Skip to content

بانگِ درا 41: صبح کا ستارہ

فہرست

تعارف

نظم ”صبح کا ستارہ“ علامہ اقبال کے دورِ اوّل کا ایک تمثیلی، جمالیاتی اور پرسوز شاہکار ہے، جس میں شاعر نے صبح کے ستارے کے تخیلاتی اضطراب کے ذریعے فلک کی سرد و بے حس بلندیوں پر زمین کے سوز و گداز اور فنا پذیری کو ترجیح دی ہے۔

صبح کا ستارہ آسمان پر چاند اور سورج کی ہمائیگی اور دم بھر چمکنے کے بعد روزانہ مرنے جینے کی خدمت سے بیزار ہو کر زمین کی بستی کی تمنا کرتا ہے۔ وہ سمندر کا گوہر، ملکہ کا زیور اور پھول پر شبنم بننے کا خیال ترک کر کے آخرکار اُس باوفا بیوی کی آنکھ کا آنسو بننے کو اپنا ابدی مقدر چُنتا ہے جو اپنے مجاہد شوہر کو حبِ وطن کے جذبے سے سرشار میدانِ جنگ کی طرف رخصت کر رہی ہو۔

تخیل کی بلند پروازی اور عشق کے سوز سے حیاتِ جاودانی حاصل کرنے کے فلسفے پر پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

یہ نظم علامہ اقبال کی قوّتِ تخیّل کا کرشمہ ہے۔ مقصد اس نظم سے یہ ہے کہ اگر کسی کو حیاتِ ابدی (ہمیشہ قائم رہنے والی زندگی، حیاتِ دوام) کی آرزو ہو تو اپنے اندر عشق کا سوز پیدا کرے۔ اِس حقیقت کو اُنہوں نے صبح کے ستارے کی زبان سے ادا کیا ہے۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بانگِ درا

نظم کی تاریخِ اشاعت کے تحقیقی اختلافات کا جائزہ لیتے ہوئے ڈاکٹر شفیق احمد رقم طراز ہیں:-

نسیم امروہوی کے نزدیک یہ نظم فروری 1904ء کے مخزن میں شائع ہوئی تھی۔ جبکہ سرودِ رفتہ اور مطالبِ بانگِ درا میں مولانا غلام رسول مہر لکھتے ہیں کہ یہ نظم دسمبر 1904ء کے مخزن میں چھپی تھی اور غالباً یہی بات صحیح ہے۔ بانگِ درا میں نظموں کی عمومی ترتیب سے اِس امر کی تصدیق ہوتی ہے۔ بانگِ درا کی اشاعت کے وقت نظرِ ثانی میں اِس نظم کے دو شعر حذف کر دیے گئے تھے جو باقیاتِ اقبالؔ اور سرودِ رفتہ میں شائع ہو چکے ہیں۔

ڈاکٹر شفیق احمد، شرح بانگِ درا
سماعت فرمائیے
YouTube video

بند نمبر 1

شعر 1

لُطفِ ہمسایگیِ شمس و قمر کو چھوڑوں
اور اس خدمتِ پیغامِ سحَر کو چھوڑوں

معانیالفاظ
ایک دوسرے کے قریب رہنے کا لُطفلطفِ ہمسایگی
سورج اور چاندشمس و قمر
صبح کی آمد کا پیغامپیغامِ سحر

تشریح:

(صبح کا ستارہ کہتا ہے) جی چاہتا ہے کہ مجھے سورج (شمس) اور چاند (قمر) کی ہمسائیگی میں جو لطف آتا ہے، اُسے چھوڑ دوں اور اپنے طلوع ہونے سے آمدِ صبح کا جو پیغام (خدمتِ پیغامِ سحر) دیتا ہوں، اس ذمہ داری سے بھی جان چھُڑا لوں۔

شعر 2

میرے حق میں تو نہیں تاروں کی بستی اچھّی
اس بلندی سے زمیں والوں کی پستی اچھّی

معانیالفاظ
آبادی، مراد آسمانبستی
اُتار، ذلّت، جہالت، پسماندگی، مقابلہ میں کمترپستی

تشریح:

میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آسمان میں جو ستاروں کی بستی قائم ہے، میرے لیے اس بستی میں رہائش کسی بھی طرح مناسب نہیں۔ یہ جو بلندی مجھے حاصل ہے، اس کی نسبت زمین کی پستی میرے لیے زیادہ مناسب ہے۔

شعر 3

آسماں کیا، عدم آباد وطن ہے میرا
صبح کا دامنِ صد چاک کفن ہے میرا

معانیالفاظ
فنا کی دُنیا، اگلی دُنیا، قبرستانعدم آباد
وہ لباس جو جگہ جگہ سے پھٹا ہوا ہودامنِ صد چاک

تشریح:

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ میں آسمان کا باشندہ ہوں، لیکن اصل میں میرا وطن آسمان نہیں بلکہ عدم آباد ہے (عدم سے مراد ہے فنا / نہ ہونا)، یعنی وہ جہان جہاں موت کے بعد مرنے والے پہنچتے ہیں۔ صبح کا سینکڑوں جگہ سے پھٹا ہوا لباس میرا کفن ہے، یعنی صبح ہوتی ہے تو میری زندگی تمام ہو جاتی ہے۔ پَو پھٹنے کو شاعر عام طور پر صبح کا دامن چاک ہو جانے سے تعبیر کرتے ہیں۔ چونکہ صبح کے وقت افق پر سفیدی چھا جاتی ہے، اس لیے اسے کفن سے تشبیہ دی۔

شعر 4

میری قسمت میں ہے ہر روز کا مرنا جینا
ساقیِ موت کے ہاتھوں سے صبُوحی پینا

معانیالفاظ
موت کی شراب پلانے والا۔ مراد سورجساقیِ موت
صبح کے وقت پی جانے والی شرابصبُوحی

تشریح:

میرے مقدر میں یہ لکھا ہوا ہے کہ میں ہر روز جیتا اور مرتا رہوں اور موت کے ساقی کے ہاتھوں صبح کی شراب (صبوحی: وہ شراب جو صبح کے وقت پی جاتی ہے) پیتا رہوں یعنی اِدھر طلوع ہوا اُدھر جلد ہی غروب ہو گیا۔

شعر 5

نہ یہ خدمت، نہ یہ عزّت، نہ یہ رفعت اچھّی
اس گھڑی بھر کے چمکنے سے تو ظُلمت اچھّی

معانیالفاظ
بلندیرِفعت
تھوڑی دیر کے لیے چمکناگھڑی بھر کا چمکنا
اندھیرا، تاریکیظُلمَت

تشریح:

اس صورتِ حال کے باعث نہ تو وہ خدمت مناسب ہے جو میرے سپرد کی گئی ہے (یعنی صبح کا پیغام دینا) اور نہ وہ عزت بہتر ہے جو مجھے حاصل ہے اور نہ آسمان کی بلندی پر رہنا میرے لیے مفید ہے بلکہ اس تھوڑی سی دیر کے چمکنے سے تو میرے لیے تاریکی ہی اچھی ہے۔ اس نوع کی ذمہ داری، عزت اور بلندی آخر کس کام کی، کہ تھوڑی دیر چمک کر اپنے وجود سے آشنا کرایا اور پھر صبح ہونے پر موت کی نیند سو گیا۔

شعر 6

میری قُدرت میں جو ہوتا تو نہ اختر بنتا
قعرِ دریا میں چمکتا ہُوا گوہر بنتا

معانیالفاظ
اختیار، بس، طاقتقُدرت
ستارہاختر
دریا کی گہرائی، دریا کی تہقعرِ دریا
موتیگوہر

تشریح:

اگر میرے بس میں ہوتا تو میں کبھی ستارہ (اختر) نہ بنتا بلکہ سمندر کی تہ میں ایک چمکتا ہوا موتی (گوہر) بن کر رہنا زیادہ مناسب سمجھتا، اس لیے کہ اسے کچھ تو بقا ہے۔

بند نمبر 2

شعر 7

واں بھی موجوں کی کشاکش سے جو دل گھبراتا
چھوڑ کر بحر کہیں زیبِ گلُو ہو جاتا

معانیالفاظ
وہاںواں
سمندر کی لہرموج
کھینچا تانیکشاکش
سمندربحر
گلے کی زینتزیبِ گُلُو

تشریح:

(موتی بننے کی صورت میں) سمندر کی لہروں کی کھینچا تانی کی وجہ سے اگر میرا دِل گھبراتا تو میں سمندر چھوڑ کر کسی کے گلے کے ہار کی زینت بن جاتا۔ کوئی حسینہ مجھے اپنے گلے میں لٹکا لیتی اور اس طرح میں اس کی دلکشی میں اضافے کا باعث بنتا۔

شعر 8

ہے چمکنے میں مزا حُسن کا زیور بن کر
زینتِ تاجِ سرِ بانوئے قیصر بن کر

معانیالفاظ
سر کا تاجتاجِ سر
روم کے بادشاہ کی ملکہبانوئے قیصر

تشریح:

اس لیے کہ آسمان کی بلندی پر چمکنے میں وہ لطف نہیں جو کسی حسین کے زیور کی چمک بن کر حاصل ہوتا ہے یا کسی شہنشاہ کی ملکہ کے تاج کی آرائش بننے میں ممکن ہے۔

شعر 9

ایک پتھّر کے جو ٹکڑے کا نصیبا جاگا
خاتمِ دستِ سلیماں کا نگیں بن کے رہا

معانیالفاظ
قسمت چمکی / بیدار ہوئینصیبا جاگا
حضرت سلیمانؑ کے ہاتھ کی انگُوٹھیخاتمِ دستِ سلیماں
نگینہ، نَگ، ہیرانگیں

تشریح:

دیکھیے وہ کہ جو دیکھنے میں ایک معمولی سا پتھر تھا، لیکن جب اُس کا نصیب جاگا تو حضرت سلیمانؑ کی انگوٹھی (خاتم) کا نگینہ بن گیا۔

شعر 10

ایسی چنروں کا مگر دہر میں ہے کام شکست
ہے گُہر ہائے گراں مایہ کا انجام شکست

معانیالفاظ
دُنیا، زمانہدہر
ٹوٹنا، ناکامیشِکَست
بہت زیادہ قیمتی موتیگُہر ہائے گراں مایہ
نتیجہ، اِختتامانجام

تشریح:

لیکن امرِ واقعہ یہ ہے کہ اس قسم کی اشیاء آخرکار دنیا میں شکست و ریخت سے دوچار ہو کر رہتی ہیں۔ چنانچہ بیش قیمت اور نایاب قسم کے موتی (گہرہائے گرا نمایا: قیمتی جواہرات) کا انجام بھی بالآخر ریزہ ریزہ ہوجانا ہوتا ہے۔

شعر 11

زندگی وہ ہے کہ جو ہو نہ شناسائے اجل
کیا وہ جینا ہے کہ ہو جس میں تقاضائے اجل

معانیالفاظ
موت کا واقفشناسائے اجل
موت کا تقاضآ کرنا / لازمی فنا ہوناتقاضائے اجل

تشریح:

اس طرح دیکھا جائے تو اصل زندگی تو وہ ہے جو موت سے واقف نہ ہو، یعنی جسے موت نہ آئے۔ ایسا جینا کیا جینا ہے جس کی لازمی شرط موت قرار پاتی ہو (واضح رہے کہ ستارہ ایسی زندگی کا طالب ہے جو ہمیشہ قائم رہے)۔

شعر 12

ہے یہ انجام اگر زینتِ عالم ہو کر
کیوں نہ گر جاؤں کسی پھول پہ شبنم ہو کر!

معنیلفظ
دُنیا کی سجاوَٹزینتِ عالم

تشریح:

اگر دنیا کی زینت بن کر (موتی کی صورت میں کسی کے تاج وغیرہ کی زینت) بھی اسی انجام سے دوچار ہونا ہے تو کیا پھر میرے لیے یہ بہتر نہ ہوگا کہ شبنم بن کر کسی پھول پر ہی ٹپک پڑوں۔ کم از کم میری وجہ سے پھول تو کھِل کر ماحول کو خوشبودار کر دے گا۔

بند نمبر 3

شعر 13

کسی پیشانی کے افشاں کے ستاروں میں رہوں
کس مظلوم کی آہوں کے شراروں میں رہوں

معانیالفاظ
ماتھاپیشانی
گوٹے کی کُترن، جو عورتیں زیبائش کے لیے ماتھے پر چُنتی ہیں اور بالوں پر چھِڑکتی ہیںافشاں
جس پر ظلم ہوا ہومظلوم
بہت افسوس کرنا، غم یا فکر کی وجہ سے ٹھنڈے سان٘س لیناآہیں
چنگاریاںشرارے

تشریح:

زیادہ اچھی بات تو یہ ہے کہ میں کسی خاتون کے ماتھے کی افشاں میں شامل ہو کر اُس کے حسن کو دوبالا کرنے کے کام آؤں یا پھر کسی مظلوم اور مجبور انسان کی آہ و زاری سے کی چنگاریوں میں بس جاؤں (آہ و زاری کو چنگاری اس لیے کہا کہ آہ و زاری کا تعلق سینے کے ساتھ ہے، جب ہم غمگین ہوتے ہیں تو ہمارے سینے میں موجود دِل سُلگتا ہوا معلوم ہوتا ہے، اسی کو آہ و زاری کی چنگاریاں کہا)۔

شعر 14

اشک بن کر سرِمژگاں سے اٹک جاؤں میں
کیوں نہ اُس بیوی کی آنکھوں سے ٹپک جاؤں میں

معانیالفاظ
آنسواشک
پلکوں پر، پلکوں کی نوکسرِ مژگاں

تشریح:

یا میں آنسو بن جاؤں اور پلکوں کے کناروں پر اٹک جاؤں اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ میں آنسو بن کر اُس بیوی کی آنکھوں سے ٹپک پڑوں۔۔۔

شعر 15

جس کا شوہر ہو رواں ہو کے زرہ میں مستور
سُوئے میدان وغا، حُبِّ وطن سے مجبور

معانیالفاظ
روَاں
لوہے کا لباس جو جنگ میں پہنتے ہیںزِرہ
چھُپا ہوا، پوشیدہمستُور
میدانِ جنگ کی طرفسُوئے میدانِ وغا
جنگ، لڑائیوغا
وطن کی مُحبّتحُبِّ وطن

تشریح:

(کیوں نہ میں آنسو بن جاؤں اور اُس بیوی کی آنکھوں سے کر ٹپک پڑوں کہ) جس کا شوہر وطن کی محبت سے سرشار ہو کر زرہ بکتر پہنے میدانِ جنگ کی طرف رواں ہو رہا ہو۔

شعر 16

یاس و اُمیّد کا نظّارہ جو دِکھلاتی ہو
جس کی خاموشی سے تقریر بھی شرماتی ہو

معانیالفاظ
نا اُمیدییاس
گفتگوتقریر

تشریح:

ایسی بیوی جس میں مایوسی اور اُمید دونوں صورتیں دکھائی دیتی ہوں اور جس کی خاموشی سے گفتگو بھی شرماتی ہو۔ مایوسی اس بات کی کہ شاید میرا شوہر زندہ واپس نہیں آئے گا اور امید اس بات کی کہ شاید وہ غازی بن کر واپس لوٹے۔

اُس (بیوی) کی خاموشی کچھ اس انداز کی ہو کہ دیکھنے والے کو اُس کے دردِ دِل کا صاف پتا چل جائے، جبکہ اس کے الفاظ اس کی کیفیت کو بیان کرنے سے عاجز ہوں۔

شعر 17

جس کو شوہر کی رضا تابِ شکیبائی دے
اور نگاہوں کو حیا طاقتِ گویائی دے

معانیالفاظ
مرضی، خوشیرضا
صبر کی طاقت، برداشت کی ہمّتتابِ شکیبائی
شرم، حجاب، غیرتحیا
بولنے کی قوّت / طاقتطاقتِ گویائی

تشریح:

جس (بیوی) کو اپنے شوہر کی رضا پر راضی رہنے کے باعث صبر و شکیبائی کی قوت حاصل ہو اور اس کی حیا اس کی نگاہوں کو بولنے کی طاقت دے، وہ سراپا ”؏ سرِ تسلیم خم ہے، جو مزاجِ یار میں آئے“ کی عملی تعبیر ہو اور حیا کی وجہ سے اُس کی نگاہوں ہی سے اُس کی دِلی حالت کا پتا چل جائے۔

شعر 18

زرد، رُخصت کی گھڑی، عارضِ گُلگوں ہو جائے
کششِ حُسن غمِ ہجر سے افزوں ہو جائے

معانیالفاظ
پیلازرد
روَانگی کا وقترُخصت کی گھڑی
سُرخ پھول جیسا رُخسارعارضِ گُلگُوں
خوب صورت کی دِل کشیکششِ حُسن
جُدائی کا غمغمِ ہجر
بڑھ جاناافزُوں

تشریح:

جب اس کا شوہر میدانِ جنگ کی طرف روانہ ہونے لگے تو اس کا پھولوں جیسا سرخ چہرہ غم کے باعث زرد ہو جائے اور اس کے حسن میں جو دِلکشی ہے، اس میں شوہر کے ہجر (جدائی) کی وجہ سے اور بھی اضافہ ہو جائے۔

شعر 19

لاکھ وہ ضبط کرے پر میں ٹپک ہی جاؤں
ساغرِ دیدۂ پُرنم سے چھلک ہی جاؤں

معانیالفاظ
روکناضبط کرنا
پیالہ، جامساغر
آنسوؤں سے تر آنکھدیدۂ پُرنَم
آنسوؤں سے بھری ہوئی آنکھوں کا جام، روتی ہوئی آنکھ کا پیالہساغرِ دیدۂ پرُ نَم
لبالب ہو کے نیچے گِر جاناچھلَک جانا

تشریح:

وہ (بیوی) لاکھ ضبط کرنے کی کوشش کرے لیکن میں (صبح کا ستارہ جو آنسو بننے کا خواہشمند ہے) اس کی آنکھوں سے ٹپک ہی جاؤں اور اس کے آنسوؤں سے بھرے ہوئے ساغر (پیالہ) سے چھلک ہی جاؤں۔

شعر 20

خاک میں مل کے حیاتِ ابدی پا جاؤں
عشق کا سوز زمانے کو دِکھاتا جاؤں

معانیالفاظ
ہمیشہ رہنے والی زندگیحیاتِ ابدی
عشق کی حرارتعشق کا سوز

تشریح:

یوں میں (مذکورہ آنسو چھلکنے کے بعد) خاک میں مل کر حیاتِ ابدی (ہمیشہ قائم رہنے والی زندگی) پا جاؤں اور اس طرح زمانے کو سوزِ عشق دکھاتا جاؤں۔ گویا عشق کا جذبہ ہی حیاتِ ابدی کا باعث بنتا ہے۔

؏ عشق ہے اصلِ حیات، موت ہے اُس پر حرام
(بالِ جبریل: مسجدِ قرطبہ)

تبصرہ

یہ کلام فنا کے دامن میں حیاتِ دوام تلاش کرنے کا نادر شاعرانہ اسلوب ہے۔ علامہ اقبال نے صبح کے ستارے کی زبانی یہ واضح کیا ہے کہ احساس سے عاری فلکی رِفعتوں کے مقابلے میں زمین کی خاک پر خلوص، درد اور قربانی کا ایک قطرہ ہزار گنا افضل ہے۔ مجاہد شوہر کو رخصت کرتی ہوئی پُرحیا بیوی کی دیدۂ پرنم سے چھلکنے والا آنسو دراصل وطن اور شوہر سے محبت کا وہ نذرانہ ہے جو اِنسان کو خاک نشیں ہوتے ہوئے بھی لازوال بنا دیتا ہے۔

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *