Skip to content

بانگِ درا 79: انسان

تعارف

نظم ”انسان“ علامہ اقبال کی ایک پُرسوز اور وجودی (Existential) نظم ہے، جس میں شاعر نے انسان کی کائناتی تنہائی، طلبِ حقیقت اور عقل و آگہی کے ازلی المیے کو کائنات کے بے حس و خود سر مظاہر کے تقابل میں پیش کیا ہے۔

اقبالؔ قدرت کے اس عجیب تضاد اور ستم پر گلہ گزار ہیں کہ انسان کے اندر حقیقت شناسی کی بے چین پیاس (ذوقِ آگہی) تو ودیعت کر دی گئی مگر کائنات کے اسرار کو اس کی نگاہوں سے اوجھل رکھا گیا۔ اِس حیرت کدے (کائنات / دُنیا) میں انسان کے حصے میں صرف اضطراب آیا۔ ادھر کائنات کا ہر عنصر، مثلاًبہتا ہوا دریا، اڑتے ہوئے بادل، گردش کرتے تارے اور شفق کی مے پینے والا خورشید، یہ سب محض اپنی ہستی کی مستی اور ”لذتِ نمود“ میں گم ہیں۔ اس وسیع و عریض بزم میں انسان کے سوا کوئی دردِ دل اور تلاشِ حق کا بوجھ اٹھانے والا نہیں، اور کوئی بھی اُس کا ہمدرد و غمگسار نہیں۔

کائنات کی اشیا کے مقابلے میں انسان کی بے پناہ جستجو اور اس سفر میں اُس کی تنہائی کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی تحریر کرتے ہیں:-

”انسان“ کے عنوان سے علامہ نے دو نظمیں کہی ہیں۔ یہ پہلی نظم ہے جس میں اُنہوں نے یہ نُکتہ واضح کیا ہے کہ کائنات کا ہر ذرّہ ہر وقت اپنی نمود میں مشغول و مصروف ہے، صرف ایک انسان ہے جو ذاتی نمود کو پسِ پُشت ڈال کر اسرارِ کائنات کے تفَحُّص (تلاش و تحقیق) میں سرگرداں ہے اور مخلوقات میں کوئی ایک بھی اِس کام میں اُس کا رفیقِ کار نہیں۔

ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی، شرح بانگِ درا

بارگاہِ الٰہی میں اقبالؔ کے شِکوے کے انداز اور اُس میں شامل اپنائیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسرار زیدی لکھتے ہیں:-

اقبالؔ کی شاعری اور اُن کے تصوّرات میں یہ امر ایک طرح سے بنیادی حیثیت کا حامل نظر آتا ہے کہ وہ بے شمار مقامات پر ربِ ذوالجلال سے گِلہ مند نظر آتے ہیں لیکن اِس گِلہ مندی میں ایک طرح سے اپنائیت کا عنصر شامل ہوتا ہے۔ اِس رویے کو تصوّف کے حوالے سے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

اسرار زیدی، شرح بانگِ درا
سماعت فرمائیے
YouTube video

بند نمبر 1

شعر 1

قُدرت کا عجیب یہ ستم ہے!
انسان کو راز جُو بنایا
راز اُس کی نگاہ سے چھُپایا

معانیالفاظ
ظلمسِتم
حقیقت کی تلاش کرنے والا، رازوں سے پردہ اُٹھانے کی جستجو کرنے والاراز جُو

تشریح:

اقبالؔ فرماتے ہیں کہ قدرت (اللہ تعالی) کی کارفرمائی انسان کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ایک طرف تو اُس نے انسان کو راز جُو (تلاش کرنے والا) بنایا یعنی انسان کے اندر تحقیق اور جستجو کا مادہ رکھ دیا اور اسی کی وجہ سے وہ اپنی اور کائنات کی حقیقت سے آگاہ ہونا چاہتا ہے، دوسری طرف کائنات کے تمام اسرار کو بھی پردۂ غیب میں رکھ کر اُس کی آنکھوں سے چھُپا دیا۔

شعر 2

بے تاب ہے ذوق آگہی کا
کھُلتا نہیں بھید زندگی کا

معانیالفاظ
بے قراربے تاب
شوق، لُطفذوق
آگاہ ہونا، علم و شعورآگہی
ظاہر ہوناکھُلنا

تشریح:

انسان شروع دِن ہی سے کائنات کے بھیدوں کو جاننے کے لیے بے چین ہے۔ اُس کے دِل و دماغ میں اشیاء کو جاننے کا یہ شوق اُسے مضطرب و بے قرار کیے رکھتا ہے لیکن اِس اضطراب و بے چینی کے باوجود اُس پر زندگی کا راز منکشف (ظاہر) نہیں ہوتا۔

یہ آگہی مری مجھے رکھتی ہے بے قرار
خوابیدہ اس شرر میں ہیں آتش کدے ہزار
یہ امتیازِ رفعت و پستی اسی سے ہے
گُل میں مہک، شراب میں مستی اسی سے ہے
بستان و بُلبل و گُل و بُو ہے یہ آگہی
اصلِ کشاکشِ من و تُو ہے یہ آگہی

(بانگِ درا: شمع)

شعر 3

حیرت آغاز و انتہا ہے
آئینے کے گھر میں اور کیا ہے

معنیلفظ
مُراد ہے دُنیاآئینے کا گھر

تشریح:

انسان کو اپنی سعی اور کوشش کی ابتدا اور انجام پر صرف حیرت سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور کیوں نہ ہو! شیشے کے گھر میں اِس کے علاوہ اور مِل بھی کیا سکتا ہے۔ شیشے کا گھر وہ ہے جس میں وہی کچھ نظر آتا ہے جو اُس کے سامنے ہو! یہی وجہ ہے کہ کائنات کے تمام راز انسان کی حیرانی کا سبب ہیں۔

اِقبالؔ نے اس کائنات کو شیشے کا گھر قرار دیا کہ آئینہ بھی حیران رہتا اور حیران کر دیتا ہے اور کائنات کے مظاہر، جو قدرت کے آئینہ دار ہیں انسان کو حیرت میں ڈالے رکھتے ہیں۔

علامہ نے تو زندگی سے متعلق بڑے وسیع معنوں میں بات کی ہے لیکن پنڈت چکبست نرائن نے مختصراً اور ظاہری طور پر زندگی کی حقیقت یوں بیان کی ہے:-

؎ زندگی کیا ہے، عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے، اِنہیں اجزا کا پریشاں ہوا

حیرت آغاز و انتہا ہے: فلسفہ کی ابتدا بھی حیرت سے ہوتی ہے اور انتہا بھی حیرت پر ہوتی ہے۔ یہ افلاطونؔ کا مشہور قول ہے جو فلسفہ کے ہر طالب علم کو معلوم ہے۔ چنانچہ پروفیسر میورہیڈ (Muirhead) نے اپنی کتاب علم الاخلاق (The Elements of Ethics) اِسی ترجمہ سے شروع کی ہے۔

بند نمبر 2

اِس بند میں قدرت کے مختلف مظاہر کی عکاسی کی گئی ہے جنہیں دیکھ دیکھ کر ایک صاحبِ بصیرت حیرانی و تعجب سے دوچار ہوتا ہے۔


شعر 4

ہے گرمِ خرام موجِ دریا
دریا سوئے بحر جادہ پیما

معانیالفاظ
چلنے میں مگنگرمِ خرام
دریا کی لہرموجِ دریا
سمندر کی طرفسُوئے بحر
راستہ چلنے والا، راستہ طے کرنے والاجادہ پیما

تشریح:

اِنسان دیکھتا ہے کہ دریا کی لہریں تیزی سے سفر کر رہی ہیں (گرمِ خرام: ایک انداز سے چلنا)، جبکہ دریا ہمہ وقت سمندر کی طرف جانے والے راستے پر سفر کر رہا ہے (جادہ پیما: مسافر / راستہ چلنے والا) یعنی سمندر کی طرف بہا چلا جارہا ہے۔

شعر 5

بادل کو ہوا اُڑا رہی ہے
شانوں پہ اُٹھائے لا رہی ہے

معنیلفظ
شانہ کی جمع، مُراد ہے کندھاشانوں

تشریح:

بادلوں کو دیکھیے تو ہوا اُنہیں آسمان کی وسعتوں میں اُڑائے لے جارہی ہے، یوں معلوم ہوتا ہے جیسے بادل ہوا کے کندھوں پر سوار ہوں۔ خود بادل حیرانی کا باعث ہیں، اس پر ہوا کا اُنہیں مختلف اطراف میں اُڑائے پھِرنا اور بھی حیرانی کا باعث ہے۔

شعر 6

تارے مستِ شرابِ تقدیر
زندانِ فلک میں پا بہ زنجیر

معانیالفاظ
نشے میں مدہوشمست
اندازہ، مُراد ہے وہ اندازہ جو اللہ تعالیٰ نے ازل سے ہر شے کے لیے مقرر فرمایا ہےتقدیر
زندان سے مُراد ہے قید خانہ، فلک یعنی آسمان۔ زندانِ فلک سے مُراد ہے آسمان کا قید خانہزندانِ فلک
جس کے پاؤں میں زنجیر بندھی ہوئی ہو، مقیّدپا بہ زنجیر

تشریح:

ستارے تقدیر کی شراب کے نشے میں سرمست ہیں، ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے اُن کے پیروں میں زنجیریں پڑی ہوئی ہیں اور وہ آسمان کے قید خانہ (زندانِ فلک) کے قیدی ہیں۔ یعنی اللہ تعالی نے ستاروں کے لیے جو اندازہ یا پیمانہ (تقدیر؛ قدر) مقرر کیا ہوا ہے، وہ اُس کے پابند ہیں اور اپنے مقررہ راستوں سے ہٹ نہیں سکتے۔ یہ منظر بھی انسان کے لیے حیرت کا باعث ہے۔

ذرّہ ذرّہ دہر کا زندانیِ تقدیر ہے
پردۂ مجبوری و بےچارگی تدبیر ہے
آسماں مجبور ہے، شمس و قمر مجبور ہیں
انجمِ سیماب پا رفتار پر مجبور ہیں

(بانگِ درا: والدہ مرحومہ کی یاد میں)

قرآن پاک میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:-

ترجمہ: اور اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستون کے (خلا میں) بلند فرمایا (جیسا کہ) تم دیکھ رہے ہو، پھر (پوری کائنات پر محیط اپنے) تختِ اقتدار پر متمکن ہوا اور اس نے سورج اور چاند کو نظام کا پابند بنا دیا، ہر ایک اپنی مقررہ میعاد (میں مسافت مکمل کرنے) کے لیے (اپنے اپنے مدار میں) چلتا ہے۔ وہی (ساری کائنات کے) پورے نظام کی تدبیر فرماتا ہے، (سب) نشانیوں (یا قوانینِ فطرت) کو تفصیلاً واضح فرماتا ہے تاکہ تم اپنے رب کے روبرو حاضر ہونے کا یقین کر لو۔
(القرآن: سورۃ الرعد: 2)

ایک اور جگہ فرماتے ہیں :-

ترجمہ: نہ سورج کے بس میں یہ ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جا سکتی ہے سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں۔
(القرآن: سورۃ یس: 40)

شعر 7

خورشید، وہ عابدِ سحَر خیز
لانے والا پیامِ ’برخیز‘

معانیالفاظ
سورجخورشید
صُبح سویرے اُٹھ کر عبادت کرنے والا، مُراد ہے سورج سے جو علی الصبح طلوع ہوتا ہےعابدِ سحر خیز
اُٹھو، اُٹھ کھڑا ہوبر خیز

تشریح:

سورج (خورشید) ایک صبح سویرے اُٹھنے والے عبادت گزار (عابدِ سحر خیز) کی طرح طلوع ہوتا ہے اور تمام عالمِ موجودات کے لیے اُٹھنے اور اپنے اپنے کام میں مصروفِ کار ہونے کا پیغام (برخیز) لاتا ہے۔

شعر 8

مغرب کی پہاڑیوں میں چھُپ کر
پیتا ہے مئے شفَق کا ساغر

معانیالفاظ
مئے شفق سے مُراد ہے آسمان کی شراب، شام کے وقت جب سورج غروب ہورہا ہوتا ہے تو آسمان پر سُرخی چھا جاتی ہے جسے شفق کہتے ہیں، اقبال نے اُسے شفق کی شراب سے تعبیر کیا ہے۔مئے شفق
پیالہساغر

تشریح:

وہ (سورج) جب شام کو مغرب کی سِمت میں غروب ہوتا ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے وہ مغرب کی پہاڑیوں میں چھُپ کر شفق کی شراب (مئے شفق) کا پیالہ (ساغر) پی رہا ہو۔ قدرت کے یہ کیسے مظاہر ہیں جنہیں دیکھ کر انسان پر حیرت چھا جاتی ہے۔

شفق: طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب کے وقت آسمان پر سُرخی چھا جاتی ہے، جسے شفق کہا جاتا ہے۔

شعر 9

لذّت گیرِ وجود ہر شے
سر مستِ مئے نمود ہر شے

معانیالفاظ
زندگی (ہستی) کی لذّت اُٹھانے والیلذّت گیرِ وجود
نشے سے مست، مدہوشسرمست
ظہور، نمائش کی شرابمئے نمُود

تشریح:

یہ سب مناظرِ قدرت دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کی ہر شے وجود کی لذّت سے سرشار ہے اور اپنی نمُود و نمائش (اپنے وجود کے اظہار یعنی خود کو ظاہر کرنے کے عمل) میں سرمست ہے، اِس سے زیادہ اور کُچھ نہیں چاہتی۔ وہ محض اپنے موجود ہونے کو غنیمت جانتی ہے اور اپنے ظہور ہی کو اپنی معراج سمجھتی ہے۔

شعر 10

کوئی نہیں غم گُسارِ انساں
کیا تلخ ہے روزگارِ انساں!

معانیالفاظ
غم بانٹنے والا، دوستغم گُسار
کڑوا، سخت، مشکلتلخ
وقت، زمانہ، زندگیروزگار

تشریح:

لیکن حضرتِ انسان کا حال دُنیا کی تمام اشیاء سے مختلف ہے۔ کائنات کی ہر شے اپنی ہستی نمایاں کررہی ہے اور جو اندازہ اُس کے لیے مقرر ہوگیا، اُس پر چل رہی ہے، لیکن اللہ تعالی نے انسان کو شعور عطا فرمایا ہے۔ وہ اپنی اور کائنات کی حقیقت معلوم کرنا چاہتا ہے اور اِس معاملے میں کائنات کی کوئی شے اُس کی غمگُسار یا اس تحقیق میں اُس کی شریکِ حال نہیں ہے۔ چاروں طرف بے شمار مظاہرِ فطرت ہونے کے باوجود انسان کائنات کے رازوں کو پانے کے معاملے میں ضرور یکا و تنہا ہے۔اس لیے انسان کی زندگی، سراپا پیچ و تاب اور سوز و اضطراب کا شکار ہے۔

تبصرہ

یہ کلام وجودی فلسفے، شعور کے کرب اور کائنات میں انسان کے تنہا مقام کا لرزہ خیز مرقع ہے۔ علامہ اقبال نے مظاہرِ فطرت کی بے فکر خود نمائی کے مقابلے میں انسان کے باطنی اضطراب کو اجاگر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مادی کائنات کی ہر شے جبرِ تقدیر کے تحت محض اپنی نمائش اور ظاہری وجود کی لذت میں مست ہے اور صرف انسان وہ باخبر ہستی ہے جو وجود کے پردوں کے پیچھے چھپے ازلی بھید کو جاننے کے لیے تڑپ رہی ہے۔ شعور اور آگہی کا یہ بوجھ کائنات میں انسان کو منفرد بھی بناتا ہے اور اس کے روزگار کو تلخ و غمگساروں سے خالی بھی، کیونکہ بے حس عناصر کے جھرمٹ میں رازِ حیات کی جستجو انسان کا مقدر بھی ہے اور اس کا ازلی امتحان بھی۔

کائنات کی ہر شے کی نمود پسندی کے مقابلے میں انسان کی تلاشِ حقیقت کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی اپنے تبصرے کا خلاصہ یوں بیان کرتے ہیں:-

خلاصۂ کلام یہ کہ کائنات میں ہر شے اپنی شخصیت کو نمایاں کرنا چاہتی ہے اور اپنی نمُود ہی کو اپنی ہستی کا مقصد سمجھتی ہے۔ لیکن انسان اس سے بالاتر مقصد کے حصول میں منہمک ہے۔ وہ یہ کہ وہ اپنی اور اس کائنات کی حقیقت معلوم کرنا چاہتا ہے۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بانگِ درا

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *