجڑا ہوا تھا اُس کی آبادی تو دیکھ
چونکہ تُم ابھی قیدِ حیات میں ہو (یعنی زندہ ہو) اس لیے ذرا اس چمن میں نغمے الاپنے والوں کی آزادی تو دیکھو! ذرا دیکھو کہ میں نے ویرانے میں ایک شہر بسایا تھا، جہاں کے طلبہ اور اساتذہ آزادی سے محوِ تقریر و تقریر (یعنی نغمہ پیرا) ہیں، جس سے ویرانے میں رونق آ گئی ہے۔ بظاہر اشارہ علی گڑھ کی طرف ہے جو ایک غیر معروف مقام تھا اور سر سیّد کے قائم کیے ہوئے کالج کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت کا حق دار بن گیا ہے۔ ذرا دیکھ کہ اس دارالعلوم میں طلبہ کس انداز سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ان کی وجہ سے مِلت کا اُجڑا ہوا شہر پھر آباد ہو گیا ہے۔
فکر رہتی تھی مجھے جس کی وہ محفل ہے یہی
صبر و استقلال کی کھیتی کا حاصل ہے یہی
سن لے! کہ جو محفل میرے خوابوں کا ماحصل تھی، وہ اپنی تعبیر کی حیثیت سے تیرے روبرو (سامنے) ہے۔ میں نے جس صبر و استقلال کے ساتھ جد و جہد سے یہ کھیتی کاشت کی تھی، اس کا پھل سامنے آ چکا ہے۔ یعنی میں اپنی زندگی میں جس قسم کے تعلیمی ادارے کا تصوّر کیا کرتا تھا اور جس کی تعمیر و ترقی کے لیے میں نے بے حد محنت کی تھی، اب میری محنت کا پھل اس ادارے کی بارونق محفلوں کی شکل میں سب کے سامنے موجود ہے۔
سنگِ تُربت ہے مرا گرویدۂ تقریر دیکھ
چشمِ باطن سے ذرا اس لوح کی تحریر دیکھ
سر سید احمد خاں کہتے ہیں کہ دیکھ! میرے مزار (تُربت) پر لگی ہوئی پتھر کی تختی (سنگِ تُربت) اب گفتگو کی طرف مائل ہو رہی ہے۔ ذرا اپنے باطن کی آنکھ کھول، اور لوحِ مزار پر جو کچھ لکھا اُسے غور سے پڑھ!
بند نمبر 2
مدّعا تیرا اگر دنیا میں ہے تعلیمِ دیں
ترکِ دنیا قوم کو اپنی نہ سِکھلانا کہیں
علامہ اقبال کو سر سید کی تربت سے جو پیغام ملتا ہے اس کا لُبِ لباب یہ ہے کہ:-
اے میری قبر کی زیارت کرنے والے! اگر تُو کوئی مذہبی رہنما ہے اور دنیا میں دین کی تعلیم عام کرنا چاہتا ہے تو یہ بہت ہی نیک کام ہے، لیکن قوم کو رہبانیت (ترکِ دنیا، بے عملی، دنیاوی فرائض سے غافل ہوجانا) کا سبق نہ سکھانا بلکہ با عمل زندگی گزارنے کی طرف مائل کرنا، تاکہ وہ ترقی کی دوڑ میں باقی اقوام سے پیچھے نہ رہ جائے۔
واضح رہے کہ دینِ اسلام میں رہبانیت کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ کا ہر پہلو عملی زندگی کی ایک روشن مثال ہے۔ علامہ اقبال رہبانیت کے سخت خلاف تھے، چنانچہ آپ نے اپنے کلام میں بھی اس کا اظہار فرمایا ہے:
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیری
کہ فقرِ خانقاہی ہے فقط اندوہ و دِلگیری
ترے دین و ادب سے آرہی ہے بوئے رہبانی
یہی ہے مرنے والی اُمتوں کا عالمِ پیری
(ارمغانِ حجاز)
؎ کلیسا کی بنیاد رہبانیت تھی
سماتی کہاں اس میں فقیری میری
(بالِ جبریل: دین و سیاست)
وا نہ کرنا فرقہ بندی کے لیے اپنی زباں
چھُپ کے ہے بیٹھا ہوا ہنگامۂ محشر یہاں
فرقہ بندی کے لیے زبان نہ کھولنا (وا نہ کرنا) یعنی فرقہ بندی کی تعلیم نہ دینا، اس لیے کہ فرقہ بندی کے اندر قیامت خیز ہنگامہ (ہنگامۂ محشر) چھپا ہوا ہے، وہ بپا ہو گا تو سب کچھ تلپٹ (اُلٹ پلٹ) کر ڈالے گا یعنی باہمی جھگڑوں میں قوم تباہ ہو جائے گی۔ فرقہ بندی سے ملتِ اسلامیہ پارہ پارہ ہو جائے گی اور یوں اس کی تباہی کا سامان ہوگا۔ دُکھ کی بات یہ ہے کہ آج نام نہاد مُلاؤں نے اسی فرقہ بندی پر سارا زور صرف کر کھا ہے، چناچنہ آئے دِن مختلف صورتوں میں مسلمان باہم بر سرِ پیکار ہوتے رہتے ہیں۔
؎ فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
(بانگِ درا: جوابِ شکوہ)
؎ شجر ہے فرقہ آرائی، تعصب ہے ثمر اس کا
یہ وہ پھل ہے کہ جنت سے نکلواتا ہے آدم کو
(بانگِ درا: تصویرِ درد)
وصل کے اسباب پیدا ہوں تری تحریر سے
دیکھ! کوئی دل نہ دُکھ جائے تری تقریر سے
تُو اگر کوئی دینی تصنیف کرے تو اس کا انداز ایسا ہونا چاہیے جس سے قوم کے افراد میں ایک دوسرے سے میل جول اور اتحاد کو ترقی ہو۔ اگر تُو کسی دینے مسئلے کے متعلق تقریر کرے تو یہ امر بہ طور خاص پیشِ نظر رکھنا کہ کوئی ایسی بات زبان پر نہ آ جائے، جس سے کسی کا دِل دُکھ اُٹھے۔ اس لیے کہ دِل دُکھا کر میل جول اور اتحاد بڑھایا نہیں جا سکتا۔
محفلِ نَو میں پرانی داستانوں کو نہ چھیڑ
رنگ پر جو اَب نہ آئیں اُن فسانوں کو نہ چھیڑ
زمانہ بہت آگے نِکل چکا ہے۔ نئے زمانے (محفلِ نو یعنی نئی محفل) میں پُرانے قصے چھیڑنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ جن کہانیوں میں اب کوئی لُطف باقی نہیں اور جو بے وقت کی راگنی معلوم ہوتی ہیں، اُنھیں کیوں چھیڑا جائے؟ فرقہ واریت اور مذہبی اختلافات سے متعلق مباحث اور ہندو مسلم کے تاریخی اختلافات اب ماضی کا حصہ بن چکے ہیں۔ اب اِن قصوں کو چھیڑنا مناسب نہیں۔ اس لیے کہ اب یہ اپنا اثر کھو چکے ہیں اور جو افسانے اپنا اثر ذائل کر چکے ہوں، ان کا ذکر بھی لا حاصل ہوتا ہے۔
بند نمبر 3
تُو اگر کوئی مدبّر ہے تو سُن میری صدا
ہے دلیری دستِ اربابِ سیاست کا عصا
اگر تُو کوئی سیاست دان ہے اور قوم کی بہتری و بھلائی کے لیے تدابیر کرنے والا (مدبّر یعنی تدبیر کرنے والا، عاقل، دانشمند) شخص ہے تو تجھے یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ قوم کے سیاسی لیڈروں کے لیے جراءت مندی اتنی ہی ضروری اور مفید ہے، جتنا حضرت موسی علیہ السلام کے لیے اُن کا عصا اہم تھا، کہ جس کی بدولت اُنہوں نے خدائی کا دعوی کرنے والے فرعون کو زیر کیا (دیکھیے سورۃ الاعراف آیت نمبر 103 تا 126، سورۃ طہ آیت نمبر 9 تا 35)۔
سیاستدانوں کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ حالات خواہ کچھ بھی ہوں وہ اپنا مافی الضمیر بِلا خوف و خطر بیان کریں، اور اپنی عوام حقوق کے لیے بے خوف ہو کر لڑیں۔
مدبّرین (اربابِ سیاست) میں دلیری اور اخلاقی جراءت کا پایا جانا پہلی شرط ہے۔ مُسلمان کی پہچان یہ ہے کہ نہ وہ ڈرپوک ہوتا ہے اور نہ ریاکار یا منافق اور نہ بادشاہوں کے سامنے کلمۂ کہنے سے ڈرتا ہے۔
عرضِ مطلب سے جھجک جانا نہیں زیبا تجھے
نیک ہے نیّت اگر تیری تو کیا پروا تجھے
جب کوئی مطالبہ پیش کرنا ہو اور وہ حق پر مبنی ہو تو تیرے لیے جھک جانا تجھے زیب نہیں دیتا۔ سچائی کے اظہار کے لیے کسی قسم کی جھجک کسی طور پر بھی مناسب نہیں۔ اس لیے کہ اگر نیت نیک ہو تو اپنی بات کہنے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے۔
بندۂ مومن کا دل بیم و ریا سے پاک ہے
قوّت فرماں روا کے سامنے بے باک ہے
بندہ مومن کا دِل ہر طرح کے خوف اور ریاکاری سے پاک ہوتا ہے۔ حکمران خواہ کتنے ہی جابر ہوں، ان کے روبرو اپنا نقطہ اظہار پوری بیباکی اور جراءت مندی کے ساتھ کرتا ہے۔ وہ کوئی سچا مطالبہ پیش کرتا ہوا ڈرتا نہیں اور نہ کسی دِکھاوے پر عمل کرتا ہے۔ اس کے دِل میں صرف اللہ تعالی کا خوف ہوتا ہے۔
بقول علامہ اقبال:-
کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق
نے ابلۂ مسجد ہوں، نہ تہذیب کا فرزند
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی ناخوش
میں زہرِ ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند
چُپ رہ نہ سکا حضرتِ یزداں میں بھی اقبالؔ
کرتا کوئی اس بندۂ گستاخ کا منہ بند
(بالِ جبریل)
نوٹ: سر سید احمد خان نے رسالہ ”اسبابِ بغاوتِ ہند“ میں انگریزوں کو سچی باتیں بتائی تھیں، جس سے اُنہیں اس زمانے میں جان کا خطرہ بھی ہو سکتا تھا مگر اُنہوں نے دلیری سے کام لیا اور ڈرے نہیں۔
بند نمبر 4
ہو اگر ہاتھوں میں تیرے خامۂ معجز رقم
شیشۂ دل ہو اگر تیرا مثالِ جامِ جم
اے میری قبر کی زیارت کرنے والے!
تُو اگر معلمِ مذہب و اخلاق اور سیاسی رہنما کی بجائے شاعر و ادیب ہے اور تیرے ہاتھ میں ایسا قلم ہے جو اپنی تحریر کے ذریعے معجزے دکھا سکتا ہے (خامہ: قلم، معجز رقم: معجزے دکھانے والا، خامہ معجز رقم: باکمال تحریریں لکھنے والا قلم) اور تیرا دِل جمشید کے ساغر (جمشید کے پیالہ) کی طرح صاف اور شفاف ہے، ذاتی اغراض سے پاک ہے، تو سُن!
پاک رکھ اپنی زباں، تلمیذِ رحمانی ہے تُو
ہو نہ جائے دیکھنا تیری صدا بے آبرو!
تُو اپنی زبان (یعنی شاعری اور نثر) کو فضول باتوں سے پاک رکھ۔ اس لیے کہ تُو براہِ راست اللہ تعالی کا شاگرد (تلمیذِ رحمانی: )۔ چناچنہ تجھے اپنی زبان کو ہجو اور بدگوئی سے پاک رکھنا چاہیے، اور حاکموں سے مفاد حاصل کرنے کے کی خاطر اُن کی بے جا قسم کی مدح سرائی کرنے سے گریز کرنا چاہیے کہ اس سے قوم میں تُو بے آبرو ہو کر رہ جائے گا۔
سونے والوں کو جگا دے شعر کے اعجاز سے
خرمنِ باطل جلا دے شُعلۂ آواز سے
اے شاعر! تجھے چاہیے کہ تُو اپنے خامۂ معجز رقم (معجزے رقم کرنے والا قلم) سے ایسی شاعری لکھ جو قوم کو خوابِ غفلت سے بیدار کر دے اور اپنی آواز کے شعلے سے باطل کے کھلیان (کھیت) جلا کر راکھ کر دے۔ تیری شاعری با مقصد شاعری ہو۔ تُو اس کے ذریعے بے عمل قوم کو عمل اور جد و جہد کی طرف رغبت دِلا اور باطل قوتوں سے ٹکرا کر اُنہیں پاش پاش کر دے۔
تبصرہ
یہ نظم ملّی احیا اور اصلاحِ قوم کا ایک ہمہ گیر اور لازوال منشور ہے۔ علامہ اقبال نے سر سید احمد خان کے مزار کی علامتی زبان سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح کر دی ہے کہ قوموں کی اصلاح تبھی ممکن ہے جب اُس کے علماء دین و دنیا کا متوازن فہم دیں، سیاسی قائدین منافقت اور جھجک کو چھوڑ کر باطل اقتدار کے سامنے کلمۂ حق کہیں، اور اہلِ قلم اپنی شاعری کو درباری خوشامد سے پاک رکھ کر قوم کی بیداری کا ذریعہ بنائیں۔






