Skip to content

ضربِ کلیم 47: اے روحِ محمد ﷺ

تعارف

نظم ”اے روحِ محمد ﷺ“ علامہ اقبال کے مجموعۂ کلام ”ضربِ کلیم“ کی ایک درد انگیز اور تاریخ ساز نظم ہے، جو درحقیقت بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں ملتِ اسلامیہ کی زبوں حالی اور انتشار پر ایک دِلسوز استغاثہ (فریاد) ہے۔

علامہ اقبال کے نزدیک ذاتِ رسالتِ مآب ﷺ اُمتِ مسلمہ کے وجود کا حقیقی مرکز اور واحد سہارا ہے۔ اِس نظم میں وہ مسلم قوم کے بکھرتے ہوئے شیرازے، فکری غلامی اور اخلاقی پستی کا دکھ لے کر حضور سرورِ کائنات ﷺ کے حضور فریادی بن کر حاضر ہوتے ہیں۔ وہ والہانہ عشقِ رسول ﷺ کے تحت یہ سوال اُٹھاتے ہیں کہ جب ملت ہر طرف سے فتنوں اور گمراہی میں گھر چُکی ہو، تو اب اِس درماندہ مسلمان کو رہنمائی اور نجات کے لیے کس سمت کا رخ کرنا چاہیے۔

سماعت فرمائیے
YouTube video

تشریح

شعر 1

شِیرازہ ہُوا ملّتِ مرحوم کا ابتر
اب تُو ہی بتا، تیرا مسلمان کِدھر جائے!

معانیالفاظ
لفظی معنی ہیں کتاب کی جُزبندی کرنے والا فیتہ۔ یہاں مراد نظام، انتظام، بند و بستشیرازہ
وہ قوم جس پر رحمتِ خداوندی ہو، مراد اُمّتِ مسلمہ، مسلمان قوممِلّتِ مرحوم
بکھرا ہواابتر

تشریح:

حضرت علامہ اقبال حضور سرورِ کائنات ﷺ کی روحِ مقدّسہ سے فریاد کرتے ہیں کہ اے تاجدارِ مدینہ ﷺ! آپ ﷺ کی مِلّت، جو کبھی زندہ و تابندہ تھی، آج اُس کا شیرازہ بالکُل بکھر چُکا ہے، مسلم قوم مختلف فرقوں میں تقسیم ہو کر منتشر ہو چُکی ہے اور اُس میں ہر قسم کا نظم و ربط ختم ہو چُکا ہے۔ ایسے میں آپ ﷺ ہی فرمائیں کہ آپ ﷺ کا اُمّتی، آپ ﷺ کا مسلمان کیا صورت اختیار کرے، کِدھر جائے۔

شعر 2

وہ لذّتِ آشوب نہیں بحرِ عرَب میں
پوشیدہ جو ہے مجھ میں، وہ طوفان کِدھر جائے

معانیالفاظ
طوفان یا ہنگامے کی لذّتلذّتِ آشوب
عرب میں واقع سمندر کا نام۔ مراد ہے عرب قومبحرِ عرب
چھُپا ہواپوشیدہ

تشریح:

یا رسول اللہ ﷺ! ہندی مسلمانوں سے تو کیا شکایت ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ اہلِ عرب بھی اب مسلمان نہیں رہے۔ اُن کے سمندر میں بھی کوئی شورش اور طوفان نہیں ہے۔ یہ عرب قوم کہ جو کل تک ساری دُنیا پر چھائی ہوئی تھی، آج مُردہ و افسردہ ہ اور لذّتِ شورش سے بالکل محروم ہے۔ مسلمانوں میں دینِ اسلام کے لیے سرفروشی کا مادہ بالکل بھی باقی نہیں رہا۔ اب جب صورتِ حال یہ ہے تو میرے سینے میں جو طوفان بھرے جذبات ہیں، وہ میں ان تک کیوں پہنچاؤں اور جو کُچھ میرے سینے میں امانت ہے وہ کس کے سامنے کھول کر رکھوں اور اِس امانت کا اہل کون ہے؟ جب کہ صورتِ حال تو یہ ہے کہ وہ (اہلِ عرب) تو اس حد تک بے شور ہو چُکے ہیں، اُن کے دِل اُن پاکیزہ جذبات سے اس قدر خالی ہو چُکے ہیں کہ میرا طوفان بھی اُن میں کوئی حرکت پیدا نہیں کر سکے گا۔

شعر 3

ہر چند ہے بے قافلہ و راحلہ و زاد
اس کوہ و بیاباں سے حُدی خوان کِدھر جائے

معانیالفاظ
سواریراحلہ
سفر کا سامانزاد
پہاڑ اور جنگلکوہ و بیاباں
حُدی پڑھنے والا۔ ساربان۔ قافلے کے آگے آگے چلنے والا، قافلے کے اونٹوں کو مست کرنے اور گرم رکھنے والا گیت گاتا ہوا شخص،مراد ہے علامہ اقبال سے۔ اقبالؔ اپنی شاعری کو حُدی کہتے ہیں۔حُدی خوان

تشریح:

عرب کے پہاڑوں اور جنگلوں میں جو عرب ہیں، وہ بے قافلہ ہیں، نہ اُن کے پاس سواریاں ہیں اور نہ ہی سامانِ سفر۔ مراد یہ کہ عرب بالکل مفلس، بے آواز اور بے کار ہو کر رہ گئے ہیں۔ نہ اُن پاس دولت ہے، نہ تجارت ہے، نہ علم ہے، نہ ہی اُن کے پاس کسی قسم کی مادی طاقت ہے اور نہ روحانی قوّت ہے۔ اُن میں سے حُدی خوان (قافلوں کے آگے گانے والے) بھی غائب ہو گئے یعنی اُن کو دوبارہ زندہ قوم بنانے کے لیے اُن میں کوئی راہبر بھی نظر نہیں آتا۔ اگر حُدی خوان سے مراد خود اقبالؔ اور حُدی سے مراد اُن کی شاعری لی جائے، تو پھر یہ معنی ہوں گے کہ قافلہ والے کہیں ہوں تو اُن کو اپنی شاعری کے ذریعے جگاؤں، جب قافلے والے ہی تتر بتر ہو چُکے ہیں تو اُن کو کیسے جگاؤں۔

شعر 4

اس راز کو اب فاش کر اے رُوحِ محمدؐ
آیاتِ الہیٰ کا نگہبان کِدھر جائے!

معانیالفاظ
راز ظاہر کر دینا، کھول دیناراز فاش کرنا
خدا کی نشانیاں، اللہ کی آیاتآیاتِ الہی
حفاظت کرنے والانگہبان

تشریح:

یا رسول اللہ ﷺ! اب وقت آ گیا ہے کہ آپ ﷺ اِس نافرمان اور نالائق قوم پر نگاہِ کرم فرمائیں اور اس کی دستگیری فرمائیں۔ یہ قوم لاکھ بُری سہی، لیکن آپ ﷺ کی نام لیوا ہے اور اللہ کے کلام پر عامل نہ سہی، اُس کی نگہبان تو ہے۔ آخر یہ دُنیا سے نیست و نابود تو نہیں ہو سکتی، کیونکہ آپ ﷺ کا پیغام ازلی اور ابدی ہے، پس لِلہ ان پر نگاہِ کرم فرمائیے اور دنیا میں ان کی باعزت زندگی کا کوئی انتظام فرمائیے۔

؎ کرم اے شہِؐ عَرب و عجم کہ کھڑے ہیں منتظرِ کرم
وہ گدا کہ تُو نے عطا کِیا ہے جنھیں دماغِ سکندری

(بانگِ درا: میں اور تُو)

بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں پیش کردہ اِس دلسوز استغاثے کی تشریح اور سلیس تفہیم کے بارے میں پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

میں نے حتی المقدور اِس نظم کو سلیس انداز میں بیان کر دیا ہے لیکن اگر قارئین اُس سوز و گُداز سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں، جو اِس نظم میں ہے تو پھر اس کو اقبالؔ ہی کے لفظوں میں پڑھیں۔ جو سوز و گُداز اِس مصرع میں ہے:-

؏ اب تُو ہی بتا، تیرا مُسلمان کِدھر جائے

وہ میرے لفظوں سے ہرگز پیدا نہیں ہو سکتا۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح ضربِ کلیم

تبصرہ

حقیقت یہ ہے کہ یہ نظم محض ایک فریاد نہیں بلکہ ملتِ اسلامیہ کے ضمیر پر ایک تازیانہ ہے۔ اقبالؔ نے جس دردمندی سے ذاتِ رسالت مآب ﷺ کے حُضُور اُمت کے فکری انتشار، مغربی تہذیب کی نقالی اور باطنی شکستگی کا نوحہ پیش کیا ہے، وہ ہر دور کے باشعور مسلمان کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ جب تک اُمت اپنے مرکزِ نگاہ یعنی قرآنی بصیرت سے دوبارہ اپنا رشتہ نہیں جوڑتی، تب تک اُس کی فکری درماندگی کا مداوا ممکن نہیں۔ کیونکہ:-

؎ قوموں کے لیے موت ہے مرکز سے جُدائی
ہو صاحبِ مرکز تو خودی کیا ہے، خدائی!

(ضربِ کلیم)

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *