Skip to content

ضربِ کلیم 163: غلاموں کے لیے

تعارف

نظم ”غلاموں کے لیے“ مجموعۂ کلام ”ضربِ کلیم“ کی ایک مختصر مگر اکسیر صفت نظم ہے جس میں علامہ اقبال نے مشرق و مغرب کی فکری و تاریخی حکمت کا نچوڑ غلام قوموں کی نجات کے لیے پیش کیا ہے۔

اقبالؔ واضح کرتے ہیں کہ زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو، خواہ وہ دین و شریعت ہو، فلسفہ و دانش، درویشانہ فقر ہو یا بادشاہی و سلطانی— سب کی پائیدار عمارت صرف اور صرف پختہ اور غیر متزلزل عقائد کی بنیاد پر ہی تعمیر ہوتی ہے۔ جس قوم کا ضمیر پُختہ ایمانی ایقان سے خالی ہو جائے، اس کا کلام سوز و تاثیر سے محروم اور اس کا ہر عمل زبوں حالی اور بربادی کی نذر ہو جاتا ہے۔

نظم کے مرکزی خیال پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی تحریر کرتے ہیں:-

اِس نظم میں اقبالؔ نے یہ نُکتہ بیان کِیا ہے کہ اگر کسی غلام کو آزادی حاصل کرنے کی تمنّا ہو تو اِس کی صورت یہ ہے کہ اپنے اندر ”ذوقِ یقین“ پیدا کر لے۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح ضربِ کلیم
سماعت فرمائیے
YouTube video

تشریح

شعر 1

حِکمتِ مشرق و مغرب نے سِکھایا ہے مجھے
ایک نکتہ کہ غلاموں کے لیے ہے اِکسیر

معانیالفاظ
دانائی، فلسفہحِکمت
عقل یا سمجھ کی بات، وہ بات جسے ہر ایک نہ سمجھ سکے، علمی یا فلسفیانہ بات، راز کی باتنُکتہ
وہ مرکّب جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ سستی دھات کو سونے یا چاندی میں تبدیل کر سکتی ہے۔اِکسیر

تشریح:

علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ میں نے مشرق و مغرب کے فلسفہ پر بہت غور و فِکر کیا ہے اور اِس کے نتیجے میں مُجھ پر ایک باریک بات واضح ہوئی ہے جو غلاموں کے لیے اِکسیر کا حُکم رکھتی ہے۔

واضح ہو کہ اِکسیر وہ مرکّب ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ سستی دھات کو سونے یا چاندی میں تبدیل کر سکتی ہے۔ یعنی علامہ فرماتے ہیں کہ جس طرح اکسیر ادنیٰ دھاتوں کو اعلیٰ دھاتوں میں بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے، ٹھیک اُسی طرح یہ نُکتہ غلاموں کی حالت بدلنے میں مفید ہے اور اِس پر عمل سے اُنہیں آزادی جیسی نعمت حاصل ہو سکتی ہے۔

شعر 2

دین ہو، فلسفہ ہو، فَقر ہو، سُلطانی ہو
ہوتے ہیں پُختہ عقائد کی بِنا پر تعمیر

معانیالفاظ
عقیدہ کی جمع ــ عقیدہ سے مُراد ہے کسی چیز کو حق اور سچ جان کر دِل میں مضبوط اور راسخ کر لینا۔عقائد
بُنیادبِنا

تشریح:

اب اقبالؔ اِس راز سے پردہ اُٹھاتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ دین، فلسفہ، فقر و درویشی اور شاہی؛ غرضیکہ زندگی کے ہر شعبہ میں کامیابی کے لیے عقیدہ کی پُختگی بہت ضروری ہے۔

اِس اصل کی روشنی میں اگر غلام قوم کے افراد آزادی کے طالب ہوں تو اُنہیں سب سے پہلے اپنے عقائد کو پُختہ کر لینا چاہیے، یعنی پہلے یہ یقین پیدا کر لینا چاہیے کہ آزادی ہمارا پیدائشی حق ہے اور کسی قوم کو حق حاصل نہیں کہ ہمیں غُلام بنائے، اِس لیے ہم ضرور غلامی کی زنجیریں توڑ کر رہیں گے۔ اِس محکم یقین کے بعد عملِ پیہم کی مدد سے کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔ واضح ہو کہ قرآن مجید نے یقینِ محکم کو ایمان اور عملِ پیہم کو عملِ صالح سے تعبیر کیا ہے۔

؎ یقیں پیدا کر اے ناداں! یقیں سے ہاتھ آتی ہے
وہ درویشی، کہ جس کے سامنے جھُکتی ہے فغفوری

(بالِ جبریل)

شعر 3

حرف اُس قوم کا بے سوز، عمل زار و زبُوں
ہو گیا پُختہ عقائد سے تہی جس کا ضمیر!

معانیالفاظ
جذبوں کی حرارت سے خالیبے سوز
ذلیل و خوار، خستہزار و زبُوں
خالیتہی
دِلضمیر

تشریح:

جس قوم کا دِل پُختہ عقائد سے خالی ہوتا ہے، اُس کی گفتگو میں کسی قسم کی تاثیر (اثر) نہیں ہوتی اور اُس کے اعمال میں کوئی سرگرمی یا طاقت پیدا نہیں ہو سکتی۔ مراد یہ کہ یقینِ محکم کے بغیر غلامی کی زنجیریں نہیں کٹ سکتیں۔ نظم کے تینوں اشعار کا بُنیادی مضمون یہی ہے کہ چاہے زندگی کا کوئی میدان کیوں نہ ہو، یقین اور ایمان کا پُختہ ہونا ضروری ہے۔ اگر کوئی غلام فرد یا غلام قوم بھی اپنے اندر آزادی کا پُختہ یقین پیدا کر لے تو وہ بھی غُلامی سے چھُٹکارا حاصل کر سکتی ہے۔

علامہ طلوعِ اسلام میں فرماتے ہیں:-

؎ یقیں افراد کا سرمایۂ تعمیرِ مِلّت ہے
یہی قوّت ہے جو صورت گرِ تقدیرِ مِلّت ہے

؎ غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

تبصرہ

یہ کلام محکوم قوموں کے لیے حیات بخش نسخۂ شفا ہے۔ اقبالؔ نے ثابت کِیا ہے کہ غلامی محض وسائل کی کمی سے نہیں بلکہ عقیدے اور یقین کے فقدان سے جنم لیتی ہے؛ جب تک کسی قوم کا ضمیر غیر متزلزل ایقان سے معمور نہ ہو، اُس کا دین، فلسفہ، فقر اور سیاست سب بے اثر رہتے ہیں، کیونکہ عمل کی تمام تر قوت پختہ عقائد ہی سے پھوٹتی ہے۔

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *