فہرست
تعارف
نظم ”محبّت“ مجموعۂ کلام ”بالِ جبریل“ کا ایک بلند پایہ، خوددارانہ اور قلندرانہ کلام ہے، جس میں علامہ اقبال نے محبت اور عشق کو خوشامد، غلامی اور رسمی مذہبیت سے الگ کر کے خالص ”آزادی اور بے نیازی“ کے روپ میں پیش کِیا ہے۔
اقبالؔ فرماتے ہیں کہ ”شہیدِ محبت“ کفر و اسلام کی روایتی کشمکش اور ترکی و عربی تعصبات سے ماورا ہوتا ہے۔ وہ دوٹوک اعلان کرتے ہیں کہ جو جذبہ محمودِ غزنوی کو ایاز کی چاپلوسی اور غلامی سکھائے وہ محبت نہیں بلکہ کوئی اور پست شے ہے؛ محبت تو نہ سلطان کی محتاج ہوتی ہے اور نہ اُس کے دبدبے سے مرعوب۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ اگر محبت کا جوہر نہ ہو تو تمام علم و حکمت محض بے مصرف شیشہ بازی ہے، اور مومن کا فقر اسکندر کے تاج و تخت سے اس لیے برتر ہے کہ اسکندری محض آئینے بناتی ہے جبکہ فقر انسان کی تعمیر (آدم گری) کرتا ہے۔
محبت کے جذبے اور اقبالؔ کے تصورِ عشق پر روشنی ڈالتے ہوئے اسرار زیدی تحریر کرتے ہیں:-
اسرار زیدی، شرح بالِ جبریل
تشریح
شہیدِ محبّت نہ کافر نہ غازی
محبّت کی رسمیں نہ تُرکی نہ تازی
اس مختصر مگر بغایت دلکش نظم میں اقبالؔ نے محبت کی خصوصیات بہت سلیس انداز میں بیان کی ہیں۔
محبت کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ محبت کا جذبہ عملاً تمام حدود سے متجاوز نظر آتا ہے۔ مذہب، قوم، ملک، نسل، فرقہ بندی اور دوسرے عوامل سے محبت بے نیاز رہی ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی محبت میں فنا ہو جاتا ہے وہ ہر قسم کے مذہبی تعصّبات سے بالاتر ہو جاتا ہے، اس لیے وہ کافر اور مسلم دونوں کے ساتھ محبت کا برتاؤ کرتا ہے۔ اس جذبے میں نہ عقیدہ کو دخل ہے، نہ کوئی روایت اور رسم اس کی پاسداری کرتی ہے۔ علامہ اقبال جاوید نامہ میں لِکھتے ہیں:-
؎ حرفِ بد را بر لب آوردن خطاست
کافر و مومن ہمہ خلق خداست
ترجمہ: زبان پر بری بات لانا خطا ہے؛ کافر ہو یا مومن سب اللہ تعالے کی مخلوق ہیں۔
؎ بندۂ عشق از خدا گیرد طریق
می شود بر کافر و مومن شفیق
ترجمہ: بندۂ عشق اللہ تعالے کا راستہ اختیار کرتے ہوئے کافر و مومن دونوں پر شفیق ہے۔
؎ کفر و دیں را گیر در پہنای دل
دل اگر بگریزد از دل واے دل
ترجمہ: کفر و دین کو دل کی گہرائی میں رکھ، ایسے دل پر افسوس ہے جو دوسرے دل سے گریز کرے۔
(جاوید نامہ: خطاب بہ جاوید سخنی بہ نژاد نو)
محبت کسی قوم یا مُلک سے مختص نہیں ہے، یہ ایک عالمگیر یا آفاقی جذبہ ہے جو ہر قسم کی نسلی، قومی، لسانی، وطنی اور جغرافیائی حدود سے بالا تر ہے۔ محبت کے عمل میں قربانی دینے والا نہ تو شہید ہوتا ہے، نہ ہی اُسے کافر اور غازی جیسے خطابات سے نوازا جا سکتا ہے، نہ ہی کسی نسلی بنیاد پر اُس کی شناخت ممکن ہے۔ محبت مخصوص قوموں یا مُلکوں سے ماورا ہے۔ ہر انسان سے محبت کرنا یعنی انسان دوستی ہی انسانیت ہے۔
وہ کچھ اور شے ہے، محبّت نہیں ہے
سِکھاتی ہے جو غزنوی کو ایازی
دوسری خصوصیت یہ ہے کہ محبت مادیّات یا فانی اشیاء سے متعلق نہیں ہوتی۔ مولانا روم فرماتے ہیں کہ محبت صرف اُس ہستی سے کرنی چاہیے جسے کبھی موت نہ آئے اور وہ ذات صرف اللہ کی ہے۔ محبت صرف اللہ سے ہو اور اللہ کے لیے ہو۔
چنانچہ محمود غزنوی اور اُس کے پسندیدہ غلام ایّاز کے مابین جو رِشتہ تھا، اُسے جذبۂ محبّت سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ اِس تعلق کو اقبالؔ کے نقطۂ نظر کی روشنی میں واضح کیا جائے تو بات جنس پرستی اور نفس پرستی تک جا پہنچتی ہے۔
یہ جوہر اگر کار فرما نہیں ہے
تو ہیں علم و حکمت فقط شیشہ بازی
محبت کی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ اِسی کی بدولت فلسفہ و سائنس بنی آدم کے حق میں مفید ثابت ہو سکتے ہیں، چنانچہ جو قوم اس نعمتِ کُبریٰ (محبت) سے محروم ہے وہ اپنے علوم و فنون سے بنی آدم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی بلکہ اِن کو سراسر عیّاری اور فریب کاری کے لیے استعمال کرے گی۔
علِم و حکمت انسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہے اور یہ اُسی صورت ممکن ہے جب وہ مادّی ترقّی کے ساتھ ساتھ اخلاقی اور مخلصانہ جذبوں کے بھی حامل ہوں، بصورتِ دیگر یہ انسانی تباہی کا سامان ہیں جیسا کہ یورپ کے سائنسدانون نے اِسی علم سے خطرناک قسم کے جنگی ہتھیار، بم، پھر ایٹم بم وغیرہ ایجاد کر کے اللہ کی بے پناہ مخلوق کی تباہی کا سامان کیا، اِس لحاظ سے یہ علم و حکمت سراسر فریب کاری ہی کہلائیں گے۔
مراد یہ ہے کہ علم و حکمت عملاً انسانی بہبود و ترقّی کے ساتھ شعور و دانِش سے ہم آہنگ ہیں۔ تاہم یہ اُسی وقت فروغ پا سکتے ہیں جب یہ محبت کے جوہر سے آراستہ ہوں، اِس کے بغیر علم و حکمت بے معنی شے ہے۔
نہ محتاجِ سُلطاں، نہ مرعوبِ سُلطاں
محبّت ہے آزادی و بے نیازی
محبت کی چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ عاشق نہ کسی دنیاوی بادشاہ کا دست نِگر (محتاج) ہوتا ہے، نہ اُس سے خوف کھاتا ہے اور نہ ہی اُس کا پابند ہوتا ہے یعنی محبت انسان کو آزادی (حُریتِ نفس) اور بے نیازی کی دولت سے مالامال کر دیتی ہے۔ واضح ہو کہ یہ دو خوبیاں انسان کے اندر صرف محبتِ الٰہی کی بدولت پیدا ہو سکتی ہیں اور کوئی صورت نہیں ہے۔ چنانچہ دیکھ لیجیے کہ دنیاوی بادشاہ اور حکمران دونوں پابندِ غیر بھی ہیں اور محتاج بھی۔ مثلاً اگر ایڈوِرڈ ہشتم (سابق شاہِ انگلستان) آزاد ہوتا تو وہ اپنی مرضی کے مطابق شادی کر سکتا تھا لیکن دنیا جانتی ہے کہ جب تک وہ تخت و تاج سے بکُلّی دست بردار نہیں ہوا، مِس والس سِمپسن ایک مطلقہ خاتون سے نکاح نہ کر سکا۔ اقبالؔ نے اِس واقعہ سے متاثر ہو کر ایک نظم لکھی جو ارمغانِ حجاز میں ”معزول شہنشاہ“ کے عنوان سے اسرارِ ملوکیّت واضح کر رہی ہے، اُس کا ایک شعر درج ہے:-
؎ ’شاہ‘ ہے برطانوی مندر میں اِک مٹّی کا بُت
جس کو کر سکتے ہیں، جب چاہیں پُجاری پاش پاش
(ارمغانِ حجاز: معزول شہنشاہ)
اب رہی احتیاج (محتاجی) کی بات تو ہر عقلمند آدمی جانتا ہے کہ ہر بادشاہ مجلسِ وزراء اور مجلسِ عوام کی خوشنودی کا ہر لحظہ محتاج ہے۔ اگر عوام اپنے بادشاہ سے بدظن ہوجائیں تو آخرکار اُسے دست بردار ہو کر اپنی بے کیف زندگی کے باقی ماندہ ایّام رومؔ کے کسی ہوٹل میں بسر کرنے پڑیں گے (اشارہ ہے سابق شاہِ افغانستان امیر امان اللہ خاں٭ کی طرف)۔
٭امیر امان اللہ خان: افغانستان میں سیاسی اور ثقافتی انقلاب برپا کرنا چاہتا تھا جس کے لیے اُس نے یورپ کے مختلف ممالک کا دورہ کیا اور وہاں کے جدید کلچر سے اس قدر متاثر ہوا کہ یورپی ثقافت کو افغانستان میں طاقت کے زور پر رائج کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اُس نے اس ثقافتی انقلاب کا آغاز کیا جسے 1928ء کا ’’انقلابِ افغانستان‘‘ کہا جاتا ہے اور اس کی شروعات جن اصلاحات سے ہوئی ان میں مردوں کے لیے مغربی لباس کے استعمال کی پابندی، ایک سے زیادہ نکاح کی قانونی ممانعت اور پردہ کے قانونی خاتمہ کے قوانین شامل تھے جن کے لیے محلوں میں نگران مقرر کیے گئے کہ کوئی عورت برقع پہن کر گھر سے باہر نہ نکلے۔ اور سڑکوں پر پولیس کھڑی کر دی گئی جو ہر اس گزرنے والے سے جرمانہ وصول کرتی تھی جس نے یورپی لباس نہ پہن رکھا ہو۔ ادھر گھر کی حالت یہ تھی کہ عزیز ہندی کے بقول ایک روز کسی خادمہ سے قرآن کریم کے کچھ اوراق گر گئے جو اس نے اٹھا کر چومنا شروع کر دیے تو بادشاہ کی بیگم نے اُسے ٹوکا کہ یہ کیا کر رہی ہو؟ اس نے کہا کہ یہ کلام پاک ہے۔ اِس پر بادشاہ کی بیگم نے کہا کہ اس سے بڑھ کر بھی کتابیں لکھی جائیں گی اس لیے ان عقائد کو تہ کر کے رکھ دو اور آدمیت سیکھو۔ (ویکی پیڈیا)
مِرا فقر بہتر ہے اسکندری سے
یہ آدم گری ہے، وہ آئینہ سازی
اِن خصوصیات کی تفصیل کے بعد اقبالؔ یہ نکتہ بیان کرتے ہیں کہ مومن کی شانِ فقر (بوریا نشینی) دبدبۂ اسکندری (ملوکیّت) سے بدرجہا بہتر ہے کیونکہ بادشاہ کا مُنتہائے مقصود مادی عروج یا ظاہری شان و شوکت ہے لیکن فقر میں مخلوق کی بہتری اور اس کی تربیّت کا جذبہ مضمر ہے۔ فقر (مومن) تو اپنی نگاہ کی بدولت آدمیوں کو انسان بنا دیتا ہے، یعنی خدا سے مِلا دیتا ہے۔ بقول غالبؔ:-
؎ بس کہ دُشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
آئینہ سازی: اِس لفظ میں صنعتِ ایہام٭ ہے۔ اِس کے دو معنی ہیں۔ ایک معنی یہ ہے کہ آئینہ بنانا ایک ظاہری اور مادّی ہنر ہے، جو آدم گری، یعنی انسان کی باطنی تعمیر اور کردار سازی، کے مقابلے میں ادنیٰ ہے۔ دوسرے معنی اسکندر سے تعلق رکھتے ہیں۔ روایت ہے کہ ارسطوؔ نے اسکندرِ رومی کے لیے ایک آئینہ بنایا جو اسکندریہ کے بلند مینار کی چوٹی پر نصب تھا، اور اس میں دُور سے آتے ہوئے دشمنوں کے جہاز نظر آجاتے تھے۔ یوں اسکندر کی عظمت اس کی فوجی اور سیاسی طاقت پر قائم تھی، اور یہ آئینہ اِسی ظاہری طاقت کی علامت ہے، کیونکہ وہ صرف باہر کے دشمن دکھاتا ہے، اندر کے انسان کو نہیں بدلتا۔ اِس کے برعکس فقر ”انسان“ کی تعمیر کرتا ہے۔ خلاصۂ کلام یہ کہ شانِ فقر، شانِ ملوکیّت سے برتر ہے۔
٭صنعتِ ایہام: صنعتِ ایہام یہ ہے کہ شعر یا کلام میں ایسا ذو معنی لفظ استعمال کیا جائے جس کے دو مفہوم ہوں، ایک قریب اور دوسرا بعید، اور شاعر کی مراد عموماً بعید معنی سے ہوتی ہے۔
تبصرہ
یہ نظم روایتی مجاز اور صوفیانہ گداگری کے برعکس اقبالؔ کے فلسفۂ عشق و خودداری کا روشن ترین مینار ہے۔ علامہ نے یہ ابدی سچائی واضح کی ہے کہ سچی محبت انسان کو کمزور، چاپلوس یا مرعوب نہیں بناتی بلکہ اُس کے اندر استغنا، غیرت اور حاکمانہ بے نیازی پیدا کرتی ہے؛ یہ وہی جوہر ہے جو علم کو شیشہ گری کی بازی گری سے نکال کر تخلیقِ انسانیت کے شرف پر فائز کرتا ہے اور فقرِ قلندر کو اسکندر کے تخت پر فوقیت بخشتا ہے۔
حوالہ جات
- شرح بالِ جبریل از پروفیسر یوسف سلیم چشتی
- شرح بالِ جبریل از ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی
- شرح بالِ جبریل از اسرار زیدی






