Skip to content

بانگِ درا 157: میں اور تُو

فہرست

تعارف

نظم ”میں اور تُو“ بانگِ درا کے تیسرے دور کی ایک فکری، فنی اور پُرشِکوہ نظم ہے، جس میں علامہ اقبال نے اپنے (مَیں) اور قاری یا ملتِ اسلامیہ (تُو) کے باہمی تقابل کے ذریعے انفرادی و اجتماعی احوال کا ایک عمیق نقشہ کھینچا ہے۔

کلام کے فکری اِرتقا میں اقبالؔ مایوسی کے بجائے شانِ قلندری اور قوتِ حیدری کی یاد دلا کر بتاتے ہیں کہ حق و باطل کا یہ معرکہ (فطرتِ اسد اللّٰہی بمقابلہ مرحبی و عنتری) ابدی ہے۔ اہلِ حرم کی بے وفائی کا شِکوہ کرنے کے بعد، کلام کا اختتام بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں اِس التجائے کرم پر ہوتا ہے کہ جن گداؤں کو آپ ﷺ کے فیض نے کبھی ”دماغِ سکندری“ بخشا تھا، وہ آج پھر آپ کی نگاہِ عنایت کے منتظر ہیں۔

نظم کے عنوان ’مَیں اور تُو‘ کی معنوی ندرت اور قادر الکلامی پر پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

یہ نظم بانگِ درا کی مشکل نظموں میں سے ایک ہے۔ مضامین کی بلندی کے علاوہ اس میں شاعرانہ خوبیاں بدرجۂ اُتّم موجود ہیں۔ بندش کی چُستی، الفاظ کا اِنتخاب اور صوتی ہم آہنگی اس کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ بحیثیتِ مجموعی یہ نظم اقبالؔ کی قادر الکلامی کا ایک بہت عمدہ نمونہ ہے۔ اس کے عنوان میں بھی ندرت پائی جاتی ہے۔ ”مَیں“ سے شاعر اور ”تُو“ سے نظم پڑھنے والا مردا ہے۔ میں اور تُو سے پوری قوم بھی مراد ہوسکتی ہے۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بانگِ درا

انجمن حمایتِ اسلام کے جلسے میں نظم کی پیشکش کا تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی رقم طراز ہیں:-

علامہ اقبال نے یہ نظم ”انجمن حمایتِ اسلام، لاہور“ کے ایک جلسۂ منعقدہ 1918ء میں پڑھی تھی۔ اِس میں اشعار کی تعداد 12 تھی۔ نظرِثانی میں تین اشعار حذف کر دیے گئے۔

پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی، شرح بانگِ درا
سماعت فرمائیے
YouTube video

تشریح

شعر 1

نہ سلیقہ مجھ میں کلیِم کا نہ قرینہ تجھ میں خلیل کا
میں ہلاکِ جادوئے سامری، تُو قتیلِ شیوۂ آزری

معانیالفاظ
کلیم اللہ؛ حضرت موسیٰ کا لقب؛ مراد ہے اللہ تعالی سے کلام کرنے والا؛ حضرت موسیؑ کوہِ طور پر اللہ تعالی سے ہم کلام ہوئے تھےکلیمؑ
حضرت موسیؑ جیسا شوقِ دیدارکلیمؑ کا سلیقہ
ڈھنگ، شعور، جذبہقرینہ
خلیل اللہ (اللہ کا دوست)۔ حضرت ابراہیمؑ کا لقبخلیلؑ
سامری کا جادُوجادوئے سامری
مارا ہوا، ہلاک، فریفتہقتیل
طریقہ، انداز، عادتشیوہ
آزر ہونا، بمعنی بُت تراشآزری

تشریح:

نہ مجھ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح اللہ تعالی سے ملاقات کی آرزو پائی جاتی ہے، نہ میں اُن کی طرح اپنی گمراہ قوم کی رہنمائی کا فرض انجام دے سکتا ہوں اور نہ تجھ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ایمان پایا جاتا ہے، وہی ابراہیمؑ جنہوں نے اللہ تعالی سے دوستی کا حق ادا کرتے ہوئے بُت پرستوں کے بُت توڑے، آتشِ نمرُود میں چھلانگ لگائی، اللہ تعالی کی راہ میں اپنے وطن سے ہجرت کی، اللہ تعالی کا گھر خانہ کعبہ تعمیر کیا اور ایثار و قربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے لختِ جگر کو قربان کرنے پر آمادہ ہوگئے۔

اگر میں سامری کا پیرو ہوں تو تُو بھی آزر کی طرح سیدھے راستے سے ہٹ کر بُت گری اور بُت پرستی کے طریقے اختیار کیے ہوئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ پوری قوم اسلام سے منحرف ہوچکی ہے یعنی تعلیماتِ اسلام سے منہ پھیر چکی ہے۔

آزر: تارح یا آزر کے متعلق بعض عُلما نے فرمایا کہ یہ ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام تھا، بعض نے فرمایا کہ والد نہیں چچا کا نام تھا والد کا نام تارح تھا جو مسلمان تھے اور بعض نے فرمایا کہ آزر بُت کا نام تھا۔ اِن اشعار میں آزری سے بُت پرستی مُراد ہے۔

سامری: اس شخص کا اصلی نام موسیٰ ابن ظفر تھا۔ لیکن وہ اپنے قبیلہ کے نام سے مشہور ہوگیا۔ اس نے بنی اسرائیل کو گمراہ کر نے کے لیے سونے کا بچھڑا بنایا تھا جِس سے آواز نکلتی تھی۔ بنی اسرائیل مصر میں رہ کر چونکہ گوسالہ پرستی کے مرض میں مبتلا رہ چکے تھے۔ چنانچہ جیسے ہی ان کے سامنے ایک سنہری رنگ کا بولتا ہوا گوسالہ آیا اور پھر سامری نے نہایت ہوشیاری سے ان کو یہ باور کرایا کہ اصل میں یہی تمھارا خدا ہے جو تمھیں مصر سے نکال لایا ہے، موسیٰؑ تو نہ جانے بھول کر کہاں پہاڑوں کی چوٹیوں پر اسے تلاش کرتے پھر رہے ہیں۔ تو بنی اسرائیل اس کے سامنے جھک گئے اور اس کے سامنے قربان گاہ بنا کر قربانیاں بھی پیش کرنے لگے۔ رفتہ رفتہ لفظ سامری ساحر کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ قرآنِ پاک میں یہ نام تین بار استعمال ہوا سورہ طٰہٰ کی آیات 85، 87 اور 95 میں۔

شعر 2

میں نوائے سوختہ در گُلو، تو پریدہ رنگ، رمیدہ بُو
میں حکایتِ غمِ آرزو، تُو حدیثِ ماتمِ دلبری

معانیالفاظ
ایسی آواز جو گلے میں اٹک کر رہ جائے اور باہر نہ نکلےنوائے سوختہ در گُلُو
اُڑے ہوئے رنگ والاپریدہ رنگ
جس کی خوشبو اُڑ چُکی ہورمیدہ بُو
تمنّا کے غم کی داستانحکایتِ غمِ آرزو
محبوب کی جُدائی کے دُکھ درد کا بیانحدیثِ ماتمِ دِلبری

تشریح:

میری حالت اس ناکام اور نامراد عاشق کی سی ہے جو عرضِ مطلب یا حالِ دِل بیان کرنے کی بھی طاقت نہیں رکھتا، بالکل اُس بُلبُل کی طرح جس کی آواز اس کے گلے میں خشک ہوگئی ہو اور وہ نغمے نہ گاسکتا ہو ۔ جبکہ تُو مسلسل شِکستوں اور مصیبتوں کی وجہ سے نیم جان ہوچکا ہے، بالکل اُس پھول کی طرح جس کا رنگ بھی اُڑ چکا ہو اور خوشبو بھی رخصت ہوچکی ہو اور یہ دونوں چیزیں نہ ہوں تو پھول بیکار ہوجاتا ہے اور اُس کی رعنائی و دلآویزی باقی نہیں رہتی۔ میرے پاس رنج و غم کی داستان کے علاوہ اور کچھ نہیں اور تُو اپنی بد نصیبی اور محرومی کا رونا روتا رہتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ پوری قوم تباہ ہوچکی ہے۔

شعر 3

مرا عیش غم، مرا شہد سم، مری بود ہم نفَسِ عدم
ترا دل حرم، گِرَوِ عجم، ترا دیں خریدۂ کافری

معانیالفاظ
میری خوشی بھی میرا غم ہی ہےمرا عیش غم
میرا شہد زہر کی صورت ہےمرا شہد سم
میرا وجود، میری ہستیمری بُود
فنا کا ساتھیہم نفسِ عدم
عرب کے مقابلے میں غیر عربوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہاں غیر مسلم مراد ہےعجم
غیر اسلامی تہذیب و تمدّن کا دِلدادہگروِ عجم
کُفر کا خریدا ہواخریدۂ کافری

تشریح:

میری کیفیت یہ ہے کہ مجھے عیش میں کوئی لطف محسوس نہیں ہوتا اور میری خوبی بھی دنیا کو برائی نظر آتی ہے۔ مختصر یہ کہ میرا وجود اور عدم، دونوں یکساں ہیں (یعنی میرا ہونا اور نہ ہونا برابر ہیں) اور تیری حالت یہ ہے کہ تیرا دِل جو دراصل حرم تھا، خانہ کعبہ کی طرح پاکیزہ تھا، وہ کُفر کا غلام ہوچکا ہے۔ ”گروِ عجم“ یعنی تیرا دِل غیر اسلامی خیالات میں گرفتار ہوچکا ہے اور تیرا ایمان کافرانہ طریقوں کے ہاتھ بِک چکا ہے۔ مراد ہے کہ مسلمانوں نے اب اسلامی خیالات و عقائد کو چھوڑ کر کافرانہ روِش اختیار کرلی ہے۔

شعر 4

دمِ زندگی رمِ زندگی، غمِ زندگی سمِ زندگی
غمِ رم نہ کر، سمِ غم نہ کھا کہ یہی ہے شانِ قلندری

معانیالفاظ
یعنی زندگی کی ہر سانس عمر کو کم کرتی چلی جاتی ہےدمِ زندگی رمِ زندگی
زندگی کا دُکھ زندگی کے لیے زہر ہےغمِ زندگی سمِ زندگی
زندگی کے گُزرنے کا غمغمِ رم
غم کا زہرسمِ غم
بے نیازی کی شان۔ بانگِ درا میں اقبالؔ نے پہلی مرتبہ اِس لفظ کو اس نظم میں استعمال کیا ہے۔ آئندہ تصنیفات میں یہ لفظ اقبالؔ کی خاص اصطلاح بن گیا۔ ضربِ کلیم اس کے ذکر سے معمور ہے۔ قلندری سے مراد ہے مومن کی طرزِ حیات۔شانِ قلندری

تشریح:

اے مسلمان! تیری دنیاوی زندگی کو ہمیشگی حاصل نہیں ہوسکتی۔ یہ دنیاوی زندگی محض کھیل تماشا ہے، چند روزہ ہے۔ اگر تُو مرنے کا غم کرلے گا تو یہ غم تیرے حق میں زہر بن جائے گا۔ تیری زندگی بے کار ہوجائے گی۔ اس لیے زندگی کے گزرنے پر غم نہ کر۔ اور غم کا زہر مت کھا بلکہ ہر حال میں اللہ تعالی کی رضا پر راضی رہ۔ کیونکہ مسلمان کا شیوہ یہی ہے کہ وہ مشیتِ ایزدی کے سامنے سامنے سر تسلیمِ خم کرتا ہے۔

شعر 5

تری خاک میں ہے اگر شرر تو خیالِ فقر و غنا نہ کر
کہ جہاں میں نانِ شعیر پر ہے مدارِ قوّتِ حیدری

معانیالفاظ
چنگاری۔ مراد عشقِ حقیقی کی چنگاریشرر
غریبی اور امیری، امارت اور غُربتفقر و غنا
جو کی روٹی، جو حضرت علی المرتضیٰؓ کو بہت مرغوب تھینانِ شعیر
حضرت علیؓ کی طاقتقوّتِ حیدریؓ
شیر۔ حضرت علیؓ کا لقبحیدر

تشریح:

اگر تیرے دِل میں عشقِ رسول ﷺ کی چنگاری موجود ہے تو پھر یہ پرواہ مت کر کہ تُو دولت مند ہے یا مفلس ہے۔ کیونکہ کامیابی کے لیے دولت ضروری نہیں ہے۔ کیا تجھے علم نہیں ہے کہ حضرت علیؑ جو کی روٹی کھاتے تھے لیکن عشقِ رسول ﷺ کی بدولت اُن میں یہ طاقت پیدا ہوگئی کہ انہوں نے خیبر کا دروازہ اپنی قوّتِ بازو سے اُکھیڑ دیا تھا؟ یعنی کفر کا مقابلہ کرنے کے لیے دولت نہیں بلکہ عِشق درکار ہے۔

شعر 6

کوئی ایسی طرزِ طواف تُو مجھے اے چراغِ حرم بتا!
کہ ترے پتنگ کو پھر عطا ہو وہی سرشتِ سمندری

معانیالفاظ
کسی چیز کے اِردگرد چکّر لگانا، گھومناطواف
پتنگا، پروانہ، عاشقپتنگ
سمندر (Salamander) جیسی طبیعت۔ سمندر چوہے کی قسم کا جانور ہے جو آگ میں رہتا ہے۔سرِشتِ سمندری

تشریح:

اے کعبے کے چراغ (رہمنائے قوم)! تُو مسلمانوں کو ایسی زندگی بسر کرنے کی تلقین کر کہ ان کے دِلوں میں عشقِ رسول ﷺ کی آگ بھڑکنے لگے اور وہ سراپا آگ بن جائیں۔

اے کعبے کے چراغ! تُو مجھے طواف کرنے کا کوئی ایسا طریقہ بتا کہ تیرے دیوانے اور شیدائی میں پھر سے آگ میں رہنے والے کیڑے کی سی عادت (یعنی سرشتِ سمندری) پیدا ہوجائے۔ مراد یہ ہے کہ مسلمانوں کو ایسی زندگی بسر کرنے کی تلقین کر کہ اُن کے دِلوں میں عشقِ رسول ﷺ کی آگ بھڑکنے لگے، مسلمان پھر سے مشکلات میں جینا، ان کا مقابلہ کرنا اور مشکل حالات کے باوجود آگے بڑھنا سیکھ لیں۔

سمندر: کہا جاتا ہے کہ سمندر (Salamander) وہ کیڑا ہے جو آگ میں پیدا ہوتا ہے، آگ میں رہتا ہے۔ اسے ”آگ کا کیڑا “ بھی کہتے ہیں۔ روایت ہے کہ پارسیوں کے آتش کدہ میں مسلسل صدیوں تک آگ روشن رہے تو ایک کیڑا پیدا ہوتا ہے جو آگ ہی میں رہتا ہے اور اگر آگ سے باہر نکال لیا جائے، تو مر جاتا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کیڑا نہیں بلکہ چوہے کی شکل کا ایک جانور پیدا ہوجاتا ہے۔

اقبالؔ نے ”سرشتِ سمندری“ کی ترکیب اس لیے استعمال کی کہ سمندر کے بارے میں مشہور ہے کہ آگ ہی اس کا مسکن اور آگ ہی اس کی زندگی ہے؛ وہ آگ میں پیدا ہوتا ہے، آگ میں پلتا ہے اور آگ سے باہر نکلے تو مر جاتا ہے۔ عام طور پر شاعری میں عاشق کو پروانے سے تشبیہ دی جاتی ہے جو شمع پر جل کر فنا ہو جاتا ہے، مگر اقبالؔ یہاں فنا نہیں بلکہ بقا کے طالب ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان عشقِ رسول ﷺ کی تپش اور مشکلات کی آگ میں جل کر مر نہ جائے، بلکہ اسی میں جینا اور نکھرنا سیکھ لے۔ ”سرِشت“ فطرت اور خمیر کو کہتے ہیں، یعنی اقبالؔ کی دعا یہ ہے کہ آگ میں رہنا اور مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کرنا ایک مسلمان کی وقتی مجبوری نہیں بلکہ اس کی فطرتِ ثانیہ بن جائے، بالکل ایسے ہی جیسے سمندر آگ سے جدا نہیں ہو سکتا۔ لفظ ”پھر“ اس طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ اسلاف کے دور میں مسلمانوں کے دلوں میں یہ حرارت موجود تھی جو اب سرد پڑ چکی ہے، اور اقبالؔ اسی کھوئی ہوئی کیفیت کی بازیافت چاہتے ہیں۔

شعر 7

گِلۂ جفائے وفا نما کہ حرم کو اہلِ حرم سے ہے
کسی بُت کدے میں بیاں کروں تو کہے صنم بھی ’ہَری ہَری‘

معانیالفاظ
ایسا بے وفائی جو بظاہر وفا معلوم ہوجفائے وفا نما
کعبہ۔ مراد اسلامحرم
مسلماناہلِ حرم
بُتصنم

تشریح:

اے مسلمانو! تُم نے اسلام کے ساتھ ایسی بے وفائی کہ ہے کہ بظاہر وہ وفا ہے لیکن دراصل جفا ہے یعنی تم زبان سے توحید کا دعویٰ کرتے ہو لیکن تمہارا عمل اس کے خلاف ہے۔

”جفائے وفا نما“ سے ایسی جفا یا بے وفائی مراد ہے جو بظاہر وفا معلوم ہو)۔ تمہاری اِس دو رَنگی سے اسلام کو اس قدر نقصان پہنچا ہے کہ اگر میں تمہاری منافقت کی داستان کافروں کا سناؤں تو وہ بھی ”ہری ہری“ پکار اُٹھیں، یعنی تمہارے طرزِ عمل سے شدید نفرت کا اظہار کریں۔

”ہری ہری“ وِشنُو کا مشہور لقب ہے اور وِشنُو ہندی تریمورتی کا دوسرا رکن ہے۔ ہندو دھرم میں پرماتما (خدا) کے تین رُوپ مانے گئے ہیں: برہما، وِشنُو اور شو۔

اِس شعر کے دوسرے مصرع میں بڑی شانِ بلاغت پائی جاتی ہے۔ اِس کا ایک مطلب تو وہ ہے جو اوپر بیان کِیا گیا ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر میں کسی صنم (بُت) کے سامنے یہ بات بیان کروں کہ اسلام نے مسلمانوں پر کس قدر احسانات کیے لیکن اس کے جواب میں مسلمانوں نے اسلام جیسے پاکیزہ دین کے ساتھ کس قدر بے وفائی کی تو گمان غالب ہے کہ بُت بھی خدا پر ایمان لے آئے گا، اُس خدا پر کہ جِس نے اہلِ دنیا کو اسلام جیسا پاکیزہ دین عطا فرمایا۔ اِس کے علاوہ اِس مصرع کے اسلوب میں بڑی دِلکشی پائی جاتی ہے۔ اقبالؔ نے اِس بندش میں ایسی قابلیت صَرف کی ہے کہ جس میں شاعری میں ساحری (سحر زدہ کردینے والا؛ جادوئی) رنگ پیدا ہوگیا ہے۔ صنم (یعنی بُت) جیسا کہ سب جانتے ہیں، ہری (یعنی خدا) کی ضِد ہے۔ اقبالؔ نے کمالِ فن کا مظاہرہ کیا ہے کہ صنم کو خدا کا پرِستار بنا دیا۔ اِس مصرع کو پڑھ کر بلاشبہ مسلمان کی احسان فراموشی کی تصویر سامنے آجاتی ہے کہ اس کی بے وفائی کی داستان اس قدر عبرت انگیز ہے کہ اِنسان تو کیام اگر پتھر بھی سُن پائے تو کانوں پرا ہاتھ رکھ لے اور ہری میں جو تضادِ معنوی پایا جاتا ہے اُس نے اِس مصرع کو تحسین سے بالا کردیا ہے۔

شعر 8

نہ ستیزہ گاہِ جہاں نئی نہ حریفِ پنجہ فگن نئے
وہی فطرتِ اسَداللّہی، وہی مرحبی، وہی عنتری

معانیالفاظ
جنگ کا میدان، میدانِ کارزارستیزہ گاہ
دُشمن، مقابلحریف
پنجے میں پنجہ ڈال کر لڑنے والا، باہم نبرد آزماپنجہ فگن
حضرت علیؑ کی سیرت مراد ہے۔ اور حضرت علیؑ اسلام کے محافظ اور وکیل ہیں، اسد اللہ یعنی اللہ کا شیر، یہ حضرت علیؑ کا مشہور لقب تھا۔فطرتِ اسد اللہی
مرحب عرب کا مشہور بہادر تھا جو خیبر میں قلعہ قموس کا محافظ تھا۔ غزوۂ خیبر مین حضرت علیؑ کے ہاتھ مارا گیا۔ یہاں مرحب کے مرادی معنی ہیں کُفر کا علمبردار یا وکیل۔مرحبی
عنتر بھی عرب کا مشہور بہادر تھا اور مرحب کا بھائی تھا۔ مرحب کے قتل کے بعد حضرت علیؑ سے انتقام لینے کے لیے میدان میں آیا لیکن حضرت علیؑ نے اس کو بھی قتل کردیا۔عنتری

تشریح:

اے مسلمانو! اگر موجودہ زمانے میں کفر یا طاغوتی طاقتیں تمہارے خلاف متّحد ہو کر صف آرا ہوگئی ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ دنیا میں نہ تو کوئی میدان نیا ہے اور نہ ہی مختلف میدانوں میں لڑنے والے لوگ نئے ہیں بلکہ دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہر جگہ وہی حق و باطل کی آویزش اور کشمکش جاری ہے۔ ( اس لیے تم بالکل ہراساں مت ہو ) ذرا دینِ اسلام کی تاریخ تو اُٹھا کر دیکھو، کیا حضرت علیؑ کے مقابلہ میں مرحب اور عنتر نہیں آئے تھے؟ پس جس طرح عشقِ رسول ﷺ کی بدولت حضرت علیؑ اپنے زمانے کے کافروں پر غالب آئے تھے، اُسی طرح تم بھی غالب آسکتے ہو۔

اسی مضمون کو اقبالؔ نے ایک جگہ یوں باندھا ہے:۔

؂ ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفویؐ سے شرارِ بولہبی

(بانگِ درا: اِرتقا)

شعر 9

کرم اے شہِؐ عَرب و عجم کہ کھڑے ہیں منتظرِ کرم
وہ گدا کہ تُو نے عطا کِیا ہے جنھیں دماغِ سکندری

معانیالفاظ
عرب اور عجم کے شہنشاہ۔ حضور اکرم ﷺشہِ عرب و عجم
لُطف و کرم کے اُمیدوارمنتظرِ کرم
مانگنے والا، فقیرگدا
سِکندرِ اعظم جیسا دماغ، شاہانہ فہم و فراستدماغِ سِکندری

تشریح:

اب اقبالؔ سرکارِ دو عالم ﷺ سے استمداد (درخواست) کرتے ہیں کہ:-

اے آقائے کائنات ﷺ! اے سرورِ موجودات ﷺ!

اے عرب و عجم (یعنی ساری دنیا) کے بادشاہ ﷺ!

اِس وقت آپ ﷺ کی نگاہِ کرم درکار ہے۔ ذرا پردہ اُٹھا کر تو دیکھیے، آپ ﷺ کے دروازے پر ہم لوگ دست بستہ منتظرِ کرم کھڑے ہوئے ہیں یعنی جو بظاہر آپ ﷺ کے سامنے تو بے شک گدا ہیں لیکن آپ ﷺ سے نسبتِ غلامی کی وجہ سے ان کے اندر یہ شان پیدا ہوگئی ہے کہ وہ بادشاہوں کو بھی خاطر میں نہیں لاتے۔

؏ خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر!
(بالِ جبریل: جاوید کے نام)

ہم مسلمان آپ ﷺ کے کرم کے انتظار میں ہیں، ہم پر کرم فرمائیے۔ ہم وہ گدا ہیں جنہیں آپ ﷺ نے دماغِ سکندری عطا فرمایا ہے۔ مسلمانوں میں پھر سے پہلے والا اِتحاد و اتفاق اور باطل سے ٹکرانے اور اسے مٹانے کی قوت پیدا ہوجائے۔ علامہ کے نزدیک آپ ﷺ کے تصرفاتِ روحانی کے بغیر مسلمانوں کی ترقی اور عروج ممکن نہیں۔

تبصرہ

یہ نظم اقبالؔ کی خود احتسابی، شانِ قلندری اور عشقِ رسول ﷺ کا نادر شاہکار ہے۔ ”میں اور تُو“ کے موازنے سے سفر شروع کر کے علامہ نے قوم کو باور کرایا کہ فقر و غنا کے بغیر حیدری قوت ممکن نہیں؛ اور جب تک امتِ مسلمہ اپنا باطنی رشتہ دوبارہ حضور سرورِ کائنات ﷺ کے فیضان سے نہیں جوڑتی، اُس کی گم گشتہ سکندری شان واپس نہیں آ سکتی۔

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *