Skip to content

بانگِ درا 126: دُعا

تعارف

نظم ”دُعا“ علامہ اقبال کے دورِ ثالث کی وہ سوز و گُداز سے لبریز اور تاریخی مناجات ہے جو انہوں نے عالمِ اسلام بالخصوص ایران اور ترکی پر مصائب کے بادل چھانے کے پُرآشوب دور میں قلمبند فرمائی۔

شاعر اُمت کی بے حسی پر خون کے آنسو روتے ہوئے بارگاہِ الٰہی میں گڑگڑاتا ہے کہ مسلمان کے مردہ دل کو وہ تڑپ عطا کر جو وادیِ فاران کے ہر ذرے کو دوبارہ چمکا دے، اور بھٹکے ہوئے آہُو (ہرن) کو پھر سے سوئے حرم کی راہ دکھائے۔ وہ خود کو ایک اجڑے ہوئے گلستاں کی نالہ کناں بلبل قرار دیتے ہوئے دیدۂ بینا، داغِ محبت، خودداریِ ساحل اور آزادیِ دریا کی التجا کرتا ہے؛ تاکہ اُس کی پکار میں وہ اعجاز پیدا ہو جائے جو خوابیدہ قوم کے مقاصد کو ثریا کی بلندیوں تک پہنچا دے۔

مسلم دنیا پر مصائب کی گھٹاؤں اور اقبالؔ کی دِل گرفتگی کی کیفیت بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی رقم طراز ہیں:-

یہ نظم علامہ نے اُس دور میں کہی تھی جب ایران اور ترکی مصیبتوں کا شکار تھے اور دنیا کے دوسرے مُلک نصاریٰ سے سازباز کر رہے تھے۔ علامہ کو اس صورتِ حال پر بے حد صدمہ تھا۔ جب اُن کا اضطراب بڑھا اور حالات کی اصلاح کی کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی تو اُنہوں نے بےقراری کے عالم میں یہ نظم کہی۔

ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی، شرح بانگِ درا

نظم کی تخلیق کے ماحول اور اُس کے آغاز کے بارے میں میرزا جلال الدین بیرِسٹر کی روایت مولانا غلام رسول مہر نے یوں نقل کی ہے:-

میرزا جلال الدین بیرسٹر ایٹ لاء فرماتے ہیں کہ اقبالؔ ہر شام بلاناغہ میرے ہاں تشریف لاتے تھے، وہاں گانا بھی ہوتا تھا۔ جب اُن کا قلب متاثر ہونے لگتا:-

وہ ایک دھیمی آواز میں گنگنانا شروع کرتے جس کے ساتھ ساتھ اپنے داہنے زانو کو ہاتھ سے تھپکتے جاتے۔ سازندے جو اقبالؔ کی طبیعت سے واقف تھے نہایت مدھم سُروں میں ایک قسم کی تال سی دیتے اور وہ اپنی مخصوص لَے میں، جس کی دِلکشی کا اظہار الفاظ میں نہیں ہو سکتا، اپنے اشعار پڑھنے شروع کر دیتے اور اُن کی آواز سازوں کی ہم آہنگی کی وجہ سے کچھ ایسی دِل نواز ہو جاتی کہ ایک سماں سا بندھ جاتا۔ ”یارب! دِلِ مُسلِم کو وہ زندہ تمنّا دے“ والی نظم کی بنیاد بھی ایک ایسی ہی مجلس میں رکھی گئی تھی اور مِلّی ترانے کا پہلا شعر بھی اِسی حالت میں موزوں ہوا تھا۔

ملفوظاتِ اقبالؔ، صفحہ 68
مطالبِ بانگِ درا از مولانا غلام رسول مہر
سماعت فرمائیے
YouTube video

تشریح

شعر 1

یا رب! دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنّا دے
جو قلب کو گرما دے، جو رُوح کو تڑپا دے

معانیالفاظ
عمل پر آمادہ رکھنے والی آرزوزندہ تمنّا
دِل میں جوش پیدا کرناقلب کو گرمانا

تشریح:

اے خداوند! مسلمان کے سینے میں عشقِ رسول اللہ ﷺ کی ایسی آگ روشن کر دے جو اُس کے دِل کو بیدار کر دے اور اُس کی روح کو سراپا اضطراب بنا دے۔ ایک جیتی جاگتی اور ہر وقت جہد و عمل کے لیے بے قرار رکھنے والی خواہش، جس سے مسلم عمل کے لیے بے قرار ہو کر اُٹھ کھڑا ہو اور تبلیغ و اشاعتِ اسلام کے لیے آمادہ ہو جائے۔

شعر 2

پھر وادیِ فاراں کے ہر ذرّے کو چمکا دے
پھر شوقِ تماشا دے، پھر ذوقِ تقاضا دے

معانیالفاظ
فاراں: (مکہ کی ایک پہاڑی) خانہ کعبہ۔ سرچشمۂ اسلاموادیِ فاراں
دیکھنے کی خواہششوقِ تماشا
تجلّیاتِ الہی سے بہرہ اندوز ہونے کی تمنّاذوقِ تقاضا

تشریح:

اے مولا! ایک بار پھر حرمِ کعبہ (وادیِ فاراں) کے ایک ایک ذرے کو منوّر (روشن) فرما دے اور پھر مسلم میں نظارے کا شوق (شوقِ تماشا) اور تقاضے کی تمنا (ذوقِ تقاضا) پیدا کر دے۔

اِس شعر کے دو معنی ہیں- پہلا یہ کہ مسلمانوں کے دِلوں میں حجاز کی محبت پیدا کر دے اور اُن کے دِلوں میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی زیارت کا شوق پیدا کر دے۔ دوسرا معنی یہ کہ اسلام (قرآن) کے حقائق اور معارف کو مسلمانوں کے قلوب پر واضح کر دے، اُن کا سینہ فہمِ قرآن کے لیے کھول دے، اُنہیں مطالعہ کا شوق دے اور روحانیت حاصل کرنے کا (تجھ سے رابطہ پیدا کرنے کا) ذوق دے۔

شعر 3

محرومِ تماشا کو پھر دیدۂ بِینا دے
دیکھا ہے جو کچھ میں نے اَوروں کو بھی دِکھلا دے

معانیالفاظ
جو نظارے سے محروم ہو، اندھا، جو دیکھ نہ سکےمحرومِ تماشا
دیکھنے والی آنکھ، بصیرتدیدۂ بینا

تشریح:

اے اللہ! مسلمان دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکے ہیں۔ محرومِ تماشا (دیکھنے کی صلاحیت سے محروم) مسلم کو پھر دیکھنے والی آنکھ (دیدۂ بینا) سے نواز۔ الہی! اس میں پھر اپنا عشق اور توحید و اسلام سے وابستگی پیدا کر دے اور جو حالات مجھے نظر آرہے ہیں، دوسرے مسلمان بھی اُن سے آگاہ ہو جائیں۔ اُن کے دِل میں سرکارِ دو عالم ﷺ کی محبت پیدا کر دے اور جو آگ خدمتِ اسلام کی میرے سینے میں روشن ہے، وہی اُن کے سینوں میں روشن کر دے۔

شعر 4

بھٹکے ہوئے آہُو کو پھر سُوئے حرم لے چل
اس شہر کے خُوگر کو پھر وسعتِ صحرا دے

معانیالفاظ
راستہ بھولا ہوا ہرن، مراد بھٹکا ہوا مسلمانبھٹکا ہوا آہو
کعبہ کی طرف، یعنی اسلام کی طرفسوئے حرم
شہر کا عادیشہر کا خُوگر
ریگستان کا سا پھیلاؤ، دُنیا میں پھیلناوُسعتِ صحرا

تشریح:

آج کے مسلمان کی حالت اُس ہرن (آہو) جیسی ہے جو اپنا راستے سے بھٹک چکا ہو۔ اے اللہ! اسے پھر اپنی منزل یعنی خانہ کعبہ اور اسلام کی طرف لوٹا دے۔ اسے پھر اسلام اور بانیِ اسلام ﷺ کی محبت عطا فرما۔ یہ شہر کا عادی ہو چکا ہے، اس کی نظریں تنگ اور حوصلے پست ہیں، یہ تن آسان ہو کر اپنی صلاحیتوں سے محروم ہو چکا ہے۔ یا اللہ اسے پھر سے صحراؤں کی وُسعت اور پھیلاؤ عطا فرما تاکہ سخت کوشی سے اس کی صلاحیتیں نِکھر سکیں۔ اس کی فکر کو پھر صحرا کا پھیلاؤ عطا کر جس سے نگاہوں میں تیزی اور حوصلوں میں بلندی پیدا ہو اور یہ غفلت و کاہلی چھوڑ کر جہد و عمل سے اپنی عظمت و بقا کا سامان کر سکے۔

شعر 5

پیدا دلِ ویراں میں پھر شورشِ محشر کر
اس محملِ خالی کو پھر شاہدِ لیلا دے

معانیالفاظ
اسلام کے جذبے سے خالی دِلدِلِ ویراں
قیامت کا سا ہنگامہشورشِ محشر
خالی محمل۔ مراد حضور اکرم ﷺ کے عشق سے خالی دِلمحملِ خالی
محبوب لیلیٰ، مراد جذبۂ ایمانشاہدِ لیلا

تشریح:

یا اللہ! آج کے مسلمان کا دِل اُجڑا ہوا ہے۔ اس میں کسی عظیم تمنّا و آرزو کا سُراغ نہیں مِلتا، وجہ یہ ہے کہ اُس کا سینہ عشقِ رسول اللہ ﷺ سے خالی ہو چکا ہے۔ اس ویران یعنی جذبوں سے محروم دِل میں عشقِ رسول اللہ ﷺ کی آگ بھڑکا کر پھر قیامت (محشر) کا سا ہنگامہ پیدا کر دے۔ وہی طوفان جو مسلمانوں کے عظیم اسلاف کے قلوب میں برپا تھا۔ اِن کے دِلوں میں عظیم انقلاب اور جذبے پیدا فرما دے اور اس خالی محمل (مراد ہے دِل) کو پھر لیلیٰ جیسی محبوبہ عطا فرما۔ یعنی اُس کے دِل میں سرکارِ دو عالم ﷺ کی محبت پیدا کر اور حضور ﷺ کے عشق میں دیوانہ بنا دے۔

شعر 6

اس دور کی ظُلمت میں ہر قلبِ پریشاں کو
وہ داغِ محبّت دے جو چاند کو شرما دے

معانیالفاظ
اندھیرا، تاریکی، بُرائیاں، خرابیاںظُلمت
فکرمند دِلقلبِ پریشاں
عشق کا زخمداغِ محبّت

تشریح:

آج کے دور کی تاریکی میں ہر دِل پریشان و بے قرار ہے۔ تُو ایسے ہر دِل میں عشقِ رسول اللہ ﷺ کا ایسا داغ پیدا فرما دے جس کی چمک چاند کو بھی شرمادے، یعنی یہ داغ اپنی دِلکشی، حُسن و جمال اور کمال میں چاند کی روشنی سے بڑھ کر ہو ۔ باطل قوتیں چھائی ہوئی ہیں، جس کے باعث مسلمان بے حد پریشان ہیں۔ اے ربِ کریم! اُن کے دِلوں میں ایمان و عشقِ حقیقی کی عظیم روشنی پیدا فرما دے، اُن کے کے عشق کو درجۂ کمال تک پہنچا دے۔ وہ سچے مسلمان بنیں اور باطل قوتوں سے بے خوف ہو کر ٹکرا جائیں۔

شعر 7

رفعت میں مقاصد کو ہمدوشِ ثریّا کر
خودداریِ ساحل دے، آزادیِ دریا دے

معانیالفاظ
بلندیرفعت
ثریّا جتنا اونچا، بہت بلندہمدوشِ ثریّا

تشریح:

مسلمانوں کے مقاصد اتنے عظیم و بلند فرما دے جو ثریا کے ہم پلہ ہوں۔ ان کے دِلوں میں ساری دنیا کو اسلام کے نور سے منوّر کرنے کی آرزو پیدا کر دے۔

اُن میں ساحل کی سی خودداری اور دریا کی سی آزادی کا جذبہ پیدا فرما دے۔ دریا جب چاہتا ہے اپنے ساحل (کنارے) کو پانی کی لہروں سے کاٹ دیتا ہے لیکن ساحل خودداری کے باعث رحم کی التجا نہیں کرتا۔ نیز دریا سے وابستہ ہونے کے باوجود کبھی دریا سے پانی طلب نہیں کرتا۔

دریا کی آزادی یہ ہے کہ وہ جدھر کو اس کا جی چاہے، بے روک ٹوک بہنے لگتا ہے۔ گویا مسلمان دوسری قوموں اور باطل قوموں کا دست نگر ہونے کی بجائے اپنے جہد و عمل سے اپنے عظیم مقاصد حاصل کرے۔ مسلمانوں کے اِرادوں میں بلندی عطا فرما اور اُن میں غیرت، خودداری اور حُریّت کے جذبات پیدا کر دے۔

شعر 8

بے لَوث محبّت ہو، بے باک صداقت ہو
سینوں میں اُجالا کر، دل صورتِ مینا دے

معانیالفاظ
آلودگی (ملاوٹ) سے پاکبے لوث
خوف سے پاک سچّائیبیباک صداقت
مانند، طرحصورت
شراب کی صراحیمینا

تشریح:

الہی! مسلمانوں کے دِل میں ایسی محبت بھر دے جس میں لالچ کا شائبہ تک نہ ہو اور اُنہیں بے خوف ہو کر سچ بولنے کی توفیق عطا فرما۔ اُن کے سینوں میں توحید کی روشنی پیدا فرما دے اور یوں اُن کے قلوب کو نورِ ایمان سے منوّر کر دے۔ اُنہیں شراب کی صراحی (مینا) کی طرح روشن، چمکتے اور جذبوں و ولولوں کے حامل کے دِلوں سے نواز۔ اُن کے دِل صراحی کی مانند ہو جائیں جو جو دوسروں کو فیض پہنچانے کے لیے خود خالی ہو جاتی ہے

شعر 9

احساس عنایت کر آثارِ مصیبت کا
امروز کی شورش میں اندیشۂ فردا دے

معانیالفاظ
مصیبت کے آثار، مصیبت کی علاماتآثارِ مصیبت
آج، حال کا زمانہامروز
ہنگامہشورش
آنے والی کل کی فکراندیشۂ فردا

تشریح:

یا اللہ! آج مسلمانوں کی مِلّی زندگی چاروں طرف سے مصائب و آلام میں گھری ہوئی ہے اور انہیں اِن مصیبتوں کا احساس تک نہیں ہے۔ یہ بے حسی کا شکار ہیں۔ مسلمانوں میں اتنی سمجھ عطا فرما کہ وہ آنے والی مصیبتوں کا احساس کرکے، اُن کو دفعیہ کا انتظام کر سکیں اور آج (امروز) کے ہنگاموں میں وہ کل (فردا) سے متعلق بھی کچھ سوچ سکیں، کیونکہ جو شخص آئندہ کے لیے پہلے سے تیاری نہیں کرتا وہ عین وقت پر کچھ نہیں کر سکتا۔ مثلاً جو طالب علم سالانہ امتحان کے لیے، جو ایک سال بعد ہوگا، ابھی سے تیاری نہیں کرتا، وہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اِنہیں توفیق عطا فرما کہ آج جن حالات سے وہ گزر رہے ہیں، اُن سے سبق حاصل کریں اور اپنے عظیم مستقبل کے بارے میں سوچیں، جہد و عمل و سعی و کوشش میں لگ جائیں اور اپنا مستقبل عظیم و باشان و شِکوہ بنا لیں۔

شعر 10

مَیں بُلبلِ نالاں ہوں اِک اُجڑے گُلستاں کا
تاثیر کا سائل ہوں، محتاج کو، داتا دے!

معانیالفاظ
فریاد کرنے والی بُلبُل، مراد علامہ اقبالبُلبُلِ نالاں
اُجڑا ہوا باغاُجڑا گُلستان
اثرتاثیر
عرضی گزارم فریادی، طالب، آرزومند، خواہاںسائل
ضرورت مند، حاجت مند، خواہش مند، خواہاں، طلب گار، متقاضیمحتاج
دینےوالا، سخیداتا

تشریح:

یا اللہ پاک! میری حیثیت مِلّتِ اسلامیہ کے اُجڑے ہوئے باغ میں آہ و فغاں بُلند کرنے والے بُلبُل کی سی ہے۔ میں ایک ایسی قوم کا فرد (شاعر) ہوں جو برباد ہوچکی ہے۔ مِلّتِ اسلامیہ کے حالات دیکھ کر میں بے حد صدمے میں ہوں اور اپنے صدمے کا اظہار اپنی شاعری میں کر رہا ہوں تاکہ اس کا اثر لے کر مِلّت بیدار ہو جائے۔ الہی! تُو سب کی مُرادیں پوری کرنے والا اور اسب کو عطا کرنے والا ہے، لہذا میں تیری بارگاہ میں درخواست کرتا ہوں کہ تُو میرے کلام میں ایسی تاثیر پیدا فرما دے کہ میرا کلام میری قوم کے دِلوں کو گرما سکے۔

؎ مبتلائے درد کوئی عُضو ہو روتی ہے آنکھ
کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ

(بانگِ درا: شاعر)

تبصرہ

یہ نظم زوال پذیر ملتِ اسلامیہ کے زخموں پر اقبالؔ کے دل کی سب سے درد بھری پکار ہے۔ علامہ اقبال نے استدلال اور شکوے کے بجائے بارگاہِ صمدیت میں مکمل عاجزی کے ساتھ ایک نئے ایمانی جنون اور زندہ تمنا کی درخواست فرمائی ہے۔ اُن کے نزدیک قوم کی نجات محض بیرونی تدبیروں سے ممکن نہیں بلکہ اُس کے باطن میں عشقِ صادق کی اُس چنگاری کا سلگنا ضروری ہے جو دلوں کو گرما کر خودداری اور آزادی کا ولولہ عطا کر دے۔

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *