Skip to content

بانگِ درا 144: کُفر و اِسلام

تعارف

نظم ”کُفر و اِسلام“ علامہ اقبال کے دورِ اوّل کی ایک بصیرت افروز اور تمثیلی نظم ہے جس میں علامہ حضرت موسیٰ علیہ السلام (کلیمِ طور) سے تخیلاتی مکالمے کے ذریعے باطل کے ظاہری غلبے اور حق کے باطنی وقار کا موازنہ پیش کرتے ہیں۔

اِس نظم میں میر رضی دانش کے ایک شعر پر تضمین کی گئی ہے۔ یہ ایرانی شاعر مشہد کے رہنے والے تھے۔

تضمین: لغوی معنی ہیں کسی چیز کو دوسری چیز کے اندر داخل کرنا، ضم کرنا یا ذمہ داری لینا۔ شاعری میں تضمین سے مراد یہ ہے کہ کسی دوسرے شاعر کے مصرعے، پورے شعر یا بند کو اپنے کلام میں اِس خوبی سے شامل کیا جائے کہ وہ ایک نیا شعر یا نظم بن جائے۔

سماعت فرمائیے
YouTube video

تشریح

شعر 1

ایک دن اقبالؔ نے پُوچھا کلیمِ طُور سے
اے کہ تیرے نقشِ پا سے وادیِ سِینا چمن

معانیالفاظ
کوہِ طُور (Mount Sinai) پر کلام کرنے والا۔ مراد حضرت موسیٰ علیہ السلامکلیمِ طُور
پاؤں کا نشاننقشِ پا
وہ وادی جس میں کوہِ طُور واقع ہےوادیِ سینا
باغچمن

تشریح:

ایک دن اقبالؔ نے کوہِ طُور پر اللہ تعالی سے کلام کرنے والے (کلیم اللہ، اللہ تعالی سے کلام کرنے والے، حضرت موسیؑ کا لقب) یعنی حضرت موسیؑ سے پوچھا کہ آپ کے نقشِ پا کی برکت سے وادیٔ سینا (وہ خطہ جس میں کوہِ طُور واقع ہے، اسی لیے اس کو طورِ سینا بھی کہتے ہیں) باغ و بہار بن گئی ہے۔

شعر 2

آتشِ نمرود ہے اب تک جہاں میں شُعلہ ریز
ہوگیا آنکھوں سے پنہاں کیوں ترا سوزِ کُہن

معانیالفاظ
نمرُود کی جلائی ہوئی آگ۔ مراد کفر اور باطِلآتشِ نمرُود
شعلے برسانے والیشُعلہ ریز
چھُپا ہواپِنہاں
پُرانی آگ، جذبۂ عشق، نورِ ایمانسوزِ کُہن

تشریح:

ذرا یہ تو فرمائیے کہ نمرُود کی آگ (کفر و شِرک) سے اب تک شعلے اُٹھ رہے ہیں، آپ کے جذبۂ عشق کی وہ پرانی حرارت (سوزِ کہن) جو کفر و باطل کو جلا کر راکھ کر دینے کی صلاحیت رکھتی تھی، آج کے انسانوں میں وہ نظر کیوں نہیں آتی؟ آخر آپ کی جذبۂ عشق سے سرشار باتیں کیوں انسانوں کی نظر سے پوشیدہ ہو گئی ہیں، یعنی وہ ان پر توجہ کیوں نہیں دے رہے؟

آتشِ نمرُود: نمرود وہ کافر اور خدا کا مدعی بادشاہ جس نے حضرت ابراہیمؑ کو جلانے کے لیے بہت بڑی آگ روشن کرائی تھی۔ آتشِ نمرُود سے یہاں کفر و شِرک یا بت پرستی مراد ہے۔

شعر 3

تھا جوابِ صاحبِ سینا کہ مسلم ہے اگر
چھوڑ کر غائب کو تُو حاضر کا شیدائی نہ بن

معانیالفاظ
مراد حضرت موسیٰ علیہ السلامصاحبِ سینا
جو آنکھوں سے اوجھل ہو، مراد ذاتِ خداوندیغائب
مراد باطل قوّتیںحاضر
فریفتہ ہونے والا، عاشق، شوقینشیدائی

تشریح:

حضرت موسیؑ نے جواب دیا کہ اے اقبال! اگر تُو مسلم ہے تو غائب (خدا تعالیٰ) کو چھوڑ کر موجودہ باطل قوتوں کا شیدائی نہ بن۔ ایمان بالغیب کی تعلیم کو مدِ نظر رکھ! اللہ تعالی نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ غائب پر ایمان لائیں یعنی اُس خدا پر، جو آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے:-

ترجمہ: یہ الکتاب ہے اس میں کچھ شک نہیں۔ ہدایت ہے پرہیزگار لوگوں کے لیے۔ جو ایمان رکھتے ہیں غیب پر اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
(القرآن: سورۃ البقرۃ: آیت نمبر 2 تا 3)

شعر 4

ذوقِ حاضر ہے تو پھر لازم ہے ایمانِ خلیلؑ
ورنہ خاکستر ہے تیری زندگی کا پیرہن

معانیالفاظ
موجود کا شوقذوقِ حاضر
حضرت ابراہیمؑ خلیل اللہ جیسا ایمانایمانِ خلیلؑ
راکھ ہےخاکستر ہے
لباسپیرہن

تشریح:

اگر بالفرض تُو حاضر ہی کے ذریعے حقیقت جاننا چاہتا ہے تو پھر سطحی چیزوں کو دیکھنے کی بجائے حضرت ابراہیمؑ جیسا ایمان پیدا کرنا ضروری ہے۔ اس بات سے اشارہ قرآن پاک کی اس آیت کی طرف ہے جس میں ذکر ہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے رات کی تاریکی میں ستاروں کو چمکتے دیکھا تو انہیں خدا قرار دیا، پھر چاند نکلا تو آپؑ نے سوچا کہ ستارے نہیں بلکہ یہ چاند خدا ہے۔ صبح ہوئی اور سورج نکلا تو چاند کی روشنی بھی ماند پڑ گئی تو حضرت ابراہیمؑ نے سورج کو معبود قرار دیا لیکن شام کو سورج بھی غروب ہو گیا۔ تو وہ حاضر و موجود اشیاء کے اس مشاہدے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ سب چیزیں خدا نہیں بلکہ خدا وہ ہے جس نے ان سب چیزوں کو پیدا کیا۔

اقبالؔ کہتے ہیں کہ اگر حاضر و موجود کا شوق ہے تو پھر حضرت ابراہیمؑ جیسے ایمان کی ضرورت ہے ورنہ تیری زندگی کا لباس خاکستر ہو جائے گا۔ سطحی نظر سے کسی شے کو دیکھنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، ورنہ تیرا عقیدہ تباہی کا سبب بن جائے گا

؎ آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا
آگ کرسکتی ہے انداز گُلستاں پیدا

(بانگِ درا: جوابِ شکوہ)

؎ براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے
ہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں

(بانگِ درا: طلوعِ اسلام)

شعر 5

ہے اگر دیوانۂ غائب تو کچھ پروا نہ کر
منتظر رہ وادیِ فاراں میں ہو کر خیمہ زن

معانیالفاظ
سودائی، پاگل، فریفتہ، شوقین، وارفتہدیوانہ
اِنتظار میں رہمنتظر رہ
مکہ مکرمہ وادیٔ فاران میں واقع ہے۔وادیِ فاراں
تنبُو لگانے والا، مقیمخیمہ زن

تشریح:

اگر تُو غائب کا دیوانہ ہے یعنی تیرا ایمان پکّا ہے تو جو کچھ پیش آ رہا ہے اس سے بالکل بے پروا ہو جا۔ فاران کی وادی میں خیمہ نصب کر لے اور قدرت کے کرشموں کا انتظار کر۔ فاران کی وادی میں خیمہ نصب کر لینے سے مراد ہے کہ شریعت کا پابند ہو جا، اسلام کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر حالات کے بدلنے کا انتظار کر۔

شعر 6

عارضی ہے شانِ حاضر، سطوَتِ غائب مدام
اس صداقت کو محبّت سے ہے ربطِ جان و تن

معانیالفاظ
تھوڑی دیر کیعارضی
رعب و دبدبہ، شان و شوکتسطوَت
ہمیشہ رہنے والا، ابدیمدام
سچائی، حق باتصداقت
وابستگی، تسلسل، تعلقربط
روح اور جسم کا تعلقجان و تن

تشریح:

یاد رکھ! کہ حاضر کی شان و شوکت محض عارضی اور چند روزہ ہے اور اسلام کی شوکت دائمی (ہمیشہ رہنے والی) ہے۔ کفر ایک دِن ضرور مِٹ جائے گا لیکن اللہ تعالی چونکہ حق ہے، اس لیے ہمیشہ قائم رہے گا۔ اس صداقت کو (کہ اللہ تعالی حق ہے) محبت کے ساتھ وہی رابطہ و نسبت ہے جو روح کو جسم کے ساتھ ہے۔ یعنی عشقِ حقیقی سے سرشاری میری بات کی تصدیق کرتی ہے اور اگر اللہ سے محبت کا رنگ پیدا ہو جائے تو آدمی اس صداقت کو سمجھ سکتا ہے۔

شعر 7

شعلۂ نمرود ہے روشن زمانے میں تو کیا
”شمع خود را می گدازد درمیانِ انجمن
نورِ ما چوں آتشِ سنگ از نظر پنہاں خوش است“

تشریح:

اگر کُفر و شرک (شعلۂ نمرود) زمانہ میں ہر جگہ آشکارا ہے تو ہراساں ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ شمع کو دیکھو! وہ محفل (انجمن) میں سب کو اپنا جلوہ دکھاتی ہے یعنی اس میں شانِ ظہور پائی جاتی ہے لیکن یہ شان عارضی ہے کیونکہ صبح ہوتے شمع ختم ہو جاتی ہے، اس کے مقابلہ میں ہمارا نور (خدا) شمع کی طرح دنیا والوں کو جلوہ تو نہیں دِکھاتا بلکہ آتشِ سنگ (پتھر کی آگ) کی طرح پوشیدہ ہے لیکن اس کا وجود دائمی (ہمیشہ قائم رہنے والا) ہے، اس پر کبھی فنا طاری نہیں ہوگی۔

تبصرہ

یہ نظم کفر اور اسلام کی حقیقت، اور ’حاضر‘ (مادہ و ظاہری دنیا) کے مقابلے میں ’غائب‘ (ایمان باللہ و حق) کی ابدی برتری کا پُرشِکوہ فلسفہ ہے۔ علامہ اقبال نے کلیمِ طور کی زبانی یہ بنیادی نکتہ آشکار کیا ہے کہ دورِ حاضر میں باطل اور نمرودی قوتوں کے ظاہری غلبے سے مرعوب نہیں ہونا چاہیے؛ شمع کی انجمنی نمائش کے مقابلے میں حق کا نور پتھر میں پوشیدہ آگ کی طرح باطن میں محفوظ رہتا ہے، اور کفر کے ہر فتنے پر غالب آنے کے لیے مسلمان کو ایمانِ خلیلؑ اور غائب کی دائمی سطوَت پر کامل ایقان درکار ہے۔

عہدِ شاہجہانی کے معروف فارسی شاعر میر رضی دانش کے شعر پر تضمین کے فنی محاسن کا محاکمہ کرتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی اپنے تفصیلی تبصرے میں لکھتے ہیں:-

اِس نظم میں اقبالؔ نے میر رضی دانش کے ایک شعر پر تضمین (کسی دوسرے شاعر کے شعر کو یا مصرع کو مضمون کی مناسبت سے اپنے کلام میں شامل کرنا تضمین کہلاتا ہے) کی ہے۔ یہ ایرانی شاعر مشہد کے رہنے والے تھے۔ عہدِ شاہجہانی میں اپنے باپ کے ساتھ ہندوستان آئے، بادشاہ کی خدمت میں ایک قصیدہ لکھ کر پیش کیا جس کا مطلع یہ تھا:-

؎ بخواں بلند کہ تفسیر آیۂ کرم است
خطے کہ از کف دستِ مبارکش پیداست

ترجمہ: اسے بلند آواز سے پڑھو کیونکہ یہ ’آیتِ کرم‘ (سخاوت و مہربانی) کی تفسیر ہے، وہ لکیر جو اُن کے دستِ مبارک کی ہتھیلی سے ظاہر ہے۔

شاہجہاں نے دو ہزار روپیہ انعام دیا، کچھ عرصہ کے بعد بادشاہ کو چھوڑ کر دارا شکوہ کی ملازمت اختیار کر لی۔ اس عقلمند شاہزادہ نے ان کو اس شعر پر ایک لاکھ روپیہ انعام دیا تھا:-

؎ تاک را سر سبز کن اے ابر نیساں در بہار
قطرۂ تامے تواند شد چرا گو ہر شو
د
ترجمہ: اے موسمِ بہار کے بادل (ابرِ نیساں)! بہار میں انگور کی بیل کو سرسبز کر دے۔ جب ایک قطرہ (انگور کی بیل میں جذب ہو کر) ’مے‘ بن سکتا ہے، تو وہ موتی کیوں بنے؟

لیکن مجھے ان کا یہ شعر بہت پسند ہے:-

؎ متاب رخ نفسے تا بجائے خود باشیم
چو عکسِ آئینہ، مازندہ از نگاہ تو ایم

ترجمہ:ایک لمحے کے لیے بھی اپنا چہرہ نہ پھیرنا تاکہ ہمارا وجود اپنی جگہ برقرار رہے، کیونکہ آئینے کے عکس کی طرح، ہم تیری ہی نگاہ (اور توجہ) سے زندہ ہیں۔ (جس طرح آئینے کے سامنے سے دیکھنے والا ہٹ جائے تو عکس ختم ہو جاتا ہے، اُسی طرح محبوب کی توجہ ہٹنے سے عاشق کا وجود مٹ جاتا ہے)۔

حضرتِ اقبالؔ نے اُن کے جس شعر کو تضمین کے لیے منتخب کیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ پروانوں کا محبوب تو سب کے سامنے موجود ہے لیکن ہمارا محبوب، آتشِ سنگ (پتھر میں پوشیدہ آگ) کی طرح لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہے اور اس کا نظروں سے اوجھل رہنا ہی اچھا ہے (تاکہ آتشِ شوق بھڑکتی رہے، یعنی اللہ تعالی کے دیدار کی طلب میں اضافہ ہوتا رہے)۔ اقبالؔ نے جب یہ شعر پڑھا تو انہوں نے اپنی خداداد ذہانت سے یہ مفہوم پیدا کیا کہ کفر (بت) ظاہر ہے لیکن ہمارا محبوب (خدا) پوشیدہ ہے، ”نُورِ ما“ سے شاعر کی مراد تو اس کا محبوب ہے لیکن اقبالؔ نے اس سے خدا کی ذات مراد لی ہے۔ اسی نکتہ نے اس شعر کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔ یعنی اقبالؔ نے اس پر تضمین کر کے شعر اور صاحبِ شعر دونوں کو زندہ و جاوید بنا دیا۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بانگِ درا

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *