Skip to content

بالِ جبریل 181: آزادیِ افکار

تعارف

نظم ”آزادیِ افکار“ مجموعۂ کلام ”بالِ جبریل“ کا ایک نہایت عمیق، ناصحانہ اور بصیرت افروز قطعہ ہے، جس میں علامہ اقبال نے مغرب کے بے لگام اور اخلاقی حدود سے عاری تصورِ ”آزادیِ رائے“ پر کاری ضرب لگائی ہے۔

اقبالؔ فرماتے ہیں کہ جو پرندہ فطری پستی کے باعث پرواز کی صلاحیت نہ رکھتا ہو، اُس کا اونچا اُڑنا سوائے زمین پر گرنے کے اور کُچھ نہیں۔ نیز ہر سینہ جبریل کا مسکن اور ہر ادھورا خیال حقیقت کا صیاد نہیں ہو سکتا۔ وہ متنبہ کرتے ہیں کہ جس قوم کے افراد اخلاقی اور روحانی قیود سے بے نیاز ہو چکے ہوں، ان میں فکری شوخی اور بے باکی سراسر ہلاکت خیز ہے؛ گو کہ فکرِ سلیم زمانے کو روشن کرتی ہے مگر مادر پِدر آزاد افکار درحقیقت انتشار پھیلانے کے لیے ابلیس کی ایجاد ہے۔

عصرِ حاضر میں آزادیِ افکار کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

اِس نظم میں اقبالؔ نے عصرِ حاضر کے ایک اہم مسئلہ پر اظہارِ خیال کیا ہے، یعنی آزادیِ افکار اچھی چیز ہے یا بری؟

واضح ہو کہ جمہوریت کی نشوونما کے ساتھ ساتھ انسانوں میں اپنے افکار و خیالات کو آزادی کے ساتھ پیش کرنے کا جذبہ بھی پیدا ہوا۔ ابتدا میں یہ آزادیِ افکار صرف اس حد تک تھی کہ ہر شخص اپنے نمائندہ کے انتخاب میں اپنی رائے آزادی سے دے سکتا ہے۔ یہاں تک تو کوئی حرج نہ تھا لیکن ابلیسؔ نے اِس زریں موقع سے فائدہ اُٹھایا اور لوگوں کو یہ سمجھایا کہ جب تم آزاد ہو گئے ہو تو زندگی کے ہر معاملہ میں آزادی کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کر سکتے ہو، اس کے بعد اس نے ایک قدم اور آگے بڑھایا اور یہ نکتہ ذہن نشین کیا کہ ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس معاملہ میں بھی اپنی رائے مجتہدانہ انداز میں دنیا کے سامنے پیش کر سکتا ہے جس کے سمجھنے کی بھی اس میں صلاحیت نہیں ہے۔

ہمارے زمانہ میں اشتراکی ادیبوں نے (جو اپنے آپ کو ”ترقی پسند“ کہتے ہیں) اِس نظریہ کی اشاعت کو اپنا مقصدِ حیات بنا لیا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر اخلاقی پابندی کو ”رجعت پسندی (قدیم نظریات اور قدیم رسم و رواج کو ترجیح دینے کا رُجحان)“ سے تعبیر کرتے ہیں اور اربابِ علم سے یہ حقیقت مخفی نہیں کہ اشتراکیت کی لعنت میں کوئی لفظ ”رجعت پسندی“ سے زیادہ مذموم اور مکروہ نہیں ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قوم کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ہر اخلاقی پابندی کو اپنے حق میں ایک عذابِ جان تصوّر کرتے ہیں اور نہایت بیتابی کے ساتھ ان پر رائے زنی کرتے ہیں جن کو سمجھنے کی بھی ان میں صلاحیت نہیں ہے۔

بات یہ ہے کہ دنیا میں ہر شخص علمی یا روحانی مسائل میں گفتگو کرنے یا اظہارِ رائے کی صلاحیت نہیں رکھتا، ہر شخص افلاطون اور ارسطو کا ہم پلہ نہیں ہو سکتا۔ یہ قانونِ فطرت کے خلاف ہے۔ جس قوم کے افراد اخلاقی قیود و حدود سے آزاد اور بے نیاز ہو چکے ہوں، اُس کے حق میں آزادیِ افکار بہت خطرناک ثابت ہوتی ہے کیونکہ ان کی گفتگو یا تحریر میں ربط و نظم پیدا نہیں ہو سکتا اور بے ربطیِ افکار سے قوم میں انتشار رونما ہونا یقینی ہے اور انتشار سے وحدتِ فکر زائل ہو جاتی ہے اور اس کے زوال سے قوم برباد ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج روسؔ میں کوئی شخص اسٹالین سے اختلافِ رائے نہیں کر سکتا۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بالِ جبریل

بغیر اخلاقی تربیت کے بے لگام آزادیِ رائے کے نقصانات پر تبصرہ کرتے ہوئے اسرار زیدی رقم طراز ہیں:-

یہ نہیں کہ علامہ اقبال آزادیِ افکار کے پُرزور حامی نہیں تھے، البتہ یہ ضرور ہے کہ ایسی آزادی کو ناپسند کرتے تھے جو تہذیبی اور اخلاقی اقدار سے تجاوز کرتی ہو۔ بلندیِ افکار تو ہر شخص کے لیے قابلِ فخر بات ہوتی ہے۔ لیکن جو افکار عملاً مادر پِدر آزادی سے عبارت ہوں، وہ کسی بھی معاشرے اور اِس کے افراد بالخصوص نوجوان نسل کے لیے زہرِ قاتل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بے شک قومی اور عالمی سطح پر ہر عہد بالخصوص موجودہ دور میں آزادیِ اظہار کو انسان کے بنیادی حقوق سے وابستہ سمجھا جاتا ہے لیکن ایسے افکار جو عملاً آزادی کے حقیقی مفہوم سے متصادم ہوں، ان کو کسی طور پر بھی مثبت انداز سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ زیرِ تشریح نظم میں اقبالؔ عملاً افکار کی آزادی کے مخالف نہیں، البتہ وہ ہر نوع کی مادر پِدر آزادی کی چاہت نہیں کرتے۔ وہ ایسی آزادی کے حامی ہیں جو معاشرے کی تعمیر و ارتقاء میں مددگار ثابت ہو سکے۔ بصورتِ دیگر آزادی کا منفی رویہ کسی بڑے فتنے سے کم نہیں۔

اسرار زیدی، شرح بالِ جبریل
سماعت فرمائیے
YouTube video

تشریح

شعر 1

جو دُونیِ فطرت سے نہیں لائقِ پرواز
اُس مُرغکِ بیچارہ کا انجام ہے اُفتاد

معانیالفاظ
فطرتی پستی / کمینگیدُونیِ فطرت
قابللائق
بے چارہ / بے بس پرندہمُرغکِ بیچارہ
گِرنااُفتاد

تشریح:

جو پست فطرت پرندہ فضاء میں بلندی پر اُڑنے کی صلاحیت سے محروم ہو، اس صورت میں اگر وہ اُڑنے کی جسارت کرے گا تو اُس کا انجام اِس کے سوا اور کچھ نہ ہو گا کہ دھڑام سے نیچے گِر پڑے۔ مراد یہ کہ افکار کی بلندی اور آزادی ہر فرد کی فطرت سے مطابقت نہیں رکھتی۔ اخلاقی و فنی قوانین سے آزاد ہو کر بلند افکار پیدا نہیں کیے جا سکتے۔

اقبالؔ یہ نصیحت کرتے ہیں کہ دنیا میں حقیقی حُسن و جمال اور صحیح ترقی صرف اخلاقی اور فنی قوانین کی پابندی سے ممکن ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی نغمہ یا راگنی کو فنِ موسیقی کی قیود سے آزاد کر دیا جائے تو اُس کا جمال اور دِلکشی بالکل غائب ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ کسی مسئلہ میں اظہارِ رائے کا حق صرف اس شخص کو حاصل ہے جس نے اس فن میں مہارتِ تامہ حاصل کی ہے جس پر وہ مسئلہ مبنی ہے، مثلاً اُس شخص کو کسی طبیب کے نسخہ پر اظہارِ رائے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے جس نے فنِ طب باضابطہ حاصل نہ کیا ہو، اِسی طرح اُس شخص کو دینی معاملات میں رائے دینے کا کوئی حق حاصل نہیں جس نے علومِ دینی کی باقاعدہ تکمیل نہ کی ہو۔

شعر 2

ہر سینہ نشیمن نہیں جبریلِ امیں کا
ہر فکر نہیں طائرِ فردوس کا صیّاد

معانیالفاظ
آشیانہ، مکان، آماج گاہ، ٹھکانہنشیمن
جنّت (بہشت) کا پرندہطائرِ فردوس
شکار کرنے والا، شکاریصیّاد

تشریح:

ہر فرد کا سینہ اِس قابل نہیں ہوتا کہ جبریلِ امین حق بجانب پیغامات کے ساتھ اُس پر اُتریں، مراد یہ ہے کہ حضرت جبریلِ امین کو تو محض اِس امر کا ذمہ قرار دیا گیا تھا کہ وہ حق تعالی کے پیغامات اور احکامات دنیا میں اس کے پیغمبروں تک پہنچادیں کہ ہر شخص کو ان پیغامات کا اہل قرار نہیں دیا جا سکتا، صرف پیغمبر ہی ان پیغامات کے اہل ہوتے ہیں کیونکہ اُن کا سینہ ہر طرح کے باطل خیالات سے پاک ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر فکر جنت الفردوس کے پرندے کا شکار نہیں کر سکتی (فردوس کا پرندہ استعارہ ہے اعلیٰ اور بلند خیالات کا) یعنی بلندیِ افکار کی حامل نہیں ہو سکتی۔

شعر 3

اُس قوم میں ہے شوخیِ اندیشہ خطرناک
جس قوم کے افراد ہوں ہر بند سے آزاد

معانیالفاظ
سوچ اور فکر کی تیزی / بے باکیشوخیِ اندیشہ
قید، بندھن، بندشیں، پابندیاںبند

تشریح:

یہ شعر بھی اپنے مطالب کے لحاظ سے پچھلے دو اشعار کے تسلسل میں ہے۔ یہاں اقبالؔ واضح طور پر اپنے اس نقطۂ نظر کا اظہار کرتے ہیں کہ جو قوم اور معاشرہ خود کو ہر نوع کی اخلاقی و تہذیبی آزادی اور دوسری انسانی اقدار کو مُسترد کر کے خود کو مادر پِدر آزاد قسم کی قوم اور معاشرہ تصور کر لے، اُس کے لیے آزادیٔ افکار ہمیشہ خطرناک اور نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ یعنی آزادیٔ اظہار و افکار کے لیے بھی بعض معاشرتی اور اخلاقی اقدار کی پابندی ناگُزیر (لازمی) ہے۔ جس قوم کے افراد ان تمام پابندیوں سے آزاد ہوں، جو اجتماعی زندگی کی بنیادی شرط ہیں، تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس قوم میں فکر و خیال کی شوخی خود اُس کے لیے بڑی خطرناک ثابت ہوگی۔

شعر 4

گو فکرِ خدا داد سے روشن ہے زمانہ
آزادیِ افکار ہے اِبلیس کی ایجاد

معانیالفاظ
اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی عقلفکرِ خداداد
خیالات کی آزادیازادیِ افکار

تشریح:

اقبالؔ کہتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ عقل و خِرد وہ نعمت ہے جس کی بدولت یہ دنیا ترقی کی منزلیں طے کر رہی ہے اور اس دنیا میں جس قدر روشنی نظر آرہی ہے یہ سب فکرِ خداداد ہی کا کرشمہ ہے۔ ربِ ذوالجلال نے انسان کو غور و فکر اور اپنے نقطۂ نظر کے اظہار کے لیے جو صلاحیت عطا کی ہے وہ معاشرے کے لیے روشن ہدایات کا کام دیتی ہے اور راہنمائی کا سبب بنتی ہے۔

لیکن جہاں تک ”مادر پِدر آزادی“ کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں شاید یہ غلط نہ ہو کہ یہ تو شیطان کی ان ایجادات اور لعنتوں میں سے ایک ہے جو اس نے دنیا میں وارد ہو کر انسان کو گمراہی اور ذِلّت سے ہم کنار کرنے کے لیے وضع کی ہیں اور جس کا نتیجہ تباہی و بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔ ابلیسؔ کا مقصد یہ ہے کہ بنی آدم روحانیت اور اخلاقِ حسنہ سے معرّا ہو جائیں اور انسانیت کے مرتبہ سے تنزل کر کے واپس حیوانیت کے دائرہ میں آجائیں۔ اس لیے اس نے انہیں سمجھایا کہ چونکہ تم آزاد ہو اس لیے اپنی فکر کو بھی تمام اخلاقی قیود سے آزاد کر دینا چاہیے۔ چنانچہ ایک بار پھر اس نقطہ کا اعادہ غیر ضروری نہیں ہوگا کہ اقبالؔ آزادیٔ افکار و اظہار کے قطعی طور پر مخالف نہیں ہیں، تاہم اس کے لیے کچھ حدود کا تعین ضروری سمجھتے ہیں جن کے بغیر یہ آزادی کارِ ابلیس کے سوا اور کچھ نہیں رہتی۔ علامہ ایک اور جگہ فرماتے ہی:-

آزادیِ افکار سے ہے اُن کی تباہی
رکھتے نہیں جو فکر و تدبّر کا سلیقہ
ہو فکر اگر خام تو آزادیِ افکار
انسان کو حیوان بنانے کا طریقہ!

(ضربِ کلیم: آزادیِ فکر)

یہی وجہ ہے کہ آج وہ لوگ دینی معاملات میں مجتہدانہ اظہارِ رائے کر رہے ہیں جنہوں نے نہ تو علمِ دین حاصل کیا اور نہ کسی شیخ کی صحبت اُٹھائی۔ محض اخبارات و رسائل کی ادارت کے وسیلہ سے ”امیرِ جماعت“ کے منصبِ عالیہ پر سرفراز ہو گئے اور آج پاکستان کے سادہ لوح مسلمانوں کو ”صالح نمائندوں“ کی معرفت اسلامی حکومت کے قیام کا سبز باغ دکھا کر اپنی دکان چمکا رہے ہیں۔

تبصرہ

یہ کلام جدید دور کے جمہوری اور اشتراکی فکری انارکی (anarchy) کا حکیمانہ محاکمہ ہے۔ علامہ اقبال نے واضح کیا ہے کہ آزادیِ افکار اخلاقی تربیت، دینی فہم اور گہری بصیرت کے بغیر محض خود فریبی اور تباہی کا راستہ ہے؛ نااہل اور خام اذہان کو بغیر کسی رہنما اصول کے رائے زنی کی کھلی چھُوٹ دے دینا قوم کے اجتماعی شیرازے کو بکھیر دیتا ہے، کیونکہ شیطانی قوتیں آزادی کے اِسی دلکش نعرے کی آڑ میں معاشروں سے وحدتِ فکر اور ایمانی ثبات چھین لیتی ہیں۔

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *