Skip to content

بالِ جبریل 123: دُعا

تعارف

نظم ”دُعا“ مجموعۂ کلام ”بالِ جبریل“ کی وہ ولولہ انگیز اور وجد آفرین مناجات ہے جو علامہ اقبال نے اپنے دورۂ ہسپانیہ کے دوران عظیم تاریخی شاہکار مسجدِ قرطبہ کے پُرشکوہ مگر اجڑے ہوئے دالان میں بیٹھ کر تحریر فرمائی۔

شاعر اپنی نواؤں میں جگر کا لہو شامل کر کے اسے اپنی نماز اور وضو قرار دیتا ہے اور امراء و سلاطین کی درگاہوں کو ٹھکرا کر صرف باری تعالیٰ کی ذات کو اپنا نشیمن ٹھہراتا ہے۔ وہ اپنے سینے میں ”آتشِ اللہ ہُو“ کی تجلی کے ساتھ بارگاہِ صمدیت سے اس ”شرابِ کہن“ کا تقاضا کرتا ہے جو روحوں میں سوز و مستی بھر دے؛ اور آخر میں شعر و فلسفے کی حقیقت کو محض ایک ایسا ”حرفِ تمنا“ قرار دیتا ہے جسے انسان بے باکی کے ساتھ روبرو بیان کرنے سے قاصر رہتا ہے۔

مسجدِ قرطبہ کے پُرشِکوہ پس منظر میں مانگی گئی دعا کے باطنی سوز و گداز پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

یہ پُرسوز، پُر کیف اور پُر تاثیر دعا حضرتِ علامہ نے مسجدِ قرطبہ میں بیٹھ کر لکھی۔ پہلے تین اشعار میں دعا کا فلسفہ بیان کیا ہے اور اس کے بعد کے چار شعر حمد و ثنا کے رنگ میں ہیں، پھر دو اشعار میں دُعا کی ہے اور ایک شعر میں فلسفہ اور شعر کی حقیقت بیان کی ہے۔ چونکہ یہ نظم ایک خاص ماحول میں اور خاص جذبہ کے تحت لکھی گئی ہے، اس لیے اس کا ہر شعر سوز و گداز میں ڈوبا ہوا ہے، جس کی وجہ سے پڑھنے والے کے دِل میں بھی اسی قسم کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔اس نظم میں بظاہر نہ کسی لفظ میں اشکال ہے، نہ کسی ترکیب میں اغلاق ہے۔ دشواری جو کچھ ہے وہ یہ ہے کہ اقبالؔ کی شاعری سراسر رمز و کنایہ سے معمور ہے اور اس قسم کے اشعار کی خصوصیت یہ ہے کہ بظاہر مطلب کچھ ہوتا ہے لیکن بہ باطن شاعر کی مراد کچھ اور ہوتی ہے۔ بالفاظِ دِگر ایمائی اشعار کا ظاہری مطلب جہاں ختم ہوتا ہے، در اصل حقیقی مفہوم وہاں سے شروع ہوتا ہے، یہ بات بالِ جبریل ہی کے لیے مختص نہیں ہے، اقبالؔ کی ہر تصنیف میں یہی رنگ پایا جاتا ہے۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بالِ جبریل

گول میز کانفرنس کے بعد اقبال کے سفرِ اسپین کی تفصیلات بتاتے ہوئے اسرار زیدی رقم طراز ہیں:-

اقبالؔ جب 1932ء میں گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن گئے تو وہاں فراغت کے بعد انہوں نے ہسپانیہ کا دورہ بھی کیا۔ تاریخی اعتبار سے ہسپانیہ جن دنوں مسلمان سلاطین کے زیرِ نگیں رہا تو اس کی عظمت انتہائی عروج پر پہنچ گئی تھی۔ مسلمان سلاطین نے قرطبہ کو اپنا دارالحکومت قرار دیا تھا۔ زیرِ شرح نظم علامہ نے قرطبہ کی جامع مسجد میں بیٹھ کر تخلیق کی۔ یہ مسجد مسلمانوں کے زوال کے بعد عیسائی حکمرانوں نے گرجا میں تبدیل کر دی تھی۔ اِس المیے کے اثرات اقبالؔ کی اس نظم میں جا بجا موجود ہیں۔

اسرار زیدی، شرح بالِ جبریل

علامہ اقبال نے اپنے مشہور خطبات میں فلسفۂ دُعا کو بیان کِیا ہے۔ ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم اس کے ترجمہ اور تلخیص میں لِکھتے ہیں:-

انسانی روح حقیقتِ مطلقہ سے گہرا رابطہ چاہتی ہے، یہ رابطہ استدلال سے نہیں بلکہ دُعا سے پیدا ہوتا ہے، جس سے روح میں تنویر اور تقویت پیدا ہوتی ہے۔ لیکن دعا کے بھی مدارج ہیں۔ نبیوں کی دُعا انقلاب آفریں ہوتی ہے، اس سے ایک نیا عالم ظہور میں آتا ہے۔ صوفی یا ولی کے شعور میں دُعا زیادہ سے زیادہ تر ایک خاص قسم کا علم یا عرفان پیدا کرتی ہے۔

اِس کی تائید میں علامہ اقبال نے امریکہ کے مشہور فلسفی اور ماہرِ نفسیات ولیم جیمز کی ایک کتاب سے اقتباس پیش کیا ہے، جس کا لبِ لباب یہ ہے کہ طبیعی سائنس خواہ کتنی ہی ترقی کر جائے، انسان دُعا مانگتے ہی رہیں گے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ انسانی نفس اپنی ماہیت اور بطون میں صحبت، رفاقت اور جماعت کا طالب ہے۔ وہ رفیق چاہتا ہے اور رفیقِ اعلی اس کو ایک جاودانی نصب العینی عالم میں ملتا ہے۔ بعض انسانوں میں مسلسل یا کبھی کبھار اس سے ربط کا احساس سینے کے اندر پنہاں رہتا ہے۔ مردود و مسکین انسان بھی اس قسم کے رابطے کی وجہ سے اور اس نسبت کی بدولت اپنے تئیں ایک حقیقی ہستی سمجھتا ہے۔ اس قسم کی رفیقِ اعلی ہستی انسان کی جائے پناہ ہے۔ اگر یہ پناہ نہ رہے اور دوسرے انسانوں سے بیزاری اور بے تعلقی محسوس ہو تو اکثر انسانوں کی زندگی میں ایک ہیبت ناک خلا پیدا ہو جائے۔ انسانوں کی طباع میں بڑا تفاوت ہے، اس لیے یہ خواہش اور ضرورت بھی سب کو یکساں محسوس نہیں ہوتی۔ جن میں یہ احساس شدید ہوتا ہے وہ لوگ مذہبی کہلا سکتے ہیں، لیکن جو لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، میرے نزدیک وہ لوگ اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہیں۔ دعا ایک جبلی اور فطری تقاضا ہے۔ دُعا سے جو عرفان حاصل ہوتا ہے اس کی نوعیت عقلی یا استدلالی نہیں ہوتی۔ دُعا میں انسان حقیقتِ مطلقہ سے براہِ راست ہم کنار ہو جاتا ہے اور حیاتِ لامتناہی سے بہرہ حاصل کرتا ہے۔ دعا میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جزئی زندگی، جو ایک محدود سا جزیرہ تھی، اپنے آپ کو ایک ناپیدا کنار قلزم میں پاتی ہے۔ یہ محض نفس کی اپنی خیال انگیزی کا دھوکا نہیں۔ محض ذاتی خیال انگیزی (Autosuggestion) سے نفس میں تنویر پیدا ہوتی ہے اور نہ اُس کے اثرات دیرپا اور دُوررَس ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم، خطباتِ اقبالؔ (ترجمہ و تلخیص)
سماعت فرمائیے
YouTube video

تشریح

شعر 1

ہے یہی میری نماز، ہے یہی میرا وضو
میری نواؤں میں ہے میرے جگر کا لہُو

معانیالفاظ
لے، مغمہ، شاعری، صدانوَا
جگر کا خون، سچا جذبۂ عشقِ حقیقیجگر کا لہُو

تشریح:

اے مولا کریم! میں جو نغمے آلاپ رہا ہوں (فریاد کر رہا ہوں) وہ محض آواز نہیں ہے، ان میں میرے جگر کا لہو شامل ہے اور یہی میرا وضو ہے اور یہی میری نماز ہے۔ یعنی میں جو کچھ عرض کر رہا ہوں وہ سراسر تیرے عشق میں ڈوب کر کررہا ہوں۔ محض شاعرانہ خیال آرائی نہیں کر رہا۔ علامہ نے اپنی اس حالت و کیفیت کو نماز و وضو قرار دیا ہے۔ نماز بروئے شریعت سب سے بڑی عبادت ہے اور عبادت کا مغز دعا ہے، لیکن دعا کی شرط یہ ہے کہ اس میں خلوص کا رنگ ہو یعنی دِل کی گہرائیوں سے نکلے۔ اس طرح کہ اس میں دعا کرنے والے کے جگر کا خون یعنی عشق کا رنگ منعکس ہو۔

اقبالؔ کہتے ہیں کہ عشقِ حقیقی جب اپنی انتہا پر پہنچتا ہے تو جگر کا لہو بھی آہ و فریاد میں ڈھل جاتا ہے۔ یہی آہ و فریاد میری نماز اور وضو کا روپ دھار گئی ہے۔

”خونِ جگر“ اقبالؔ کی خاص اصطلاح ہے اور اس سے ان کی مراد عشق یا ”خلوصِ قلب“ ہوتی ہے۔ چند شعر ملاحظہ ہوں:-

؎ یا مُردہ ہے یا نزع کی حالت میں گرفتار
جو فلسفہ لِکھا نہ گیا خونِ جگر سے

(ضربِ کلیم: فلسفہ)

؎ رنگ ہو یا خِشت و سنگ، چنگ ہو یا حرف و صوت
معجزۂ فن کی ہے خونِ جگر سے نمود

(بالِ جبریل: مسجدِ قرطبہ)

؎ خُونِ دل و جگر سے ہے میری نَوا کی پرورش
ہے رگِ ساز میں رواں صاحبِ ساز کا لہُو

(بالِ جبریل: ذوق و شوق)

شعر 2

صُحبتِ اہلِ صفا، نُور و حضور و سُرور
سر خوش و پُرسوز ہے لالہ لبِ آبُجو

معانیالفاظ
رفاقت، ہمراہی، ساتھ، پاس بیٹھناصحبت
پاک و صاف دِل رکھنے والے لوگ، عارفاہلِ صفا
دِل کا روشن ہونا، روشنینور
خدائی جلوَے کا پیشِ نظر ہونا، محبوب کی حضوریحضور
کیف و سُرُور، کیف و مستیسُرور
بے انتہا خوشسرخوش
حرارتِ عشق سے پُرپُرسوز
لالے کا پھول، Tulipلالہ
ندی کا کنارہلبِ آبجُو

تشریح:

لیکن یہ خلوص، یہ رنگِ فِدویت، یہ خشوع و خضوع اہلِ صفا یعنی عشاق کی صحبت سے پیدا ہو سکتا ہے۔ صحبتِ مرشد کے بغیر انسان خلوص کی نعمت سے بہرہ وَر نہیں ہو سکتا۔ جن لوگوں کے دِل و باطن صاف اور طرح کی آلودگیوں سے پاک ہیں، ان کی صحبت میں بیٹھنا دِل کو منور کرتا ہے، محبوب کی حضوری بھی میسر آتی ہے اور یوں کیف و سرور کی لذت حاصل ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح لالہ کا پھول ندی کے کنارے تر و تازہ اور شگفتہ رہتا ہو اور اس میں سرخی بھی خوب رہتی ہے، ندی کی لہریں اس کو ہمیشہ تازگی، سرخوشی اور سوز بخشتی رہتی ہے۔ گویا ندی استعارہ ہے اہلِ صفا کا اور لالہ اہلِ صفا کی صحبت میں بیٹھنے والے۔ جس طرح پانی پھولوں کی آبیاری کرتا ہے، اسی طرح مرشد کی نگاہ دِل کو تر و تازہ کرتی ہے۔ انسان میں سرخوشی اور گداز اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ مرشد کی صحبت اختیار کرتا ہے۔

؎ خِرد کے پاس خبر کے سِوا کچھ اور نہیں
ترا علاج نظر کے سِوا کچھ اور نہیں

(بالِ جبریل)

؎ خدا سے پھر وہی قلب و نظر مانگ
نہیں ممکن امیری بے فقیری

(بالِ جبریل)

؎ حاصل کسی کامل سے یہ پوشیدہ ہنر کر
کہتے ہیں کہ شیشے کو بنا سکتے ہیں خارا

(ارمغانِ حجاز: بڈھے بلوچ کی نصیحت بیٹے کو)

؎ کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زورِ بازو کا
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

(بانگِ درا: طلوعِ اسلام)

؎ فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا
نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے

(بالِ جبریل)

شعر 3

راہِ محبّت میں ہے کون کسی کا رفیق
ساتھ مرے رہ گئی ایک مری آرزو

معانیالفاظ
دوست، ساتھیرفیق
تمنّا، ارمان، اشتیاق، شوق، اُمنگ، خواہش، مراد، مقصد، طلبآرزو

تشریح:

پس دعا میں اس وقت خلوص پیدا ہو سکتا ہے جب انسان اللہ کے عشق میں فنا ہو جائے لیکن اس راستہ میں نہ دوست کام آ سکتا ہے، نہ کوئی عزیز مدد کر سکتا ہے، عاشق کو یہ راہ اپنی ذاتی کوشش اور ہمّت سے طے کرنی پڑتی ہے۔ ہاں! اس راہ میں اگر کوئی رفیق ہو سکتا ہے تو وہ عاشق کا جذبۂ عشق ہی ہے، جو آخر تک ساتھ دے سکتا ہے، اسی جذبۂ عشق کو اقبالؔ نے آرزو سے تعبیر کیا ہے۔ یہ جذبۂ عشق ہی ہے جو آرزو میں ڈھل کر انسان کو آگے لیے جاتا ہے اور محبوبِ حقیقی تک رسائی کا باعث بنتا ہے۔

اقبالؔ کے کلام میں ”آرزو“ کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ اسرارِ خودی میں فرماتے ہیں:-

ترجمہ: جستجو ہی زندگی کا راز ہے؛ آرزو کے اندر ہی زندگی کی اصلیّت پوشیدہ ہے۔ اس لیے تُو اپنے اندر آرزو کو آباد رکھ؛ تاکہ تیرا بدن قبر نہ بن جائے۔ آرزو خاکی انسان کو اُڑنے کی طاقت عطا کرتی ہے؛ ہماری ادراک کے لیے آرزو اسی طرح راہبر ہے جس طرح موسی علیہ السلام کے لیے خضر علیہ السلام راہبر بنے۔
(اسرارِ خودی: در بیان اینکہ حیاتِ خودی از تخلیق و تولید مقاصد است)

شعر 4

میرا نشیمن نہیں درگہِ میر و وزیر
میرا نشیمن بھی تُو، شاخِ نشیمن بھی تُو

معانیالفاظ
آشیانہ، ٹھکانا، گھونسلانشیمن
در گاہدرگہ
بادشاہ اور وزیر، مراد حمکرانمیر و وزیر
جس شاخ پر گھونسلا بنا ہوا ہوشاخِ نشیمن

تشریح:

دعا کی حقیقت واضح کرنے کے بعد اب اقبالؔ اللہ سے خطاب کرتے ہیں کہ اے ربِ کریم! میں تیرا ایک عاجز بندہ ہوں اور دنیا میں تیرے سوا کسی کو اپنا دست گیر اور حاجت روا نہیں سمجھتا۔ میرے مولا کریم! میں نہ تو امیروں کے در کو اپنا ٹھکانا بنایا ہے اور نہ وزیروں کی بارگاہ کو ٹھکانا بنایا ہے، میں ان سب سے بے نیاز ہوں، کسی بھی دنیاوی دولت و مرتبہ کے حامل آدمی کو اس لائق نہیں سمجھتا۔ میرا نشیمن بھی تُو ہی اور اور شاخِ نشیمن بھی تُو ہی ہے، یعنی میں صرف تجھ ہی پر تکیہ کرتا ہوں اور اس تکیہ کی توفیق بھی تجھی سے طلب کرتا ہوں۔ میرے لیے تُو ہی سب کچھ ہے، منزل بھی اور راہ بھی۔ گویا یہ تیرا کرم ہے کہ مجھے تُو نے اس شعور و توفیق سے نوازا ہے کہ میرا سب کچھ تُو ہی ہے۔ میں صرف تجھی کو اپنی زندگی کا سہارا سمجھتا ہوں اور یہ سمجھ جو مجھ میں پیدا ہوئی ہے، یہ بھی تیری ہی پیدا کردہ ہے۔

شعر 5

تجھ سے گریباں مرا مطلعِ صُبحِ نشور
تجھ سے مرے سینے میں آتشِ ’اللہ‌ھوٗ‘

معانیالفاظ
سینہ، دِلگریباں
طلوع ہونے کی جگہمطلع
قیامت کی صبح کے طلوع ہونے کا مقامصُبحِ نشور

تشریح:

تیرے عشق ہی کی بدولت میرا گریباں صبحِ قیامت کے طلوع کی صورت اختیار کر گیا ہے اور تیرے عشق ہی کی وجہ سے میرے سینے میں ”اللہ ھو“ کی آگ روشن ہے۔ مطلب یہ کہ تیرے عشق کی بدولت میرے گریبان سے قیامت کے ہنگامے اُٹھ رہے ہیں۔ جس طرح قیامت کے روز مُردے زندہ ہو جائیں گے، اسی طرح، تیرے کرم سے، میرا جذبۂ عشقَ کامل مُردہ لوگوں میں زندگی کی روح پھونک دے گا۔

؎ نہاں تقدیرہا در پردۂ من
قیامت با بغل پر وردۂ من

ترجمہ: میرے پردے میں مقدّر (قوموں کی تقدیریں) پوشیدہ ہیں اور قیامتیں میری آغوش میں پرورِش پا رہی ہیں۔
(زبورِ عجم: گلشن رازِ جدید: تمہید)

شعر 6

تجھ سے مری زندگی سوز و تب و درد و داغ
تُو ہی مری آرزو، تُو ہی مری جُستجو

معانیالفاظ
تپش، حرارتسوز
حرارت، چمکتب
عشقِ حقیقی کی خلِشدرد
عشقِ حقیقی کا زخمداغ
تمنّا، ارمان، اشتیاق، شوق، اُمنگ، خواہش، مراد، مقصد، طلبآرزو
تلاش کرنا، ڈھونڈنے کا عمل، تحقیق، دریافت، کھوئی ہوئے شے کو تلاش کرناجُستجو

تشریح:

مولائے کائنات! تیرے ہی دم سے میری زندگی سوز و درد و داغ کے علاوہ روشنی کا مظہر بنی ہوئی ہے۔ میری زندگی میں تیری ہی محبت کی بدولت سوز و گداز اور سرمستی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ تُو ہی ہے جو میرے عشق میں آرزو بن کر بسا ہوا ہے اور یہی جذبہ جستجو کا حامل بن جاتا ہے۔ تُو ہی میرا مقصود اور مطلوب ہے اور تجھ کو حاصل کرنا ہی میری زندگی کا نصب العین ہے۔

شعر 7

پاس اگر تُو نہیں، شہر ہے ویراں تمام
تُو ہے تو آباد ہیں اُجڑے ہُوئے کاخ و کُو

معانیالفاظ
غیر آبادویراں
ویران، غیر آباداُجڑے ہوئے
محل اور گلیاں (کُوچے)کاخ و کُو

تشریح:

اے آقا! یہ تیری یاد ہی ہے جس کے بغیر ہر سُو ویرانی ہی ویرانی نظر آتی ہے اور جب مجھے تیری قُربت کا احساس ہوتا ہے تو اجڑے ہوئے محلات اور سنسان گلی کوچے بھی آباد و درخشاں نظر آتے ہیں۔ مراد یہ کہ قربِ الہی سے انسان عظمت و بلندی سے سرشار ہوتا ہے۔ اس کے برعکس عشقِ الہی اور اس کی معرفت نہ ہو تو پورا ماحول اجاڑ و سنسان بن کر رہ جاتا ہے۔

شعر 8

پھر وہ شرابِ کُہن مجھ کو عطا کر کہ مَیں
ڈھُونڈ رہا ہوں اُسے توڑ کے جام و سُبو

معانیالفاظ
پُرانی شراب، پہلے مسلمانوں کا سا جذبہشرابِ کُہن
اپنا پیالہ اور مٹکا توڑ کرتوڑ کے جام و سبُو

تشریح:

اے خدا! تُو مجھے پھر وہی پرانی شراب عطا فرما، اس لیے کہ میں نئے تہذیب کے تمام جام و سبو توڑ کر اس پرانی شراب کی تلاش میں لگا ہوا ہوں۔ میں نے جدید تہذیب کے تمام لوازمات سے قطع تعلق کر لیا ہے۔ مجھے وہی جذبۂ عشق نواز دے جو میرے اسلاف کا ورثہ ہے کہ سب کچھ چھوڑ کر میں تو عشقِ الہی میں جذب ہو چکا ہوں اور محض تیری ہی تلاش میں مصروف ہوں۔ الہی! قوم کو وہ پہلے مسلمانوں کے سے جذبے اور ولولے عطا کر جس سے وہ دنیا پر چھا گئے اور اپنی عظمت و سربلندی، نیز بقا کا سامان کر گئے، یعنی ہمیں عشقِ رسول اللہ ﷺ کی دولت عطا فرما دے۔

شرابِ کُہن پھر پِلا ساقیا
وہی جام گردش میں لا ساقیا!
مجھے عشق کے پَر لگا کر اُڑا
مری خاک جُگنو بنا کر اُڑا
خِرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پِیروں کا استاد کر

(بالِ جبریل: ساقی نامہ)

شعر 9

چشمِ کرم ساقیا! دیر سے ہیں منتظر
جلوَتیوں کے سُبو، خلوَتیوں کے کُدو

معانیالفاظ
مہربانی کی نظر، لطف و کرم کی نظرچشمِ کرم
یعنی اے خدا!ساقیا
انتظار کرنے والےمنتظر
وہ لوگ جو خلوَت میں رہتے ہیں، مراد ہے گوشہ نشین، درویش، تنہائی پسند لوگخلوَتی
پیالہ، مٹکا، جامسبُو
وہ لوگ جو جلوَت میں رہتے ہیں، مراد ہے دنیا دار، محفل میں بیٹھنے والےجلوَتی
کاسہ، پیالہکَدُو

تشریح:

اے میرے مولیٰ کریم! میں اس دعا میں اپنی قوم کے تمام افراد کو شریک کرتا ہوں، وہ لوگ جو امورِ دنیاوی میں مشغول ہیں اور وہ بھی جو عُزلت گزیں (علیحدگی / تنہائی اختیار کیے ہوئے ہیں)، سب تیری نگاہِ کرم کے منتظر ہیں۔

”جلوَتی“ اور ”خلوَتی“: جلوَتی کے لفظی معنی ہیں وہ لوگ جو جلوَت (بھیڑ بھاڑ) میں رہتے ہیں اور خلوَتیوں سے مراد ہے گوشہ نشین (تنہائی میں رہنے والے)۔ اِن دونوں اصطلاحوں سے مختلف مفہوم مراد لیے جا سکتے ہیں۔ مثلاً امیر اور فقیر، اہلِ سیاست اور اہلِ تصوّف، علماء اور اولیاء، دنیا دار اور دین دار۔ ”حال“ ہی کی مناسبت کے لیے دونوں کے لیے الگ الگ لفظ استعمال کیے۔ جلوَتیوں کے لیے سُبُو (وہ پیالہ جس میں شراب ڈالتے ہیں) جس سے محفل آرائی کا سر و سامان اور اہتمام ظاہر ہوتا ہے، خلوتیوں کے لیے کدُو (یعنی کاسہ) جو درویشی اور قلتِ سامان (سامان کی کمی) کی دلیل ہے۔

شعر 10

تیری خدائی سے ہے میرے جُنوں کو گِلہ
اپنے لیے لامکاں، میرے لیے چار سُو!

معانیالفاظ
عشقِ حقیقی کا جذبہ، دیوانہ پنجُنوں
شکایت، شکوَہگِلہ
وہ مقام جس میں مکانیت کی تشخیص نہ ہو، عالم قدسلا مکاں
چاروں طرف، ہر طعف، چار اطراف، ساری دُنیاچار سُو

تشریح:

اے خدا! میں بڑے ادب کے ساتھ تیری جناب میں عرض کرتا ہوں کہ میرا جذبۂ محبت زمان و مکان کی قید کو گوارار نہیں کر سکتا، اس لیے تُو اپنے فضل و کرم سے مجھ میں بھی لا مکانی کی صفت پیدا کر دے۔

؎ سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا
غلَط تھا اے جُنوں شاید ترا اندازۂ صحرا

(بالِ جبریل)

نوٹ: چونکہ اقبالؔ کی رائے میں خودی کا کمال یہ ہے کہ وہ زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو جائے، اس لیے انہوں نے ہر کتاب میں مسلمانوں کو اسی نصب العین کے حصول کی تلقین کی ہے اور خود بھی اس نظم میں اللہ سے اسی دولتِ عظمیٰ کے حصول کی دعا کی ہے۔ چنانچہ وہ اپنے مشہور خطبات میں لکھتے ہیں:-

In the history of Muslim culture, on the other hand, we find that both in realms of pure intellect and religious psychology, by which term I mean higher Sufism, the ideal revealed is the possession and enjoyment of the Infinite. In a culture, with such an attitude, the problem of space and time becomes a question of life and death.

ترجمہ: اِس کے برعکس، ثقافتِ اسلامیہ کی تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ عقلیاتِ خالص اور نفسیاتِ مذہبی، یعنی اعلیٰ تصوف، دونوں دائروں میں جو نصب العین منکشف ہوتا ہے وہ لامتناہی کا حصول اور اس سے لطف اندوز ہونا ہے۔ ایسی ثقافت میں، جس کا یہ رجحان ہو، زمان و مکان کا مسئلہ زندگی اور موت کا سوال بن جاتا ہے۔

—Muhammad Iqbal, The Reconstruction of Religious Thought in Islam, Lecture 5
شعر 11

فلسفہ و شعر کی اور حقیقت ہے کیا
حرفِ تمنّا، جسے کہہ نہ سکیں رُو بُرو

معانیالفاظ
علمِ حکمتفلسفہ
آرزو کی بات، دِل کا مقصدحرفِ تمنّا
آمنے سامنے، بالمقابلرُو برُو

تشریح:

فلسفہ اور شعر کی حقیقت اور اس کے سوا کیا ہے کہ یہ حرفِ آرزو بیان کرنے کا ذریعہ ہیں۔ ایسی آرزو بیان کرنے کا ذریعہ جو محبوب کے سامنے واضح طور پر بیان نہ کی جا سکے۔ گویا شعر اور فلسفہ میں دِل کی باتیں استعاروں، کنایوں، اشاروں اور رمزوں ہی میں بیان کی جاسکتی ہیں۔ یعنی فلسفہ اور شعر کی تعریف مختصراً اتنی ہی ہے کہ ان کی وساطت سے اپنی دِلی تمنا کا اظہار کھُل کر نہیں کیا جاسکتا بلکہ یہاں بھی علامتوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی اس شعر کی شرح میں فرماتے ہیں:-

آخری شعر میں اقبالؔ نے اِس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ میں نے اللہ سے جو دعا کی ہے، اُس میں اپنے جذباتِ قلبی کی عکاسی مکمل طور سے نہیں کی ہے کیونکہ میں نے یہ دعا نثر میں نہیں کی ہے بلکہ شعر کی صورت میں کی ہے اور شاعری اور فلسفہ کی حقیقت یہ ہے کہ شاعر و فلسفی اپنے خیالات کو واشگاف بیان نہیں کرتا، محض اس لیے کہ وہ ایسا کر نہیں سکتا یعنی فلسفہ اور شعر کی خوبی رمز و ایماء میں مضمر ہے۔ چنانچہ دنیا کے تمام بڑے بڑے شعراء نے اسی صفت کی بدولت اپنی شاعری میں دلکشی کا رنگ پیدا کیا ہے۔ جن لوگوں نے کلامِ اقبالؔ کیا ہے وہ بخوبی واقف ہیں کہ اُن میں یہ صفت سب سے زیادہ نمایاں ہے، چنانچہ اقبالؔ نے خود پیامِ مشرِق کے اِس شعر میں اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے:-

؎ برہنہ حرف نگفتن کمال گویائیست
حدیث خلوتیان جز بہ رمز و ایما نیست

ترجمہ: یعنی شاعر کا کمالِ فن یہ ہے کہ وہ اپنے مفہوم کو واضح طور پر بیان نہ کرے بلکہ رمز و ایماء (اشارہ و کنایہ) سے کام لے کر پڑھنے والوں کی جولانیٔ طبع کے لیے ایک وسیع میدان مہیا کر دے۔

اسی حقیقت کو مرشدِ رومی نے، جو اس انداز یا اسلوب کے سب سے بڑے علمبردار ہیں، یوں واضح کیا ہے:-

؎ خوشتر آں باشد کہ سِرِّ دلبراں
گفتہ آید در حدیثِ دیگراں

ترجمہ: بہتر یہی ہوتا ہے کہ دِلبروں کا راز (معرفت) لوگوں کے قصے (لباس) میں (کنایہً) سُنا دیا جائے (یعنی اسرارِ حقیقت کو تمثیلی حکایات کے ضمن میں بیان کرنا ہی زیادہ بہتر ہے)۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بالِ جبریل

تبصرہ

یہ پُرکیف دُعا انسان کی محدود ہستی اور ذاتِ باری تعالیٰ کے لامحدود قرب کے درمیان عاشقانہ سرگوشی ہے۔ علامہ اقبال نے استدلال اور فلسفے کے خشک دائروں سے نکل کر دعا کو روح کی حتمی پناہ گاہ اور حقیقتِ مطلقہ سے ہم کنار ہونے کا ذریعہ بنایا ہے؛ ”اپنے لیے لامکاں، میرے لیے چار سُو“ کا گِلہ جہاں بندے کی ذات میں لامحدود کی آرزو جگاتا ہے، وہیں ”جام و سبُو“ توڑ کر پرانی شراب مانگنا امتِ مسلمہ کے باطن میں قرطبہ کے ایمانی جلال کو ازسرِ نو بیدار کرنے کا اعلان ہے۔

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *