فہرست
تعارف
نظم ”فقر و مُلوکیّت“ مجموعۂ کلام ”ضربِ کلیم“ کے حصے ”سیاستِ مشرق و مغرب“ کی ایک نہایت پُرشِکوہ، معرکہ آرا اور انقلابی نظم ہے۔ علامہ اقبال نے اِس کلام میں فرنگی ملوکیت کے ظاہری جاہ و جلال، مادہ پرستی اور سرمایہ دارانہ رعب کے مقابلے میں اسلامی فقر کی باطنی ہیبت اور تاریخی فتح مندی کا فلسفہ بیان کِیا ہے۔
تشریح
فقر جنگاہ میں بے ساز و یراق آتا ہے
ضرب کاری ہے، اگر سینے میں ہے قلبِ سلیم

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| میدانِ جنگ | جنگاہ |
| سازوسامان کے بغیر | بے ساز و یراق |
| سخت، چوٹ دار | ضرب کاری |
| وہ دِل کو ہر قسم کی برائی سے پاک ہو | قلبِ سلیم |
تشریح:
دنیا پرست بادشاہ تو ظاہری ساز و سامان پر بھروسا کرتے ہیں، لیکن جو لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں، وہ لوگ صرف اللہ پر بھروسا کرتے ہیں اور سازوسامان کی چنداں پرواہ نہیں کرتے۔ اگر میسّر آجائے تو بہت خوب ورنہ وہ لوگ بے سازوسامان ہی میدانِ جہاد میں کُود پڑتے ہیں اور سچی بات یہ ہے کہ اگر سینوں میں اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کی محبت موجزن ہو تو مجاہد فی سبیل اللہ دشمنوں پر بجلی بن کر گِرتا ہے۔
اس کی بڑھتی ہوئی بے باکی و بے تابی سے
تازہ ہر عہد میں ہے قصّۂ فرعون و کلیم

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| بے خوفی | بے باکی |
| بے قراری | بے تابی |
| یہاں بمعنی دہرایا جانے والا | تازہ |
تشریح:
مومن کی بے باکی اور خدا کی راہ میں جان دینے کی تمنا سے ہر زمانے میں فرعون و کلیم کا واقعہ دہرایا جاتا ہے۔ فرعون کے ہاں بے بہا قوت تھی اور بے شمار دولت تھی، لیکن حضرت موسیٰؑ کے پاس صرف ایمان کی دولت تھی، اُنہوں نے اپنے پختہ ایمان سے فرعون کو شکستِ فاش دی۔ دوسرے لفظوں میں حق اور باطل کی جنگ ہر دور میں جاری رہتی ہے۔
فرعون و کلیم کی یہ کشمکش دراصل حق و باطل کے اسی ازلی معرکے کی ایک کڑی ہے، جس کی طرف علامہ اقبال اپنے اشعار میں یوں اشارہ کرتے ہیں:-
؎ نہ ستیزہ گاہِ جہاں نئی نہ حریفِ پنجہ فگن نئے
وہی فطرتِ اسَداللّہی، وہی مرحبی، وہی عنتری
(بانگِ درا: میں اور تُو)
؎ ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مُصطفویؐ سے شرارِ بُولہبی
(بانگِ درا: اِرتقا)
اب ترا دَور بھی آنے کو ہے اے فقرِ غیور
کھا گئی رُوحِ فرنگی کو ہوائے زر و سِیم

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| غیرت والا فقر | فقرِ غیّور |
| سونا اور چاندی | زر و سیم |
تشریح:
اے باغیرت درویش! اب پھر تیرے ظہور کا زمانہ آنے والا ہے۔ عنقریب دُنیا کی اِمامت تیرے پاس ہوگی۔ اب تک یورپ دنیا پر مسلط تھا اور اُس کی روح کو چاندی اور سونے کی ہوَس کھا گئی۔ وہ مال و دولت کے لالچ میں ہر نیکی اور ہر خیر سے بے پروا ہو گیا۔ یعنی یورپ اور اہلِ یورپ کی تہذیب و ثقافت اور علم و فن نے سارے لوگوں کو مادیت کا پرستار اور شِکم پرست بنا کر رکھ دیا ہے۔ ہر کوئی دولت اور زروسیم کے لالچ میں پھنسا ہوا ہے‘ جس سے انسانی قدریں تباہ ہو چُکی ہیں اور انسانی بھیس میں ہر طرف حیوانوں کے ریوڑ نظر آتے ہیں۔ اقبالؔ کو یقین ہے کہ دُنیا ایک دن خود ہی اپنے اس کیے پر پچھتائے گی اور پھر وہ سنہری دور آئے گا جو درویشی کا دور ہوگا جس میں انسانیت اور شرفِ آدمیّت بحال ہوگا۔
؎ تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کُشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائدار ہو گا
(بانگِ درا)
واضح ہو کہ اقبالؔ اس شعر میں اگر تنہا ”فقر“ کا لفظ استعمال کرتے تو زروسیم کے مقابلے میں فقر سے مفلسی مراد لیے جانے کا اندیشہ رہتا۔ اقبالؔ نے ”فقرِ غیور“ استعمال کِیا، یعنی وہ فقر جو اپنی غیرت و حمیّت کی بِنا پر دنیوی مال و دولت سے بے نیاز و مستغنی ہوتا ہے۔ دولت اُس کے قبضہ میں آ بھی جائے تو اُس کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔ یورپ کی حرصِ زر کا جواب صرف اور صرف فقرِ غیور میں ہو سکتا ہے۔
عشق و مستی نے کِیا ضبطِ نفَس مجھ پہ حرام
کہ گِرہ غُنچے کی کھُلتی نہیں بے موجِ نسیم

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| جنون کا جوش | عشق و مستی |
| سانس کا روک لینا، یعنی بولنے سے رُکنا | ضبطِ نفس |
| گانٹھ، پیچیدگی | گِرہ |
| صبح کی ہوا کی لہر | موجِ نسیم |
تشریح:
عشق اور مستی کے باعث مجھ میں دِل کی بات ضبط کرنے کی گنجائش نہیں رہی، اس لیے کہ بادِ نسیم جس طرح اپنی لہروں سے کلی کو پھول بنا دیتی ہے، اُسی طرح عشق و مستی کے جذبے نے میری زبان سے حق بات کہنے کا سامان کر دیا ہے۔
تبصرہ
یہ کلام مُلوکیت کے مادی استبداد پر فقر کے ایمانی غلبے اور حریتِ فکر کا ایک پرجوش منشور ہے۔ علامہ اقبال نے واضح کِیا ہے کہ فقرِ حقیقی کسی مادی اسلحے اور لشکر کے ساز و سامان (ساز و یراق) کے بغیر بھی باطل پر کاری ضرب لگاتا ہے، کیونکہ اُس کی اصل قوت سینے میں دھڑکنے والا ”قلبِ سلیم“ ہے۔ فقر کی بے باکی اور حق گوئی ہر عہد میں فرعون اور کلیم کے ازلی معرکے کی یاد تازہ کر کے وقت کے جابروں کے تخت ہلا دیتی ہے۔ اقبالؔ نے پیش گوئی کی ہے کہ دولت و ثروت (زر و سیم) کی ہوس نے فرنگی تہذیب کی روح کو کھوکھلا کر دیا ہے، اس لیے اب ”فقرِ غیور“ کا تاریخی دور آنے والا ہے۔ شاعر نے اپنے کلام کو بادِ نسیم سے تشبیہ دی ہے، کیونکہ جس طرح صبح کی ہوا کے بغیر غنچہ نہیں کھلتا، اسی طرح عشق و مستی کی انقلابی صدا کے بغیر انسانیت کی خودی بیدار نہیں ہو سکتی۔
حوالہ جات
- شرح ضربِ کلیم از پروفیسر یوسف سلیم چشتی
- شرح ضربِ کلیم از اسرار زیدی
- شرح ضربِ کلیم از ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی
- شرح ضربِ کلیم از عارف بٹالوی
- شرح ضربِ کلیم از پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی








مجلسِ اقبالیات: ضربِ کلیم کی تین نظمیں:فوّارہ، شاعر، اور شعرِ عجم
یہ ویب پیج پر نہیں مل پا رہے ہیںَ؟
محترم یہ نظمیں شامل کرنا ابھی باقی ہے۔ انشاءاللہ مستقبل قریب میں شامل کر دی جائیں گی۔