ضربِ کلیم 84: حکومت
بے مقصد بحثوں سے کردار کے زوال اور جفاکش قوم کی حکمرانی کا بیان
علامہ اقبال کی کتاب ’ضربِ کلیم‘ (اعلانِ جنگ بر دورِ حاضر) کی منتخب انقلابی نظمیں، اشعار، فکری تشریح اور الفاظ و معانی۔
بے مقصد بحثوں سے کردار کے زوال اور جفاکش قوم کی حکمرانی کا بیان
راہب کی سکون پرستی اور مومن کے طوفانی فقر کا واضح فرق
محکوم قوم کے درباری مفکروں کی غلامانہ ذہنیت پر ضرب
پیرِ حرم کو فرسودہ رسوم چھوڑ کر سوز جگانے کی صدا
خودی کو فلک سے برتر دیکھ کر باطنی حلال و حرام کی پہچان کا راز
مغربی عقلِ عیار کی ہوس اور خون ریزیوں کا پردہ چاک
شاعرانہ فیضان پر شکر اور غلامی پر راضی قوم پر فریاد
الفاظ کے الجھاؤ کے بجائے خونِ جگر سے زندہ فکر تخلیق کرنے کا درس
صوفی کو معجزات کے بجائے ممکنات کی دنیا بدلنے کی دعوت
دانے کے جنونِ نشوونما اور تسلیم و رضا کا حقیقی مقصود
عقلِ خام کی نارسائی اور وحیِ الٰہی کی ابدی رہنمائی
ذکر و علم خودی کے نگہباں اور حرم کا درماں نہ ہوں تو کچھ نہیں