Skip to content

ضربِ کلیم 62: مردِ مُسلمان

تعارف

نظم ”مردِ مُسلمان“ مجموعۂ کلام ”ضربِ کلیم“ کا ایک عظیم الشان اور ولولہ انگیز شاہکار ہے جس میں علامہ اقبال نے کامل بندۂ مومن کی ہمہ گیر صفات، جلال و جمال، اور کائنات میں اس کے مرکزی منصب کا پرشکوہ مرقع پیش کیا ہے۔

مومن کی گفتار اور کردار دراصل بارگاہِ الٰہی کی زندہ برہان ہیں؛ وہ چار صفات یعنی قہاری، غفاری، قدوسی اور جبروت کا متوازن امتزاج ہے۔ وہ خاکی وجود رکھتے ہوئے بھی روح الامین (جبریل) کا ہم نشین ہے اور اُس کا ٹھکانہ بخارا یا بدخشاں کی تنگ سرحدیں نہیں بلکہ پورا جہان ہے۔ وہ دوستوں کے لیے جگرِ لالہ کی ٹھنڈک (شبنم) اور دشمنوں کے لیے دریاؤں کو دہلا دینے والا طوفان ہے؛ اور اُس کی زندگی کا آہنگ سورۂ رحمن کے نغمات کی مانند یکتا اور دلکش ہے۔ نظم کا معرکہ آرا نکتہ یہ ہے کہ مومن ظاہر میں محض قرآن کی تلاوت کرنے والا قاری نظر آتا ہے، مگر اپنی حقیقت میں وہ مجسم قرآن بن کر جیتا ہے۔

سماعت فرمائیے
YouTube video

تشریح

شعر 1

ہرلحظہ ہے مومن کی نئی شان، نئی آن
گُفتار میں، کردار میں، اللہ کی برُہان!

معانیالفاظ
لمحہ، دم، پَللحظہ
ادا، طور، دھب، سج دھج، اندازآن
بول چال، گفتگو، کلامگُفتار
روِش، چال چلن، سیرتکِردار
روشن اور واضح دلیل، کھُلی نشانیبُرہان

تشریح:

قرآن پاک میں اللہ تعالی اپنے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ:-

ترجمہ: ہر روز اُس (اللہ تعالی) کی ایک نئی شان ہے۔
(القرآن: سورۃ الرحمن: آیت نمبر 29)

مردِ مسلمان چونکہ صفاتِ ایزدی (اللہ تعالی کی صفات) کا حامل ہوتا ہے، اس لیے وہ بھی ہر لمحہ ایک نئی شان، ایک نئے شِکوہ اور ایک نئے اکرام کی صورت میں جلوہ فروز ہوتا ہے اور ہر لمحہ تقویٰ اور پاکیزگی میں ترقی کرتا رہتا ہے، ایک حالت پر قانع نہیں رہتا۔

اِس کی گفتگو (گفتار) سُنیں یا اِس کا عمل (کردار) دیکھیں؛ دونوں چیزیں اللہ تعالی کی حُجّت کی دلیل اور نشان ہوتی ہیں۔ وہ اپنے اقوال و اعمال سے اللہ اور کلام اللہ کی حقانیت کے دلائل پیش کرتا رہتا ہے۔ اُس کے اقوال و اعمال کو دیکھ کر دُنیا اللہ کی ہستی پر ایمان لاتی ہے۔ اس کی مثال ہندوستان کے صوفیائے اکرامؒ کی زندگیوں کے مطالعہ سے بخوبی مِل سکتی ہے۔ چنانچہ ان کی صحبت کے اثر سے ہزاروں بلکہ لاکھوں غیر مسلم اللہ تعالی پر ایمان لے آئے۔

شعر 2

قہّاری و غفّاری و قدّوسی و جبرُوت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان

معانیالفاظ
قہر، مغلوب رکھنے کی قوّتقہّاری
بخشنے، معاف کرنے کی خوبیغفّاری
قدسی سے مراد ہے فرشتہ۔ قدوسی یعنی فرشتوں کی سی پاکیزگیقدّوسی
جلال، عظمت، بزرگی، قدرت، طاقتجبرُوت
اجزائے ترکیبی، بنیادی اجزاءعناصر

تشریح:

ایک مردِ مُسلمان میں چار عناصر (اجزائے ترکیبی) کا ہونا ضروری ہے۔

  • پہلا عنصر قہاری کا ہے یعنی اُس میں ایسی ہیبت ایسی قوت ہوتی ہے کہ مخالف لرز اُٹھتا ہے۔
  • دوسرا عنصر غفاری کا ہے، وہ دوستوں کے ساتھ حُسنِ سلوک اور رحم کے ساتھ پیش آتا ہے اور ان کی خطاؤں سے درگُزر کرتا ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب وہ دُشمن پر غلبہ پالیتا ہے تو اُسے معاف کردیتا ہے۔
  • تیسرا عنصر قدوسی ہوتا ہے، یعنی اس کی سیرت میں، اس کے عمل میں، اس کی گفتار میں اور اس کی حرکات و سکنات میں فرشتوں جیسی پاکیزگی ہوتی ہے۔
  • چوتھا عنصر جبروت کا ہوتا ہے یعنی عظمت، جلال اور شِکوہ میں سب پر فوقیت رکھتا ہے۔

ایک شخص ایمان تو اللہ او اس کے رسول ﷺ پر لا سکتا ہے لیکن عملاً وہ مسلمان اور مومن اس وقت بنتا ہے جب اس میں مذکورہ بالا چار عناصر شامل ہوں۔ واضح ہو کہ یہ چار صفات اللہ کی ذاتِ مبارک میں پائی جاتی ہیں اور مومن ظِلِّ الہی (اللہ کا سایہ) ہوتا ہے۔

شعر 3

ہمسایۂ جِبریلِ امیں بندۂ خاکی
ہے اس کا نشیمن نہ بخارا نہ بدخشان

معانیالفاظ
خاک کا بنا ہوا انسانبندۂ خاکی
ٹھکانہ، آرام گاہ، آشیانہ، مسکننشیمن

تشریح:

مومن اگرچہ انسان ہوتا ہے، لیکن اُس میں فرشتوں کی سی پاکیزگی پائی جاتی ہے۔ اُس کا جسم بھی خاکی ہی ہوتا ہے لیکن اُس کی سرِشت اور نہاد نورانی ہوتی ہے۔

؎ خاکی و نوری نہاد، بندۂ مولا صفات
ہر دو جہاں سے غنی اِس کا دلِ بے نیاز

(بالِ جبریل: مسجدِ قرطبہ)

؎ سُنا ہے، خاک سے تیری نمود ہے، لیکن
تیری سرِشت میں ہے کوکبی و مہتابی

(بالِ جبریل: فرشتے آدم کو جنّت سے رخصت کرتے ہیں)

وہ اپنے باطن کی صفائی اور پاکیزگی کی وجہ سے جبریلِ امین کا ہمسایہ ہوتا ہے یعنی خدا کا قرب حاصل کرکے زندگی بسر کرتا ہے۔ اُسے نسلی وطنیت سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ وہ خود کو بدخشانی یا بخاری وطنیت کی حدوں میں محدود نہیں کرتا۔ یعنی اپنی قومیت کی بنیاد جغرافیائی وطنیت پر نہیں رکھتا بلکہ ایمانی اور روحانی وطنیت پر رکھتا ہے۔ وہ وطن دوست تو ہوتا ہے، لیکن وطن پرست نہیں ہوتا۔ وہ اپنے دین کے لیے اپنا وطن ترک کر سکتا ہے، لیکن اپنے وطن کے لیے اپنے دین کو ترک نہیں کر سکتا۔ وہ اس بات سے بخوبی واقف ہوتا ہے کہ اسلام ہی اُس کا وطن ہے۔

علامہ اقبال فرماتے ہیں:-

؎ بازو ترا توحید کی قوّت سے قوی ہے
اسلام ترا دیس ہے، تُو مصطفوی ہے

(بانگِ درا: وطنیت)

شعر 4

یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے، حقیقت میں ہے قُرآن!

معنیلفظ
قرآن شریف پڑھنے والاقاری

تشریح:

دُنیا والے بہت کم ایسے ہوں گے جو اس راز کو جانتے ہوں گے کہ مومن بظاہر تو قرآن پڑھتا ہوا نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں وہ خود قرآن ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ قرآن کو صرف پڑھتا نہیں بلکہ اُس کے حرف حرف پر عمل کرکے اُس کا آئینہ دار ہوجاتا ہے۔ چونکہ یعنی اُس کی پوری زندگی قرآن کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہوتی ہے، اس لیے وہ خود خود چلتا پھِرتا قرآن بن جاتا ہے۔

شعر 5

قُدرت کے مقاصد کا عیار اس کے ارادے
دُنیا میں بھی میزان، قیامت میں بھی میزان

معانیالفاظ
مقصد کی جمع۔ مطلب، غرض، مقصود، مطلوبمقاصد
کسوٹیعیار
ترازومیزان

تشریح:

مومن کے ارادے اور خیالات (چاہے گفتاری اور فکری ہوں یا چاہے عملی و کرداری ہوں)، قدرت کے مقاصد کی کسوٹی ہوتے ہیں یعنی قدرت کیا چاہتی ہے، اس بات کا جواب مومن کے ارادوں سے مِل سکتا ہے۔ قدرت جس امر کا تقاضا کرتی ہے، مومن اُسے عمل کی صورت میں دے دیتا ہے۔ مومن اللہ تعالیٰ کی منشا کے مطابق اس دنیا میں قانون نافذ کرتا ہے۔ مسلمان حکمران اس دنیا میں بھی انصاف کرتا ہے اور قیامت کے روز بھی انصاف والا پکارا جائے گا۔ وہ دنیا میں بھی اور قیامت میں بھی خدا کی میزان (ترازو) ہوتا ہے یعنی دنیا میں بھی نیکی اور بدی میں تفریق کرتا ہے، اور قیامت کے روز وہی نیک و بد میں تفریق کا معیار ٹھہرے گا۔

اِسی نُکتہ کو اقبالؔ نے یوں بیان کیا ہے:-

؎ غلامی کیا ہے؟ ذوقِ حُسن و زیبائی سے محرومی
جسے زیبا کہیں آزاد بندے، ہے وہی زیبا

(بالِ جبریل)

شعر 6

جس سے جگَرِ لالہ میں ٹھنڈک ہو، وہ شبنم
دریاؤں کے دِل جس سے دہَل جائیں، وہ طوفان

معانیالفاظ
سُرخ رنگ کا پھول جس کے اندر کا نچلہ حصہ سیاہ ہوتا ہےلالہ
کانپ اُٹھنادہل جانا

تشریح:

مومن زخمیوں، مسکینوں او غمزدوں کے حق میں مونس (غم بٹانے والا) اور ہمدرد ہوتا ہے، اور ظالموں اور زبردستوں کے حق میں طوفان اور بلائے درماں ہوتا ہے۔مردِ مسلمان (مومن) وہ ہے جو سوختہ دِلوں اور جلے ہوئے جگر والوں کے لیے یعنی مصیبت زدوں اور دُکھیوں کے لیے ایسی ٹھنڈک بنتا ہے، جیسی ٹھنڈک گُلِ لالہ کے سوختہ جِگر کو صبح کی شبنم پہنچاتی ہے۔ اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ مومن اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے رحم دِل اور نرم دِل ہوتا ہے، اس کے برعکس اگر دشمن مقابلے میں ہو تو وہ اس طوفان کی طرح ہوتا ہے جس سے دریاؤں کے دِل بھی کانپ اُٹھیں۔ مراد یہ ہے کہ وہ دشمنوں سے اپنے پورے قہر، جبروت اور طاقت سے نپٹتا ہے۔

اِس کے برعکس اگر دشمن مقابلے میں ہو تو وہ اس طوفان کی طرح ہوتا ہے جس سے دریاؤں کے دِل بھی کانپ اُٹھیں۔ وہ ظالموں اور زبردستوں کے حق میں طوفان اور بلائے درماں ہوتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ وہ دشمنوں سے اپنے پورے قہر، جبروت اور طاقت سے نپٹتا ہے۔

ترجمہ: محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ اُن کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں۔
(القرآن: سورۃ الفتح: آیت نمبر 29)

اقبالؔ ضربِ کلیم میں فرماتے ہیں:-

؎ ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

(ضربِ کلیم: مومن)

شعر 7

فطرت کا سرودِ اَزلی اس کے شب و روز
آہنگ میں یکتا صفَتِ سورۂ رحمٰن

معانیالفاظ
ہمیشہ سے جاری ترانہ / نغمہسُرُودِ ازلی
رات اور دِنشب و روز
لے، سُر، آوازآہنگ
سورہ رحمٰن کی مانندصفتِ سورۂ رحمٰن

تشریح:

مومن کے دِن اور مومن کی راتیں الغرض مومن کا ہر لمحہ ایک ایسا گیت (سُرُود) ہے جسے فطرت (قدرت) نے اپنے لیے روزِ اول (ازل) سے پسند کیا ہوا ہے۔ مومن کی زندگی فطرت کے نغموں کی طرح دِلکش ہوتی ہے اور اُس میں فطرت کے قوانین کے ساتھ ایسی ہم آہنگی پائی جاتی ہے جیسی سورۃ الرحمن کی آیتوں میں نظر آتی ہے۔

واضح ہو کہ سورۃ الرحمن کی آیتیں دوسری قرآنی آیتوں کے مقابلے میں زیادہ ہم آواز اور ہم آہنگ ہیں۔ جس طرح قرآن میں سورۃ الرحمن اپنی اس صفت کے اعتبار سے واحد اور بے مثل سورۃ ہے، اُسی طرح مردِ مسلمان بھی قدرت کی منشا کی ہم آوازی کے لحاظ سے جملہ انسانوں میں منفرد، واحد اور بے مثل ہوتا ہے۔

شعر 8

بنتے ہیں مری کارگہِ فکر میں انجم
لے اپنے مقدّر کے ستارے کو تو پہچان!

معانیالفاظ
فکر کا کارخانہکارگۂ فکر
نجم سے مُراد ہے ستارہ۔ انجم یعنی ستارےانجم
قسمت، نصیب، بختمقدّر

تشریح:

اے مخاطب! میری شاعری کو محض شاعری نہ سمجھ، بلکہ میں تو اس میں قرآن کے حقائق و معارف بیان کرتا ہوں۔ میری فکر کے کارخانے (کارگہِ فکر) میں ایسے ستارے (انجم) جنم لیتے ہیں جو تیری قسمت کو چمکا سکتے ہیں۔ دانش مندی یہ ہوگی کہ تُو اپنے مقدر کے ان ستاروں کو پہچان لے۔ یعنی میری شاعری میں جو حقیقتیں اور معرفتیں ہیں وہ گویا تابِندہ ستاروں کی مانند ہیں، اس لیے تُو ذرا غور تو کر کہ اِن میں سے کونسا نقطۂ معرفت تیرے دِل کو بھاتا ہے، جو تجھے پسند آئے اُسی کو اختیار کر، یقیناً تیرا مقدر سنور جائے گا۔

نوٹ: یہ شعر تلازمۂ تصوّرات اور شاعرانہ رعایت کی نہایت عُمدہ مثال ہے جس سے اقبالؔ کی قادر الکلامی ثابت ہوتی ہے۔ چونکہ پہلے مصرع میں انہوں نے اپنے اشعار کو ”انجم“ قرار دیا ہے (یہاں انجم اِستعارہ ہے جس سے اقبالؔ کا شعر مراد ہے، اس لیے دوسرے مصرع میں ”مقدر کا ستارہ“ لائے ہیں، جس سے لُطفِ کلام دوبالا ہوگیا ہے)۔ مقدر کا ستارہ علمِ نجوم کی اصطلاح ہے، یعنی وہ ستارہ جو انسان کے مقدر پر حکمران ہوتا ہے۔ دوسرا اور اقبالؔ کا اصلی مطلب یہ ہے کہ تُو ان اشعار میں سے جس شعر کو اپنے لیے منتخب کرے گا، وہی تیرے مقدر کا ستارہ بن جائے گا۔ یعنی اِس پر عمل کرنے سے تیرا نصیبا جاگ اُٹھے گا۔

تبصرہ

یہ کلام اقبالؔ کے ”مردِ مسلمان“ کا مکمل ترین فکری اور اخلاقی منشور ہے۔ علامہ نے واضح کِیا ہے کہ سچا مسلمان وہ نہیں جو محض روایتی اور رسمی عبادات پر قناعت کرے، بلکہ وہ ہے جس کا ارادہ اور کردار مشیتِ ایزدی کا پیمانہ اور دنیا و آخرت کی میزان بن جائے؛ قرآن کو محض تلاوت کی کتاب سمجھنے کے بجائے اپنے وجود کو قرآن کے زندہ احکام کا پیکر بنا دینا ہی وہ اعجاز ہے جو انسانِ خاکی کو کائنات کے مقدر کا ستارہ بنا دیتا ہے۔

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *