Skip to content

بانگِ درا 42: ہندوستانی بچوں کا قومی گیت

تعارف

علامہ اقبال کی یہ نظم فروری 1905ءکے ”مخزن“ میں ”ایک ہندوستانی لڑکے کا گیت“ کے عنوان سے شائع ہوئی۔ پھر نظرِ ثانی میں علامہ اقبال نے کُچھ ترامیم کیں اور ایک مکمل بند حذف کر دیا۔ بانگِ درا میں ”ہندوستانی بچوں کا قومی گیت“ کے نام سے رقم ہوئی۔

اِس نظم کا شمار بھی ترانۂ ہندی کی طرح اقبالؔ کی فکر کے دورِ اوّل میں ہوتا ہے۔ جس میں آپ نے وطن پرستی پر مبنی شاعری فرمائی۔ اِس نظم میں بھی آپ نے ہندوستان کی تعریفی شاعری کی ہے اور تقریباً ہر شعر میں تلمیح کے استعمال سے اس سرزمین کی عظمت کو اُجاگر کیا ہے۔

نظم کی لسانیّات

علامہ اقبال کی اِس نظم کا شمار ترجیح بند نظموں میں ہوتا ہے۔ ترجیح بند ایسی نظم کو کہا جاتا ہے جس میں ایک ہی ٹیپ کا مصرع، ہر کُچھ اشعار کے بعد دہرایا جائے۔ یہاں ہر بند کے آخر میں ”میرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے“ کی تکرار ہے۔

ترجیح بند ہیئت میں لکھی نظم اور ہر بند کے تمام اشعار کا ہم قافیہ و ہم ردیف ہونا، نظم کو وہ نغمگیّت عطا کرتا ہے، جو ترانے کے لیے درکار ہے۔

بند نمبر 1

چشتیؒ نے جس زمیں میں پیغامِ حق سُنایا
نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا

تاتاریوں نے جس کو اپنا وطن بنایا
جس نے حجازیوں سے دشتِ عرب چھُڑایا

میرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے

معانیالفاظ
حضرت خواجہ معین الدین چشتی، برِّ صغیر کے مشہور صوفی، مزار مبارک بھارت کے شہر اجمیر میں ہے۔چشتیؒ
خدا کا پیغامپیغامِ حق
سِکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک، جنہوں نے سرزمینِ ہند میں توحید کا درس دیا۔نانک
مراد مُلکچمن
توحیدِ اِلہیوحدت
ترکستان کے باشندےتاتاری
حجاز کے رہنے والے، مراد اہلِ عربحجازی
عرب کا ریگستان / صحرادشتِ عرب

تشریح:

وطن کی تعریف میں علامہ اقبال سب سے پہلے اس میں موجود دانشوروں کے ذکر سے شروع کرتے ہیں۔ اس کی عظمت کا باعث وہی دانِشور (Intellectual) افراد ہیں جو دنیا کے مختلف خِطّوں کو چھوڑ کر اِس وطن میں آ گئے۔

تبصرہ:

پہلے مصرعے میں خواجہ معین الدین چشتی کی طرف اشارہ ہے، جو خراسان سے ہند کے خطے میں آئے اور اس کو اپنا وطن بنایا۔ یہاں توحید کا پیغام پھیلایا اور اپنی خدمات کی وجہ سے ’غریب نواز‘ کا لقب پایا۔

جہاں ایک مسلم دانشور و صوفی کا ذکر کِیا، وہیں اِس دیس میں بسنے والے اور مذاہب سے وابستہ دانشمند جیسا کہ گرو نانک کو بھی سراہا۔ شعر میں اُن کی تعلیمات کا بطورِ خاص ذکر کیا، جنہوں نے پنجاب کی سرزمین کو وحدت کی تعلیم سے از سرِ نو روشناس کرایا اور اس خطّے میں موجود سماجی مسائل جیسا کہ طبقاتی نظام کو توڑا۔

تاتار ترک نسل کے لوگوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس سے مراد وہ تمام ترک حکمران ہیں، چاہے وہ تیموری ہوں یا مغل بادشاہ، جنہوں نے (انگریزوں کے بر عکس) ہندوستان کی تہذیب و تمدّن کو اپنایا اور اس کو مزید ترقّی دی۔

حجازیوں سے مراد وہ عرب فاتحین اور آبادکار ہیں جو محمد بن قاسم کی مہم کے ساتھ سب سے پہلے سندھ پہنچے اور بعد ازاں یہیں آباد ہو گئے۔

بند کے پہلے چاروں مصرعوں میں صنعتِ تلمیح کا استعمال ہے۔ پہلے شعر میں ہند کی دو اہم شخصیات کی طرف اشارہ ہے جبکہ دوسرے شعر میں دو قوموں کی طرف۔

یہ، میرا وطن وہ ہے کہ جو تمام دُنیا کے لوگوں کا مرکز بنا رہا۔

بند نمبر 2

یُونانیوں کو جس نے حیران کر دیا تھا
سارے جہاں کو جس نے علم و ہُنر دیا تھا

مٹّی کو جس کی حق نے زر کا اثر دیا تھا
تُرکوں کا جس نے دامن ہیروں سے بھر دیا تھا

میرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے

معانیالفاظ
یونان کے فلسفییونانی
یورپ کا ایک مُلکیونان
مختلف اقسام کے علوم و فنونعلم و ہُنر
اللہ تعالیٰحق
سونازر
مال و دولت سے مالا مال کر دینادامن ہیروں سے بھرنا
جھولیدامن

تشریح:

اس وطن کی مٹّی کی زرخیزی کا اندازہ اِس میں پیدا ہونے والے علم و فلسفے، زراعت اور معدنیات سے ہوتا ہے۔

تبصرہ:

ہندو فلسفہ، علم اور ہُنر قدیم دور سے اس سطح پر رہا ہے کہ اس نے یونانی (جو کہ علم اور فلسفے کا استعارہ مانے جاتے ہیں) تک کو حیران کر دیا تھا۔ قدیم ہندوستانی تہذیبوں، جیسا کہ وادیِ سندھ کی تہذیب (Indus Valley Civilization) کا صرف نقّاسی کا نظام ہی دورِ حاضر کے لیے حیرت کا باعث ہے۔ اس کے ریاضی دانوں کی ایجادات سے پوری دنیا مستفید ہوئی۔

اِس خطّے کی ذراعت کا ذکر ہو تو اس کی مٹی میں ایسا اثر ہے کہ دُنیا کی ہر فصل، پورا سال اِس میں اُگائی جا سکتی ہے اور اس کے معدنیات کے خزانوں نے اس کے ترک حکمرانوں کے حکومتی خزانے بھر دیے تھے۔ یہ وہی خزانے تھے جسکی بدولت مغل تختِ طاؤس پر شان سے بیٹھے، کوہِ نور کا ہیرا اُن کے تاج میں جڑا گیا اور وہ تاج محل جیسی عمارات بنانے میں کامیاب ہوئے۔

بند نمبر 3

ٹُوٹے تھے جو ستارے فارس کے آسماں سے
پھر تاب دے کے جس نے چمکائے کہکشاں سے

وحدت کی لَے سُنی تھی دنیا نے جس مکاں سے
میرِ عربؐ کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے

میرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے

معانیالفاظ
ایران کا قدیم نامفارس
جن اہلِ علم نے وہاں سے ہجرت کیجو ستارے ٹوٹے
چمکا دینا، پالِش کرناتاب دینا
سِتاروں کا جھُرمٹکہکشاں
توحیدِ اِلہیوحدت
سُر، راگ، گیتلَے
مراد مُلکمکاں
عرب کا سردار، مراد حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ مبارکمیرِ عرب

تشریح:

وہ ستارے، یعنی امراء، علماء، شعراء اور صوفیاء جو فارس (Persia) چھوڑ کر ہندوستان میں آ بسے، اُن کو اس سر زمین نے ایسی چمک (تاب) دی کہ وہ کہکشاں کے ستاروں کی طرح چمکنے لگے۔

تبصرہ:

وحدت کی لے سے مراد شری کرشن کی تبلیغ و تعلیمات ہیں۔

ہند سے میرِ عرب ﷺ کو ٹھنڈی ہوا آنے سے اس حدیث کی طرف اشارہ ہے:-

ترجمہ: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”زمین پر سب سے پاکیزہ اور خوشبودار ہوا ہندوستان کی ہے، آدم علیہ السلام کو وہیں اتارا گیا تھا، تو وہاں کے درختوں کے ساتھ جنت کی خوشبو چمٹ گئی تھی۔“
(المستدرك على الصحيحين، كتاب: تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين، حدیث: 4039)

بند نمبر 4

بندے کلیم جس کے، پربت جہاں کے سِینا
نوحِؑ نبی کا آ کر ٹھہرا جہاں سفینا

رفعت ہے جس زمیں کی بام فلک کا زینا
جنّت کی زندگی ہے جس کی فضا میں جینا

میرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے

معانیالفاظ
حضرت موسیٰؑ کا لقب۔ کلیم اللہ سے مرا دہے خدا سے کلام کرنے والا۔ حضرت موسیٰؑ نے چونکہ کوہِ طُور پر اللہ تعالیٰ سے کلام فرمایا تھا، اس لیے آپؑ کو کلیم اللہ کہتے ہیں۔کلیم
پہاڑپربت
وہ پہاڑ جہاں حضرت موسیٰؑ نے خدا تعالی سے کلام کیا۔ کوہِ طُور (Mount Sinai)سینا
حضرت نوح علیہ السلامنوحِ نبی
کشتیسفینا
بلندیرِفعَت
آسمان کی چوٹی / چھتبامِ فلک
سیڑھیزینا
ماحولفضا

تبصرہ:

جس کے بندوں کی خصوصیات موسیٰ عَلَيْهِ ٱلسَّلَام جیسی ہیں۔ حضرت موسیٰؑ کے کلیم اللہ ہونے کی خصوصیت مقصود ہے اور اس سے اشارہ یہاں کے لوگوں کا عرفانِ الہی ہے جو قدیم زمانے سے اس کی روایت رہی۔ اس ملک کے پربت و پہاڑ طُورِ سینا (Mount Sinai) کی طرح ہیں کیونکہ اس پر خدا کا جلوہ نمایاں ہے۔

ان پہاڑوں پر نبی نوح عَلَيْهِ ٱلسَّلَامُ کا سفینہ آنا ایک قدیم روایت کی طرف اشارہ ہے، جو پہلے سچ مانی جاتی تھی اور ہندوستانیوں کے لیے فخر کا باعث تھی، مگر جدید تحقیق سے یہ بات غلط ثابت ہوئی۔

اِس مُلک میں بسنے والے دانشوروں، اس کا علم و فلسفہ، سونا اُگلنے والی اس کی زمین اور اس کی قدیم میراث نے اس کی عظمت کو اتنا بڑھا دیا ہے کہ یہ آسمان کی چھت تک پہنچنے کی سیڑھی یا بامِ فلک کا زینہ بن گیا ہے اور ایسے وطن کی فضا میں جینا گویا جنت میں زندگی گزارنا ہے۔

یہ وہ ہندوستان کی عظمت و بلندی کا گیت تھا جس میں ہر اُس شے کا ذکر ہے جس پر ہر ہندوستانی بچے کو فخر ہونا چاہیے۔ مگر جلد ہی اقبالؔ کی فکر میں وہ ارتقاء آیا کہ جس میں یہ وطنی جذبہ یک دم عالمگیریّت اختیار کر گیا، یعنی محض ایک خطّہِ زمین ہی عظمت کا استعارہ نہیں بلکہ:-

؏ مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
(بانگِ درا: ترانۂ مِلّی)

تبصرہ

یہ ترانہ برصغیر کی مشترکہ تہذیبی میراث اور روحانی تقدیس کا والہانہ اعتراف ہے۔ اقبالؔ نے چشتیؒ کی حق گوئی، نانک کے توحیدی نغمے اور حضورِ اکرم ﷺ کی اس دھرتی کی طرف نسیمِ رحمت کے تذکرے کو یکجا کر کے نئی نسل میں اپنے وطن کی تاریخی عظمت، امن اور روحانی تشخص پر فخر کا لازوال جذبہ بیدار کِیا ہے۔

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *