فہرست
تعارف
نظم ”اہلِ مصر سے“ مجموعۂ کلام ”ضربِ کلیم“ کی ایک پرجوش، سیاسی اور تاریخی بصیرت پر مبنی نظم ہے۔ علامہ اقبال نے مصر کے دورے کے دوران وہاں کے قدیم آثار اور مجسمۂ ابوالہول کے مشاہدے سے حاصل ہونے والے فکری نتائج کو اہلِ مصر کے سامنے رکھا ہے۔
اقبالؔ ابوالہول کی زبان سے یہ تاریخی حقیقت واضح کرتے ہیں کہ قوموں کی تقدیر محض فلسفیانہ دلائل یا دانشوروں کی عقل سے نہیں بدلتی۔ اِس تبدیلی کے لیے ایک ایسی بے باک اور روحانی قوت درکار ہوتی ہے جو باطل کے نظام کو اُلٹ دے۔ یہ وہی طاقت ہے جو ہر دور میں فرعونیت کے خاتمے کے لیے کبھی ”چوبِ کلیمؑ“ بن کر چمکتی ہے اور کبھی ”شمشیرِ محمدؐ“ کی صورت میں نمودار ہوتی ہے۔
نظم کے پیغام اور طاقت کے بنیادی کردار کی تشریح میں پروفیسر یوسف سلیم چشتی بیان کرتے ہیں:-
اِس نظم میں علامہ اقبال نے مسلمانوں کو یہ بتایا ہے کہ کسی نظامِ زندگی کو رائج کرنے کے لیے محض عقل کافی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ قوّت بھی ضروری ہے۔ اگر قوّت نہ ہو تو دستورالعمل یا معاہدہ یا آئین کی قیمت ردّی کے کاغذ کے پُرزہ سے زیادہ نہیں ہوتی۔
پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح ضربِ کلیم
تشریح
خود ابوالہول نے یہ نکتہ سِکھایا مجھ کو
وہ ابوالہول کہ ہے صاحبِ اَسرارِ قدیم

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| قدیم مصری زمانے کا ایک بُت جسے پہاڑ کاٹ کر بنایا گیا۔ | ابو الہول |
| باریک بات | نُکتہ |
| پُرانے بھید جاننے والا / قدیم اسرار و رموز کا مالک | صاحبِ اسرارِ قدیم |
تشریح:
علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ خود ”ابوالہول“ نے، جو کائنات کے قدیم اسرار و رموز سے واقف ہے، یہ نُکتہ مجھے سمجھایا ہے۔
ابو الہول مصر میں واقع ایک 4500 سال قدیم مجسمہ ہے جس کا جسم تو شیر کا ہے مگر سر انسان کا۔ اس کی لمبائی 189 فٹ، اور اونچائی 65 فٹ کے قریب ہے۔ دور سے دیکھیں تو پہاڑ سا نظر آتا ہے۔ یہ مجسمہ تقریباً تین ہزار سال قبل مسیح ایک بڑی چٹان کو تراش کر بنایا گیا تھا۔ اس کے پنجے اور دھڑ شیر کے ہیں اور سر انسان کا۔ امتدادِ زمانہ سے اس کی صورت بگڑ گئی ہے۔ ڈاڑھی اور ناک ٹوٹ چکی ہے اور اس کا وہ پروقار تبسم جس کا ذکر قدیم سیاحوں نے کیا ہے، ناپید ہوچکا ہے۔ اب یہ ایک ہیبت ناک منظر پیش کرتا ہے۔ اسی وجہ سے عربوں نے اس کا نام ”ابوالہول“ یعنی (خوف کا باپ) رکھ دیا ہے۔
ابوالہول (Great Sphinx of Giza) میں انسان اور شیر کی خصوصیات کا امتزاج انسانی فطرت کے دوہرے پن کی علامت ہے۔ یہ مجسمہ ممکنہ طور پر مصر کے حاکِم (فرعون) کی نمائندگی کرتا ہے۔ اِس کا انسانی چہرہ فرعون کی حکمت، اختیار اور قیادت کو مجسّم کرتا ہے۔ شیر کا جسم فرعون کی طاقت، عظمت اور بہادری کا اظہار کرتا ہے اور ایک طاقت ور اور دِلیر رہنما کے طور پر فرعون کے کردار کو اُجاگر کرتا ہے۔

دفعۃً جس سے بدل جاتی ہے تقدیرِ اُمم
ہے وہ قوّت کہ حریف اس کی نہیں عقلِ حکیم

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| اچانک | دفعۃً |
| قوموں کی قسمت | تقدیرِ اُمم |
| مقابلہ کرنے والی، مدِ مقابل | حریف |
| دانا فلسفی کی فکر | عقلِ حکیم |
تشریح:
جس چیز سے قوموں کی تقدیر دفعتاً بدل جاتی ہے وہ بے بہا چیز، قوت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے اور یہ قوّت وہ چیز ہے کہ حکماء کی عقل بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ بقول ایک شاعر کے:-
؏ بیکار ہے سب فسلفہ بندوق کے آگے
علامہ اقبال ”قوّت“ کے متعلق فرماتے ہیں:–
؎ اس سیلِ سبک سیر و زمیں گیر کے آگے
عقل و نظَر و عِلم و ہُنر ہیں خس و خاشاک
(ضربِ کلیم: قوّت اور دین)
نظم ”نبوّت“ میں فرماتے ہیں:–
؎ ”وہ نبوّت ہے مسلماں کے لیے برگِ حِشیش
جس نبوّت میں نہیں قُوّت و شوکت کا پیام“
(ضربِ کلیم: نبوّت)
ایک اور جگہ فرماتے ہیں:–
؎ نہ ہو جلال تو حُسن و جمال بے تاثیر
نرا نفس ہے اگر نغمہ ہو نہ آتش ناک
(ضربِ کلیم: جلال و جمال)
خدا کی صفتِ قوت اپنانے کی تلقین کرتے ہوئے علامہ اقبال Stray Reflections میں بیان فرماتے ہیں:-
Power is more divine than truth. God is power. Be ye, then, like your father who is in heaven.
ترجمہ: قوّت میں سچ سے زیادہ اُلوہیت ہے۔ خدا قوی ہے۔ تُو بھی اپنے اُس خدا کی طرح ہو جا جو آسمانوں میں ہے۔
—Muhammad Iqbal, Stray Reflections (Urdu translation: Mian Sajid Ali)
ہر زمانے میں دِگر گُوں ہے طبیعت اس کی
کبھی شمشیرِ محمدؐ ہے، کبھی چوبِ کِلیمؑ!

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| مختلف، اُلٹ پلٹ | دِگرگُوں |
| حضور اکرم ﷺ کی تلوار، مراد حضور اکرم ﷺ کا لایا ہوا اسلام انقلاب | شمشیرِ محمد ﷺ |
| حضرت موسی علیہ السلام کا عصا | چوبِ کلیمؑ |
تشریح:
اگرچہ قوّت کی صورت اور نوعیّت ہمیشہ بدلتی رہتی ہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں ہو سکتا کہ قوت کی ضرورت ہر زمانہ میں رہی ہے اور رہے گی۔ یہی قوت کبھی حضرت موسیؑ کے عصا کی شکل میں نمودار ہوتی ہے اور کبھی سرکارِ دو عالم ﷺ کی تلوار کی صورت میں نمایاں ہوتی ہے۔
تبصرہ
یہ نظم حق کی نُصرت اور آزادی کے حصول کے لیے عملی قوت کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ اقبالؔ نے واضح کِیا ہے کہ نظریات کی صداقت اپنی جگہ مگر جب تک اُن کی پُشت پر ایمانی شجاعت اور عملی طاقت نہ ہو، وہ دنیا میں غالب نہیں آ سکتے۔ غلامی کی زنجیریں کاٹنے کے لیے اُمت کو دلائل کے ساتھ ساتھ جذبۂ کلیمی اور ایمانی قوت کو اپنانا ہوگا۔
نظامِ حیات کی بقا اور قرآنی تصورِ امر بالمعروف کی تشریح میں پروفیسر یوسف سلیم چشتی بیان کرتے ہیں:-
واضح ہو کہ قوت کے بغیر آپ بہتر سے بہتر نظامِ حیات کو بھی دنیا میں نافذ نہیں کر سکتے۔ اسی لیے قرآن مجید نے جہاں مومنوں کو بہترین اُمت قرار دیا ہے، وہاں اُن کی ایک صفت یہ بھی بیان کی ہے کہ اُن میں نیکی کا حکم دینے کی طاقت ہو گی، اگر یہ طاقت نہ ہو تو پھر مومن، مومن نہیں رہتا بلکہ راہب بن جاتا ہے۔
كُنْتُـمْ خَيْـرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ
ترجمہ: اے مسلمانو! تم بہترین قوم ہو جو انسانوں کی بھلائی کے لیے پیدا کی گئی ہے اور تمہاری خصوصیّت یہ ہے کہ تم بھلائی اور نیکی کا حکم کرتے ہو۔
(القرآن: سورۃ آل عمران: آیت 110)اب یہ بات ایک معولی آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ نیکی کا حکم وہی شخص دے سکتا ہے جس میں حکم دینے کی قوّت ہو۔ حضرت اکبر الہ آبادی نے اسی نکتہ کو اس شعر میں بیان کیا ہے:-
؎ نہ ہو مذہب میں گر زورِ حکومت
تو وہ کیا ہے، نِرا اک فلسفہ ہےمیں نے اِس کا ”فارمولا“ بنایا ہے، جو حسب ذیل ہے:-
حق مع القوۃ: دین
حق بغیر القوۃ: فلسفہ یا تصوّفTruth + Power = Religion
Truth – Power = Philosophyپاکستان کا مطالبہ، اقبالؔ نے سب سے پہلے اور مسلمانانِ ہند نے اُن کی تعلیم سے متاثر ہونے کے بعد 1940ء میں اسی بنیاد اور اسی نُکتہ پر کیا تھا کہ غیر منقسم ہندوستان میں، شرعی نظامِ حیات کے نفاذ کی کوئی صورت ممکن نہیں ہے کیونکہ اس کے لیے طاقت یا قوت کی ضرورت ہے اور قوت تمام تر اکثریّت کے قبضہ میں ہو گی۔ ”کافر“ جناح اِس نُکتہ کو سمجھ گیا ”مومن“ حسین احمد نہ سمجھ سکا۔ شاید اقبالؔ نے اسی بات کو مدِّ نظر رکھ کر یہ کہا تھا:-
؎ حقیقت را بہ رندی فاش کردند
پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح ضربِ کلیم
کہ مُلّا کم شناسد رمزِ دیں را!
ترجمہ: (اس دور میں) مجھ جیسے رِند پر یہ حقیقت فاش کی گئی ہے، کیونکہ مُلّا رازِ دیں سمجھنے سے قاصر ہے۔
(ارمغانِ حجاز (فارسی): حضورِ مِلّت: بہ منزل کوش مانندِ مہِ نو)
حوالہ جات
- شرح ضربِ کلیم از پروفیسر یوسف سلیم چشتی
- شرح ضربِ کلیم از اسرار زیدی






