فہرست
تعارف
نظم ”مسلم“ مجموعۂ کلام ”بانگِ درا“ (حصہ سوم) کی وہ فکری، تاریخی اور ولولہ انگیز شاہکار نظم ہے جو جون 1912ء میں قلمبند کی گئی۔ یہ کلام علامہ اقبال کے فکری سفر کے اُس انقلابی موڑ کا مظہر ہے جب وہ ابتدائی دور کے روایتی موضوعات اور جغرافیائی وطنیت سے یکسر الگ ہو کر، رات کی تنہائیوں میں قرآنِ حکیم کے گہرے تدبر اور اشکبار مطالعے کے زیرِ اثر، ’مسلم‘ کے آفاقی تشخص، کلامی منصب اور وجودی حقیقت کی ازسرِ نو صورت گری کر رہے تھے۔
یہ نظم ایک پُرتاثیر اور ڈرامائی مکالمے پر اُستوار ہے۔ پہلے بند میں ایک نُکتہ چیں ”ہم نشیں“ شاعر پر طعنہ زنی کرتا ہے کہ تیرا ”سینۂ سوزاں“ فریاد سے معمور اور ”بربطِ دل“ نغمۂ اُمید سے خالی ہے، تُو ”ہنگامۂ حاضر“ سے کٹ کر ”عہدِ رفتہ“ کی صداؤں کا متلاشی ہے اور تیری ”درائے کارواں“ سوئے ہوئے مسافروں کے لیے محض ”یاس“ (نا اُمیدی / مایوسی) کا سبب بن رہی ہے کیونکہ شمع سے گزری رات (شبِ دوشینہ) روشن نہیں کی جا سکتی۔ دوسرے بند میں اقبالؔ ایک سچے مومن کے باوقار جلال کے ساتھ اِس اعتراض کی دھجیاں بکھیر دیتے ہیں۔ وہ اعلان کرتے ہیں کہ مسلم توحید کا امین، صداقت پر ازل سے ”شاہدِ عادل“ اور ”نبضِ کائنات“ کی حرارت ہے۔ وہ ثابت کرتے ہیں کہ ملت کا سپاہی ”یاس کے عنصر“ سے قطعی آزاد ہے، اور اُس کا نگاہ بر ماضی رکھنا کوئی بے کار نوحہ خوانی نہیں بلکہ اُس کی خاک کے لیے ”اکسیر“ ہے، کیونکہ اُس کا درخشاں ماضی اُس کے مستقبل (استقبال) کی تفسیر ہے اور وہ گزرے ہوئے کل (دوش) کے آئینے میں آنے والے کل (فردا) کے طلوع پر محکم ایقان رکھتا ہے۔
نظم کے سالِ تصنیف، اقبالؔ کے قرآنی انہماک اور اُن کی فکر میں آنے والے انقلاب کا احوال بیان کرتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-
یہ نظم علامہ اقبال نے 1912ء میں لِکھی تھی، جبکہ وہ قرآن مجید کے مطالعہ میں منہمک تھے۔ اُن کے دیکھنے والوں کا بیان ہے کہ اُس زمانہ میں وہ تہجّد کے وقت اُٹھ کر قرآنِ حکیم کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ یعنی اُس کے سمندر سے حقائق و معارف کے موتی نکالتے تھے۔ اکثر اوقات اُن پر اِس قدر رَقّت طاری ہوتی تھی کہ کلامِ پاک کے صفحات اُن کے آنسوؤں کے موتیوں سے تر ہو جاتے تھے۔ قرآنِ حکیم میں اِسی تدبّر کا نتیجہ 1914ء میں اسرارِ خودی اور 1915ء میں رموزِ بیخودی کی شکل میں دُنیا کے سامنے آیا۔ اِن ہی دو کتابوں نے علامہ اقبال کو دُنیا کے حُکماء کی صف میں جگہ دی اور اُن کا سارا فلسفہ اِن ہی دو کتابوں میں مدوّن ہے اور تمام تر قرآنِ حکیم سے ماخوذ ہے۔
قرآنِ عزیز ہی کے مطالعہ ہی سے علامہ اقبال پر یہ حقیقت مُنکشف ہوئی کہ ”مسلم“ کی صِفت کیا ہے اور اِس نظم میں اُنہوں نے اِسی لفظ کی وضاحت کی ہے۔ اِس نظم میں اُس اِنقلاب کا حال بھی معلوم ہو سکتا ہے، جو اُن کی ذہنیّت میں پیدا ہوچُکا ہے۔ اب وہ ”ہمالہ“ اور ”نیا شِوالہ“ کے بجائے ”اسلام“ اور ”مسلم“ پر غور کر رہے ہیں اور مسلمانوں کو بیداری کا پیغام دے رہے ہیں۔
پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بانگِ درا
بند نمبر 1
ہر نفَس اقبالؔ تیرا آہ میں مستور ہے
سینۂ سوزاں ترا فریاد سے معمور ہے

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| سانس | نفَس |
| مراد دِل میں دینِ اسلام / اُمّتِ مسلمہ کا درد ہونا | آہ |
| چھُپا ہوا | مستُور |
| جلتا ہوا سینہ | سینۂ سوزاں |
| گِریہ و زاری | فریاد |
| بھرا ہوا، پُر | معمور |
تشریح:
اِس نظم میں علامہ اقبال سے ایک بے عمل اور مایوس مسلمان مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ اے اقبالؔ! تیرا سانس (نفس) ہر لمحہ آ ہ و فریاد میں چھُپا ہوا (مستُور) ہے اور جو تیرا سینہ ہے وہ بھی مسلسل غم کی آگ میں جل رہا ہے۔ تجھے مسلمانوں کی حالتِ زار پر بہت دُکھ ہے، اس لیے خود بھی روتا ہے اور ہمیں بھی رُلاتا ہے۔
نغمۂ اُمّید تیری بربطِ دل میں نہیں
ہم سمجھتے ہیں یہ لیلیٰ تیرے محمل میں نہیں

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| اُمّید کا ترانہ، پُر اُمیدی | نغمۂ اُمّید |
| موسیقی کا ایک ساز | بربط |
| محبوبہ۔ مراد اُمّید | لیلیٰ |
| کجاوہ۔ ایک قسم کی ڈولی جو اونٹ پر باندھتے ہیں، جس میں خواتین سفر کرتی ہے۔ یہاں محمل سے مراد ہے دِل | محمل |
تشریح:
اگر تیرے دِل کو سازِ بربط تصوّر کر لیا جائے تو پھر یہ کہنا پڑے گا کہ تیرے اِس ساز (دِل) سے نکلنے والے نغموں (شاعری) میں اُمید کی کوئی کِرن باقی نہیں ہے۔ اسی طرح اگر تیرے دِل کو ایک محمِل تصّور کر لیا جائے تو اُس میں لیلائے اُمّید کا کوئی وجود نہیں ہے۔ گویا حالات بڑے مایوس کُن ہیں، ان میں انقلاب نظر نہیں آتا۔
گوش آوازِ سرودِ رفتہ کا جویا ترا
اور دل ہنگامۂ حاضر سے بے پروا ترا

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| کان | گوش |
| ماضی کا راگ، عظمتِ گذشتہ، گذرا ہوا زمانہ (مسلمانوں کا شاندار ماضی مراد ہے) | سُرودِ رفتہ |
| مُتلاشی، ڈھونڈنے والا | جویا |
| حالاتِ حاضرہ | ہنگامۂ حاضر |
تشریح:
اے اقبالؔ! تیرے کان (گوش) تو ہمیشہ گُزرے ہوئے نغمے (سُرودِ رفتہ) کو سننے کے لیے بے قرار ہیں، یعنی تُو اسلام کے دورِ عروج کو واپس لانا چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ کسی طرح مسلمانوں کو ماضی کی سی شان و شوکت و عزت حاصل ہو جائے اور یہی وجہ ہے کہ تیرا دِل موجودہ زمانے اور اس کے ہنگاموں کی طرف متوجہ نہیں ہے۔
قصّۂ گُل ہم نوایانِ چمن سُنتے نہیں
اہلِ محفل تیرا پیغامِ کُہن سُنتے نہیں

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| پھول | گُل |
| مراد ہے داستانِ ماضی سے | قصۂ گُل |
| آواز ، صدا ، نِدا | نوا |
| باغ کے پرندے جو اِکٹھے مِل کر گائیں۔ مراد مسلمان افراد | ہم نوایانِ چمن |
| اُمّتِ مُسلمہ | اہلِ محفل |
| پرانا پیغام، ماضی کی باتیں | پیغامِ کُہن |
تشریح:
حالانکہ صورتِ حال یہ ہے کہ چمن کے ساتھی (اہلِ مِلّت) تجھ سے پھول (اسلام کا عظیم دورِ ماضی) کا قصہ نہیں سنتے اور اہلِ محفل بھی پُرانی داستانوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے۔ یعنی تُو اپنے عظیم ماضی کی یاد دِلا کر مِلّت کے افراد کو اُس طرف لانا چاہتا ہے لیکن وہ تیرے اس پیغام پر توجہ ہی نہیں دے رہے۔ وہ کاہلی اور غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
اے درائے کاروانِ خُفتہ پا! خاموش رہ
ہے بہت یاس آفریں تیری صدا خاموش رہ

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| قافلے کی گھنٹی (درا: گھنٹی) | درائے کارواں |
| سوئے ہوئے پاؤں والی، خاموش | خُفتہ پا |
| ایسے قافلے کی گھنٹی جو رہا ہو | درائے کاروانِ خُفتہ پا |
| مایوس کُن، نا اُمیدی پیدا کرنے والی | یاس آفریں |
تشریح:
اے غافل پڑے ہوئے مسلمانوں کے قافلے کے گھنٹے! میں تجھے مشورہ دیتا ہوں کہ تُو اپنے طریقِ کار میں تبدیلی پیدا کر یا خاموش ہو جا، آخر قوم کو مسلمانوں کی گذشتہ تاریخ سُنانے کا کیا فائدہ؟ تیری شاعری بہت مایوسی پیدا کرتی ہے، اس لیے قوم اُسے سُننا پسند نہیں رکتی۔ چنانچہ بہتر یہی ہے کہ تُو مایوسی پیدا کرنے کی بجائے خاموشی اختیار کرے۔
درائے کاروانِ خفتہ پا: اُس قافلے کا گھنٹہ جو سو رہا ہے، مراد ہے ذاتِ اقبالؔ سے، یعنی اقبالؔ اُس قوم کے شاعر ہیں جو خوابِ غفلت میں گرفتار ہے۔
زندہ پھر وہ محفلِ دیرینہ ہو سکتی نہیں
شمع سے روشن شبِ دوشینہ ہوسکتی نہیں

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| پرانی مجلس، ماضی کی محفل۔ اشارہ ہے مسلمانوں کے شاندار ماضی کی طرف | محفلِ دیرینہ |
| رات | شب |
| گُزری ہوئی رات | شبِ دو شینہ |
تشریح:
حقیقتِ حال یہ ہے کہ تیری قوم مُردہ ہو چُکی ہے اور ماضی کے وہ عظیم مسلمان جن کے وجہ سے مِلّت دُنیا پر چھائی ہوئی تھی، اب پیدا ہوتے نظر نہیں آتے۔ یہی وجہ ہے کہ مِلّتِ اسلامیہ کی عظمت و شان کا دورِ گذشتہ اب واپس نہیں آ سکتا۔ بالکل اسی طرح جس طرح شمع جلانے سے گذری ہوئی رات کو روشن نہیں کیا جا سکتا۔
یعنی محض گذشتہ دور کا ذکر کرتے رہنے سے وہ دور واپس نہیں آئے گا، اُس دور جیسے عظیم مسلمان بھی چاہیے ہوں گے۔
بند نمبر 2
ہم نشیں! مسلم ہوں مَیں، توحید کا حامل ہوں مَیں
اس صداقت پر ازل سے شاہدِ عادل ہوں مَیں

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| ساتھ بیٹھنے والا، دوست | ہم نشیں |
| توحید کا عَلَمبردار۔ عقیدۂ توحید پر سچے دِل سے ایمان رکھنے والا | توحید کا حامل |
| سچائی، حقیقت، توحید | صداقت |
| کائنات کی پیدائش سے پہلے کا وقت جس کا کوئی شمار نہیں، وہ زمانہ جس کی ابتدا نہ ہو | ازل |
| گواہ | شاہد |
| اِنصاف پسند گواہ، سچّا گواہ | شاہدِ عادل |
تشریح:
یہ اعتراض سُن کر علامہ اقبال نے جواب دیا کہ:-
اے دوست! میں مسلم ہوں اور حق تعالیٰ کی وحدانیت کا پوری طرح قائل ہوں۔ اللہ نے مسلم پر کُچھ فرائض عائد کیے ہیں، جن کی تفصیل یہ ہے کہ:-
میں دُنیا میں توحیدِ الہی کا حامل اور علمبردار، مبلغ اور محافظ ہوں اور میری زندگی کا مقصد اس کے سوا اور کُچھ نہیں کہ میں توحید کی اشاعت اور حفاظت کروں۔ میں ابتدائے عالم سے توحید پر ایک سچے گواہ (شاہدِ عادل) کی حیثیت سے گواہی دے رہا ہوں (ہر نبی نے توحید کی اشاعت ہی کی تھی)۔
نبضِ موجودات میں پیدا حرارت اس سے ہے
اور مسلم کے تخیّل میں جسارت اس سے ہے

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| کائنات کی حرکت کرنے والی رگ۔ مراد ساری کائنات | نبضِ موجودات |
| گرمی، جوش، زندگی | حرارت |
| قوّتِ خیال، ارادے | تخیّل |
| ہمّت، جرأت، حوصلہ | جسارت |
تشریح:
علامہ اقبال توحید کی حقیقت سے پردہ اُٹھاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:-
توحید کیا ہے؟ یہ زندگی کی اصل ہے۔ یہ جہاں اسی کے دم سے زندہ ہے،کائنات و موجودات کی نبض میں توحید ہی کی بدولت حرارت اور عمل کی قوت موجود ہے اور مسلم کے فکر و خیال میں جو بے باکی اور بلندی نظر آتی ہے، وہ توحید پر ایمانِ کامل ہی کی وجہ سے ہے۔ ساری کائنات کا نظام وہی ذاتِ کریم چلا رہی ہے اور مسلمانوں میں جو جوش و ولولہ اور قوت ہے، اس کا باعث بھی اُن کا مذکورہ ایمان ہے (مسلمان توحید پرست نہ ہوتا تو بزدل ہوتا)۔
حق نے عالم اس صداقت کے لیے پیدا کیا
اور مجھے اس کی حفاظت کے لیے پیدا کیا

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| ذاتِ باری تعالیٰ | حق |
| دُنیا، کائنات | عالم |
| سچ / حق بات، توحیدِ اِلہی | صداقت |
تشریح:
خدا نے اس دنیا کو اسی لیے پیدا کیا کہ اس میں توحید کی صداقت آشکارا ہو اور مسلمان کا فرضِ منصبی (جس کے لیے وہ پیدا ہوا ہے) بس یہی ہے کہ وہ دنیا میں توحید کی اشاعت کرے اور جہاں یہ شمع روشن ہو جائے وہاں اس کی حفاظت کرے، تاکہ یہ شمع بجھنے نہ پائے۔
آج اگر مسلمان ذلیل و خوار ہے تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اُس نے اپنے فرضِ منصبی کی ادائیگی میں کوتاہی کی۔ مثلاً وہ قاہرہ اور قسطنطنیہ میں حکومت کرتا رہا اور اُس کے سامنے قرطبہ اور غرناطہ میں اسلام کی شمع بُجھ گئی۔ پس اگر مسلمان تصوّرِ توحید کے محافظ کی حیثیّت سے زندگی نہیں گزارتا تو اُس کا مسلمان ہونا مشکوک ہے اور اس کا عدم و وجود برابر ہے۔
؎ یہی دینِ محکم، یہی فتحِ باب
کہ دُنیا میں توحید ہو بے حجاب
(بالِ جبریل: پنجاب کے دہقان سے)
دہر میں غارت گرِ باطل پرستی مَیں ہُوا
حق تو یہ ہے حافظِ ناموسِ ہستی مَیں ہُوا

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| دُنیا، کائنات، زمانہ، عصر، بہت لمبا وقت | دہر |
| برباد / تباہ کرنے والا | غارت گر |
| کفر یا بے حقیقت باتوں کی عبادت | باطل پرستی |
| سچ بات | حق |
| حفاظت کرنے والا | حافظ |
| زندگی کی عزت، زندگی کا وقار | ناموسِ ہستی |
| زندگی کی عزت و وقات کی حفاظت کرنے والا | حافظِ ناموسِ ہستی |
تشریح:
میرا دوسرا فرض یہ ہے کہ دُنیا سے کُفر اور شرک کا خاتمہ کر دوں اور بنی آدم کی عزتِ نفس کی حفاظت کروں۔ چنانچہ یہ اُمّتِ مسلمہ کے پیروکار ہی تھے جنہوں نے دُنیا سے باطل کو فنا کر ڈالا اور زندگی کے وقار، اس کے ننگ و ناموس اور عزت و آبرو کے محافظ ٹھہرے۔
علامہ اقبال اسی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے نظم ”طلوعِ اسلام“ میں فرماتے ہیں:-
؎ مٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نے
وہ کیا تھا، زورِ حیدرؓ، فقرِ بُوذرؓ، صِدقِ سلمانیؓ
(بانگِ درا: طلوعِ اسلام)
میری ہستی پیرہن عُریانیِ عالم کی ہے
میرے مِٹ جانے سے رُسوائی بنی آدم کی ہے

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| زندگی، وجود | ہستی |
| لباس، زیب و زینت | پیرہن |
| دُنیا کا ننگا پن | عُریانیِ عالم |
| بدنامی، بے عزتی، ذلت | رُسوائی |
| انسان، آدم کی اولاد | بنی آدم |
تشریح:
مسلم کا وجود دنیا کی زینت کا باعث ہے۔ میرا وجود دنیا کی عریانی کو ڈھانپنے والا لباس (پیرہن) ہے۔ اگر میں مِٹ جاتا ہوں (مسلمانوں کا وجود ختم ہو جاتا ہے) تو یہ امر بنی نوع انسان کی ذلّت اور رسوائی کا باعث بنے گا (عریانی سے مراد تہذیب سے محروم ہونے کی کیفیّت ہے)۔ ایک مسلمان قرآنی احکامات کو دُنیا میں نافذ کرتا ہے، ان احکامات کی بدولت ہی انسان صحیح تہذیب و معاشرے کا حامل ہو سکتا ہے۔
قسمتِ عالم کا مسلم کوکبِ تابندہ ہے
جس کی تابانی سے افسونِ سحَر شرمندہ ہے

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| دُنیا کا مقدّر | قسمتِ عالم |
| ستارہ | کوکب |
| روشن | تابندہ |
| چمک دار ستارہ | کوکبِ تابندہ |
| روشنی، چمک دمک | تابانی |
| صبح کا جادو / منتر، صبح کا نور | افسُونِ سحَر |
تشریح:
مسلمان دُنیا کے نصیبے کا روشن ستارہ ہے، جس کی چمک کے سامنے صبح کا جادو شرمسار ہے۔ دنیا کا عروج مسلمان کے عروج سے وابستہ ہے، ایک مسلمان ہی توحید پر ایمانِ کامل کے باعث دُنیا کا مقدّر سنوار سکتا ہے۔
”افسُونِ سحر“ سے مُراد صبح کی روشنی جو ایک دم سے جادو کی طرح نمودار ہو کر رات کو غائب کر دیتی ہے۔ مراد یہ ہے کہ صبح کے طلوع ہونے سے ستارے ماند پڑ جاتے ہیں، لیکن اسلامی ستارے کی جگمگاہٹ کا یہ عالم ہے کہ صبح اُس کی روشنی کم کرنے کی بجائے خود ماند پڑ جاتی ہے۔
آشکارا ہیں مری آنکھوں پہ اسرارِ حیات
کہہ نہیں سکتے مجھے نومیدِ پیکارِ حیات

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| ظاہر | آشکارا |
| زندگی کے راز | اسرارِ حیات |
| نا اُمید، جو مایوس ہو چُکا ہو | نومید |
| زندگی کی جنگ | پیکارِ حیات |
تشریح:
میں قرآن کا قاری ہونے کی وجہ سے کائنات اور حیات، دونوں کے اسرار و رموز سے آگاہ ہوں۔ یعنی میں اپنی اور اِس دُنیا کی حقیقت سے آگاہ ہوں، اس لیے میں کشمکشِ حیات میں مسلمانوں کی کامیابی سے کبھی نا اُمید نہیں ہو سکتا۔ میں اُن لوگوں میں سے نہیں جو عملی جد و جہد سے مایوس ہو جاتے ہیں اور اور زندگی کی کشمکش میں حصہ لینے کے لیے تیار نہیں۔ مسلمان کے نزدیک حقیقی زندگی یہ نہیں کہ وہ عمل سے بیگانہ رہے، بلکہ اُس پر لازم ہے کہ وہ جہد و عمل میں مصروف رہ کر اپنی اور دُنیا کی قسمت سنوارے اور اپنی بقا کا سامان کرے۔
کب ڈرا سکتا ہے غم کا عارضی منظر مجھے
ہے بھروسا اپنی ملّت کے مقّدر پر مجھے

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| وہ شے جو مستقل نہ ہو، تھوڑی مدت کے لیے، غیر مستقل، چند روزہ، وقتی، اتفاقیہ، مستعار، دو دن کا | عارضی |
| مراد اُمّتِ مُسلمہ | مِلّت |
| اندازہ کیا گیا، تقدیری بات، قسمت، مشیّتِ ایزدی | مقدّر |
تشریح:
اگر آج کل مسلمان عارضی طور سے پستی میں ہیں یا غمگین ہیں تو میں اس سے بالکل ہراساں نہیں ہو سکتا۔ غم کا یہ وقتی منظر مجھے کیونکر ڈرا سکتا ہے (نہیں ڈرا سکتا) اس لیے کہ مجھے مِلّت کے مقدّر پر پورا بھروسا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ مِلّت جلد بیدار ہو کر اپنی کھوئی ہوئی عظمت دوبارہ حاصل کر لے گی۔ مِلّتِ اسلامیہ مِٹ جانے کے لیے پیدا نہیں ہوئی، اگر مِلّتِ اسلامیہ مِٹ گئی تو اسلام کی حفاظت و اشاعت کون کرے گا؟ لہذا مسلمان بھی نہیں مِٹ سکتے۔
یاس کے عُنصر سے ہے آزاد میرا روزگار
فتحِ کامل کی خبر دیتا ہے جوشِ کارزار

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| نا اُمیدی، مایوسی، اُداسی، نِراشا، حسرت | یاس |
| جزو، مادہ | عُنصر |
| زمانہ، دُنیا، وقت | روزگار |
| مکمل فتح | فتحِ کامل |
| شدید لڑائی / جنگ | جوشِ کارزار |
تشریح:
میرے روز و شب نااُمیدی اور یاس کے عنصر سے پاک ہیں (میں قطعاً نا اُمید نہیں ہوں)، کیونکہ کمشکشِ حیات میں مسلمانوں کا جوش و خروش اور ولولہ مکمل فتح کی اُمید دے رہا ہے، یعنی مسلمانوں میں بیداری کے جو حالات اب نظر آرہے ہیں، اُن سے صاف واضح ہو رہا ہے کہ وہ آج کے سنگین حالات میں بھی (یا دشمنوں، غیر قوّتوں کی سخت دشمنی وغیرہ کے باوجود) بفضلِ خدا تعالی، معرکۂ حیات کامیاب و کامران ہوں گے۔
ہاں یہ سچ ہے چشم بر عہدِ کُہن رہتا ہوں مَیں
اہلِ محفل سے پُرانی داستاں کہتا ہوں مَیں

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| پرانہ زمانہ | چشم |
| پُرانہ دور (واضح ہو کہ پُرانے دور سے پُرانہ زمانہ مُراد نہیں، کیونکہ وہ تو واپس نہیں آسکتا، بلکہ اس سے مسلمانوں کا عروج مراد ہے، جیسا کہ پُرانے دور میں اُن کو حاصل ہوا تھا۔) | عہدِ کُہن |
| پُرانے دور کی واپسی کا منتظر | چشم بر عہدِ کُہن |
| اہلِ مِلّت، مسلمان قوم | اہلِ محفل |
| مُراد مسلمانوں کا شان دار ماضی، یعنی صدرِ اول کے مسلمانوں کے عروج کی داستان | پُرانی داستاں |
تشریح:
علامہ اقبال اپنی بات جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہاں! یہ سچ ہے کہ میری نگاہیں اپنے قدیم عظیم دور پر لگی رہتی ہیں اور میں اِس بات کا آرزومند ہوں کہ مسلمانوں کو پھر وہی شان و شوکت حاصل ہو جائے، جو کسی زمانہ (آج سے تین، چار سو سال پہلے) تھی۔ اسی لیے مسلمانوں کو اُن کے عہدِ عروج (مثلاً عہدِ ہارون الرشید اور سلطان محمد فاتح) کی داستانیں سُناتا رہا ہوں تاکہ اُن کے اندر ترقی کرنے کا جذبہ پیدا ہو اور وہ بیدار ہو کر پھر سابقہ عظمت حاصل کر لیں۔
یادِ عہدِ رفتہ میری خاک کو اِکسیر ہے
میرا ماضی میرے استقبال کی تفسیر ہے

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| گزرا ہوا زمانہ، ماضی | عہدِ رفتہ |
| اکسیر ایک ایسا مادہ ہے جو تانبے کو سونا بنا دیتا ہے، بکہ اس کے برعکس اکیسر سے عام طور پر مراد ایک ایسے جادوئی مرکب کی بھی لی جاتی ہے جس کو پینے سے حیات لافانی حاصل کی جاسکتی ہے یا ہر مرض کو شفا دی جاسکتی ہے۔ کیمیا، پارس | اِکسیر |
| گزرا ہوا زمانہ | ماضی |
| آئندہ زمانہ، مستقبل | اِستقبال |
| تشریح، تفصیل | تفسیر |
تشریح:
اُس عظیم دور کی یاد میری خاک کے لیے اکسیر کا حکم رکھتی ہے اور میرے اندر عمل کی تحریک پیدا کرتی ہے۔ میرا روشن ماضی میرے آنے والے دور کی شرح و تفسیر ہے۔ یعنی عظیم ماضی کے حوالے سے مسلمان پھر خود کو صاحبِ عظمت بنانے کے لیے جد و جہد کریں گے اور ایک دن حاصل کر ہی لیں گے۔
سامنے رکھتا ہوں اُس دورِ نشاط افزا کو مَیں
دیکھتا ہوں دوش کے آئینے میں فردا کو مَیں

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| خوشی و مسرّت میں اضافہ کرنے والا زمانہ | دورِ نشاط افزا |
| گذری ہوئی کل، ماضی | دوش |
| آنے والی کل، مستقبل | فردا |
تشریح:
آخر میں علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ میرا نصب العین وہی گذشتہ دور ہے جس میں ہر طوف خوشی ہی خوشی نظر آتی تھی۔ اسی لیے میں ہمیشہ مسلمانوں کے عروج کے زمانہ کو مدِ نظر رکھتا ہوں اور گذشتہ دور کے آئینہ میں آئندہ آنے والے دور کی تصویر دیکھتا ہوں اور مسلمانوں کو یہ پیغام دیتا ہوں کہ تم بھی وہی شان و شوکت حاصل کرو، جو تمہارے اسلاف کو حاصل تھی۔
تبصرہ
یہ نظم علامہ اقبال کے شعری و فکری ارتقا کا وہ تاریخ ساز نقطۂ عروج ہے جہاں ”مسلم“ کا تصور نسلی، قبائلی اور جغرافیائی حدود سے ماورا ہو کر ایک کائناتی و وجودی منصب کا روپ دھار لیتا ہے۔ اقبالؔ نے سطحی ناقدین کے اِس طعنے کا کہ ان کی صدائے درا محض نوحۂ یاس ہے، دندان شِکن جواب دیا ہے۔ اُنہوں نے ثابت کِیا کہ توحید کا حامل غم کے عارضی مناظر سے خائف نہیں ہوتا اور ملت کا ابدی مقدر وقتی زوال سے کہیں بلند تر ہے۔ اِس کلام کا اصل کمال مسلم کی اساسی حیثیت کا کائناتی تعیّن ہے— وہ محض ایک فرد یا قوم کا نمائندہ نہیں بلکہ ”نبضِ موجودات کی حرارت“، ”حافظِ ناموسِ ہستی“ اور ”پیرہنِ عریانیِ عالم“ ہے جس کا وجود کائنات کے توازن اور انسانیت کی بقا کی ضمانت ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اقبالؔ نے تاریخ کے تسلسل کا وہ انقلابی فلسفہ عطا کِیا جو مُردہ پرستی کے بجائے حیات نو کی بشارت دیتا ہے؛ سچے مومن کے لیے ماضی کوئی فرسودہ قبرستان نہیں بلکہ تابناک استقبال کی زندہ تفسیر ہے، اور وہ ”دوش کے آئینے میں فردا“ کا مشاہدہ کر کے خوابیدہ کارواں کو فتحِ کامل کا یقین دلاتا ہے۔ یہی وہ قرآنی بصیرت تھی جس نے آگے چل کر ’اسرارِ خودی‘ اور ’رموزِ بیخودی‘ کے لافانی افکار کو جنم دیا۔







