Skip to content

بالِ جبریل 129: لینن (خدا کے حضور میں)

فہرست

تعارف

نظم ”لینن (خدا کے حضور میں)“ مجموعۂ کلام ”بالِ جبریل“ کا وہ معرکہ آرا اور تاریخی کلام ہے جس میں علامہ اقبال نے اشتراکی انقلاب کے بانی ولادیمیر لینن کی زبانی بارگاہِ ربوبیت میں مغربی سرمایہ داری، سودی بینکاری اور استعماری جبر کا کچا چٹھا کھولا ہے۔

واضح ہو کہ اقبالؔ نے ”لینن“، ”فرشتوں کا گیت“ اور ”فرمانِ خُدا“، یہ تینوں نظمیں مُسلسل لِکھی ہیں۔ اس لیے اقبالؔ کا مفہوم اُسی وقت واضح ہو سکتا ہے جب اِن تینوں نظموں کو مجموعی طور پر پڑھا جائے۔

لینن کی شخصیت اور سوانحی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

چونکہ اِس نظم کا عنوان لینن ہے، اِس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پہلے اِس شخص (لینن) کی مختصر سوانح حیات درج کر دی جائے۔

عصرِ حاضر کا یہ مشہور روسی انقلاب پسند اور مادہ پرست کارل مارکس کے فلسفہ کا شارح اور وکیل بالشیوزم (Bolshavism) کا بانی یو-ایس-ایس-آر (USSR) کا پہلا صدر یعنی ڈکٹیٹر اور ہندوستان و پاکستان کے کمیونِسٹوں کا مذہبی پیشوا، جس کے اقوَال پر ہر ”ترقی پسند“ آنکھ بند کر کے ایمان لاتا ہے اور معیارِ حق و صداقت سمجھتا ہے، 1870ء میں سمبرسک (Simbirsk) واقع صوبہ قازان میں پیدا ہوا تھا۔ اس کا اصلی نام ولادیمیر الیچ الیانوف (Vladimir Ilyich Ulyanov) تھا اور اِس کا باپ اُس ضلع کے اسکولوں کا اِنسپکٹر تھا، اِس لیے بچپن ہی سے اس میں مطالعہ کا ذوق پیدا ہو گیا تھا۔

1887ء میں لینن کے بڑے بھائی کو سکندرِ ثالث زارِ روس (Alexander III of Russia) کے خلاف سازِش کے جُرم میں پھانسی دی گئی۔ اِس واقعہ کا نوجوان الیانوف (لینن) کے ذہن پر ایسا اثر ہوا کہ وہ ہمیشہ کے لیے انقلابی بن گیا اور چونکہ وہ زبردست قوّتِ اِرادی کا مالک تھا، اِس لیے اُس نے تیس سال کی مسلسل جد و جہد کے بعد عصرِ حاضر کا سب سے بڑا اِنقلاب برپا کر دیا۔

قازان یونیورسٹی سے قانون میں ڈگری لینے کے بعد اُس نے کئی سال کارل مارکس کی تصانیف کا مطالعہ کیا اور 1897ء میں اُس نے اِشتراکیت کی اشاعت کو اپنا مقصدِ حیات بنا لیا۔ 1898ء میں اُسے تین سال کے لیے سائیبیریا میں جِلاوطن کر دیا گیا۔ 1902ء میں اُس نے رُوس کو خیر باد کہا اور ٹراٹسکی کے ساتھ مِل کر سوئٹزر لینڈ سے اِشتراکیّت کی اشاعت کے لیے ایک میگزین جاری کیا جس کا نام چنگاری تھا۔

نوٹ: یہ وہی ٹراٹسکی ہے جسے جمہوریت کے علمبردار اور مزدوروں کے خالص ہمدرد جوزف اسٹالین نے 1927ء میں جِلا وطن کر دیا کیونکہ اُس کی شخصیت میں رومن کے موجودہ مطلق العنان فرمانروا کو اپنی راحت میں مخل نظر آتی تھی اور کانٹے کو اپنی راہ سے دُور کر دینا ہر ”عقلمند“ آدمی کا پہلا فرض ہے۔ چنانچہ اکبرؔ لِکھتے ہیں:-

؎ اُس نے دیا جواب کہ مذہب ہو یا رواج
راحت میں جو مخل ہو وہ کانٹا ہے راہ کا

قصۂ مختصر لینن 1902ء سے لے کر 1917ء تک رُوس سے باہر رہ کر انقلابِ رُوس کے لیے سرگرمِ عمل رہا اور جب 1917ء میں رُوس میں انقلاب رونما ہوا تو اِس شخص نے زارِ رُوس کے محل کو اپنے آفس میں تبدیل کر دیا اور اِشتراکیّت کے پردہ میں زارِ رُوس سے بڑھ کر مطلق العنانی کی زندگی بسر کی۔ 1924ء میں وفات پائی اور مرنے کے بعد اُس کی قوم نے اُس کو اُسی ہستی (خدا) کا ہم پلّہ قرار دے دیا جِس کے خلاف وہ ساری عُمر مصروفِ پیکار رہا۔ بات یہ ہے کہ فطرتِ انسانی کا تقاضا ہے کہ اپنے سے بالاتر کسی ہستی کے سامنے سر تسلیمِ خم کر دے۔ خدا نہ سہی، لیننؔ ہی سہی۔

اگر رومیوں نے لینن کو ”خدا“ بنا لیا اور آج ہزاروں روسی اشتراکی ملاحدہ روزانہ لیننؔ کے مُردہ جسم کے ”درشن“ کر کے اپنے دیے ہوئے مذہبی جذبات کی تسکین کا سامان فراہم کرتے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ مہاویر سوامی اور گوتم بُدھ دونوں نے ساری عمر خدا کے خلاف ”واک بیان“ دیے لیکن اُن کی وفات کے بعد اُن کے پیروؤں نے اُنہیں اپنا ”خدا“ بنا لیا، اِسی لیے اقبالؔ نے یہ کہا ہے:-

؎ در مقامِ ”لا“ نیا ساید حیات
سوی اِلّا می خرامد کائنات

زندگی ”لا“ کے مقام میں آسُودگی نہیں پاتی، کائنات خودبخود اِلّا کی طرف چل نکلتی ہے۔

(پس چہ بائد کرد: لا الہ الا اللہ)

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بالِ جبریل

لینن کے انقلابی پس منظر اور اس سلسلے کی نظموں کی باہمی مناسبت بیان کرتے ہوئے مولانا غلام رسول مہر تحریر کرتے ہیں:-

لینن دورِ حاضر کا بہت بڑا انقلابی تھا۔ 1870ء میں پیدا ہوا اور طالب علمی کے زمانے میں انقلابی بن گیا۔ اُس کے بڑے بھائی کو انقلابی سرگرمیوں کی ہی وجہ سے موت کی سزا دی گئی۔ لینن بدستور اپنی سرگرمیوں میں مصروف رہا۔ اُسی نے بالشویک جماعت بنائی، جس نے 1917ء میں زارِ رُوس کا تختہ اُلٹ کر اپنی حکومت قائم کی۔ لینن اِس حکومت کا پہلا سربراہ تھا۔ 1924ء میں اس نے وفات پائی۔ لینن کمیونزم کا سب سے بڑا داعی مانا جاتا ہے، جس نے کارل مارکس کے فلسفے کو عملہ جامہ پہنایا۔ روس میں موجودہ بالشویک حکومت کی بنیادیں لینن ہی نے اُستوار کی تھیں۔ یہ نظم اور بعد کی دو نظمیں مضمون کی مناسبت کے اعتبار سے ایک سلسلے کی مُخلتف کڑیاں ہیں۔

مولانا غلام رسول مہر، مطالبِ بالِ جبریل

بالِ جبریل کی فکری وسعت اور نظم کے موضوعاتی پس منظر پر گفتگو کرتے ہوئے اسرار زیدی رقم طراز ہیں:-

”بالِ جبریل“ اور اقبالؔ کی دوسری کتابوں میں بعض ایسی نظمیں اور اشعار شامل ہیں جن کے مطالعے سے اس امر کا اندازہ ہو تا ہے کہ اقبالؔ اپنے فکر و فلسفے کے حوالے سے انتہائی بالغ نظر اور وسیع القلب شاعر تھے۔ ان کی سوچ گہرائی اور گیرائی کی مظہر تھی۔ یہ مسئلہ یقیناً ایک تفصیلی بحث کا متقاضی ہے جس کی ان صفحات میں کسی اعتبار سے بھی گنجائش نہیں۔ اس مجموعہ میں ”لینن- خدا کے حضور میں“، ”فرشتوں کا گیت“ اور ”فرمانِ خدا – فرشتوں کے نام“ اسی قبیل کی نظمیں ہیں جو علامہ کی عام سوچ سے قدرے مختلف نظر آتی ہیں۔

لینن روس کا وہ عظیم انقلابی رہنما تھا جس نے کارل مارکس کے اشتراکی فلسفے کو عملی جامہ پہنا کر نہ صرف یہ کہ اپنی جماعت بنائی جس کا نام بالشویک تھا بلکہ 1917ء میں زارِ روس کا تختہ الٹ کر اشتراکی حکومت قائم کی۔ ہر چند کہ اقبالؔ کا اشتراکی نظریات سے کوئی تعلق نہ تھا تاہم انہوں نے اس فلسفے اور اس کے رہنماؤں بالخصوص لینن کے فکر و فلسفے کو جس انداز سے دیکھا یہ نظم اس کی ایک واضح شکل ہے۔ اِس نظم میں علامہ نے لینن کو خدائے ذوالجلال سے مکالمہ کرتے ہوۓ پیش کیا ہے۔ تکنیکی اور فکری سطح پر یہ ایک اہم نظم ہے۔

اسرار زیدی، شرح بالِ جبریل
سماعت فرمائیے
YouTube video

تشریح

شعر 1

اے انفُس و آفاق میں پیدا ترے آیات
حق یہ ہے کہ ہے زندہ و پائندہ تِری ذات

معانیالفاظ
انفُس سے منسوب، ارواح سے متعلقانفُس
افق کی جمع، جہان، دُنیا، کائناتآفاق
آیت کی جمع، نشانیاںآیات

تشریح:

لینن کی زبانی خیالات کے اظہار اور نظم کے ڈرامائی اسلوب کی حکمت بیان کرتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

چونکہ لینن کی طرح اقبالؔ خود بھی سرمایہ پرستی کے خلاف ہیں، اِس لیے اُنہوں نے اُس کی زبان سے اپنے خیال کا اِظہار کیا ہے تاکہ نظم میں ڈرامائی اسلوب پیدا ہو سکے جو اثر آفرینی کے لحاظ سے تمام اسالیب پر فوقیّت رکھتا ہے۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بالِ جبریل

لینن خدا کے حضور میں عرض کرتا ہے کہ:-

اے ذاتِ کریم! تیری ہستی کے دلائل، تیری نشانیاں (آیات) انفُس اور آفاق، دونوں میں موجود ہیں۔ حق یہ ہے کہ تُو ہی حیُّ اور قیُّوم ہے۔ تیری ہی ذات ہمیشہ زندہ اور قائم رہنے والی ہے۔

اِس مصرع کا مضمون قرآنِ حکیم کی تعلیم سے ماخوذ ہے یعنی اللہ کی ہستی کے دلائل کائنات میں بھی موجود ہیں اور خود اِنساںوں کے اندر بھی، بشرطیکہ وہ غور و فِکر سے کام لیں۔

ترجمہ: اور یقین کرنے والوں کے لیے کائنات میں (بھی ہماری ہستی) کے دلائل موجود ہیں اور خود تمہارے نفسوں میں بھی۔ پس کا تُم غور نہیں کرتے؟
(القرآن: سورۃ الذاریات: آیت 20 تا 21)

شعر 2

میں کیسے سمجھتا کہ تو ہے یا کہ نہیں ہے
ہر دم متغّیر تھے خرد کے نظریّات

معانیالفاظ
ایک حالت سے دوسری حالت اختیار کرنے والا، بدل جانے والا، تبدیل ہونے والامتغیّر
عقل، دانائیخِرد
نظریہ کی جمع، کسی چیز کے بارے میں کوئی تصور، حکیمانہ رائے یا خیالنظریات

تشریح:

اے خُدا! چونکہ میں ایک مادہ پرست تھا اور صرف عقلی دلائل پر اعتماد کرتا تھا اور عقلی دلائل کا کوئی اعتبار نہیں۔ آج ایک بات عقل کی رو سے صحیح ثابت ہوتی ہے کل وہی بات اُسی عقل کی رو سے غلط ثابت ہو جاتی ہے۔ اس لیے میں یہ فیصلہ نہ کر سکا کہ تُو ہے یا نہیں ہے۔

اگر اِن نظریات میں سے کوئی ایک نظریہ اپنی جگہ قائم رہتا تو مجھے یقین ہو جاتا کہ وہ نظریہ سچّا ہے، گویا اگر مجھے تیری ہستی کا یقین نہ آیا اور میں تجھ پر ایمان نہ لا سکا تو اِس کی وجہ فلسفیوں کے وہ نظریّات ہیں، جن کے بدلتے رہنے سے میں بدظَن ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ میں ساری زندگی تیرے وجود کے بارے میں بھی بے یقینی کا شکار رہا اور کوئی واضح شکل سامنے نہ آ سکی۔

شعر 3

محرم نہیں فطرت کے سرودِ اَزلی سے
بِینائے کواکب ہو کہ دانائے نباتات

معانیالفاظ
واقف، حقیقت جاننے والامحرم
ازل سے نکلتا ہوا نغمہ یا ساز یا صداسُرُودِ ازلی
کوکب کی جمع، کوکب یعنی ستارہ، بینائے کواکب سے مُراد ہے ماہرِ فلکیاتبینائے کواکب
نباتات وہ چیزیں ہیں جو زمین سے اُگتی ہیں، دانائے نباتات یعنی علمِ نباتات کا ماہردانائے نباتات

تشریح:

موجودہ زمانے میں عَلْمِ ہَیئَت و نجوم (Astronomy and Astrology) کے ماہر ہوں یا ماہرینِ فطرت (Naturalists)! وہ خود بھی حقیقت کا صحیح ادراک نہیں رکھتے۔ اول الذکر تو ستاروں کی گردش پر اکتفا کرتے ہیں اور دوسرے آئے دن نئی نئی باتیں سُناتے ہیں لیکن دیکھا جائے تو اُن کو فطرت کے مظاہر سے کوئی آگاہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فطرت کی ازلی صدا سے واقف نہ ہو سکے، خود بھی تیری ذات کے عرفان سے محروم رہے اور دوسروں کو بھی محروم رکھا۔

شعر 4

آج آنکھ نے دیکھا تو وہ عالم ہُوا ثابت
میں جس کو سمجھتا تھا کلیسا کے خرافات

معانیالفاظ
چرچ، عبادت گاہکلیسا
بے معنی چیز، جھوٹ، خیالی قصہ یا افسانہخرافات

تشریح:

یہ درست ہے کہ میں تو مادہ پرست تھا اس لیے مرنے کے بعد دوبارہ کی زندگی کا قائل ہی نہ تھا اور جب تک زندہ رہا، اُس وقت تک عالمِ آخرت کو پادریوں کی افسانہ سازیاں سمجھتا رہا، لیکن اب جب کہ میں تیرے حضور میں حاضر ہوں اور تجھے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں تو کس طرح تیرا انکار کر سکتا ہوں۔

شعر 5

ہم بندِ شب و روز میں جکڑے ہُوئے بندے
تُو خالقِ اعصار و نگارندۂ آنات!

معانیالفاظ
عصر کی جمع، مراد ہے زمانہاعصار
لِکھنے والا، کاتب، نقش کرنے والانگارندہ
آن کی جع، لحظہ، لمحہآنات

تشریح:

یا اِلہی! آج معلوم ہوتا ہے کہ ہم لوگ تو زمان و مکان کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے بے بس انسان ہیں، جبکہ تُو اے باری تعالیٰ! زمانوں کا خالق اور ایک ایک لمحے کی واردات کو محفوظ رکھنے والا ہے۔

شعر 6

اک بات اگر مجھ کو اجازت ہو تو پُوچھوں
حل کر نہ سکے جس کو حکیموں کے مقالات

معانیالفاظ
فلسفیوںحکیموں
مقالہ کی جمع، اقوال، مقالے، مضامینمقالات

تشریح:

تاہم اگر مجھے اجازت ہو اور تُو میری اِس جسارت سے درگُزر کرے تو ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں، یہ ایسی بات ہے کہ جسے دُنیا کے بڑے بڑے فلسفیوں نے حل کرنا چاہا، اُنہوں نے مقالات لِکھ لِکھ کر اپنی عمریں صرف کر دیں، لیکن حل نہ کرسکے۔

شعر 7

جب تک میں جِیا خیمۂ افلاک کے نیچے
کانٹے کی طرح دل میں کھٹکتی رہی یہ بات

معانیالفاظ
افلاک یعنی فلک کی جمع، خیمۂ افلاک یعنی آسمان کی چادر جس کے نیچے انسان بستے ہیںخیمۂ افلاک
دِل کو خدشہ ہوناکھٹکنا

تشریح:

جب تک میں آسمان کے خیمے کے نیچے یعنی روئے زمیں پر زندہ رہا، تب تک میرے دِل میں کانٹے کی طرح یہ بات کھٹکتی رہی اور کوئی شخص میرے سوال کا جواب نہ دے سکا کہ جس سے میری تسلّی ہو جاتی۔

شعر 8

گفتار کے اسلوب پہ قابُو نہیں رہتا
جب رُوح کے اندر متلاطم ہوں خیالات

معانیالفاظ
کہنا، بولنا، باتیں کرناگفتار
سلیقہ، ڈھنگ، روِش، طوراسلوب
طوفانی، اضطراب وبے چینی سے بھرا ہوامتلاطم

تشریح:

چونکہ میرے دِل میں خیالات اور جذبات کا ہجوم ہے اور ایسی حالت میں تُو خود جانتا ہے کہ آدمی گفتار کے اسلوب پر قابو نہیں رکھ سکتا یعنی اُس کی گفتگو میں کہیں کہیں گُستاخی یا بیباکی کا رنگ پیدا ہو جاتا ہے۔ اِس لیے میری گُفتگو بھی حدِّ ادب سے اگر متجاوز ہو جائے تو یا الہی! در گُزر فرمانا۔

شعر 9

وہ کون سا آدم ہے کہ تُو جس کا ہے معبود
وہ آدمِ خاکی کہ جو ہے زیرِ سماوات؟

معانیالفاظ
جس کی عبادت کی جائے، جس کی بندگی کی جائےمعبود
آسمان، فلکسماوات

تشریح:

اے خدا! میں بڑے ادب سے یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ تُو کس آدم کا خدا یا معبود ہے؟ اس سوال کی وجہ یہ ہے کہ دُنیا کے علاوہ بنی آدم اور کسی کُرّہ پر نہیں ہیں اور دُنیا میں جو لوگ بستے ہیں وہ تجھے اپنا معبود سمجھتے نہیں تو پھر قدرتی طور پر میرے دِل میں یہ سوال پیدا ہوا کہ ”؏ وہ کون سا آدم ہے کہ تُو جس کا ہے معبود؟“

شعر 10

مشرق کے خداوند سفیدانِ فرنگی
مغرب کے خداوند درخشندہ فِلِزّات

معانیالفاظ
گورے، انگریز، یورپی اقوامسفیدانِ فرنگی
چمکنے والا، تابناک، روشندرخشندہ
سونا چاندی، دھاتیںفِلِزّات

تشریح:

اُس آدمی کی کیا حالت ہے؟ میں نے خوب غور کر کے دیکھا ہے کہ کوئی شخص تیری پرستِش نہیں کرتا۔ جو لوگ مشرق میں بستے ہیں، اُن کے خداوند یورپ کے سفید فام باشندے بنے ہوئے ہیں، اس لیے اہلِ یورپ نے پورے مشرق پر قبضہ جما رکھا ہے اور خود یورپ والوں نے چمکنے والی دھاتوں کو اپنا خدا بنا لیا ہے اور مادیت پرستی میں مبتلا ہو کر مشینوں ہی کو اپنا سب کچھ سمجھ رکھا ہے۔ وہ رات دِن انہیں کی پرستش میں لگے رہتے ہیں۔ پھر اے باری تعالیٰ تیری پرستش کرنے والا کون ہوا؟

شعر 11

یورپ میں بہت روشنیِ علم و ہُنر ہے
حق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظُلمات

معنیلفظ
ظُلمت کی جمع، اندھیرا، تاریکیاں، اندھیرےظُلمات

تشریح:

اے خدا! اِس میں شک نہیں کہ یورپ میں سائنس اور فلسفہ بہت ترقی پذیر ہے اور اپنے علوم و فنون کی بدولت اِس خطہ کے لوگ ساری دُنیا پر حکومت کر رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بحرِ ظلمات (ظلمت یعنی تاریکی) چشمۂ حیواں سے محروم ہے۔ یعنی اِس تمام علم و ہنر کے باوجود یورپ انسان کو اُس کی زندگی کی حقیقی معنویت و مقصد سے آشنا کرنے میں ناکام ہے۔

چشمۂ حیواں اور ظلمات کا تعلق اُس عام ادبی روایت سے ظاہر ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک مفروضہ چشمہ ہے، جس کا پانی پی لیا جائے تو انسان کو دائمی زندگی حاصل ہو جاتی ہے۔ اس تک پہنچنے کے لیے سخت اندھیرے میں گزرنا پڑتا ہے۔ مشہور ہے کہ سکندر حضرت خضرؑ کو رہنما بنا کر اِس چشمہ کی تلاش میں نکلا تھا۔ حضرت خضرؑ نے اس کا پانی پی لیا، سکندر اس سے محروم رہا۔

شعر 12

رعنائیِ تعمیر میں، رونق میں، صفا میں
گِرجوں سے کہیں بڑھ کے ہیں بنکوں کی عمارات

معانیالفاظ
حُسن و جمالرعنائی
سُتھرائی، صفائیصفا
گرجہ، چرچگرجوں

تشریح:

عمارات کی شان و شوکت، رونق اور صفائی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو یورپ کے گرجوں سے وہاں کے بنکوں کی عمارتیں بہت بڑھی چڑھی ہیں۔ اِس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ اہل یورپ کو اپنی دولت اور سُودی تجارتی کاروبار سے جو دِلچسپی ہے، وہ مذہب سے نہیں۔

شعر 13

ظاہر میں تجارت ہے، حقیقت میں جُوا ہے
سُود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگِ مفاجات

معانیالفاظ
موتمرگ
اچانک، ناگاہمفاجات

تشریح:

اِن بنکوں کا سارا کاروبار بظاہر تجارت کے نام سے چل رہا ہے لیکن اس کی حقیقی صورت جُوئے کی ہے۔ یہ نظام چند افراد کے لیے تو واقعی مُفید ہے لیکن لاکھوں انسانوں کے لیے مرگِ ناگہاں کا پیغام ہے۔

شعر 14

یہ عِلم، یہ حِکمت، یہ تدبُّر، یہ حکومت
پیتے ہیں لہُو، دیتے ہیں تعلیمِ مساوات

معانیالفاظ
عقل، دانش، دانائیحکمت
غور و فکر، سوجھ بوجھ، تدبیر، سوچناتدبُّر
برابریمساوات

تشریح:

اہلِ یورپ بظاہر دُنیا کو مساوات کا درس دیتے ہیں اور ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ سب کو برابر سمجھتے ہیں، ان میں ذات پات اور اونچ نیچ کی کوئی قید نہیں لیکن ان کا حال دیکھا جائے تو وہ اپنے علم و فلسفہ اور حکمت و سلطنت کے ذریعہ سے محکوموں کا خون چُوستے ہیں۔

شعر 15

بے کاری و عُریانی و مے خواری و اِفلاس
کیا کم ہیں فرنگی مَدنِیّت کے فتوحات

معانیالفاظ
برہنگی، ننگا پنعُریانی
مے خوار ہونا، شراب نوشیمے خواری
مفلسی، تنگدستی، مالی محتاجیافلاس
انگریزی تہذیبفرنگی مَدنِیّت

تشریح:

اور جس تہذیب پر اُنہیں ناز ہے اُس کے نتائج اِس کے سِوا اور کُچھ نہیں نکلے کہ جہاں جہاں اہلِ یورپ کا تمدن پہنچا، وہاں بہت بُرے نتائج سامنے آئے۔ بیکاری بڑھ گئی، لوگوں کے لیے تن پوشی کا سامان نہ رہا، شراب نوشی کی لعنت عام ہو گئی، مفلسی ترقی کر گئی، اس کے سوا اہلِ یورپ نے خلقِ خدا کی کیا خدمت انجام دی ہے؟

شعر 16

وہ قوم کہ فیضانِ سماوی سے ہو محروم
حد اُس کے کمالات کی ہے برق و بخارات

معانیالفاظ
سما یعنی آسمان، فیضانِ سماوی سے مُراد ہے وحیفیضانِ سماوی
بجلیبرق
بھاپبخارات

تشریح:

جو قوم آسمانی فیض سے محروم ہو، جس کے پیشِ نظر کوئی الہامی کتاب نہ ہو اور وہ خدا کے بھیجے ہوئے کسی پیغمبر کی تعلیم پر عمل پیرا نہ ہو، اُس کے کمالات بجلی اور بھاپ سے اوپر کیوں کر جا سکتے ہیں اور انسانوں کو در پیش مسائل کا حقیقی حل کیونکر پیش کر سکتے ہیں؟ آدم کو ثبات اور دستُورِ حیات کہاں سے عطا کر سکتے ہیں، کیونکہ اُنہوں نے تو مادیت پرستی میں مُبتلا ہو کر خود کو فیضانِ سماوی سے محروم کر رکھا ہے۔

شعر 17

ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروّت کو کُچل دیتے ہیں آلات

معنیلفظ
رعایت، فیاضی، کُشادہ دِلی، سخاوتمروّت

تشریح:

آج صورت یہ ہے کہ مشینیں ہر جگہ لگ گئی ہیں۔ انہیں کے ذریعہ سے صنعت و حرفت کا کام ہوتا ہے۔ یہی بے حس فولادی چیزیں اہلِ یورپ کی ترقی کا وسیلہ ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ انسانی ہمدردی کے لیے بڑھنے اور پلنے کا کوئی موقع نہ رہا۔ مروّت اور احسان کے احساسات کُچلے گئے اور دِل مُردہ ہوگئے۔

سچ ہے کہ انسان جس ماحول میں رات دِن رہے، اُسی کے رنگ میں رنگا جاتا ہے۔ جب انسان کے بڑے بڑے گروہ مل جُل کر کام کرتے تھے، تو اُن میں ایک دوسرے سے ربط و تعلق کی بنا پر ہمدردی کے جذبات ابھرتے تھے، وہ ایک دوسرے کی خدمت کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ جب مشینوں کا زمانہ آگیا تو کارکنوں کے دل بھی لوہے کی طرح سخت ہوگئے۔ ان میں تو تھوڑی بہت ہمدردی ممکن ہے باقی ہو، لیکن کارخانہ دار اس سے بالکل عاری ہو گئے۔ ان کا نصب العین یہ بن گیا کہ جتنا روپیہ ہو سکے، کمائیں اور مزدوروں یا کارکنوں کی امداد یا ان کی محنت و مشقت کا کوئی خیال نہ کریں۔ اقبالؔ کے نزدیک یہ بے حسی نتیجہ ہے مشینوں اور فولادی اوزاروں سے کام لینے کا۔

شعر 18

آثار تو کچھ کچھ نظر آتے ہیں کہ آخر
تدبیر کو تقدیر کے شاطر نے کیا مات

معانیالفاظ
طور، اطوَارآثار
چارہ، طریقہ، انتظام، بند و بست، ترکیب، حکمتِ عملیتدبیر
لفظ تقدیر قدر سے نکلا ہے اور قدر سے مراد ہے پیمانہ، تقدیر وہ اندازہ ہے جو خدا نے روزِ ازل سے ہر شے کے لیے مقرر کیا ہےتقدیر
شطرنج کا کھلاڑی، اُستادشاطر
شکست، ہارمات

تشریح:

اب آکر ایسے آثار نمایاں ہوئے ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقدیر نے تدبیر کو مات دے دی؛ مطلب یہ کہ سرمایہ داروں اور سرمایہ پرستوں نے اپنی تدبیروں سے دولت جمع کرنے کا عجیب نظام تیار کر لیا ہے۔ مزدور اور کارکن مصیبتوں میں مُبتلا تھے اور سرمایہ دار بے فکر ہو کر مزے اُڑاتے تھے۔ آہستہ آہستہ مزدوروں میں بھی اپنے حقوق کے لیے جد و جہد کا احساس پیدا ہوا۔ وہ بھی یونین بنا کر سرمایہ داروں کے خلاف ہنگامے بپا کرنے لگے۔

یہ حقیقت میں اس قدرت کی طرف سے تنبیہ کا تازیانہ تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ خودغرض انسانوں کی تدبیریں خدائی قانون کی زد سے زیادہ دیر تک محفوظ نہیں رہ سکتیں اور صاف نظر آرہا ہے کہ اللہ تعالیٰ مقرر کردہ تقدیر کے سامنے تدبیر شِکست کھا رہی ہے۔

؎ سامنے تقدیر کے رُسوائیِ تدبیر دیکھ
(بانگِ درا: خضرِ راہ)

شعر 19

میخانے کی بُنیاد میں آیا ہے تزَلزُل
بیٹھے ہیں اسی فکر میں پِیرانِ خرابات

معانیالفاظ
اضطراب، افراتفری، زلزلہ، ہلچلتزَلزُل
پیر کی جمع، مراد ہے بوڑھے لوگ یا ایسے لوگ جو برسوں سے سرمایہ دارانہ نظام سے منسلک ہوںپیرانِ خرابات
شراب خانہ، جُوا خانہخرابات

تشریح:

چونکہ محنت کش طبقہ کے اندر یہ احساس پیدا ہو گیا ہے کہ سرمایہ دار اُن کا لہو پی رہے ہیں، اس لیے وہ سب ایک زلزلے کی صورت میں اپنے حقوق کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور اس میخانے، اِس عیش و عشرت پر مبنی نظامِ سرمایہ داری کی بُنیادیں ہلا ڈالی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نظامِ سرمایہ داری کے بڑے بڑے منتظم رات دِن فکر میں سر گرداں ہیں کہ اس مصیبت کو کیوں کر ٹالیں اور یہ جو انقلاب برپا ہونے جا رہا ہے، اس کی روک تھام کس طرح سے کریں۔

شعر 20

چہروں پہ جو سُرخی نظر آتی ہے سرِ شام
یا غازہ ہے یا ساغر و مِینا کی کرامات

معانیالفاظ
خوشبودارسفوف جو خوبصورتی کے لیے رخساروں پرمَلا جاتا ہے، سرخی پوڈر، میک-اپغازہ
پیالہ، صراحی، شراب کا سامانساغر و مِینا
کرامت کی جمع، فیضان، اثرکرامات

تشریح:

اس مشینی اور استعماری نظام نے جہاں دوسروں کو متاثر کیا ہے وہاں خود اس نظام کے مدعی اہلِ یورپ کی صحبتیں برباد ہو چکی ہیں۔ سرِ شام جب وہ گھر سے بن ٹھن کر بر آمد ہوتے ہیں تو اُن کے چہروں کی سُرخی فطری نہیں بلکہ اس امر کی غماز ہوتی ہے کہ یا تو ان کے چہروں پر شراب نوشی یا پھر مختلف نوعیت کے پاؤڈر کے استعمال کے سبب سُرخ ہیں۔ مراد یہ ہے کہ مصنوعی زندگی نے ان کی صحتوں کو دیمک کی طرح چاٹ لیا ہے اور اب جو چہروں پر سرخی نظر آتی ہے وہ فطری نہیں بلکہ مصنوعی ہے۔

یعنی اگر مغربی باشندوں کو دیکھ کر آپ کو یہ خیال گزرے کہ وہ بہت پر خوش ہیں اور پُر سکُون زندگی بسر کر رہے ہیں، اور اپنے نظام سے بہت متفق نظر آتے ہیں، تو یہ سراسر آپ کا وہم ہے، کیونکہ اصل صورتِ حال اس کے بالکل برعکس ہے۔

شعر 21

تُو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات

معانیالفاظ
اللہ تعالی کا صفاتی نام، مراد ہے قدرت رکھنے والاقادر
اللہ تعالی کا صفاتی نام، مراد ہے عدل و انصاف کرنے والاعادل
دُشوار، مشکلتلخ
وقت کی جمع، زمانہ، گزر بسر، حالت، زندگی، گزارے کی صورتاوقات

تشریح:

اے مالک! بیشک تجھے کائنات کی ہر شے پر قدرت حاصل ہے اور تُو عادل و منصف بھی ہے، لیکن تیری دُنیا میں مزدور اور محنت کش طبقہ بڑی تلخیوں سے دوچار ہے۔

شعر 22

کب ڈُوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ؟
دُنیا ہے تری منتظرِ روزِ مکافات!

معانیالفاظ
کشتی، جہاز، ناؤسفینہ
انتظار کرنے والامنتظر
بدلے کا دِن، روزِ جزاروزِ مکافات

تشریح:

اے ذاتِ کریم! یہ واضح فرما دے کہ سرمایہ پرستی کی کشتی کب ڈوبے گی؟ اے باری تعالیٰ! تیری دُنیا بدلے کے دِن کا انتظار کر رہی ہے۔ مولا! استعماری نظام ظلم کی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ بے شک ظالم کی رسی ایک مُدت تک دراز ضرور ہوتی ہے، لیکن بالآخر ایک مرحلہ ایسا آتا ہے جب اُسے اُس کا بدلہ دیا جاتا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ سرمایہ پرستی کی برائیوں کا بدلہ ابھی تک نہیں ملا؟ دُنیا والے منتظر ہیں کہ ظلم و ستم کا حساب چُکایا جائے، مزدور اپنی محنت کا صِلہ پائیں اور اُنہیں اطمینان نصیب ہو۔ آخر تُو ہی نے تو یہ قاعدہ مقرر کر رکھا ہے کہ برائی کا بدلہ برائی کے سِوا کچھ نہیں۔

ترجمہ: جو کوئی برائی کرے گا، اُس کی سزا پائے گا۔
(القرآن: سورۃ النساء: آیت 123)

تبصرہ

یہ نظم سرمایہ دارانہ استبداد، سودی بینکاری اور مشینی میکانائیت پر اقبالؔ کا تاریخی فردِ جرم ہے۔ لینن کی زبانی شاعر نے یہ سچائی آشکار کی ہے کہ جس تمدن میں بنک عبادت گاہوں کا بدل بن جائیں، جہاں سود انسانوں کا خون پیے اور آلات دل کی مروت کو کچل ڈالیں، وہاں الٰہی عدل کے قیام اور مظلوم کی داد رسی کے لیے روزِ مکافات کا آنا ایک کائناتی حتمیت ہے۔

تینوں مسلسل نظموں کے باہمی ربط اور ان کی اختراعی شان پر تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

واضح ہو کہ اقبالؔ نے ”لینن“، ”فرشتوں کا گیت“ اور ”فرمانِ خُدا“، یہ تینوں نظمیں مُسلسل لِکھی ہیں۔ اس لیے اقبالؔ کا مفہوم اُسی وقت واضح ہو سکا ہے جب اِن تینوں نظموں کو مجموعی طور پر پڑھا جائے۔

پہلی نظم کا خلاصہ یہ ہے کہ لینن خدا کے حضور میں حاضر ہو کر سرمایہ پرستی کے مفاسد بیان کرکے یہ سوال کرتا ہے کہ اے خدا!

؎ کب ڈُوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ
دُنیا ہے تری مُنتظرِ روزِ مکافات

لینن کی عرضداشت یا فریاد سُن کر فرشتے جنابِ باری تعالیٰ میں عرض کرتے ہیں کہ اے خدا! لینن نے جو کُچھ کہا ہے بالکُل ٹھیک کہا ہے۔ سرمایہ داروں نے تیرے بندوں کو اپنا غُلام بنا رکھا ہے، چنانچہ:-

؎ تیرے امیر مال مست، تیرے فقیر حال مست
بندہ ہے کُوچہ گرد ابھی، خواجہ بلند بام ابھی

لینن کی فریاد اور فرِشتوں کی تائید کے بعد خدا کارکنانِ قضا و قدر کو حُکم دیتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کو صفحۂ ہستی سے نابُود کر دو اور:-

؎ جس کھیت سے دہقاں کو میسّر نہیں روزی
اُس کھیت کے ہر خوشۂ گندُم کو جلا دو

اِن تینوں نظموں کو پڑھنے کے بعد جو حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ اقبالؔ بھی سرمایہ داری کے اُسی قدر مخالف ہیں جس قدر دُنیا کا بڑے سے بڑا اِشتراکی ہو سکتا ہے۔

اِن تینوں نظموں میں اقبالؔ کی مضمون آفرینی یعنی قوّتِ اختراع (Contrivance) اور حقیقت نگاری یعنی کمالِ فن کا نہایت خوش آئند اِمتزاج پایا جاتا ہے۔ اقبالؔ نے اسی قوّتِ اختراع کو تازہ کاری سے تعبیر کیا ہے، چنانچہ:-

؎ فروغِ آدمِ خاکی ز تازہ کاری ہاست
مہ و ستارہ کنند آنچہ پیش ازیں کردند

ترجمہ: آدمِ خاکی کی شان نت نئے کارناموں سے ہے، اس سے پہلے مہ و ستارہ وہی کرتے ہیں جو پہلے سے کرتے آئے ہیں۔
(زبورِ عجم: حصہ دوم: دم مرا صفت باد فرودین کردند)

ناظرین اِس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ نہ تو لینن نے خدا سے خطاب کیا، نہ ہی فرشتوں نے گیت گایا اور نہ خدا نے کوئی حُکم صادر کیا۔ یہ ساری باتیں اقبالؔ کی قوّتِ تخیّل کا کرِشمہ ہیں لیکن کمالِ فن یہ ہے کہ جو کُچھ اُنہوں نے لِکھا ہے وہ سب حقیقت پر مبنی ہے، کوئی بات غلط نہیں۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بالِ جبریل

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *