فہرست
تعارف
نظم ”ایک بحری قزّاق اور سِکندر“ علامہ اقبال کے مجموعۂ کلام ”ضربِ کلیم“ کے حصے ”سیاسیاتِ مشرق و مغرب“ کی ایک لافانی اور فکر انگیز تمثیلی نظم ہے۔ یہ کلام محض کوئی فرضی قصہ نہیں بلکہ عالمی تاریخ اور سیاسی فلسفے کے ایک مشہور کلاسیکی مکالمے پر مبنی ہے، جس کا اولین تحریری حوالہ قدیم رومی مفکر و مدبر سسرو (Marcus Tullius Cicero) کی تصنیف ”ڈی ری پبلکا“ (De Re Publica، تقریباً 54 قبلِ مسیح) اور بعد ازاں چوتھی صدی عیسوی میں سینٹ آگسٹین (Saint Augustine) کی شہرۂ آفاق کتاب ”دی سٹی آف گاڈ“ (The City of God، باب 4) میں ملتا ہے۔
روایت کے مطابق جب فاتحِ عالم سکندرِ اعظم نے گرفتار ہونے والے ایک بحری ڈاکو Diomedes سے بازپرس کی کہ تم کس جرات سے سمندر میں لوٹ مار کرتے ہو، تو قزاق نے وہ تاریخی اور دلیرانہ جواب دیا جس نے سکندر کو لاجواب کر دیا:-
“Because I do it with a petty ship, I am called a robber, whilst thou who dost it with a great fleet art styled emperor.”
ترجمہ: چونکہ میں یہ کام ایک چھوٹی سی کشتی کے ذریعے کرتا ہوں اس لیے مجھے ڈاکو کہا جاتا ہے، اور تم یہی کام ایک بڑے بحری بیڑے اور لشکر سے کرتے ہو تو تمہیں فاتح اور شہنشاہ کا لقب دیا جاتا ہے!
—St. Augustine, The City of God (De Civitate Dei)
علامہ اقبال نے، جو کیمبرج اور ہائیڈل برگ میں مغربی فلسفے، قانون اور سیاسی تاریخ کا عمیق مطالعہ کر چکے تھے، اِسی کلاسیکی واقعے سے استدلال کرتے ہوئے جدید یورپی سامراج اور برطانوی استعمار کے دوہرے اخلاقی معیارات پر کاری ضرب لگائی ہے۔ اقبالؔ واضح کرتے ہیں کہ ملوکیت (Imperialism) اور قزاقی (Piracy) میں کوئی جوہری فرق نہیں؛ دونوں کمزوروں کا استحصال کرتے ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ بڑی استعماری ریاستوں کی لوٹ مار کو ریاست، فوج اور قانون کا پردہ مل جاتا ہے۔
نظم کے پسِ منظر اور فکری ساخت پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی تحریر کرتے ہیں:-
اِس میں علامہ اقبال نے یہ صورتِ حال واضح کی ہے کہ ملُوکیّت اور قزّاقی (لُوٹ مار) میں صرف نام کا فرق ہے، دراصل دونوں ایک ہیں۔
پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح ضربِ کلیم
سِکندر
صِلہ تیرا تری زنجیر یا شمشیر ہے میری
کہ تیری رہزنی سے تنگ ہے دریا کی پہنائی!
| معانی | الفاظ |
|---|---|
| سمندری ڈاکو، سمندری لُٹیرا | بحرق قزّاق |
| بدلہ، انعام | صِلہ |
| ڈکیتی، لُوٹ مار | رہ زنی |
| وُسعت، پھیلاؤ | پہنائی |
تشریح:
اے قزّاق! تیری لُوٹ مار سے مُسافِر بہت پریشان نہیں۔ اب جب کہ تُو میرے ہتھے چڑھ گیا ہے، یہ بتا کہ تُجھے میں زنجیروں میں جکڑ کر قید کر دُوں یا اپنی تلوار سے تیرا سر قلم کر دُوں!
قزّاق
سکندر! حیف، تُو اس کو جواں مردی سمجھتا ہے
گوارا اس طرح کرتے ہیں ہم چشموں کی رُسوائی؟
| معانی | الفاظ |
|---|---|
| افسوس | حیف |
| دِلیری، بہادری | جواں مردی |
| برداشت کرنا | گوارا کرنا |
| ہم رُتبہ، دوست | ہم چشم |
| ذلیل کرنا | رُسوا کرنا |
تشریح:
اے سِکندر! افسوس کی بات کہ تُو اپنی اِس بات کو بہادری سمجھ رہا ہے۔ بھلا یہ تو بتا کہ کیا ہم پیشہ آدمیوں کی ذَلّت گوارا کرنا کوئی اچھی بات ہے؟
ترا پیشہ ہے سفّاکی، مرا پیشہ ہے سفّاکی
کہ ہم قزاّق ہیں دونوں، تُو مَیدانی، میں دریائی
| معانی | الفاظ |
|---|---|
| ظلم و سِتم، خونریزی | سفّاکی |
| خُشکی (مُراد ہے زمین پر ظلم کرنے والا) | میدانی |
تشریح:
تُو مجھے کیوں ذلیل کر رہا ہے؟ حالانکہ تیرا پیشہ بھی قتل و غارت ہے اور میرا پیشہ بھی قتل و غارت ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم دونوں ہی لُٹیرے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ تُو میدانوں میں لُوٹ مار کرتا ہے اور میں سمندروں میں لُوٹ مار کرتا ہوں۔ واضح ہو کہ سِکندر بہت بڑا فاتح تھا۔ اُس نے اپنی فتوحات کے دوران بہت سے مُلکوں کو لُوٹا تھا اور بے شمار لوگوں کا خون بہایا تھا۔
تبصرہ
یہ تاریخی مکالمہ دنیا کے نام نہاد ”مہذب“ فاتحین اور جدید مغربی سامراج کی اخلاقی برتری پر تاریخ کا سب سے کاٹ دار طنز ہے۔ سکندر اور قزاق کے مابین اس مکالمے کے ذریعے اقبالؔ نے یہ عیاں کیا کہ بڑی ریاستوں اور سامراجی طاقتوں کی بین الاقوامی مہم جوئیاں محض بڑے پیمانے کی ڈاکہ زنی اور انسانیت کشی ہیں، جنہیں اقتدار کے نشے میں تقدُس کا لبادہ پہنا دیا جاتا ہے۔
حوالہ جات
- شرح ضربِ کلیم از پروفیسر یوسف سلیم چشتی
- شرح ضربِ کلیم از ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی
- شرح ضربِ کلیم از اسرار زیدی
- شرح ضربِ کلیم از عارف بٹالوی







