فہرست
تعارف
نظم ”جلال و جمال“ علامہ اقبال کے مجموعۂ کلام ”ضربِ کلیم“ کا ایک معرکہ آرا کلام ہے جس میں افلاطونی فلسفۂ جمالیات کے مقابلے میں حیدری قوت اور جلال کے تصور کو حیات کا اصل حسن قرار دیا گیا ہے۔
اقبالؔ واضح کرتے ہیں کہ اگر حُسن کے اندر جلال اور طاقت نہ ہو تو وہ بے تاثیر ہو جاتا ہے؛ آسمان ہمیشہ قوت اور جلال کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں، اس لیے مومن کو افلاطون کی تیز عقل کے بجائے حیدری بازو اور شعلہ بار سوز درکار ہے۔
؎ خودی سے مردِ خود آگاہ کا جمال و جلال
کہ یہ کتاب ہے، باقی تمام تفسیریں
(ارمغانِ حجاز)
جلال اور جمال کے باہمی امتزاج کے فلسفے پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-
اِس نظم میں علامہ اقبال نے اس نکتہ کو واضح کِیا ہے کہ اگرچہ انسان کے لیے جلال اور جمال دونوں ضروری ہیں لیکن جلال نہ ہو تو جمال بے تاثیر ہے۔
پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح ضربِ کلیم
تشریح
مرے لیے ہے فقط زورِ حیدری کافی
ترے نصیب فلاطُوں کی تیزیِ ادراک
اے مخاطب! اگر تُو فلسفہ اور حکمت کو بہت وقیع (بلند پایہ، ذی عزت) یا اپنی زندگی کے لیے کافی سمجھتا ہے، تو تیری مرضی تجھے مبارک ہو، لیکن میں تو افلاطون کے فلسفہ پر زورِ حیدری (حیدر: حضرت علیؑ کا لقب) کو ترجیح دیتا ہوں کیونکہ مسلمان کا مقصد باطل کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے اور یہ مقصد فلسفہ سے نہیں بلکہ روحانی طاقت سے حاصل ہوسکتا ہے۔ بالفاظِ دیگر میں تو عقل کے مقابلہ میں عشق کو ترجیح دیتا ہوں (واضح ہو کہ جناب حیدرِ کرار رضی اللہ عنہ میں یہ طاقت عشقِ رسول ﷺ کی بدولت پید ہوئی تھی)۔
مری نظر میں یہی ہے جمال و زیبائی
کہ سر بسجدہ ہیں قُوّت کے سامنے افلاک
میں تو اسی کو حقیقی جمال و زیبائی سمجھتا ہوں کہ مسلمان میں باطل کا مقابلہ پیدا کرنے کے لیے بازو میں طاقت اور دِل میں حوصلہ ہو۔ دیکھ لو! آسمانوں کو اللہ نے اپنی قدرت (قوت) ہی سے تابع فرمان بنا رکھا ہے۔اس مصرع کے دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ قوت کے سامنے کائنات کی بڑی سے بڑی چیز مطیع (فرمانبردار) بن جاتی ہے۔
نہ ہو جلال تو حُسن و جمال بے تاثیر
نرا نفس ہے اگر نغمہ ہو نہ آتش ناک
اگر دبدبہ (جلال) نہ ہو تو حُسن و جمال میں کوئی تاثیر نہیں رہتی۔ اگر انسان میں جلال نہ ہو تو اس کی تقریر کیسی ہی دِلکش کیوں نہ ہو، پھر بھی وہ مخالف کے اندر کوئی تاثیر پیدا نہیں کرسکتی۔ اگر موسیقی میں وہ سوز و حرارت نہ ہو جو سامعین کے دِلوں کو گرمادے تو ایسا نغمہ محض ایک سانس ہے اور موسیقار کے لیے اپنی دِلی سوز و جذبہ سے خالی ہوگا، صحیح معنوں میں نغمہ نہ ہوگا۔
مجھے سزا کے لیے بھی نہیں قبول وہ آگ
کہ جس کا شُعلہ نہ ہو تُند و سرکش و بے باک!
حضرتِ علامہ طوفانوں کے مشتاق ہیں۔ وہ زندگی میں سرکشی و بیباکی کے مدّاح ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں کہ میں تو سزا کے لیے بھی اُس دوزخ میں ڈالا جانا قبول نہ کروں گا جس کی آگ کے شعلے تُند و تیز اور زبردست اور لپکنے والے نہ ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ میں سزا کے لیے بھی وہی آگ پسند کرتا ہوں، جس میں جلال کی شان بھی ظاہر ہو۔
تبصرہ
اقبالؔ کے نزدیک جمالیات کی معراج وہ طاقت اور جلال ہے جو حق کا غلبہ قائم کرے اور باطل کے ایوان ہلا دے۔ حُسن و جمال جب تک ایمانی جلال اور قوت سے عاری ہو بے اثر رہتا ہے، اور راگ و نغمہ اگر باطِل شکن نہ ہو تو وہ محض ایک بے جان سانس سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔
جلال و جمال کی آمیزش کے بغیر انسانی کمالات کے ادھورے رہنے پر تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی رقم طراز ہیں:-
اِس نظم میں اقبالؔ نے اس نکتہ کو واضح کیا ہے کہ اگرچہ انسان کے لیے جلال اور جمال دونوں ضروری ہیں لیکن جلال نہ ہو تو جمال بے تاثیر ہے۔ اس جگہ اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ ہے کہ اقبالؔ کے اس قول کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جمال نہ ہو تو محض جلال، خودی کی تکمیل کے لیے کافی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں اپنی اپنی جگہ بہت ضروری ہیں، اور خودی کی تکمیل اِن دونوں (جلال اور جمال) پر موقوف ہے۔ اگر اِن دونوں میں سے کسی ایک کو بھی زندگی سے خارج کردیا جائے، تو خودی ناقص رہ جائے گی۔ چنانچہ اقبالؔ نے مثنوی ”پس چہ باید کرد“ میں اس کی صراحت کردی ہے:۔
؎ رائے بے قوّت ہمہ مکر و فسوں
قوت بے رائے جہل است و جنوں
ترجمہ: قوت نہ ہو تو رائے مکر و فسوں ہے، اور بغیر رائے کے قوت، جہالت و پاگل پن ہے۔یعنی جمال ہو اور اُس کے ساتھ جلال نہ ہو تو وہ جمال محض مکر و فسوں ہے یعنی بے تاثیر ہے۔ مثلاً آپ کا خیال کیسا ہی اچھا کیوں نہ ہو، لیکن اگر آپ کے پاس طاقت نہیں ہے تو اُس پر کون عمل کرے گا؟ اور طاقت ہو لیکن اس کے ساتھ صحیح خیال نہ ہو تو پھر وہ طاقتور انسان چنگیز بن جاتا ہے یعنی وہ قوت چونکہ اندھی ہوتی ہے اس لیے بنی آدم کی حق میں مصیبت بن جاتی ہے۔ قصۂ مختصر اِس نظم میں اقبالؔ نے صرف ایک پہلو واضح کیا ہے اور جیسا کہ اوپر مذکور ہوا ہے کہ جلال نہ ہو تو جمال بے تاثیر ہے۔ نیز میں اس شرح میں کسی جگہ اس بات کی وضاحت کرچکا ہوں کہ جلال اور جمال کا منبع لا الہ الا اللہ ہے، لا الہ سے جلال اور الا اللہ سے جمال پیدا ہوتا ہے۔
پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح ضربِ کلیم







