Skip to content

ضربِ کلیم 52: تسلیم و رضا

تعارف

نظم ”تسلیم و رضا“ مجموعۂ کلام ”ضربِ کلیم“ کا ایک نہایت ولولہ انگیز اور انقلابی کلام ہے جس میں علامہ اقبال نے نباتات کی نمو کے مشاہدے سے تسلیم و رضا کے روایتی، بزدلانہ اور جامد تصور کی بنیادی اصلاح کی ہے۔

اقبالؔ فرماتے ہیں کہ پودے کی ہر شاخ فضا کی پہنائیوں کو پہچانتی ہے اور مٹی کی تاریکی میں دبا ہوا بیج جمود پر شاکر رہنے کے بجائے ہر لمحہ نشوونما کے جنون میں زمین کا سینہ چیر کر باہر نکل آتا ہے۔ وہ انسان کو جھنجھوڑتے ہیں کہ فطرت کے تقاضوں کو روک کر بے عملی کو تسلیم و رضا کا نام نہ دو؛ اگر دانے میں اُگنے اور بڑھنے کی جرات ہو تو خدا کی وسیع کائنات میں اُس کے لیے کوئی فضا تنگ نہیں ہوتی۔

تسلیم و رضا کے حقیقی مفہوم اور انسانی سعی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

اِس نظم میں علامہ اقبال نے تسلیم و رضا کی حقیقت واضح کی ہے کہ اس کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ انسان عمل سے غافل ہو جائے یا کوشش سے باز آ جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ عام طور سے مسلمانوں میں تسلیم و رضا کا یہ مفہوم جا گزیں ہو گیا ہے کہ بس اللہ کی مرضی کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دو اور خود کوئی کوشش نہ کرو۔ اقبالؔ کہتے ہیں کہ تسلیم و رضا کا مفہوم یہ ہے کہ انسان ہر معاملہ میں اپنے مقدور کوشش کرے اور جب حتی الامکان کامیابی کے تمام ذخائر جمع کر لے، تو حصولِ مقصد کے لیے جد و جہد کرے اور اِس سب کے بعد نتیجہ اللہ کے ہاتھ چھوڑ دے۔ اگر ناکامی ہو تو سچّے مسلمان کی طرح مایوس یا رنجیدہ نہ ہو، بلکہ اللہ کی مشیّت کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے، یہی تسلیم و رضا ہے۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح ضربِ کلیم
سماعت فرمائیے
YouTube video

تشریح

شعر 1

ہر شاخ سے یہ نکتۂ پیچیدہ ہے پیدا
پَودوں کو بھی احساس ہے پہنائے فضا کا

معانیالفاظ
باریک بات، مُشکل اور گہری باتنُکتۂ پیچیدہ
ظاہرپیدا
فضا کی وسعت / پھیلاؤپہنائے فضا

تشریح:

پودوں کے نشو و نما پر غور کرنے سے یہ نُکتۂ پیچیدہ واضح ہو سکتا ہے کہ نباتات کو بھی احساس ہے کہ فضا بہت وسیع ہے، اِس لیے ہمیں نشو و نما کے لیے یعنی اپنے پھیلنے اورشاخوں کو بڑھانے کا موقع حاصل ہے۔ گویا یہی احساس ہے جس کے باعث وہ ہر طرف پھیلتے اور پھلتے پھُولتے نظر آتے ہیں۔

شعر 2

ظُلمت کدۂ خاک پہ شاکر نہیں رہتا
ہر لحظہ ہے دانے کو جُنوں نشوونَما کا

معانیالفاظ
مٹی کا تاریک گھرظُلمت کدۂ خاک
شُکر کرنے والا، مطمئنشاکر
ہر لمحہ، ہر پَل، ہر گھڑیہر لحظہ
سودا، جوشجُنوں
بڑھنا، پھلنا پھُولنانشو و نما

تشریح:

اور یہی احساس بیج کو زمین کے اندر بے قرار رکھتا ہے اور وہ کھُلی فضا میں زندگی بسر کرنے کے لیے مضطرب و بے چین رہتا ہے۔ چنانچہ کوئی دانہ زمین کے اندر پڑے رہنے پر قناعت نہیں کرتا، بلکہ ہر دانہ میں زمین سے باہر نکلنے اور پھلنے پھولنے کا جذبہ جنون کی حد تک کار فرما ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ مٹی کے تاریک گھر میں یعنی مٹی کے نیچے دبا ہوا ہونے کے باوجود مصروفِ عمل رہتا ہے اور نشو و نما پا کر پودے یا درخت کی صورت میں باہر آ جاتا ہے اور اِس طرح پودا پھلتا، پھُولتا اور پھیلتا رہتا ہے۔

یعنی کوئی دانہ یہ نہیں کہتا کہ مجھے عمل کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اگر خدا کی مرضی ہوگی تو مجھے نشو و نما حاصل ہو جائے گی۔

شعر 3

فطرت کے تقاضوں پہ نہ کر راہِ عمل بند
مقصود ہے کچھ اور ہی تسلیم و رِضا کا

معانیالفاظ
خواہش، ضرورتتقاضا
عمل کا راستہراہِ عمل
مقصد، مُدعا، مطلب، غرضمقصود
سپُرد کرنا، مُراد ہے خدا کی مرضی پر سر جھُکاناتسلیم
راضی ہونا، خوشی، خدا کی مرضی پر خؤش رہنارضا

تشریح:

پس اے انسان! تُو نباتات سے سبق حاصل کر اور فطرت و قدرت کے جو تقاضے ہیں، اُن کی راہِ عمل بند نہ کر، اور یہ تقاضے پُورے ہونے دے۔ تیری فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ تُو سرگرمِ عمل رہے، جہد و عمل سے کام لے اور اپنے مقصد کے حصول کے لیے کوشش کرتا رہے۔ تسلیم و رضا کا مقصود یہ نہیں کہ تُو ہاتھ پاؤں توڑ کر حُجرہ میں بیٹھ جائے۔ بلکہ اس بلند روحانی اصُول کا فلسفہ یہ ہے کہ تُو ہر معاملہ میں پہلے اپنی سی کوشش کر، پھر نتیجہ خدا کے ہاتھ میں چھوڑ دے، یعنی سرِ تسلیم خم کر مگر عمل کرنے کے بعد۔

شعر 4

جُرأت ہو نمُو کی تو فضا تنگ نہیں ہے
اے مردِ خدا، مُلکِ خدا تنگ نہیں ہے!

معانیالفاظ
دلیری، بے خوفی، حوصلہجرأت
ظاہر ہونا، بڑھنا، پھلنا، پھولنانمُو
محدودتنگ

تشریح:

اے مردِ خدا! اگر تُجھ میں نشو و نما کی ہمّت و جرأت ہے اور اپنی صلاحیتیں اُجاگر کرنے کی تمنّا ہے تو آگے بڑھ، جہد و عمل سے کام لے اور اپنے لیے وسعت کا سامان کر۔ تُو یقین جان کہ مواقع بھی بہت ہیں۔ اگر ایک جگہ تُجھے موقع نصیب نہیں ہوتا تو دِل شکستہ نہ ہو جا، بلکہ دُوسری جگہ جا کر کوشش آزما، کیونکہ اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔ چنانچہ تُجھے چاہیے کہ جہد و عمل اور جوش و جذبہ سے بھرپُور کام لے اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دے۔ یاد رکھ! تسلیم و رضا کا اصل مفہوم تو خدا کی مرضی کے مطابق جینے کا ہے، نہ کہ بے عمل ہونے کا۔

ایک پنجابی صوفی کے بقول:-

؎ مالی دا کم پانی دینا، بھر بھر مَشکاں پاوے
مولا دا کم پھل پھُل لانا، لاوے یا نہ لاوے

تبصرہ

یہ نظم بے عملی اور مایوسانہ قناعت پر کاری ضرب ہے۔ اقبالؔ بیج اور پودے کے متحرک استعارے سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ تسلیم و رضا کا اصل مفہوم پستی اور جبر پر سر جھکا لینا نہیں، بلکہ اپنی تمام پوشیدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر فطرت کو مسخر کرنا ہے۔ اگر انسان کے اندر نمو اور ارتقا کا سچا جذبہ ہو تو خدا کی دُنیا اس کی پرواز کے لیے کبھی تنگ نہیں ہو سکتی۔

حوالہ جات

2 thoughts on “ضربِ کلیم 52: تسلیم و رضا”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *