Skip to content

ضربِ کلیم 27: صُوفی سے

تعارف

نظم ”صُوفی سے“ مجموعۂ کلام ”ضربِ کلیم“ کی ایک مختصر مگر پُرحکمت اور جھنجھوڑ دینے والی نظم ہے جس میں علامہ اقبال نے روایتی صوفی کو ماضی پرستی اور محض غیبی معجزات کے طلسم سے نکل کر معرکہ ہائے روزگار کا رخ موڑنے کی دعوت دی ہے۔

اقبالؔ صوفی کو متوجہ کرتے ہیں کہ تیری نگاہ صرف پرانے معجزات پر ٹکی ہے جبکہ میں زمانے کے رونما ہونے والے تلخ حادثات کو دیکھ رہا ہوں۔ تخیلات اور باطنی کیفیات کی دنیا اگرچہ پرکشش ہے لیکن زندگی اور موت کی یہ عملی دنیا اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور آزمائش طلب ہے۔ وہ صوفی کے روحانی تصرف کو للکارتے ہیں کہ وہ اپنی باطنی نگاہ کی تاثیر سے اس بگڑے ہوئے دور کو بدل ڈالے کیونکہ امکانات کی دنیا اُسے عمل کے لیے پکار رہی ہے۔

نظم کے مخاطَب اور معاصر صوفیوں کے احوال کی نشاندہی کرتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

ضربِ کلیم کی نظم ”صُوفی سے“ میں علامہ اقبال نے موجودہ دور کے گوشہ نشین رہبانیّت پسند اور بے عمل صوفیوں سے خطاب کیا ہے جو سائنس اور علومِ جدیدہ سے بہرہ ہیں۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح ضربِ کلیم

نظم کے اسلوب اور اس کی معنوی گہرائی کے بارے میں پروفیسر یوسف سلیم چشتی مزید لکھتے ہیں:-

یہ صرف تین شعروں کی نظم ہے، لیکن بار بار پڑھنے اور سمجھنے کے لائق ہے۔ ضربِ کلیم کی خصوصیت یہ ہے کہ نہ الفاظ مشکل ہیں نہ تراکیب مشکل ہیں، نہ اسلوبِ بیان مشکل ہے؛ لیکن معانی اور مطالب بہت عمیق ہیں اور یہی کمالِ شاعری ہے، کہ آسان لفظوں میں بلند مضامین ادا کر دیے جائیں۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح ضربِ کلیم

نظم کے مخاطَب صوفی مزاج مسلمان کے احوال بیان کرتے ہوئے عارف بٹالوی تحریر کرتے ہیں:-

اِس نظم میں حضرتِ علامہ ایک ایسے صوفی مزاج اور پرہیزگار مسلمان کے متعلق فرماتے ہیں جو پرانے خیال کا ہے اور پیر فقیر کا معتقد ہے۔

عارف بٹالوی، شرح ضربِ کلیم

فطرت کے علمی مشاہدے اور صوفیانہ سلوک کی مماثلت بیان کرتے ہوئے علامہ محمد اقبال اپنے خطبات میں فرماتے ہیں:-

The scientific observer of Nature is a kind of mystic seeker in the act of prayer.

ترجمہ: فطرت کا علمی مُشاہدہ بھی کُچھ ویسا ہی عمل ہے جیسے حقیقت کی طلب میں صوفی کا سلوک و عرفان کی منازل طے کرنا۔

—Muhammad Iqbal, The Reconstruction of Religious Thought in Islam, Lecture 3 (Urdu translation: Syed Nazir Niazi)
سماعت فرمائیے
YouTube video

تشریح

شعر 1

تری نگاہ میں ہے معجزات کی دنیا
مری نگاہ میں ہے حادثات کی دنیا

معانیالفاظ
نظرنگاہ
معجزہ کی جمع، وہ فعل جو عام عادت سے ماورا ہو، پیغمبر کا ایسا عمل معجزہ اور صوفی کی کرامت کہلاتا ہےمعجزات
حادثہ کی جمع، نئی نئی وجود میں آنے والی چیزیںحادثات

تشریح:

علامہ اقبال نے اِس شعر میں اُس صوفی کو خطاب کرتے ہوئے، جو صرف کرامات کی دُنیا میں بستا ہے اور اصل دُنیا سے کنارہ کش ہے، کہا ہے کہ:-

تُو صرف کرامات کی دُنیا میں محدود ہو کر رہ گیا ہے، یعنی تُو اس خیال میں رہتا ہے کہ تُو کوئی نِت نئے کرشمے دکھائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ تیرے مرید بن جائیں اور میں اِس خیال میں متوجہ رہتا ہوں کہ دُنیائے حادثات کو کیونکر سنوارا جائے جس سے لوگ روحانیّت کی طرف بھی متوجّہ ہوں۔ تجھے لازم ہے کہ معجزات کی دُنیا سے باہر نکل کر حادثات و واقعات کی دُنیا کیا کا بھی مطالعہ کرے۔ یعنی یہ دیکھ کہ کائنات میں جس قدر حوادث رونما ہوتے ہیں، اُن کی عِلّت (وجہ / سبب) کیا ہے۔

واضح ہو کہ حوادثِ کائنات کی عِلّت دریافت کرنا، یہی تو سائنس کی بُنیاد ہے اور مسلمانوں کو دین کے ساتھ ساتھ سائنس (مثلاً طبیعات، کیمیا، علم الحیات وغیرہ) کا علم حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔

شعر 2

تخیّلات کی دنیا غریب ہے، لیکن
غریب تر ہے حیات و ممات کی دنیا

معانیالفاظ
تخیّل کی جمع، خیالاتتخیّلات
مسافر، یہاں مراد عجیب، انوکھیغریب
زیادہ عجیبغریب تر
زندگیحیات
موتممات

تشریح:

تیرے تخیّلات یعنی کرامات کی دُنیا بیشک عجیب ہے لیکن اُس سے بھی عجیب تر دُنیا یہ زندگی اور موت کی دُنیا ہے جس سے حقیقی طور پر ہر انسان کو واسطہ پڑتا ہے۔ اِس دُنیا کو چھوڑ نا اور فقط تخیّلات کی دُنیا میں رہنا اسلامی تصوّف نہیں ہے۔ اسلامی تصوّف تو وہ ہے جس میں روحانی دُنیا کے ساتھ ساتھ اِس مادی دُنیا سے بھی رابطہ رہے۔

علم الحيٰوة (Biology) اور علم الحیوان (Zoology) کا مطالعہ انسان کے لیے جس قدر ضروری ہے، اُس سے زیادہ دلچسپ ہے۔ اِن علوم سے ہم کو یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ اللہ نے جہاں ہاتھی جیسی بڑی چیز پیدا کی ہے، وہاں ایسے چھوٹے کیڑے بھی پیدا کیے ہیں جو خورد بین (Microscope) کے بغیر نظر بھی نہیں آ سکتے۔ علاوہ بریں یہ معلوم کرنا بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ جاندار مخلوقات کیسے زندہ رہتی ہیں، اور کیسے مرتی ہیں۔

واضح ہو کہ اللہ تعالی نے مظاہرِ قدرت کو بھی اپنی آیات (نشانیاں) ارشاد فرمایا ہے:-

ترجمہ: اور اُس نے مسخّر کر دیا تمہارے لیے اپنی طرف سے جو کُچھ آسمانوں میں اور جو کُچھ زمین میں ہے، یقیناً اس میں نشانیاں (آیات) ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر سے کام لیں۔
(القرآن: سورۃ الجاثیہ: آیت 13)

شعر 3

عجب نہیں کہ بدل دے اسے نگاہ تری
بُلا رہی ہے تجھے مُمکنات کی دنیا

معانیالفاظ
تعجب کی بات، حیرتعجب
ممکن کی جمع، یہ مادی دُنیا جس میں ہزاروں قسم کے امکانات موجود ہیں یا عالمِ کون و مکاں کی دُنیاممکنات

تشریح:

پس اسے صوفی! تُجھے چاہیے کہ ممکنات کی دُنیا کی طرف بھی متوجہ ہو۔ جس طرح مراقبہ ضروری ہے، اُسی طرح مشاہدہ بھی تو ضروری ہے۔ مسلمانوں کو اِن دونوں کی ضرورت ہے۔ مراقبہ سے ذکر کی قوّت ترقی کرتی ہے، مشاہدہ سے فکر کی قوّت میں ترقی ہوتی ہے۔ اور اقبالؔ کہتے ہیں کہ کوئی تعجب نہیں، اگر تُو ممکنات کی دنیا میں انقلاب پیدا کر دے۔ بقول علامہ اقبال:-

؎ کوئی اندازہ کر سکتا ہے اُس کے زورِ بازو کا
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

(بانگِ درا: طلوعِ اسلام)

تبصرہ

یہ کلام خانقاہی بے عملی اور محض تصوراتی تصوف کے خلاف عملی حیات اور تاریخی تغیر کا پُرزور پیغام ہے۔ اقبالؔ صوفی کو ماضی کے افسانوں اور کرامات کے خول سے نکال کر عصرِ حاضر کے زندہ حادثات کے روبرو کھڑا کرتے ہیں، تاکہ وہ اپنی روحانی طاقت سے امکانات کی اِس دُنیا کو تسخیر کرے اور حیات و ممات کے عملی میدان میں اپنی خودی کا لوہا منوائے۔

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *