Skip to content

ضربِ کلیم 6: تن بہ تقدیر

تعارف

نظم ”تن بہ تقدیر“ مجموعۂ کلام ”ضربِ کلیم“ کا وہ مختصر مگر تازیانہ صفت کلام ہے جس میں علامہ اقبال نے سیاسی محکومی کے دور میں مسلمانوں کے مسخ شدہ ضمیر اور تقدیر پرستی کی باطل تاویلات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اقبالؔ فرماتے ہیں کہ جس قرآنِ مجید نے مومن کو چاند ستاروں کا حاکم اور کائنات کا مقتدر امیر بنایا تھا، دورِ غلامی میں اسی کتابِ ہدایت سے ترکِ دنیا اور رہبانیت کی من گھڑت تعلیم کشید کی جانے لگی۔ جن اسلاف کے ارادوں کے اندر خدا کی تقدیر روپ دھارتی تھی، آج اُن کی اولاد ہاتھ پر ہاتھ دھرے ”تن بہ تقدیر“ بن کر بیٹھ گئی ہے؛ اور چونکہ محکومی قوموں کے اخلاقی اور فکری ضمیر کو بگاڑ دیتی ہے، اس لیے رفتہ رفتہ اُن کی نگاہ میں ناخوب ہی خوب اور ذلت ہی عظمت دِکھائی دینے لگی ہے۔

سماعت فرمائیے
YouTube video

تشریح

شعر 1

اسی قُرآں میں ہے اب ترکِ جہاں کی تعلیم
جس نے مومن کو بنایا مہ و پرویں کا امیر

معانیالفاظ
دُنیا چھوڑ دینا، یعنی دُنیا سے الگ تھلگ زندگی بسر کرنا۔ رہبانیّتترکِ جہاں
چاند اور ثریّا یا ستارےمہ و پروین

تشریح:

وہ قرآن جس نے مسلمانوں کو چاند اور ستاروں کا راہبر بنایا تھا یعنی قرآن پر عمل کی بدولت مسلمان علوم و فنون میں اس قدر آگے تھا کہ چاند ستارے (مہ و پروین) جب سفر شروع کرتے تو اُن کی نگاہ اِن کی منزلوں پر ہوتی تھی۔ لیکن آج کے مسلمانوں نے اپنی غلط تاویلوں سے قرآن سے ایسے معانی اخذ کرنے شروع کر دیے ہیں جن سے مُراد دنیا ترک کرنا تھا۔

واضح رہے کہ قرآن مجید نے مسلمانوں کو ایمان کے ساتھ، عملِ صالح، جد و جہد، سعیِ پیہم اور جہاد کا حُکم دیا تھا۔ چنانچہ اس تعلیم کی بدولت مسلمان دنیا میں حُکمران بن گئے، لیکن غیر اسلامی تصوّف کے زیرِ اثر آکر مسلمانوں نے قرآنی تعلیمات کو پسِ پُشت ڈال دیا اور ترکِ دُنیا کا غلط اصول اختیار کر لیا۔ حالانکہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ پہلے دُنیا کو فتح کرو، تاکہ اسلامی نظامِ حکومت قائم ہو سکے، پھر دنیا اور اُس کی لذت کو اللہ کی خوشنودی کے لیے قربان کردو۔ چنانچہ فاروقِ اعظمؓ کی سطوَت کے سامنے قیصر و کسریٰ لرزہ براندام تھے لیکن آپؓ پیوند لگی ہوئی قمیض پہنتے تھے اور چٹائی پر سوتے تھے۔

شعر 2

’تن بہ تقدیر‘ ہے آج اُن کے عمل کا انداز
تھی نہاں جن کے ارادوں میں خدا کی تقدیر

معانیالفاظ
تقدیر کے غلط مفہوم پر یقین کر کے کُچھ نہ کرنا، اللہ کے کیے پر راضی رہنا کہ جو کُچھ ہوگا، ہو جائے گا، ہمیں عمل کرنے کی ضرورت نہیںتن بہ تقدیر
پوشیدہ، چھُپی ہوئینہاں

تشریح:

ایک زمانہ تھا، جب مسلمان، اللہ کے لیے زندگی بسر کرتے تھے اور اس کا صِلہ اُنہیں اللہ نے یہ دیا تھا کہ ان کے ارادوں میں مشیتِ ایزدی (اللہ تعالی کی مرضی) پوشیدہ تھی، یعنی وہ جس طرف نکل جاتے تھے، تائیدِ ایزدی (اللہ کی مدد) اُن کے ساتھ ہوتی تھی۔ ان کی قوتِ عمل سے نظامِ کائنات میں وہ تبدیلیاں ظہور پذیر ہوتی تھیں جنہیں واقعی خدا تبدیل کرنا چاہتا تھا اور خدا کے پروگرام میں شامل تھیں، گویا خدا کے پروگرام کو عملی جامہ پہنانے والے مسلمان ہی تھے اور خدا کی تقدیر ان کے ارادوں سے ثابت ہوتی تھی۔ لیکن جب مسلمانوں نے احکامِ الہی سے روگردانی کرلی تو اللہ نے بھی اُن کو بھلا دیا۔ اور آج ان کی حالت یہ ہے کہ عملِ صالح سے کنارہ کرکے، تقدیر پر بھروسا کیے بیٹھے ہیں، حالانکہ خدا کی تقدیر یعنی اس کا قانون ہے کہ وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ یعنی انسان کو اللہ وہی عطا کرتا ہے، جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔ چنانچہ اسی مضمون کو اقبالؔ نے ایک جگہ یوں ادا کیا ہے:-

؎ عزمِ اُو خلاقِ تقدیرِ حق است
روزِ ہیجا تیرِ اُو تیرِ حق است!

ترجمہ: اُس (مردِ مومن) کا ارادہ حق تعالیٰ کی تقدیر کا خالق ہے۔ جنگ کے دِن اس کا تیر حق تعالی (اللہ تعالیٰ) کا تیر بن جاتا ہے۔
(جاوید نامہ: فلک مشتری: زندہ رود مشکلات خود را پیش ارواح بزرگ میگوید)

علامہ نے یہ شعر قرآن کریم کی اِس آیت کے پس منظر میں کہا ہے:-

ترجمہ: (اے سپاہیانِ لشکرِ اسلام!) اِن کافروں کو تم نے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کر دیا، اور (اے حبیبِ محتشم!) جب آپ نے (ان پر سنگ ریزے) مارے تھے (وہ) آپ نے نہیں مارے تھے بلکہ (وہ تو) اللہ نے مارے تھے۔
(القرآن: سورۃ الانفال: آیت 17)

؎ عبث ہے شکوۂ تقدیرِ یزداں
تُو خود تقدیرِ یزداں کیوں نہیں ہے

(ارمغانِ حجاز)

؏ اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زِندوں میں ہے
(بانگِ درا: خضرِ راہ)

شعر 3

تھا جو ’ناخُوب، بتدریج وہی ’خُوب‘ ہُوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

معانیالفاظ
جو اچھا نہ ہوناخُوب
درجہ بدرجہ، آہستہ آہستیبتدریج
دِل، فطرت، سرِشتضمیر

تشریح:

اب اقبالؔ اس بات کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا؟ جو لائحۂ عمل ایک بندۂ مومن کے لیے زہرِ قاتل تھا، جو مِلتِ اسلامیہ کے لیے موت کا پیغام تھا، وہ مسلمانوں کے کے لیے قابلِ قبول کیونکر ہوگیا؟ بے عملی جو بہت بُری بات تھی وہ مسلمانوں کے لیے اچھی کیسے ہو گئی؟ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ غلامی ایسی لعنت ہے کہ اس میں قوموں کا ضمیر بدل جاتا ہے یعنی جب کوئی قوم بداعمالیوں کی بدولت، غلام بن جاتی ہے تو اُس کا معیارِ خیر و شر بھی بدل جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اچھی باتوں کو بُرا اور بُری باتوں کو اچھا سمجھنے لگتی ہے۔

چنانچہ آج کے مسلمانوں کو دیکھ لو، جہالت، بُت پرستی، تقلیدِ کور (اندھی تقلید)، اسراف (فضول خرچی)، تن آسانی، عیاشی، یہ سب بُری باتیں ہیں لیکن مسلمان ان کو اچھا سمجھتے ہیں۔ علم، ایثار، اتحاد، کفایت شعاری اور ایمانداری، یہ سب اچھی باتیں ہیں لیکن مسلمان ان سب باتوں سے دُور بھاگتے ہیں۔ اسی لیے کہ مسلمان غلامی کے خوگر ہوگئے۔ کھُلی فضا میں اُڑ کر تلاشِ رزق کرنے کی بجائے قفس کے آب و دانہ کو پسند کر لیا۔

تبصرہ

یہ کلام غلامانہ ذہنیت کے تحت قرآنی انقلابی فکر کے مسخ ہونے کا بے باک نوحہ ہے۔ علامہ اقبال نے واضح کِیا ہے کہ تقدیر کا بہانہ بنا کر بے عملی اور ذلت کو گلے لگانا درحقیقت مغلوب اقوام کا باطنی مرض ہے۔ جب تک مسلمان قرآن کو ترکِ دنیا کی کتاب سمجھنے کے بجائے تسخیرِ کائنات کا منشور نہیں بناتے، اُن کا مسخ شدہ ضمیر کبھی حریت اور عظمتِ رفتہ کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *