Skip to content

ضربِ کلیم 40: فلسفہ

تعارف

نظم ”فلسفہ“ مجموعۂ کلام ”ضربِ کلیم“ کا ایک نہایت بصیرت افروز اور خود تجرباتی کلام ہے جس میں علامہ اقبال نے جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں کی فکری اُلجھنوں اور خشک فلسفیانہ موشگافیوں پر قلندرانہ نگاہ ڈالی ہے۔

اقبالؔ فرماتے ہیں کہ نوجوانوں کے باطنی اور ظاہری افکار قلندر کی نگاہ سے پوشیدہ نہیں کیونکہ وہ خود بھی ایک زمانے میں فلسفے کی اسی راہگزر سے گزر چکے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ عقل مند غواص الفاظ کے پیچ در پیچ صدف میں الجھنے کے بجائے اصل موتی (گہر) کی تلاش کرتا ہے، اور حقیقت کا وہ شعلہ محض منطقی دلائل سے نہیں بلکہ عشق اور جذبِ جُنُوں کی نگاہ سے حاصل ہوتا ہے۔

فلسفے کی حقیقت اور عقلی کاوشوں کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

ضربِ کلیم کی اِس نظم میں علامہ اقبال نے فلسفہ کی حقیقت بیان کی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ فلسفہ عقلی کاوِشوں یا موشگافیوں کا دوسرا نام ہے اور وہ عقلؔ صرف اربابِ جنوں یعنی عاشقانِ حق کے حلقہ میں بیٹھنے سے پیدا ہو سکتی ہے، جو حق و باطل میں اِمتیاز کر سکتی ہے۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح ضربِ کلیم

لفظ فلسفہ کی لغوی اصل، اس کی مختلف تعریفوں اور علوم میں اِس کے مقام پر ویکی پیڈیا کے مقالے میں درج ہے:-

فلسفہ یونانی لفظ ”فلو سوفی“ یعنی حکمت سے محبت سے نکلا ہے۔ فلسفہ کو تعریف کے کوزے میں بند کرنا ممکن نہیں، لہذا ازمنہ قدیم سے اس کی تعریف متعین نہ ہوسکی۔

فلسفہ علم و آگہی کا علم ہے۔ ایک ہمہ گیر علم جو وجود کے اغراض اور مقاصد دریافت کرنے کی سعی کرتا ہے۔ افلاطون کے مطابق فلسفہ اشیاء کی ماہیت کے لازمی اور ابدی علم کا نام ہے، جبکہ ارسطو کے نزدیک فلسفہ کا مقصد یہ دریافت کرنا ہے کہ وجود بذات خود اپنی فطرت میں کیا ہیں۔ کانٹ اسے ادراک و تعقل کے انتقاد کا علم قرار دیتا ہے۔ فلسفہ کو اِن معنوں میں ’’ام العلوم‘‘ کہہ سکتے ہیں کہ یہ موجودہ دور کے تقریباً تمام علوم کا منبع و ماخذ ہے۔ ریاضی، علم طبیعیات، علم کیمیا، علم منطق، علم نفسیات، معاشرتی علوم سب اسی فلسفہ کے عطایا ہیں۔

ویکی پیڈیا، بابِ فلسفہ
سماعت فرمائیے
YouTube video

تشریح

شعر 1

افکار جوانوں کے خفی ہوں کہ جَلی ہوں
پوشیدہ نہیں مردِ قلندر کی نظر سے

معانیالفاظ
فکر کی جمع۔ خیالات، نظریات، دِل و دماغ کی اُلجھنیںافکار
چھُپے ہوئے، باریک، چھوٹےخفی
ظاہر، روشن، واضح، نمایاں، موٹےجلی
چھُپے ہوئےپوشیدہ

تشریح:

قوم کے جوانوں کے افکار— خواہ وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ ہوں، قلندر کی نگاہ سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔

شعر 2

معلوم ہیں مجھ کو ترے احوال کہ مَیں بھی
مُدّت ہوئی گزرا تھا اسی راہ گزر سے

معانیالفاظ
حالتیں، کیفیتیں، واقعات، اطلاعات، صورت حال، کیفیات، اخبار، خبریںاحوال
دیر، عرصۂ درازمُدّت

تشریح:

اے کالج کے مغرب زدہ مسلمان! مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ تُو کس قسم کے تشکیک آمیز اور اِلحاد انگیز خیالات میں مُبتلا ہے۔ تیرا دِماغ شکوک و شبہات کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔کیونکہ میں خود جب کالج میں، انگریزوں کے مقرر کردہ نصابِ تعلیم (یہ نظام اور نصابِ تعلیم ابھی تک ہمارے سروں پر مسلّط ہے) کا مطالعہ کر رہا تھا، تو اِس قسم کے ناپاک اور غیر اسلامی خیالات کا شِکار رہتا تھا۔ کبھی میں بھی تیری طرح فلسفہ کا مارا ہوا تھا، جب اس کی حقیقت مجھ پر منکشف ہو گئی تو میں اِس سے باز آ گیا کیونکہ فلسفہ کسی چیز کا حل نہیں ہے، یہ حقیقت تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔

؎ انکشافِ رازِ ہستی عقل کی حد میں نہیںؔ
فلسفی یاں کیا کرے اور سارا عالم کیا کرے

(شاعر: اکبر الہ آبادی)

شعر 3

الفاظ کے پیچوں میں اُلجھتے نہیں دانا
غوّاص کو مطلب ہے صدَف سے کہ گُہر سے!

معانیالفاظ
لفظوں کا ہیر پھیر / گورکھ دھنداالفاظ کے پیچ
پھنسنا، اٹکنااُلجھنا
غوطہ لگانے والاغوّاص
سیپصدف
موتیگُہر

تشریح:

جو عقل و دانِش رکھنے والے لوگ ہیں وہ الفاظ کے گورکھ دھندنے میں خود کو نہیں اُلجھاتے اور فلسفہ سوائے گورکھ دھندے میں اُلجھنے کے اور کُچھ نہیں ہے۔ علامہ یہاں سوالیہ انداز میں پوچھتے ہیں کہ دریا میں غوطہ لگانے والے کا مقصد تو موتی حاصل کرنا ہوتا ہے نہ کہ سیپ، جبکہ اور فلسفہ کا مارا ہوا سیپ کے پیچھے پڑا رہتا ہے اور موتی اُس کے ہاتھ نہیں آتا۔

انجامِ خِرد ہے بے حضوری
ہے فلسفہ زندگی سے دُوری
افکار کے نغمہ ہائے بے صوت
ہیں ذوقِ عمل کے واسطے موت

(ضربِ کلیم: ایک فلسفہ زدہ سیّد زادے کے نام)

شعر 4

پیدا ہے فقط حلقۂ اربابِ جُنوں میں
وہ عقل کہ پا جاتی ہے شُعلے کو شرر سے

معانیالفاظ
جنوں (عشقِ الہی) کے مالک لوگوں کے حلقے، عاشقانِ اِلہی کے حلقےحلقۂ اربابِ جنوں
چِنگاریشرر

تشریح:

عقل بھی دو قسم کی ہے۔ ایک فلسفہ کے مارے ہوئے لوگوں کی ہے اور وہ شرر اور شعلے میں (صداقت اور کذب میں / حق اور باطل میں / حقیقت اور ظن میں) فرق نہیں کر سکتی۔ ایک عقل عاشقانِ الہی کی ہے، اہلِ عشق و جنوں کی ہے۔ یہ عقل اِس فرق کو سمجھتی ہے۔ اس لیے آدمی کو اس فلسفۂ عقل کے پیچھے لگنے کی بجائے اہلِ عشق کے پیچھے لگنا چاہیے۔ واضح ہو کہ بعض اوقات علامہ اقبال عشق سے وحیِ الہی بھی مُراد لیتے ہیں۔ بقول علامہ اقبال:-

؏ علم ہے اِبن الکتاب، عشق ہے اُمّ الکتاب!
(ضربِ کلیم: علم و عشق)

شعر 5

جس معنیِ پیچیدہ کی تصدیق کرے دل
قیمت میں بہت بڑھ کے ہے تابندہ گُہر سے

معانیالفاظ
مشکل معنی، اُلجھے ہوئے معانیمعنیِ پیچیدہ
کسی بات یا معاملے کے سچ حق ہونے کی گواہی دینا، شہادتتصدیق کرنا
چمکتا ہوا موتیتابِندہ گُہر

تشریح:

جب تجھے اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے عاشقوں کی صحبت کے طفیل میں وہ عقل حاصل ہو جائے گی (اور اُس عقل کو اِصطلاح میں نورِ قلب کہتے ہیں) تو پھر تیرا دِل جس فلسفہ کی تصدیق کرے پس وہی صحیح ہے اور موتیوں سے بھی زیادہ قیمتی ہے اور جس عقلی مسئلہ کی تصدیق نہ کرے، وہ غلط ہے۔

یعنی جس بات کی تحقیق میں دِل شریک نہیں رہا اور اُسے قرآن کی تعلیم کے مطابق دِل نے تسلیم نہیں کر لیا؛ یقین مانو کہ وہ علم، وہ تعلیم، وہ فلسفہ، وہ حِکمت آج نہیں تو کل ختم ہو جائے گی۔ اصل معیار عقل کی تصدیق کی بجائے دِل کی تصدیق ہے اور اسی تصدیق سے اعلی اور گھٹیا معنی و مطلب کا پتا چل سکتا ہے۔

شعر 6

یا مُردہ ہے یا نَزع کی حالت میں گرفتار
جو فلسفہ لِکھّا نہ گیا خونِ جگر سے

معانیالفاظ
مرا ہوا، بے جانمُردہ
مرنے کے قریب ہونے کی حالتنزع کی حالت
پکڑا ہوا، مُبتلا، پھنسا ہواگِرفتار
حکمت، عقل سے مسائل سمجھنے اور حل کرنے کا علم۔ عقلی کاوِشیں / موشگافیاںفلسفہ
جگر کے خون سے، خلوصِ دِل سے، عشق کی کیفیّات میں گُم ہو کرخونِ جِگر سے

تشریح:

یاد رکھ! کہ جو فلسفہ خونِ جِگر سے نہ لِکھا جائے، یعنی جس فلسفہ کو دِل کی تائید حاصل نہ ہو وہ یا تو مُردہ ہے، یا قریب الموت ہے؛ یعنی کسی توجہ کا مستحق نہیں، بالکل غلط ہے اور گمراہی کا باعث ہے۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مومن کا دِل یا نورِ ایمانی، فلسفہ کی صحت کی کسوٹی ہے۔ صحیح فلسفہ وہ ہے جس کی صحت کی تصدیق ”دِل“ کر سکے۔ دوسرے الفاظ میں صحیح فلسفہ وہ ہے جو قرآنی تعلیمات (عشق) کی کسوٹی پر پورا اُترے۔

تبصرہ

یہ کلام فلسفیانہ اُلجھنوں اور محض لفظی نزاعات کے مقابلے میں دِل کے ایقان اور جذبِ درُوں کی برتری کا اعلان ہے۔ اقبالؔ نے اپنے ذاتی فکری سفر کا حوالہ دے کر واضح کِیا ہے کہ الفاظ کے گورکھ دھندے انسان کو حقیقت سے دور رکھتے ہیں۔ سچی دانائی یہ ہے کہ انسان غواص کی طرح ظاہر کے صدف کو چھوڑ کر حقیقت کے اصل گہر تک رسائی پائے۔

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *