Skip to content

بالِ جبریل 139: ایک نوجوان کے نام

تعارف

نظم ”ایک نوجوان کے نام“ علامہ اقبال کے مجموعۂ کلام ”بالِ جبریل“ کی ایک ولولہ انگیز اور فکری نظم ہے جس میں شاعر نے جدید دور کے مسلم نوجوان کو آرام طلبی اور عیش کوشی سے نکل کر خودداری، استغنا اور شاہینی صفات اپنانے کا پیام دیا ہے۔

اقبالؔ مغرب اور ایران کے تعیشات (افرنگی صوفوں اور ایرانی قالینوں) میں گھِری نوجوان نسل کی ’تن آسانی‘ پر دردمندی سے خون کے آنسو روتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ امارت و خسروی بے معنی ہے اگر کردار میں ’زورِ حیدری‘ اور ’استغنائے سلمانی‘ موجود نہ ہو۔ وہ نوجوان کو جدید تہذیب کے فریب سے نکلنے، نومیدی کو جھٹک کر عقابی روح بیدار کرنے، اور قصرِ سلطانی کے گنبدوں کی آسائشوں کے بجائے پہاڑوں کی سخت چٹانوں پر شاہین کی مانند خوددارانہ بسیرا کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔

مسلم نوجوان کی تربیت اور اقبالؔ کے فکری خطاب کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

ممکن ہے کہ یہ اِس نظم میں علامہ اقبال مرحوم نے کسی خاص نوجوان کو مخاطب کیا ہو لیکن جس حکیمانہ نُکتہ کہ اُنہوں نے تبلیغ کی ہے اس سے پوری قوم مستفید ہو سکتی ہے۔ اقبالؔ مسلمان نوجوان کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ:-

؏ پایا میں نے اِستغنا میں معراجِ مسلمانی

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بالِ جبریل

اسلامی زندگی کے کمالات اور شاہین کی صفات اپنانے کی ضرورت واضح کرتے ہوئے ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی تحریر کرتے ہیں:-

اِس نظم میں یہ نُکتہ واضح کیا گیا ہے کہ مسلم قوم کو اسلامی زندگی کے کمال کا آخری درجہ مغربی علوم و فنون کے حصول یا تہذیبِ فرنگ کے رنگ میں رنگے جانے سے نہیں بلکہ اِستغنا یعنی بے نیازی سے حاصل ہو سکتا ہے، نیز نئی نسل کے نوجوانوں کو تن آساں نہیں بلکہ جفاکَش ہونا چاہیے۔ نوجوانوں کو بادشاہوں اور حاکموں کا دست پروردہ نہیں ہونا چاہیے اور اُنہیں چاہیے کہ نااُمیدی کو پاس بھی پھٹکنے نہ دیں۔

ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی، شرح بالِ جبریل
سماعت فرمائیے
YouTube video

بند نمبر 1

شعر 1

ترے صوفے ہیں افرنگی، ترے قالیں ہیں ایرانیِ
لہُو مجھ کو رُلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی

معانیالفاظ
فرنیچر کی ایک قسمصوفے
مغربی یعنی یورپیافرنگی
خون کے آنسو رونا، بہت دُکھ ہونالہُو رُلانا
آرام پسندی، آرام طلبی، عیش پسندیتن آسانی

تشریح:

اے نوجوان! ہر چند کہ تیرے ایوانِ راحت میں عیش و عشرت کے تمام لوازمات یکجا نظر آتے ہیں۔ تُو نے یورپی انداز کے صوفے رکھے ہیں اور تیرے قالین ایرانی ہیں۔ اپنی ملت کے نوجوانوں کی یہ آرام طلبی مجھے خون کے آنسو رُلاتی ہے۔ صوفے اور قالین اپنی عیش طلبی کی اور امیری کی ٹھاٹھ دکھانے کی علامت ہے۔ علامہ اپنے نوجوانوں کو بے حد محنتی اور جفا کش دیکھنے کے خواہش مند ہیں، جب وہ انہیں آرام طلب اور عیش پسند دیکھتے ہیں تو اُنہیں دُکھ ہوتا ہے، کیونکہ ایسے نوجوانوں سے عظیم کارناموں کی توقع ممکن نہیں۔

شعر 2

امارت کیا، شکوہِ خسروی بھی ہو تو کیا حاصل
نہ زورِ حیدری تجھ میں، نہ استغنائے سلمانی

معانیالفاظ
امیری۔ مراد سرداری، دولت مندیامارت
بادشاہ خسرو پرویز جیسی شان و شوکتشکوہِ خسروَی
کیا فائدہ، کُچھ فائدہ نہیںکیا حاصل
حضرت علی المرتضیٰؓ کا سا زور اور طاقتزورِ حیدری
حضرت سلمان فارسیؓ کی سی بے نیازیاِستغنائے سلمانی
بے نیازی، دِل کی سیری، ہر قسم کی احتیاج سے بے پرواہیاِستغنا

تشریح:

تُو بیشک بڑا دولت مند سہی، لیکن اس کا کیا فائدہ؟ اگر تجھے خسروی شان و شوکت بھی حاصل ہو تو اس سے تجھے کیا ملے گا؟ اس لیے کہ تجھ میں نہ تو حضرت علیؓ کا سا زور ہے کہ تُو باطل قوتوں سے ٹکرا سکے اور نہ تجھ میں حضرت سلمانؓ کی سی بے نیازی و درویشی ہے کہ تُو خود کو مادی فوائد کی الجھنوں سے آزاد رکھے، جبکہ ایک مسلم نوجوان کے لیے زور و استغنا بنیادی ضرورتیں ہیں تاکہ اس کی زندگی صحیح معنوں میں اسلامی تعلیم کی حامل بن جائے۔

اِستغنا: واضح ہو کہ اِستغنا کے لفظی معنی ہیں بے نیازی۔ استغنا سے اقبال کی مراد ہے بے نیازی کا رنگ یعنی مسلمان اللہ کے سوا کسی سے کوئی توقع نہیں رکھتا، یہی مومن کی پہچان ہے۔

شعر 3

نہ ڈھُونڈ اس چیز کو تہذیبِ حاضر کی تجلّی میں
کہ پایا مَیں نے استغنا میں معراجِ مسلمانی

معانیالفاظ
جدید تہذیب جو مغربی تہذیب سے متاثر ہےتہذیبِ حاضر
جلوہ، روشنی۔ مراد جھلکتجلّی
بے نیازی، دِل کی سیری، ہر قسم کی احتیاج سے بے پرواہیاِستغنا
مسلمان ہونے کی اِنتہائی بلندیمعراجِ مسلمانی

تشریح:

تُو بے نیازی (استغنا) کو مغربی علوم اور مغربی تہذیب میں تلاش نہ کر، اس لیے کہ یہ تہذیب تو سراسر دنیوی ومادی فائدوں کے چکر میں الجھی رہتی ہے، اس کی ساری توجہ ان فوائد کی طرف ہے، جبکہ مجھے استغنا (بے نیازی) میں اسلام کی عظمت و سربلندی نظر آئی ہے۔ یعنی اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ ہر کام کو ایک طرح سے عبادت سمجھ کر کیا جائے اور یہ عبادت دنیاوی فوائد کی حرص و حوس سے پاک ہو۔

؎ کہاں سے تُو نے اے اقبالؔ سیکھی ہے یہ درویشی
کہ چرچا پادشاہوں میں ہے تیری بے نیازی کا

(بالِ جبریل)

بند نمبر 2

شعر 4

عقابی رُوح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے اس کو اپنی منزل آسمانوں میں

معنیلفظ
مراد عقاب کی طرح بلندیوں پر اُڑنے کا جذبہ، بلند پروازی کی روحعقابی روح

تشریح:

جب نوجوانوں میں عقابی روح پیدا ہو جاتی ہے، اُن میں عزم و ارادہ اور ہمت پیدا ہو جاتا ہے تو انہیں اپنی منزل آسمانوں میں نظر آتی ہے یعنی عظمت و بلند مرتبگی کو اپنا نصب العین بنا کر جہد و عمل میں لگ جاتے ہیں اور اسی محنت اور جہد و عمل سے ایک دِن وہ اپنی منزلِ مقصود تک پہنچ جاتے ہیں۔

شعر 5

نہ ہو نومید، نومیدی زوالِ علم و عرفاں ہے
اُمیدِ مردِ مومن ہے خدا کے راز دانوں میں

معانیالفاظ
مایوسی، نااُمیدینومیدی
پستیزوال
پہچان، تمیزعرفان
قرآن کا علم اور اللہ کی پہچان، دماغ اور دِل کے جوہرعلم و عرفان
مردِ مومن کی اُمیداُمیدِ مردِ مومن
راز جاننے والا، بھیدوں سے واقفرازداں

تشریح:

اِس نُکتہ کو واضح کرنے کے بعد کہ اِستغنا معراجِ مسلمانی ہے، اقبالؔ قوم کو یقین پیدا کرنے کی دعوت دیتے ہیں یعنی اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ نا امیدی تو انسان کو انجام کار کافر بنا دیتی ہے چنانچہ قرآن مجید فرماتا ہے:-

ترجمہ: اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو
(القرآن: سورۃ الزمر: آیت نمبر 53)

یہ شعر جس میں اقبالؔ نے قوم کو امید (یقین) کا پیغام دیا ہے، اسلامی زاویۂ نگاہ سے بالِ جبریل کے چند بہترین اشعار میں سے ہے جن کے ہر لفظ سے خود اقبالؔ مرحوم کی اسلام دوستی عیاں ہوتی ہے اور میرا عقیدہ یہ ہے کہ اسی ایمان و ایقان کا یہ کرشمہ ہے کہ جس طرح زندگی میں اُن کے یہاں ملاقاتیوں کا تانتا بندھا رہتا تھا، مرنے کے بعد بھی اُن کی تُربت جو جامعہ عالمگیری کے سایہ میں ہے، زیارت گاہِ خاص و عام بنی ہوئی ہے۔ شاید اسی بنا پر انہوں نے خود یہ پیش گوئی کی تھی:-

؎ زیارت گاہ اہل عزم و ہمت ہے لحد میری
کہ خاک راہ کو میں نے بتایا رازِ الوندی

(بالِ جبریل)

وہ رازِ الوندی اس کے سوا کیا ہے کہ اے مسلمان! سرکارِ دو عالم ﷺ کی غلامی اختیار کر کے دنیا پر حکمراں ہو جا۔

اِس شعر اقبالؔ کہتے ہیں کہ اے مسلماں! اگر تُو رحمتِ ایزدی سے مایوس ہو جائے گا تو تجھ کو علمِ قرآن اورمعرفتِ الہی، یہ دو نعمتیں کبھی حاصل نہیں ہو سکیں گی اور اربابِ عقل اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ان کے بغیر کوئی انسان حیوانیت کی سرحد عبور نہیں کر سکتا۔ جو شے انسان کو فرس و حمار (گھوڑے اور گدھے، مراد ہے حیوانات) سے متمیز کرتی ہے وہ علم و عرفان ہی تو ہے نہ کہ خواب و خورش (سونا اور کھانا) یا تزویج و تولید (شادی و پیدائش)۔

شعر 6

نہیں تیرا نشیمن قصرِ سُلطانی کے گُنبد پر
تو شاہیں ہے، بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

معانیالفاظ
گھونسلا، ٹھِکانانشیمن
شاہی محلقصرِ سُلطانی
مُدوِّر چھت جو عموماً مساجد و مقابر میں بنی ہوتی ہے، بُرج نُما چھت، اُبھرواں چھتگُنبد
رہنابسیرا کرنا

تشریح:

اے مسلمان! تیرا ٹھکانا شاہی محل کے گنبد پر نہیں ہے۔ تُو شاہین ہے لہذا تُو پہاڑوں کی چٹانوں میں اپنی زندگی گزار، یعنی عیش پسندی اور آرام طلبی کی بجائے محنت و جفاکشی اور جہد و عمل کو اپنی زندگی کا وطیرہ بنا لے۔ اقبالؔ مسلمان نوجوانوں کو یہ نصیحت کرتے ہیں کہ اگر تُو اپنے اندر شانِ استغنا پیدا کرنا چاہتا ہے تو بادشاہوں کی غلامی اختیار کرنے کی بجائے اپنا رزق اپنی قوتِ بازو سے حاصل کر۔

تبصرہ

یہ نظم مسلم نوجوانوں کے لیے آرام پسندی اور غلامانہ ذہنیت کے خلاف بیداری کا ایک پُرجوش تازیانہ ہے۔ علامہ اقبال نے واضح کیا ہے کہ مومن کی اصل معراج مادی آسائشوں یا شاہی محلات کے درباری تعیشات میں نہیں، بلکہ اِستغنا، درویشانہ بے نیازی اور حیدری شجاعت میں پوشیدہ ہے۔ شاہین کی مانند قصرِ سلطانی کے گنبدوں کو ٹھکرا کر سخت چٹانوں میں بسیرا کرنا ہی وہ عقابی روح ہے جو نوجوانوں کو مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر بلندیوں کا امین بناتی ہے۔

صفتِ استغنا – اقبالؔ کے افکار میں

اقبالؔ کے نظامِ افکار میں صفتِ استغنا اور درویشانہ بے نیازی کی بنیادی اہمیت بیان کرتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی رقم طراز ہیں:-

صفتِ ”اِستغنا“ اقبالؔ کے نظامِ افکار میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اُنہوں نے اس کو اپنی ہر کتاب میں بڑے شد و مد کے ساتھ پیش کیا ہے، چنانچہ اس سے پہلے وہ لکھ چکے ہیں:-

؎ خدا کے پاک بندوں کو حکومت میں غلامی میں
زرہ کوئی اگر محفوظ رکھتی ہے تو استغنا

(بالِ جبریل)

؎ یہی فقر مردِ مسلماں نے کھو دیا جب سے
رہی نہ دولتِ سلمانی و سلیمانی

(ضربِ کلیم: فقر و راہبی)

اس شعرمیں دولتِ سلمانی سے شانِ استغنا ہی مراد ہے۔ استغنا سے اقبالؔ کی مراد ہے بے نیازی کا رنگ یعنی مسلمان اللہ کے سوا کسی سے کوئی توقع نہیں رکھتا، یہی مومن کی پہچان ہے، چنانچہ اقبالؔ خود کہتے ہیں:-

؎ خاکی و نوری نہاد، بندۂ مولا صفات
ہر دو جہاں سے غنی اس کا دِلِ بے نیاز

(بالِ جبریل: مسجدِ قرطبہ)

واضح ہو کہ بے نیازی خود اللہ کی ایک صفت ہے چنانچہ رموزِ بیخودی میں لکھتے ہیں:-

؎ بے نیازی رنگِ حق پوشیدن است
رنگ از پیرہن شوئیدن است

ترجمہ: بے نیازی اللہ تعالی کا رنگ اپنانا ہے اور غیر اللہ کا رنگ اپنے آپ سے دھو ڈالنا ہے۔
(رموزِ بیخودی: مثنوی مطالب در تفسیر اخلاص)

چونکہ استغنا یا بے نیازی کا رنگ صرف شانِ فقر ہی سے پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے اقبالؔ نے اس کو اپنے فلسفہ کا سنگِ بنیاد قرار دیا ہے۔ غور سے دیکھیے تو رنگِ استغنا شانِ فقر ہی کا دوسرا رخ ہے۔ اب اقبالؔ کے فلسفہ کا خلاصہ چار سطروں میں لکھے دیتا ہوں:-

  1. معراجِ مسلمانی شانِ استغنا سے حاصل وہ سکتی ہے۔
  2. شانِ استغنا فقر سے پیدا ہوتی ہے۔
  3. فقر اتباعِ رسول ﷺ پر منحصر ہے۔
  4. اتباع عشق کے بغیر نہیں ہو سکتی۔

اس لیے ہر مسلمان کو عشقِ رسول ﷺ اختیار کرنا چاہیے۔ یہی ہے حکیم اقبال کا وہ پیغام جو انہوں نے 1914ء سے 1938ء تک اپنی تصانیف کے ذریعہ سے قوم کو دیا ور اسی پیغام کو عرفِ عام میں اقبالؔ کا فلسفہ کہتے ہیں۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بالِ جبریل

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *