فہرست
تعارف
نظم ”فراق“ مجموعۂ کلام ”بانگِ درا“ کے دوسرے دور (قیامِ یورپ) کی ایک نہایت پُرسوز، جذباتی اور شاہکار نظم ہے۔ اِس کلام میں علامہ اقبال نے کوہسار کے دامن میں تنہائی اور جُدائی کے درد کو قدرتی مناظر کے ساتھ ہم آہنگ کر کے پیش کیا ہے۔ یہ کلام جُدائی کے احساس کی دلکش تصویر کشی ہے، جہاں فکر کی بلندی اور شاعری کا اعلیٰ معیار پوری آب و تاب سے جھلکتا ہے۔
بند نمبر 1
تلاشِ گوشۂ عُزلت میں پھر رہا ہُوں مَیں
یہاں پہاڑ کے دامن میں آ چھُپا ہوں مَیں

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| تنہائی کا گوشہ | گوشۂ عُزلت |
| وادی | دامن |
تشریح:
محبوب کی جدائی نے مجھے سرگرداں بنا دیا ہے اور دُنیا کی دلچسپیوں سے بیزار ہو گیا ہوں۔ میری بے چینی اور اضطراب کا یہ عالم ہے کہ ایسے مقام کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہوں جہاں تنہائی میسر آسکے۔ چنانچہ اسی تلاش کے سبب پہاڑ کے دامن میں گوشہ گیر ہو گیا ہوں۔
شکستہ گیت میں چشموں کے دلبری ہے کمال
دُعائے طفلکِ گفتار آزما کی مثال

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| ٹوٹے پھوٹے گیت | شِکستہ گیت |
| خوب صورتی، رعنائی | دِلبری |
| بہت زیادہ | کمال |
| بچہ | طِفل |
| بول چال، گفتگو، کلام | گُفتار |
| مانند | مثال |
| چھوٹا بچہ جو ابھی بولنا سیکھ رہا ہو | طفلگِ گُفتار آزما |
تشریح:
یہاں پہاڑی چشموں کی آوازوں میں، جو وقفوں کے بعد پیدا ہوتی ہیں، بڑی دِلکشی پائی جاتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے کوئی بچہ اپنے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں دُعا مانگ رہا ہے (چھوٹے بچے کی توتلی زبان بہت دلکش ہوتی ہے اور اُس کے پاس بیٹھے ہوؤں کے دل موہ لیتی ہے)۔
ہے تختِ لعلِ شفَق پر جلوسِ اخترِ شام
بہشتِ دیدۂ بینا ہے حُسنِ منظرِ شام

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| شفق کے لعل کا تخت، شفق کی سُرخی | تختِ لعلِ شفق |
| طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب کے وقت آسمان پر چھانے والی سُرخی | شفق |
| مراد تخت پر بیٹھنا، جلوہپ افروز ہونا | جلوس |
| ستارہ | اختر |
| حقیقت بیں آنکھ کی جنت، حقیقت بیں آنکھ کو لُبھانے والا منظر | بہشتِ دیدۂ بینا |
| شام کے وقت کا منظر | حُسنِ منظرِ شام |
تشریح:
شام کا وقت ہے اور غروبِ آفتاب کے سبب جو شفق (طلوع اور غروبِ آفتاب کے وقت آسمان پر پھیلنے والی سُرخی) پھُوٹی ہے اس کے پس منظر میں شام کا ستارہ اپنی پناہ گاہ سے برآمد ہو رہا ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ خوبصورت منطر بہِشت کے مناظر کی طرح حُسن و جمال سے ہم آہنگ ہے۔
سکُوتِ شامِ جُدائی ہُوا بہانہ مجھے
کسی کی یاد نے سِکھلا دیا ترانہ مجھے

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| خاموشی | سکُوت |
| محبوب سے دُوری کی شام | شامِ جدائی |
| گانا / گیت سِکھانا | ترانہ سِکھانا |
تشریح:
ہجر اور فرقت کی شام کی خاموشی میرے لیے بہانہ ثابت ہوئی اور محبوب کی یاد نے مجھے نغمے گانے پر مائل کر دیا۔
بند نمبر 2
یہ کیفیت ہے مری جانِ ناشکیبا کی
مری مثال ہے طفلِ صغیرِ تنہا کی

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| حالت | کیفیت |
| بے قرار و بے چین دِل، بے صبر دِل | جانِ ناشکیبا |
| چھوٹا بچہ | طفلِ صغیر |
تشریح:
میری بے قرار جان کی حالت و کیفیت ایک ننھے مُنے بچے کی سی ہے جو تنہا بیٹھا ہو۔ اُس بچے پر عجب کیفیت طاری ہوتی ہے۔ کبھی وہ رونے لگتا ہے اور کبھی خود ہی خاموش ہو جاتا یا مسکرانے لگتا ہے (شاعر کا خود کو ایک بچے سے تشبیہ دینا اُس کی معصومیت کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے)۔
اندھیری رات میں کرتا ہے وہ سرود آغاز
صدا کو اپنی سمجھتا ہے غیر کی آواز

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| راگ گانا | سُرود |
| شروع | آغاز |
| آواز | صدا |
تشریح:
وہ ننھا بچہ اندھیری رات میں گیت کا آغاز کرتا ہے‘ یعنی اپنی پیاری زبان بولنے لگتا ہے اور اپنی آواز کو اپنی آواز سمجھنے کی بجائے کسی دوسرے کی آواز سمجھتا ہے اور اس طرح اپنے آپ کو فریب میں مبتلا کر دیتا ہے کہ اُس کا کوئی غمگُسار اُس کے پاس موجود ہے جو اُسے لوری دے رہا ہے یا دِل بہلا رہا ہے۔
یونہی میں دل کو پیامِ شکیب دیتا ہوں
شبِ فراق کو گویا فریب دیتا ہوں

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| صبر کا پیغام، صبر کی تلقین | پیامِ شکیب |
| جُدائی کی رات | شبِ فراق |
| جیسے، جیسا کہ | گویا |
| دھوکا | فریب |
تشریح:
میں بھی اُس چھوٹے بچے کی طرح اپنے دل کو مطمئن کرنے کی کوشش کر رہا ہوں اور یوں نغمے گا گا کر اپنی شبِ فراق کو فریب دینے کی کوشش میں مصروف ہوں۔ گویا عاشق اور شبِ ہجر میں صبر و قرار سے رہے؟ یہ ناممکن ہے۔ لہذا دل کو مذکورہ پیام دینا شبِ فراق کو فریب دینے کی مانند ہے۔
محبوب سے جدائی اور فراق کی گھڑیاں ایک عاشق کے لیے اس قدر کرب آمیز ہوتی ہیں کہ تمام ہنگامہ ہاؤ کو ترک کر کے کوئی ایسا گوشۂ تنہائی تلاش کرتا ہے جہاں فراق کے اس کرب سے نجات حاصل ہو سکے۔ وہاں وہ اپنی دھُن میں اسی طرح ہجر و فراق کے نغمے گا کر خود کو اس طرح سے فریب دیتا ہے جیسے ننھا بچہ اپنی غوں غاں کو دوسروں کی آواز جان کر خوش ہوتا ہے
نسیم امروہوی فرہنگِ اقبالؔ میں لکھتے ہیں کہ اِس نظم میں وہی کیفیت ہے جو مومنؔ کے درج ذیل شعر میں ہے:-
؎ تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
تبصرہ
یہ نظم فراق کی کیفیت اور انسانی تنہائی کا ایک پُرتاثیر نفسیاتی مرقع ہے۔ اقبالؔ نے بیرونی دنیا کے پرسکون مناظر اور باطنی غم کے تضاد کو غیر معمولی نفاست سے بیان کیا ہے۔ اپنے ہی نغموں کے سہارے تنہائی کا بوجھ برداشت کرنا اور دل کو بہلانا اُن کے انتہائی حساس دل کی ترجمانی کرتا ہے۔








خوبصورت انداز ! جو لکھا گیا اور جو تشریح کی گئی ۔
جزاک اللہ خیر
شکوہ کی تشریح نہیں ہے ؟؟
جی نہیں