فہرست
تعارف
نظم ”ہمایوں“ علامہ اقبال کے نامور اور دیرینہ دوست جسٹس میاں شاہ دین ”ہمایوں“ (لاہور ہائی کورٹ کے اولین مسلم جج، ادیب اور شاعر) کی 1918ء میں وفات پر لکھا گیا ایک پرسوز، عقیدت مندانہ اور فلسفیانہ مرثیہ ہے۔
اقبالؔ اس مرثیے میں میاں شاہ دین کے علیل و کمزور جسمانی پیکر کے اندر موجود بے باک روح، علمی شعلگی اور سراپا سوز زندگی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ نظم کا اختتام حیات و ممات کے ابدی فلسفے پر ہوتا ہے جہاں اقبال واضح کرتے ہیں کہ غافل انسان جسے زندگی کا خاتمہ سمجھتا ہے، وہ درحقیقت ایک باشعور روح کے لیے شامِ زندگی اور صبحِ دوام (ابدی زندگی کا آغاز) ہے۔
جسٹس میاں شاہ دین ہمایوں کی شخصیت، علمیت اور علامہ اقبال سے گہرے مراسم پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر شفیق احمد لکھتے ہیں:-
جسٹس شاہ دین مرحوم علامہ اقبال کے دوست تھے۔ ہمایوںؔ تخلص کرتے تھے۔ شاہ دین 1890ء میں انگلستان سے بیرسٹری کا امتحان پاس کر کے آئے، کچھ عرصہ بعد لاہور ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے۔ 1918ء میں ان کا انتقال ہوا۔ علامہ اقبال نے بطورِ مرثیہ یہ نظم لکھی۔ یہاں پر یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ جسٹس شاہ دین کے فرزند میاں بشیر احمد نے اپنے والد کی یاد کے طور پر اردو ادب کا ایک موقر ماہنامہ ”ہمایوں“ جاری کیا تھا۔
ڈاکٹر شفیق احمد، شرح بانگِ درا
میاں شاہ دین کی علمی بصیرت اور اُن کے ساتھ علامہ کے تعلقات بیان کرتے ہوئے مولانا غلام رسول مہر تحریر فرماتے ہیں:-
اقبالؔ کے تعلقات میاں صاحب سے بہت گہرے تھے۔ وہ اپنے عہد میں علم و فضل کے پیکر مانے جاتے تھے اور اہلِ پنجاب میں سے پہلے شخص تھے، جنہیں اس عہد کے چیف کورٹ کی ججی ملی۔
مولانا غلام رسول مہر، مطالبِ بانگِ درا
تشریح
اے ہمایوں! زندگی تیری سراپا سوز تھی
تیری چنگاری چراغِ انجمن افروز تھی
اے ہمایوں! تیری زندگی سراسر قومی ہمدردی اور سوز و گداز سے لبریز تھی، تُو نے اپنی ساری عمر قوم کی خدمت میں بسر کی ۔ تیرے دل کی چنگاری محفل کو روشن کرنے والا چراغ (چراغِ انجمن افروز) تھی یعنی جس طرح چراغ کی روشنی ساری محفل کو روشن کر دیتی ہے، بالکل اُسی طرح تیری ذات ملتِ اسلامیہ کے لیے فخر و ناز کا باعث تھی۔
گرچہ تھا تیرا تنِ خاکی نزار و دردمند
تھی ستارے کی طرح روشن تری طبعِ بلند
اگرچہ تیرا خاکی بدن کمزور اور نحیف (دُبلا پتلا) تھا لیکن تیری بلند طبیعت ستاروں کی طرح روشن تھی۔ یعنی تُو جسمانی اعتبار سے تو دُبلا پتلا اور کمزور تھا، لیکن تیرا دماغ نہایت قوی، روشن اور تیز تھا۔
کس قدر بے باک دل اس ناتواں پیکر میں تھا
شعلۂ گردُوں نَورد اک مُشتِ خاکستر میں تھا
اے ہمایوں! جو لوگ تیری شخصیت سے آشنا تھے وہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ تیرے کمزور جسم میں کتنا بے باک اور نڈر دِل چھپا ہوا تھا، گویا خاک کی ایک مُٹھی (مشتِ خاکستر / انسان) میں آسمان کو لپیٹ لینے والا شعلہ (شعلۂ گردُوں نوَرد) چھپا ہوا تھا یعنی تُو کسی مخالف سے نہ ڈرتا تھا اور تیری رگ رگ میں بے پناہ جذبہ، قوت اور جوش بھرا ہوا تھا۔
موت کی لیکن دلِ دانا کو کچھ پروا نہیں
شب کی خاموشی میں جُز ہنگامۂ فردا نہیں
لیکن دانا (عقلمند) دِل موت کی ذرا پروا نہیں کرتا۔ رات کی خاموشی آنے والے کل کے ہنگامے (ہنگامہ فردا: آنے والے دِن کا ہنگامہ) کے سوا کچھ اور نہیں۔ عقلمند شخص موت سے قطعاً خوف نہیں کھاتا کیونکہ جس طرح رات کے بعد دِن کا آنا یقینی ہے، اسی طرح موت کے بعد دوبارہ زندگی یقینی ہے۔ گویا انسان کی موت اس کی آنے والی مستقل زندگی (دوامِ زندگی؛ ہمیشہ کی زندگی) کا باعث بنتی ہے۔ جیسا کہ علامہ اقبالؔ نے فرمایا ہے:
؎ یہ اگر آئینِ ہستی ہے کہ ہو ہر شام صبح
مرقدِ انسان کی شب کا کیوں نہ ہو انجام صبح
(بانگِ درا: والدہ مرحومہ کی یاد میں)
موت کو سمجھے ہیں غافل اختتامِ زندگی
ہے یہ شامِ زندگی، صبحِ دوامِ زندگی
بے خبر لوگ موت کو زندگی کا خاتمہ سمجھتے ہیں، جبکہ سچ تو یہ ہے کہ زندگی کی یہ شام (یعنی موت) دراصل ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی (دوامِ زندگی؛ ہمیشہ قائم رہنے والی زندگی) کا باعث بنتی ہے، یعنی موت کے بعد ایسی زندگی نصیب ہو گی جو کبھی فنا نہ ہو گی۔
؎ موتِ تجدیدِ مذاقِ زندگی کا نام ہے
خواب کے پردے میں بیداری کا اِک پیغام ہے
(بانگِ درا: والدہ مرحومہ کی یاد میں)
تبصرہ
یہ کلام حیات اور موت کے فلسفے کی گہری تعبیر ہے۔ اقبالؔ واضح کرتے ہیں کہ غافل انسان جسے زندگی کا اختتام سمجھتا ہے، وہ درحقیقت روح کے لیے شامِ زندگی اور صبحِ دوام ہے؛ نیک اعمال اور پُختہ خودی موت کے بعد بھی انسان کو زندہ و جاوید رکھتی ہے۔
؎ ہو اگر خودنِگر و خودگر و خودگیر خودی
یہ بھی ممکن ہے کہ تُو موت سے بھی مر نہ سکے
(ضربِ کلیم: حیاتِ ابَدی)
اس معنی خیز اور اثر آفریں نظم کے فکری و اخلاقی پیغام پر تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-
یہ اثر آفریں اور معنی خیز نظم، اقبالؔ نے اپنے محترم دوست مسٹر جسٹس میاں شاہ دین مرحوم کی وفات پر لکھی۔ میاں صاحب موجودہ صدی کے ابتدائی دور میں ہندوستان کے ناموَر مسلمانوں میں سے تھے اور علامہ مرحوم ان کی بڑی عزت کرتے تھے۔
میاں صاحب 1890ء میں ولایت سے بیرسٹری پاس کر کے آئے تھے اور اپنی ذاتی قابلیت کی بدولت جج ہائی کورٹ کے عہدۂ جلیلہ پر فائز ہوئے۔ 1918ء میں وفات پائی۔ علامہ اقبال نے اُن کی تاریخِ وفات اِس شعر سے برآمد کی تھی:۔
در گلستانِ دہر ہمایونِ نکتہ سنج
آمد مثالِ شبنم و چوں بوئے گل دمید
می جست عندلیب خوش ہنگ سال فوت
”علامۂ فصیح“ زہر چار سو شنیدعلامۂ فصیح کے عدد 334 ہوتے ہیں، ان کو 4 سے ضرب دی جائے تو 1336ھ سالِ وفات بن جاتا ہے۔
مرحوم کے ناموَر فرزند عزت مآب میاں بشیر احمد صاحب سفیر دولتِ پاکستان متعینہ جمہوریہ ترکیہ نے 1922ء میں اپنے والد کی یادگار قائم کرنے کے لیے رسالۂ ہمایوں جاری کیا تھا، جس کا شمار پاکستان کے ممتاز ترین جرائد میں ہوتا ہے۔ میاں بشیر احمد علم دوستی اور خدمتِ قومی کے اعتبار سے اپنے ناموَر والد کے صحیح جانشین ہیں۔ ان کی عمر بھی قوم کی خدمت ہی میں بسر ہوئی ہے۔
پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بانگِ درا
”شعرائے قوم سے خطاب“ از جسٹس شاہ دین ہمایوںؔ مرحوم
اے شاعرانِ قوم زمانہ بدل گیا
پر مثلِ زُلفِ یار تمہارا نہ بل گیا
پیٹو گے کب تلک سر رہ تم لکیر کو
بجلی کی طرح سانپ تڑپ کر نکل گی
اُٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی
دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا
اِک تم کہ جم گئے ہو جمادات کی طرح
اِک وہ کہ گویا تیر کماں سے نکل گیا
ہاں ہاں سنبھالو قوم کو شاید سنبھل ہی جائے
گِر گِر کے مُلکِ ہند کچھ آخر سنبھل گیا







