Skip to content

ارمغانِ حجاز 2: بُڈھے بلوچ کی نصیحت بیٹے کو

تعارف

ظم ”بُڈھے بلوچ کی نصیحت بیٹے کو“ مجموعۂ کلام ”ارمغانِ حجاز“ کی ایک پرتاثیر اور قبائلی حمیّت سے لبریز نظم ہے، جس میں ایک کہنہ مشق اور غیور بلوچ بزرگ اپنے نوجوان بیٹے کو صحرائی اور درویشانہ زندگی کے رہنما اصول سکھا رہا ہے۔

اِس نصیحت میں اقبالؔ نے صحرا نشینوں کی شجاعت، خودداری، غیرت اور رزقِ حلال کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ بوڑھا بلوچ بیٹے کو نصیحت کرتا ہے کہ شہری زندگی کی عیش کوشی اور مادی آسائشوں میں پڑ کر اپنی قبائلی حمیت اور قلندرانہ استغنا کو نہ گنوائے، کیونکہ باوقار زندگی تلوار اور توکل کے سائے میں بسر ہوتی ہے۔

بوڑھے بلوچ کی تمثیل اور قبائلی درویشی کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

اِس نظم میں بُڈھے بلوچ سے بلوچستان کا خانہ بدوش بوڑھا بھی مراد ہو سکتا ہے اور مثالی مسلمان بھی، کیونکہ:-

(ا) خانہ بدوش صحرا نوَرد کی طرح سچا مسلمان بھی اپنے آپ کو کسی خطۂ زمین سے مستقل طور پر وابستہ نہیں کرتا۔ یعنی کسی ملک کو وطن نہیں بناتا کیونکہ ساری دنیا اس کا وطن ہے۔

؎ بازو تیرا توحید کی قوت سے قوی ہے
اسلام تیرا دیس ہے، تُو مصطفوی ہے

(بانگِ درا: وطنیت)

(ب) بلوچ کی طرح سچا مسلمان بھی خانہ بدوش ہوتا ہے کیونکہ وہ اِس دُنیاوی زندگی کو عارضی یقین کرتا ہے۔ وہ کہیں گھر نہیں بناتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ:-

؎ جگہ دِل (جی) لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے، تماشا نہیں ہے

سرکارِ دو عالم ﷺ کی یہ حدیث ہر وقت اُس کے پیشِ نظر رہتی ہے کہ دُنیا میں میری مثال اُس مسافر کی سی ہے، جو کسی پُل پر تھوڑی دیر کے لیے دم لینے کی غرض سے بیٹھ گیا ہو۔

(ج) بلوچ کی طرح سچا مسلمان بھی شہروں کی معصّیت آمیز زندگی سے دُور رہتا ہے۔ وہ نہ ریڈیو سنتا ہے، نہ سینما دیکھتا ہے، نہ ہال میں نیم برہنہ عورتوں کے ساتھ رقص کرتا ہے، نہ ریس میں جاتا ہے نہ کلب میں برج کھیلتا ہے اور نہ ہوٹلوں میں دادِ عیش دیتا ہے۔ اِس لیے میں بلوچ سے ”مردِ مومن“ مُراد لیتا ہوں۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح ارمغانِ حجاز
سماعت فرمائیے
YouTube video

تشریح

شعر 1

ہو تیرے بیاباں کی ہوا تجھ کو گوارا
اس دشت سے بہتر ہے نہ دِلّی نہ بخارا

معانیالفاظ
ویرانہ، صحرا، ریگستان، دشتبیاباں
موافق، پسندیدہگوَارا

تشریح:

اے نوجوانو! بیابان کی ہوا اور صحرا کی فضاء شہروں کی ناپاک اور مسموم آب و ہوا سے بدرجہا بہتر ہے۔ شہروں کا حُسن پروردۂ غازہ یعنی نقلی ہوتا ہے لیکن صحرا کا حُسن پروردۂ فطرت یعنی اصلی ہوتا ہے۔ نیز بیابانی زندگی سے صحت بھی ترقی کرتی ہے اور سیرت بھی استوار ہوتی ہے اور جفاکشی کی عادت بھی حاصل ہوتی ہے۔ لیکن دِلّی، لکھنو، لاہور، کراچی جیسے شہروں میں تو اکثر نوجوانوں کی زندگیاں برباد ہوجاتی ہیں۔دِلّی اور بُخارا سے”ترقی پسند“ شہر مراد ہیں، خواہ وہ پاکستان میں ہوں یا ہندوستان میں یا کہیں بھی ہوں۔یعنی دِلّی اور بخارا سے مراد ہیں وہ شہر جِن میں تہذیبِ مغرب کی لعنتِ سہ گاہی یعنی ”مئے و قمار و زنانِ بازاری“ کی افراط ہو۔

شعر 2

جس سمت میں چاہے صفَتِ سیلِ رواں چل
وادی یہ ہماری ہے، وہ صحرا بھی ہمارا

معانیالفاظ
مثل مانندصِفت
تیز رفتار طوفان، بہتا ہوا سیلابسیلِ رواں
دو پہاڑوں کے درمیان کی جگہوادی
ریگستان، جہاں سبزہ نہ ہوصحرا

تشریح:

اے نوجوان! تُو اپنے اندر سیلاب (سیل) کی صفت پیدا کر۔ جب تیرے اندر یہ شان پیدا ہوجائے گی تو تجھے معلوم ہوگا کہ کشمیر کی وادی بھی میری ہی ہے اور ترکستان و تاجکستان کا صحرا بھی میرا ہی ہے۔ مشاعروں میں شرکت مت کر۔ کیونکہ دُنیا میں کسی قوم نے شاعری کے ذریعے سے کسی دشمن پر فتح حاصل نہیں کی بلکہ اپنے اندر دُنیا کو فتح کرنے یعنی ”سیلِ رواں“ کی صفت پیدا کر۔

شعر 3

غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دَو میں
پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا

معانیالفاظ
اپنی عزت کا عزتِ نفس برقرار رکھنے کا جذبہغیرت
بھاگ دوڑ کی دُنیا، مُراد یہ دُنیاجہانِ تگ و دو
قدیم ایرانی بادشاہ دارا کے سر کا تاج۔ مراد عظمتتاجِ سرِ دارا

تشریح:

یاد رکھ! دُنیا میں فتح مندی اور کامیابی اُسی قوم کو حاصل ہوسکتی ہے جس کے جوانوں میں غیرت کا مادہ پایا جاتا ہے۔ بےغیرت قوم کبھی غلامی کی زنجیروں کو نہیں توڑ سکتی اور غیرت مند قوم کبھی غلام نہیں رہ سکتی اور غیرت دار نوجوان کبھی اپنے مقصد میں ناکام نہیں رہ سکتا۔

کیا بابر کی مثال تیرے سامنے موجود نہیں ہے کہ اگرچہ اُسے کئی دفعہ شکست ہوئی لیکن وہ ہمت نہیں ہارا بلکہ اُس نے ہر شکست کو اپنے حق میں مہمیز قرار دیا اور آخر کار ہندوستان فتح کرلیا۔

اقبالؔ کے نظامِ افکار میں ”غیرت“ کو جس قدر اہمیت حاصل ہے اُس کا اندازہ اس بات سے ہوسکتا ہے کہ اُن کی رائے میں:-

؏ دوسرا نام اِسی دین کا ہے فقرِ غیور!
(ضربِ کلیم: اسلام)

یعنی غیرت کا جذبہ، دینِ اسلام کا جزوِ لاینفک ہے۔

اِس شعر میں غیرت سے مراد ہے نصب العین کے حصول کی خاطر مر مِٹنے کا جذبہ، یہ غیرت اتنی بڑی چیز ہے کہ:-

؏ پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا

نوٹ: نصب العین سے میری مراد ہے تبلیغِ اسلام و اشاعتِ اسلام۔ اِس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوسکتا ہے کہ اگر مسلمان میں یہ جذبہ نہ ہو تو اقبالؔ کی رائے میں وہ مسلمان زندہ نہیں بلکہ مُردہ ہے۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں:۔

؎ تاکجا بے غیرتِ دیں زیستن
اے مسلماں! مُردن است ایں زیستن

ترجمہ: اے مسلمان تُو کب تک غیرتِ دین کے بغیر زندگی بسر کرے گا؟آ جان لے کہ ایسی زندگی زندگی نہیں بلکہ موت ہے۔
(پس چہ بائد کرد: فقر)

شعر 4

حاصل کسی کامل سے یہ پوشیدہ ہُنَر کر
کہتے ہیں کہ شیشے کو بنا سکتے ہیں خارا

معانیالفاظ
ماہر، ولی، درویش، اللہ کا وہ بندہ جو درویشی میں کمال رکھتا ہےکامِل
چھُپا ہوا فنپوشیدہ ہُنر
سخت، پتھر، فولادخارا

تشریح:

اے نوجوان! یہ تمام خوبیاں صرف اُس شخص میں پیدا ہوسکتی ہیں جو شیشہ کو سنگِ خارا یعنی اپنی خودی کو (جو شروع میں کانچ کی طرح نازک ہوتی ہے) پتھر کی طرح سخت بنا لے۔ لیکن یہ ہُنر کلفٹن، باغِ جناح، اوپن ایئر تھیٹر، آرٹ کاؤنسل یا راوی بوٹ کلب میں نہیں سکھایا جاتا۔ اگر تُو خودی کو مستحکم کرنا چاہتا ہے تو کسی کامل (مردِ مومن) کی صحبت اختیار کر۔

اِس شعر کا سارا لطف یا مفہوم لفظ ”پوشیدہ“ میں پوشیدہ ہے۔ یعنی خودی کو مستحکم کرنے کا ہُنر نہ کتابوں میں مرقوم ہے اور نہ اِس موضوع پر خطبات دیے جاتے ہیں نہ ”لِٹریچر“ شائع کیا جاتا ہے اور نہ قرآن کی ترجمانی کے پردہ میں اپنے لیے زمین تیار کی جاتی ہے بلکہ اِس کا تعلق ہدایت اور ارشاد سے ہے یعنی مردِ کامل (مرشد) طالبِ استحکامِ خودی کو خلوت میں کچھ ہدایات دیتا ہے اور وہ اُن پر عمل کرکے اپنی خودی کو مستحکم کرلیتا ہے۔ اقبالؔ نے اسی پوشیدہ ہُنر کو ایک جگہ ”افسوں“ سے تعبیر کیا ہے:۔

؎ من نمی دانم چہ افسوں می کُند
رُوح را در تن دِ گرگوُں می کُند
ترجمہ: میں نہیں جانتا وہ کیا افسُوں پھونکتا ہے جس سے بدن کے اندر جو روح ہے، کچھ اور ہو جاتی ہے۔
(پس چہ بائد کرد: حکمتِ کلیمی)

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ شیشہ کو خارا بنانے کا ہُنر ”سالانہ“ اجتماع میں نہیں سکھایا جاتا، بلکہ یہ ہنر کسی مردِ کامل کی صحبت سے حاصل ہوتا ہے۔

شعر 5

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملّت کے مقدّر کا ستارا

معانیالفاظ
فرد کی جمعافراد
قسمتتقدیر
قوم۔ مُراد مُسلمان اُمّتمِلّت
تقدیر کو سنوارنے والامقدّر کا ستارا

تشریح:

اے نوجوان! اِس حقیقت کو ذہن نشین کرلے کہ قوم کی تقدیر یعنی مستقبل میں اِس کی ترقی، تیری جد و جہد پر موقوف ہے۔ جیسے افراد ہوں گے، ویسی ہی قوم بھی ہوگی۔ اس لیے تجھے اپنی زندگی قوم کی ترقی کے لیے وقف کردینی چاہیے اور یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر میں غفلت سے کام لوں گا تو میری قوم تباہ ہوجائے گی۔

شعر 6

محروم رہا دولتِ دریا سے وہ غوّاص
کرتا نہیں جو صُحبتِ ساحل سے کنارا

معانیالفاظ
بے نصیبمحروم
دریا میں پائی جانے والی دولتدولتِ دریا
غوطہ لگانے والاغوّاص
کنارے پر بیٹھے رہناصحبتِ ساحل

تشریح:

جو غوّاص (غوطہ خور) ساحل پر بیٹھا رہتا ہے وہ کبھی سینۂ دریا سے موتی نہیں نکال کر لا سکتا۔ اِس طرح جو مسلمان نوجوان اپنی زندگی ہوٹل اور کلب میں بسر کرتا ہے اور استحکامِ خودی کے لیے کوشش نہیں کرتا۔ وہ نہ خود ترقی کرسکتا ہے اور نہ اُس کے وجود سے قوم کو کوئی فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ ماسکوؔ سے کچھ وظیفہ مقرر ہو جائے۔

شعر 7

دِیں ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملّت
ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارا

معانیالفاظ
چھوڑ دیناہاتھ سے دینا
قوم۔ مراد مسلمان قوممِلّت
نُقصان، گھاٹا، زیاںخسارا

تشریح:

اے نوجوان! اِس صداقت کو اپنے دِل میں جگہ دے کہ اگر تُو دِین کو قربان کر کے آزادی حاصل کرے گا تو اِس سودے میں تجھے سراسر نقصان ہوگا۔ بیشک آزادی حاصل کرنے کے لیے کوشش کر۔ لیکن دِین بیچ کر آزادی مت لے۔

اِس شعر میں اقبالؔ نے مسلمان نوجوانوں کو اِس حقیقت سے آگاہ کیا ہے کہ نظریہ وطنیت قبول کرکے اگر تمہیں آزادی حاصل ہوئی تو وہ بے کار ہے کیونکہ جب تم مسلمان ہی نہ رہے تو آزاد ہو کر بھی کیا فائدہ؟ واضح ہو کہ 1938ء میں کانگریس مسلمانوں سے یہ کہتی تھی کہ تم نظریہ وطنیت قبول کرکے ہمارے ساتھ آزادی کے لیے جد و جہد کرو۔ اِس لیے اقبال ؔنے مسلمانوں کو متنبّہ کیا ہے کہ ہرگز ایسا نہ کرنا کیونکہ اِس میں سراسر خسّارہ ہے۔

شعر 8

دنیا کو ہے پھر معرکۂ رُوح و بدن پیش
تہذیب نے پھر اپنے درِندوں کو اُبھارا

معانیالفاظ
روح اور جسم یا من اور تن کی جنگمعرکۂ روح و بدن
جدید تہذیب، مغرب کی تہذیبتہذیب
جنگل کا خونخوار جانوَردرِندہ
جوش دِلایااُبھارا

تشریح:

اے نوجوان! اِس وقت دنیا میں اسلام (روح) اور وطنیت (بدن) کے مابین زبردست جنگ برپا ہے۔تہذیبِ مغرب، جس کی بنیاد مادہ پرستی ہے، اِسلام کو مِٹانے پر تُلی ہوئی ہے۔

نوٹ: اقبالؔ نے اقوامِ یورپ کو ”درِندوں“ سے تعبیر کیا ہے کیونکہ اِس تہذیب کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ انسان اپنی عادات کے اعتبار سے حیوان بن جاتا ہے، چنانچہ دوسری جنگِ عظیم نے اِس حقیقت کو واضح کردیا۔

شعر 9

اللہ کو پامردیِ مومن پہ بھروسا
اِبلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا

معانیالفاظ
ثابت قدمی، اِستقلال، ڈٹ جاناپامردی
اعتباربھروسا
شیطانابلیس
یورپ کی مادی زندگی کے آلاتیورپ کی مشینیں

تشریح:

اے نوجوان! اِس وقت یزدان اور اہرمن (اسلام اور کفر) میں شدید مقابلہ ہورہا ہے۔ اِبلیس یعنی یورپ کو اپنے مادی وسائل پر ناز ہے۔ اور اللہ تعالی یعنی اسلام کو مومنوں پر بھروسا ہے۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ ایمان کی قوت، ہمیشہ مادی وسائل پر غالب آجاتی ہے۔ چنانچہ اسی قوت کی بدولت 1453ء میں ترکوں نے چھ سات میل تک خشکی میں اپنی جہاز کھینچ کر قسطنطنیّہ کی بندرگاہ میں لا کر ڈال دیے تھے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے ”تاریخِ دولتِ عثمانیہ“، مطبوعہ اعظم گڑھ، جِلد اوّل۔

شعر 10

تقدیرِ اُمَم کیا ہے، کوئی کہہ نہیں سکتا
مومن کی فراست ہو تو کافی ہے اشارا

معانیالفاظ
قسمت، نصیبتقدیر
اُمّت کی جمع، قومیںاُمم
دانائی، ذہانت، بصیرتفراست

تشریح:

یہ سچ ہے کہ کوئی شخص قبل از وقت نہیں بتا سکتا کہ فتح کس کی ہوگی لیکن اگر تو اپنی مومنانہ فراست سے کام لے تو تجھے معلوم ہوسکتا ہے کہ آخر میں ہمیشہ حق ہی کا بول بالا ہوتا ہے۔

شعر 11

اخلاصِ عمل مانگ نیا گانِ کُہن سے
’شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدا را!‘

معانیالفاظ
عمل میں خلوصاخلاصِ عمل
پرانے آبا و اجداد، قدیم زمانے کے بزرگنیاگانِ کُہن
شاہ کی جمع، بادشاہشاہان
کیا عجب ہےچہ عجب
نواز دیںبنوازند
بھکاری کو، غریب کوگدا را

تشریح:

پس اے بیٹے! تُو اِس نازک وقت میں اپنے گُزرے ہوئے اسلاف (نیاگانِ کہن) کے طرزِ عمل کو سامنے لا اور اُن کے نقشِ قدم پر چل۔ مجھے یقین ہے کہ تُو ضرور کامیاب ہوگا۔

”شاہان“ سے یہاں بزرگانِ دین کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی اگر مسلمان، سلفِ صالحین کا اتباع کریں گے تو فضلِ ایزدی (اللہ تعالی کا فضل) ضرور اِن کے شاملِ حال ہوگا۔

؏ شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدا را!
ترجمہ: اگر بادشاہ بھکاری پر رحم فرما دیں تو حیرانی کی بات نہ ہوگی۔

نوٹ: آخری مصرع ’؏ شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدا را‘ کے حوالے سے شارحین میں اختلاف ہے۔ پروفیسر یوسف سلیم چشتی کے مطابق یہ حافظؔ شیرازی کی غزل کا مشہور مصرع ہے، جبکہ ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی فرماتے ہیں کہ یہ مصرع ہلالیؔ کی تضمین ہے۔

تبصرہ

یہ کلام مسلم نوجوان کے لیے خودداری اور فقر کا پیغام ہے۔ اقبالؔ نے بوڑھے بلوچ کے لب و لہجے میں ملت کے ہر سپُوت کو یہ درس دیا ہے کہ وہ مادی آرام طلبی کے بدلے اپنی غیرت اور جرات کا سودا نہ کرے، بلکہ عقابی روح کے ساتھ زندگی کی راہوں پر گامزن رہے۔

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *