Skip to content

ضربِ کلیم 35: شِکست

تعارف

نظم ”شِکست“ علامہ اقبال کے مجموعہ کلام ”ضربِ کلیم“ کا ایک دوٹوک اور جُرات مندانہ کلام ہے جس میں صوفیا اور فقہا کے میدانِ عمل سے راہِ فرار کو اصل شکست قرار دیا گیا ہے۔

اقبالؔ افسوس کرتے ہیں کہ صوفی میں مجاہدانہ حرارت نہ رہی اور اس نے بے عملی کا عذر تراش لیا، جبکہ فقیہ نے بھی شریعت کے عملی معرکوں سے ڈر کر رہبانیت اختیار کر لی؛ مردوں کا زندگی کی جدوجہد اور کشمکش سے گریز کرنا ہی اصل شکست ہے۔

سماعت فرمائیے
YouTube video

تشریح

شعر 1

مجاہدانہ حرارت رہی نہ صُوفی میں
بہانہ بے عملی کا بنی شرابِ الَست

معنیلفظ
مجاہدوں والا جوش و جذبہمجاہدانہ حرارت

تشریح:

علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ آج کے صوفیہ میں جہاد فی سبیل اللہ کا جذبہ اور مجاہدانہ حرارت باقی نہیں رہی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے ذہنوں میں کچھ غیر اسلامی تصورات راسخ ہو گئے ہیں، جن میں سے ایک قرآنی آیتِ الست کی غلط تعبیر ہے:-

اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟
قَالُوا بَلٰى: (انہوں نے کہا) کیوں نہیں!

(القرآن: سورۃ الاعراف: 172)

اِس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بنی آدم سے اپنی ربوبیت کا اقرار لیا۔ ”رب“ کے معنی پرورش اور نشوونما کرنے والے کے ہیں، یعنی جو پالتا ہے، روزی دیتا ہے اور سنبھالتا ہے۔ اِس اقرار کا اصل تقاضا یہ تھا کہ جب ہم نے اللہ کو اپنا رب مان لیا تو اُس کی بندگی اور احکام پر عمل بھی ہم پر لازم ہے۔

لیکن جاہل صوفیوں نے اس آیت کا مفہوم الٹ دیا۔ صوفیانہ شاعری میں عہدِ الست کی یاد کو ”شرابِ الست“ یا ”جامِ الست“ کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ سرمستی اور بے خودی کی کیفیت پیدا کرتی ہے۔ اِن صوفیوں نے اسی کیفیت کو اپنی بے عملی کی سند بنا لیا۔ اِن کا استدلال یہ ہے کہ جب ہم نے اللہ کو اپنا رب، یعنی پالنے والا مان لیا تو ہماری پرورش اور کفالت کا ذمہ بھی اسی کا ہے۔ پھر ہمیں دنیا میں کوشش، جدوجہد اور جہاد کی کیا ضرورت؟ چنانچہ وہ حجروں میں بیٹھ کر خدا کو یاد کرتے ہیں اور دنیا سے بے خبر ہو جاتے ہیں، اور جب کوئی پوچھتا ہے کہ کیا کر رہے ہو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو ”جامِ الست“ پی کر دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو چکے ہیں۔

اسی لیے اقبالؔ نے بہانہ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ یعنی یہ صوفیہ کی حقیقی روحانی کیفیت نہیں، بلکہ عمل سے بچنے کا ایک عذر ہے۔ جس اقرار کا نتیجہ عمل اور جہاد ہونا چاہیے تھا، اسے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے کی دلیل بنا لیا گیا، اور یوں صوفی میں مجاہدانہ حرارت باقی نہ رہی۔

دُنیا سے کٹ کر بے عملی کی تصویر بنے رہنا، یعنی رہبانیت، سراسر غیر اسلامی تصوّف ہے۔

شعر 2

فقیہِ شہر بھی رُہبانیت پہ ہے مجبور
کہ معرکے ہیں شریعت کے جنگِ دَست بَدَست

معانیالفاظ
شہر کا مُفتی یا فقیہہ، اسلامی شرع سے واقف شخصیتفقیہِ شہر
معرکہ کی جمع، مراد ہے رزم گاہ، مہم، مقابلہمعرکے
ہاتھ کے ہاتھ، آمنے سامنےدَست بَدَست

تشریح:

صوفیاء نے تو ترکِ دُنیا کیا ہی تھا، ہمارے عُلماء اور فقہاء کا بھی یہ حال ہے کہ وہ بھی شریعت اور دین کی باتیں برملا کہنے پر جھجکتے ہیں، اِس خیال سے کہ کہیں حاکمانِ وقت سے تصادم نہ ہوجائے۔

اِس لیے فقیہِ شہر (عالمِ دین جو شہر میں رہتا ہے یا سارے شہر کا عالم مانا جاتا ہے) بھی ترکِ دُنیا پر مجبور ہے کیونکہ شریعت کی بات صاف صاف کہنے میں بالکل لوگوں اور حاکموں سے مقابلہ (جنگِ دست بدست) ضروری ہے۔ اس لیے وہ شریعت کی باتیں برملا کہنے سے کتراتا ہے۔ ہاں! آپس میں علماء کے ساتھ دست و گریباں ہونے اور فرقہ بندی کی جنگ کا دروازہ کھولنے میں وہ پیش پیش ہے۔

شعر 3

گُریز کَشمَکَش زندگی سے، مَردوں کی
اگر شکست نہیں ہے تو اور کیا ہے شکست!

معانیالفاظ
فرار، علیحدگی، اجتناب، دُوریگُریز
زندگی کی کھینچا تانی، جدو جہد، سعی و کوششکَشمَکَش زندگی

تشریح:

پس کشمکشِ حیات سے مسلمانوں کا گریز کرنا یعنی زندگی کی سختیوں سے گھبرانا اور جد و جہد سے چشم پوشی کرکے غاروں اور گوشوں میں چھُپ کر زندگی گزارنا، مُراد ہے بے عمل ہوجانا، دراصل یہی تو اصل شکست اور اعترافِ شکست ہے اور یہی رویہ قوموں کی تباہی کا باعث بنتا ہے۔

تبصرہ

اقبالؔ کے مطابق قوموں کی تقدیر اُن کی قوّتِ کردار سے بنتی ہے، عمل ہی کی بدولت قوموں کے مقدّر متعین ہوتے ہیں۔ لیکن آج کے مسلمان، جنہیں قرآن نے ”مہ و پرویں کا امیر“ بنایا تھا، دُنیا و مافیہا سے ترکِ تعلق کر کے بے عملی کی زندگی بسر کر رہے ہیں، جبکہ اِنہیں تو اِس کشمکش میں سب سے آگے رہنا چاہیے تھا، لیکن اِنہوں نے اُلٹا راستہ اختیار کر لیا اور یہ ایک افسوسناک امر ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کو چاہیے کہ قرآنی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر سراپا کردار بن جائیں اور زندگی کی سختیوں کا مردانہ وار مقابلہ کریں، کیونکہ مِلّتِ اسلامیہ کی بقا اِسی میں مضمر ہے۔

؎ نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبّیری
کہ فقرِ خانقاہی ہے فقط اندوہ و دِلگیری

(ارمغانِ حجاز)

حوالہ جات

3 thoughts on “ضربِ کلیم 35: شِکست”

  1. Such a great initiative from you to spread the message of Iqbal. Hope so our youth would start learning the teachings of Iqbal.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *