Skip to content

بانگِ درا 19: ایک آرزو

فہرست

تعارف

نظم ”ایک آرزو“ مجموعۂ کلام ”بانگِ درا“ (حصہ اول) کی وہ بے پناہ مقبول، پرتاثیر اور سحر انگیز نظم ہے جس میں علامہ اقبال نے مناظرِ فطرت کی دلکش مصوری کے پیرائے میں اپنے باطنی سوز، خلوَت پسندی اور انسانی ہمدردی کے پاکیزہ جذبات کا اظہار کیا ہے۔ یہ کلام ظاہر بین نگاہوں میں اگرچہ دامنِ کوہ کی پرسکون تنہائی کی تمنا دکھائی دیتا ہے، مگر درحقیقت یہ ایک دردمند دل کا وہ اضطراب ہے جو دنیا کی بے فیض محفلوں سے اکتا کر ایسی فضا کا متلاشی ہے جہاں اس کا سوز و گداز خلقِ خدا کی بیداری کا وسیلہ بن سکے۔

یہ نظم ۱۹۰۲ء کے مخزن میں ۳۰ اشعار کے ساتھ شائع ہوئی تھی۔ نظرِ ثانی میں صرف ۲۰ شعر باقی رہے۔ یہ نظم بڑے آدمی کی زندگی میں پست اور نشیبی لمحات کی عکاسی کرتی ہے۔

۱۹۰۵ء تک، یعنی اپنی شاعری کے پہلے دور تک اقبالؔ ایک آزاد شاعر تھے۔ وہ جن مناظر یا واقعات سے متاثر ہوتے، اس کو اپنی شاعری کا موضوع بناتے۔ البتہ اقبالؔ نے تقلیدی اور روایتی شاعری سے چھُٹکارا حاصل کر لیا تھا۔

اقبالؔ کی یہ ابتدائی شاعری مغربی شاعری کے زیرِ اثر ہے۔ اردو اور فارسی میں مناظرِ فطرت کی شاعری نہ ہونے کے برابر ہے، جو ملتا ہے وہ مُحاکات (یعنی شاعری میں واقعات کی صورت گری / منظر کشی / امیجری) نہیں بلکہ تخیّل ہے۔ فارسی شاعری گُل و بُلبُل کی شاعری ہے مگر مناظرِ فطرت کو محض عشق و عاشقی کی تمثیل کے طور پر ہی استعمال کیا گیا ہے۔

مغربی شاعری کا سب سے اچھا اثر اقبالؔ پر یہ ہوا کہ وہ مصنوعی شاعری سے بچ گئے۔ کسی انگریز شاعر کی طرح اقبالؔ نے بھی محض صناعی اور اظہارِ کمال کے لیے شعر نہیں کہا بلکہ کسی داخلی یا خارجی محرک سے متاثر ہوکر کہا۔

جن نظموں میں نظم ”ایک آرزو“ کا شمار ہوتا ہے وہ ابھی ”جزوِ پیغمبری“ نہیں بنیں، مگر اُن نظموں میں بھی افکار کی وسعت، گہرائی اور تنوع کے ساتھ ساتھ وہ افکار بھی موجود ہیں جو آگے چل کر اقبالؔ کا خصوصی پیغام اور طُرَّۂ اِمْتِیاز بن گئے۔ ان نظموں میں بھی بار بار طبیعت کا اضطراب، ایک کسک اور خودی ابھرتی ہوئی نظر آتی ہے۔

سماعت فرمائیے
YouTube video

تشریح و تبصرہ

شعر 1

دُنیا کی محفلوں سے اُکتا گیا ہوں یا رب!
کیا لُطف انجمن کا جب دل ہی بُجھ گیا ہو

معانیالفاظ
دِل اچاٹ ہونااُکتانا
مزہلُطف
لوگوں سے بھری محفلانجمن
دل میں خواہشات کا نہ رہنا، مایوسیدِل بُجھنا

تشریح و تبصرہ:

اے رب، دنیا کی محفلوں سے میرا دِل اچاٹ ہو چکا ہے، دوستوں میں باہم بیٹھنے کا مزہ اسی صورت میں ہے اگر دِل اندر سے خوش اور مطمئن ہو۔ کسی شاعر نے خوب کہا ہے:-

؎ مطمئن ہو دِل تو ویرانوں کے سناٹے بھی گیت
دِل اُجڑ جائے تو شہروں میں بھی تنہائی بہت

شعر 2

شورش سے بھاگتا ہوں، دل ڈھونڈتا ہے میرا
ایسا سکُوت جس پر تقریر بھی فدا ہو

معانیالفاظ
شور و غُل، ہنگامہشورِش
خاموشی، چُپ رہناسکُوت
قربانفِدا

تشریح و تبصرہ:

جبکہ میری یہ کیفیت ہے کہ شور اور رونق سے وحشت ہوتی ہے اور ایسی خاموشی کا طلبگار ہوں جس پر خاموشی بھی جان دیتی ہو۔

شعر 3

مرتا ہوں خامشی پر، یہ آرزو ہے میری
دامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو

معانیالفاظ
خاموشیخامشی
پہاڑ کے درمیان وادی میںدامنِ کوہ
سر چھپانے کےلیے رہنے کی معمولی جگہجھونپڑا

تشریح و تبصرہ:

ایک مفکّر شخصیّت جو اپنے ساتھ وقت بتانے کو لوگوں میں رہنے پر ترجیح دیتی ہے۔ یہ نظم ایسے تمام لوگوں کے جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔ جو خاموشی پر اس قدر جان دیتا ہو کہ پہاڑ کے دامن میں، شور شرابے اور مادی دُنیا سے دور رہنا اس کی واحد آرزو رہ جائے۔

شعر 4

آزاد فکر سے ہوں، عُزلت میں دن گزاروں
دنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہو

معانیالفاظ
پریشانیفکر
تنہائی، گوشہ نشینیعُزلت

تشریح و تبصرہ:

ایسی فکر سے آزاد زندگی گزاروں جہاں میرے دن تنہائی و خلوت میں گزریں اور دُنیا کے ہر طرح کے غم میرے دِل سے نکل گئے ہوں۔ یہ ایک مفکّر شخصیت کی درویشی، استغنا اور سادگی کی تمنا ہے۔

؎ یہ تمنّا ہے کہ آزادِ تمنّا ہی رہوں
دِلِ مایوس کو مانُوسِ تمنّا نہ بنا

شعر 5

لذّت سرود کی ہو چڑیوں کے چہچہوں میں
چشمے کی شورشوں میں باجا سا بج رہا ہو

معانیالفاظ
مزہلذّت
افراد کا ایک ساتھ مل کر نغمے گاناسُرود
شورشورِش

تشریح و تبصرہ:

جس آواز کا میں طالب ہوں، وہ صرف چڑیوں کے چہچہانے کی آواز ہے، جس سے مجھے وہ سرور حاصل ہوگا جو کسی گیت یا نغمے سے ہوتا ہے۔ صرف چشموں کے بہنے کا شور ہو، جس کی موسیقی یوں ہوتی ہے جیسے کوئی باجا بجا رہا ہو۔

شعر 6

گُل کی کلی چٹک کر پیغام دے کسی کا
ساغر ذرا سا گویا مجھ کو جہاں نما ہو

معانیالفاظ
پھول کے کھلنے کی غیر معمولی آوازچٹک
پیالہساغر
جہان دکھانے والاجہاں نما

تشریح و تبصرہ:

لوگوں کی آمد و رفت کی بجائے، پھول کی کلی کا چٹکنا ہی میرے لیے آنے والے پیغاموں میں سے ہو اور چھوٹا سا پیالہ یعنی کہ پھول ہی کی صورت میں سارا جہاں دیکھ لوں۔اِس شعر میں پھول کی پیالے جیسی شکل کے مدِ نظر ”ساغر“ کو پھول کے لیے استعارہ لیا ہے۔

”جہاں نما“ سے یہاں اشارہ جامِ جمشید کی طرف ہے۔ کہتے ہیں کہ قدیم ایرانی بادشاہ جمشید کے پاس ایک ایسا پیالہ تھا جس میں جھانک کر وہ واقعاتِ عالم کی جھلک دیکھ لیا کرتا تھا۔

صوفی عقائد کے مطابق یہاں وحدت الوجود کا عنصر بھی موجود ہے۔ یعنی جو کُچھ اس دنیا میں نظر آتا ہے وہ خالقِ حقیقی کی ہی مختلف شکلیں ہیں اور خالق حقیقی کے وجود کا ایک حصہ ہے۔ اس طرح اس پھول کو دیکھنا درویش دِل شاعر کے لیے خدا کو دیکھنے کے مترادف ہوجائیگا۔

اِس میں قرآنِ کریم کی اپنے ارد گرد کی دنیا کی پرکھنے کی دعوت بھی پیشِ نظر ہے۔

اِنَّ فِى اخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّـهَارِ وَمَا خَلَقَ اللّـٰهُ فِى السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ لَاٰيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَّقُوْنَ

ترجمہ: رات اور دن کے آنے جانے میں اور جو چیزیں اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کی ہیں ان میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو ڈرتے ہیں۔
(القرآن: سورۃ یونس: آیت ۶)

شعر 7

ہو ہاتھ کا سَرھانا، سبزے کا ہو بچھونا
شرمائے جس سے جلوت، خلوت میں وہ ادا ہو

معانیالفاظ
خلوت کی ضد، وہ جگہ جہاں تنہائی نہ ہوجلوَت
ایسی تنہائی جو پسندیدہ ہوخلوِت

تشریح و تبصرہ:

میری زندگی مادیّت (Materialism) سے اس قدر خالی ہو کہ میرے ہاتھ میرے سرہانے کا کام دیں اور قدرت کا سبزہ ہی میرے لیے بچھونا ہو۔ میری اس خلوت میں وہ کُچھ میسّر ہو جس سے جلوَت بھی شرما جائے۔ اِس میں صوفی و سنیاسی طرزِ زندگی سے متاثر ہونے کا عنصر ظاہر ہوتا ہے، جو غمِ روز گار کو چھوڑ کر دشت و بیاباں میں بسیرا کر لیتے ہیں۔

شعر 8

مانوس اس قدر ہو صورت سے میری بُلبل
ننھّے سے دل میں اُس کے کھٹکا نہ کچھ مرا ہو

معانیالفاظ
جانی پہچانی، جس سے اُنس ہو، آشنامانوس
آہٹ، ہلکی سی آواز جو ڈر کا باعث بنےکھٹکا

تشریح و تبصرہ:

میں قدرت کا کُچھ اس طرح سے حصّہ بن جاوں کہ بُلبُل میری صورت سے بالکل مانوس ہوجائے اور مجھ سے ہر گز نہ ڈرے۔ اِس قسم کی تصویر کشی معرفتِ حق کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

شعر 9

صف باندھے دونوں جانب بُوٹے ہرے ہرے ہوں
ندّی کا صاف پانی تصویر لے رہا ہو

معانیالفاظ
قطار بنائےصف باندھے
ننھے پودےبُوٹے

تشریح و تبصرہ:

شفافیّت کا یہ عالم ہو کہ ندی کے دونوں اطراف ہرے ہرے بوٹے لہرا رہے ہوں اور ندی کا صاف پانی اس کی تصویر لے رہا ہو، یعنی وہی منظر وہاں بھی عکاس ہو۔

شعر 10

ہو دل فریب ایسا کُہسار کا نظارہ
پانی بھی موج بن کر، اُٹھ اُٹھ کے دیکھتا ہو

معانیالفاظ
دل کو لبھانے والادل فریب
پہاڑی سر زمینکوہسار
لہرموج

تشریح و تبصرہ:

پہاڑوں کا نظارہ کچھ ایسا دِلکش ہو کہ پانی اُٹھ اُٹھ کر اس کو دیکھتا ہو۔ یہاں علامہ اقبال نے پانی میں موجوں کے اُٹھنے کی وجہ بیان کر کے ”صنعتِ حسنِ تعلیل“ سے کام لیا ہے۔

صنعتِ حسنِ تعلیل: شاعر کی خود ساختہ وجہ ہوتی ہے جو وہ قدرت کے کسی عمل کو بیان کرنے کے لیے، اصل وجہ کے بجائے استعمال کرتا ہے۔

شعر 11

آغوش میں زمیں کی سویا ہُوا ہو سبزہ
پھِر پھِر کے جھاڑیوں میں پانی چمک رہا ہو

معنیلفظ
گودآغوش

تشریح و تبصرہ:

زمین سے ذرا ذرا سبزہ رونما ہو رہا ہو، یوں ظاہر ہو جیسے زمین کی گود میں سو رہا ہے جبکہ جھاڑیوں میں سے گُزرتا پانی چمک رہا ہو۔ ایک اور دِلکش اور تصویری منظر کشی جہاں پانی کا چمکنا، سورج کی موجودگی کی طرف بھی اِشارہ کرتا ہے۔

شعر 12

پانی کو چھُو رہی ہو جھُک جھُک کے گُل کی ٹہنی
جیسے حَسین کوئی آئینہ دیکھتا ہو

معنیلفظ
پھول سے بھری شاخگُل کی ٹہنی

پھول کی جھُکی ہوئی شاخ جب بار بار پانی کو چھُوتی ہو تو یوں لگے جیسے کوئی حسین شیشے میں اپنا عکس دیکھ رہا ہے۔ یہاں اقبالؔ نے ”گُل“ کو ”حسین“ سے تشبیہ دے کر ”تجسم“ سے کام لیا ہے۔

تجسم: کسی شے کو انسانی خوبی سے نواز کر اس میں خوبصورتی پیدا کرنے کا نام ہے۔

شعر 13

مہندی لگائے سورج جب شام کی دُلھن کو
سُرخی لیے سنہری ہر پھُول کی قبا ہو

معنیلفظ
لِباس، اوڑھنیقبا

تشریح و تبصرہ:

جب سورج شام کی دلہن کو مہندی لگائے یا جب اس کا بناو سنگھار کرے یعنی شفق پھُوٹے، تو ہر پھول کے سنہرے لباس سرخی مائل ہو جائیں۔ یہاں شام کے لیے دُلہن کا استعارہ لیا گیا ہے، جس کے حُسن کو سورج شفق کی مدد سے دوبالا کرتا ہے اور سُرخ لباس پہنا کر ہر طرف جشن کا سما کر دیتا ہے۔

شعر 14

راتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دم
اُمّید اُن کی میرا ٹُوٹا ہوا دِیا ہو

معانیالفاظ
سانس، مراد: وقتدم
چراغ جو ٹوٹا ہوا ہوٹوٹا ہوا دیا

تشریح و تبصرہ:

جب راتوں کو چلنے والے مسافر تھک جائیں تو میری جھونپڑی اُن کے لیے اُمید کا باعث ہو، یعنی جھونپڑی ایسی دُور دراز جگہ پر ہے جہاں کسی مسافر کو اور کسی آرام گاہ کی امید نہ ہوگی۔ ”ٹوٹا ہوا دیا“ بھی یہاں اہم ہے۔ ایک سچا درویش، اپنے پاس جو بھی دُنیاوی مال و متاع رکھے گا اُس میں عیش و عشرت کا کوئی پہلو نہیں۔ جو کُچھ اُس کے پاس ہے وہ محض ضرورت ہے اور اس سے بھی وہ اوروں کی مدد ہی کا خواہشمند ہے۔

شعر 15

بجلی چمک کے اُن کو کُٹیا مری دکھا دے
جب آسماں پہ ہر سُو بادل گھِرا ہوا ہو

معنیلفظ
جھونپڑیکُٹیا

تشریح و تبصرہ:

جب بادلوں سےبھری گہری شب میں بارش برسنے والی ہو، تب بجلی چمکنے سے اُن کو میری کُٹیا نظر آ جائے (یہاں دنیا سے کٹ کر رہنے کی خواہش کے باوجود اپنی خدمتِ خلق کی تمنا کا اظہار کرتے ہیں)۔

شعر 16

پچھلے پہر کی کوئل، وہ صبح کی مؤذِّن
مَیں اُس کا ہم نوا ہوں، وہ میری ہم نوا ہو

معانیالفاظ
سیاہ رنگ کا خوش آواز پرندہکوئل
اذان دینے والاموذن
ساتھ گانے والا، ہم آہنگہم نوا

تشریح و تبصرہ:

پچھلے پہر کی کوئل، جو صبح سویرے اُٹھ کر اپنی خوبصورت آواز میں چہچہاتی ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا اذان دے رہی ہے، میں اُس کے ساتھ گاؤں اور وہ میری ہم نوا بن جائے۔

”پچھلے پہر“ سے مراد صبحِ صادق کا وقت ہے، یعنی سورج نکلنے سے کُچھ پہلے کا وقت۔

شعر 17

کانوں پہ ہو نہ میرے دَیر و حرم کا احساں
روزن ہی جھونپڑی کا مجھ کو سحر نما ہو

معانیالفاظ
بُت خانہدیر
کعبہحرم
سراخ، روشن دانروزن

تشریح و تبصرہ:

میرے کانوں پر مندر یا مسجد کے کوئی آثار نہ ہوں۔ میری جھونپڑی کا سراخ ہی مجھ کو صبح کا پیغام سنائے۔ اس میں وہی بیزاری کا عنصر موجود ہے جو نظم ”نیا شِوالہ“ میں ملتا ہے۔

سچ کہہ دوں اے برہمن گر تُو بُرا نہ مانے
تیرے صنم کدوں کے بت ہو گئے پرانے
اپنوں سے بیر رکھنا تو نے بتوں سے سیکھا
جنگ و جدل سکھایا واعظ کو بھی خدا نے
تنگ آ کے میں نے آخر دیر و حرم کو چھوڑا
واعظ کا وعظ چھوڑا چھوڑے ترے فسانے

(بانگِ درا: نیا شِوالہ)

میرے اعصاب پر کوئی تعصّب نہ ہو۔ میں قدرت کے اس قدر قریب ہوں کہ اس کو پہچاننے کے لیے مجھے کوئی راہ نہ لینی پڑے۔ واعظ کے وعظ اور برہمن کے فسانوں سے تنگ آ کر ارتقائے فکر سے پہلے کے اقبالؔ اک یہی رہِ فرار دیکھتے ہیں جس میں وہ خدا کے قریب بھی ہوں اور خدمتِ خلق میں بھی اپنا حصہ ڈال سکیں۔

شعر 18

پھُولوں کو آئے جس دم شبنم وضو کرانے
رونا مرا وضو ہو، نالہ مری دُعا ہو

معانیالفاظ
اوس، صبح سے پہلے پودوں پر پڑنے والی نمیشبنم
فریاد، گریہ و زارینالہ

تشریح و تبصرہ:

جس وقت شبنم کے قطرے پھولوں پر پڑیں، اس منظر کو پھولوں کے وضو کرنے سے جوڑا گیا ہے؛ اُس وقت میرا رونا میرا وضو ہو اور آہ و زاری میری دعا کا کام کرے۔ یہاں اس کسک اور اضطراب کی کیفیت واضح ہو رہی ہے جو دنیا سے بیزاری کے سبب آئی ہے۔ یہ رونا اور نالہ و زاری روح کی وہ پکار ہیں جو راستہ معلوم نہ ہونے کی صورت میں بھی خدا کی یاد میں بھٹکتی ہوئے اس کی فریاد ہے۔

شعر 19

اس خامشی میں جائیں اتنے بلند نالے
تاروں کے قافلے کو میری صدا درا ہو

معانیالفاظ
خاموشیخامشی
‘نالہ’ کی جمع۔فریاد، گریہ، آہ و زاری، نوحہ و فریاد
نالے
آوازصدا
قافلے کو چلانے کے لیے بجائی جانے والی گھنٹیدرا

تشریح و تبصرہ:

میری آہ و زاری اس قدر پُر زور ہو کہ وہ تاروں تک جا پہنچے اور اُن کے لیے اُس گھنٹی کا کام کرے جس سے قافلہ کوچ کرنے کو تیار ہو جاتا ہے۔ یو تاروں کے وہ قافلے کوچ کرنے کی تیاری کر لیں یعنی تارے غروب ہونا شروع ہو جائیں، رات کا سحر ٹوٹ جائے اور ایک روشن صبح طلوع ہو۔ یہاں اُسی خودی نے سر اُٹھایا ہے جو اقبال کے ارتقائے فکر کے بعد کُھل کر سامنے آتی ہے۔

شعر 20

ہر دردمند دل کو رونا مرا رُلا دے
بے ہوش جو پڑے ہیں، شاید انھیں جگا دے

معنیلفظ
دُکھی، آفت کا مارادردمند

تشریح و تبصرہ:

شورش سے دور ہونے کی تمنا اس لیے بھی ہے کہ اس خاموشی میں انسان کے لیے اپنے اندر کی آواز کو سننا آسان ہے۔ یہ ہر اس شخص کے اندر کی آواز ہے جو دُنیا سے بیزار ہے، مگر سچ کی جستجو میں مُضطرب (بے چین و بے قرار) ہے۔ جو شاید اپنی اس آرزو اور کیفیت کو دبانے میں مصروف ہے، لہذا ایک بے ہوش جسم سے بڑھ کر کُچھ بھی نہیں۔ شاید اقبالؔ کی یہ آواز اس کے دل کے کسی تار کو بجا دے۔واضح ہو کہ عُزلت نشینی کی خواہش کے باوجود اقبالؔ دوسروں کے لیے جینا چاہتے ہیں اور انکی بیداری کے خواہشمند ہیں۔

تبصرہ

یہ نظم علامہ اقبال کے ابتدائی دور کے شعری جمال اور اُن کے لازوال فکری و ملی نصب العین کا نادر سنگم ہے۔ سطحی طور پر اسے فطرت کی آغوش میں پناہ لینے کی ایک رومانی خواہش سمجھا جا سکتا ہے، مگر کلام کی اصل روح رہبانیت یا زندگی کی کشمکش سے راہِ فرار اختیار کرنے کی قطعی نفی کرتی ہے۔ اقبالؔ دامنِ کوہ کے جس جھونپڑے اور خاموش سکوت کی تمنا کرتے ہیں، اُس کا مقصد دنیا سے آنکھیں چرانا نہیں بلکہ اپنی باطنی توانائیوں کو مجتمع کر کے ایک بلند تر اخلاقی و روحانی منصب کو پانا ہے؛ جہاں اُن کا ٹوٹا ہوا دیا گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھٹکتے مسافروں کی امید بنے، اور ان کے گریہ و زاری کے بلند نالے فلک پر تاروں کے قافلے کی ”درا“ بن کر قوم کے بے ہوش و خوابیدہ افراد کو بیدار کر سکیں۔ پروفیسر یوسف سلیم چشتی کے مطابق عزلت نشینی کی اس آرزو کے باوجود دوسروں کے لیے جینا اور بے ہوش پڑے ہوؤں کو جگانے کی تڑپ ہی ایک سچے مومن کا اصل امتیاز ہے؛ اور تاریخ گواہ ہے کہ اقبالؔ کا یہی شب بیدار نالہ اور پُردرد پکار آگے چل کر ملتِ اسلامیہ کے شعور کی سب سے بڑی بیداری کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔

نظم کی سلاست، شاعرانہ مصوری اور اثر آفرینی پر تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

یہ نظم اپنی سادگیِ سلاست، تاثیر یعنی اثر آفرینی اور شاعرانہ خوبیوں کے لحاظ سے بانگِ درا کی بہترین نظموں میں سے ہے۔ اقبالؔ نے اِس نظم میں شاعرانہ مصوّری کا کمال دِکھایا ہے۔ ان محاسنِ معنوی کے علاوہ اُنہوں نے اس میں پاکیزہ خیالات کا اظہار کیا ہے۔

یہ خیالات، جن کا اظہار اقبالؔ نے اِس دِل پذیر نظم میں کیا ہے، کم و بیش ہر اُس شخص کے دِل میں موجزَن ہوتے ہیں جو دُنیا اور دُنیا والوں کی حقیقت سے آگاہ ہو جاتا ہے۔ اب اس کے بعد عمل کی منزل آتی ہے تو جن لوگوں کی قوتِ ارادی زبردست ہوتی ہے وہ ایک جھٹکے میں سارے تعلقات توڑ کر رکھ دیتے ہیں اور دامنِ کوہ میں ایک چھوٹا سا جھونپڑا بنا کر اپنی زندگی عُزلت میں بسر کر دیتے ہیں اور جو اِس نعمت (قوتِ ارادی) سے محروم ہوتے ہیں وہ راقم الحروف کی طرح ترکِ دُنیا کی منصوبہ بندی ہی میں گُزار دیتے ہیں۔

حضرتِ اقبالؔ اگرچہ پورے طور پر اِس آرزو کو عملی جامہ نہ پہنا سکے لیکن یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اُنہوں نے اپنی زندگی میں بڑی حد تک درویشی، اِستغنا اور عُزلت کی شان پیدا کر لیت تھی۔ اُن کی زندگی میں سادگی تو اِس درجہ نمایاں تھی کہ میں نے آج تک اس کی نظیر نہیں دیکھی۔

”ایک آرزو“ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ عزلت نشینی کی آرزو کے باوجود اقبالؔ دوسروں کے لیے جینا چاہتے ہیں اور یہی ایک مسلمان کی شان ہے کہ وہ دوسروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے جیتا ہے۔ اقبالؔ اُن لوگوں کو، جو بے ہوش پڑے ہیں، جگانا چاہتے ہیں اور مجھے خوشی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کے فضل و کرم سے اُن کی یہ آرزو پوری کر دی اور آج جو کُچھ مسلمانوں میں بیداری نظر آتی ہے، یہ سب اقبالؔ کے پیغام ہی کا ثمرہ ہے۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بانگِ درا

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *