Skip to content

ضربِ کلیم 46: تقدیر (ابلیس و یزداں)

تعارف

نظم ”تقدیر (ابلیس و یزداں)“ علامہ اقبال کے مجموعۂ کلام ”ضربِ کلیم“ کی معرکہ آرا تمثیل ہے جس میں جبر و قدر (Free Will vs Determinism) کے دقیق مسئلے کو ابلیس اور باری تعالی کے مکالمے میں حل کیا گیا ہے۔

ابلیس نے سجدہ نہ کرنے پر عذر پیش کیا کہ یہ تیری ہی مشیت میں لکھا تھا؛ جب خدا نے پوچھا کہ یہ راز تجھ پر گناہ سے پہلے کھلا یا بعد میں، تو ابلیس نے کہا بعد میں۔ اس پر باری تعالی نے ملائکہ سے فرمایا کہ دیکھو یہ ظالم اپنے کیے گئے گناہ کو مشیت کا نام دے کر اپنی آزادی کو مجبوری کہہ رہا ہے۔

تقدیر، ارادۂ انسانی اور جبر و اختیار کے پیچیدہ فلسفیانہ مسئلے پر اقبالؔ کے فکری ارتقا کا جائزہ لیتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

زمان و مکان کے مسئلہ کے بعد اقبالؔ کو تقدیر کے مسئلہ سے بہت زیادہ دلچسپی رہی، چنانچہ اُنہوں نے ان دونوں اہم مسئلوں پر بہت کچھ لکھا ہے۔ اسرارِ خودی مطبوعہ 1914ء سے لے کر ارمغانِ حجاز، مطبوعہ 1938ء تک ہر کتاب میں ان دونوں مسئلوں پر مختلف پہلوؤں سے روشنی ڈالی ہے۔ چنانچہ اِس نظم میں اُنہوں نے شیخ اکبر حضرت محی الدین المعروف ابن عربی کی شہرۂ آفاق کتاب فصوص الحکم سے مسئلۂ تقدیر سے متعلق کچھ مطالب اخذ کر کے، شعر کے لباس میں پیش کیے ہیں۔ بنیادی تخیّل تو شیخ کا ہے، اندازِ بیاں اقبالؔ کا ہے۔

نوٹ: شیخ اکبر دنیا کے اُن چند لوگوں میں سے ہیں جن کے خیالات کو ہر صدی میں صرف چند لوگوں نے سمجھا۔ اگرچہ اقبالؔ، شیخ اکبر کے خیالات سے مکمل طور پر متفق نہیں تھے لیکن اُنہوں نے ان کی تصانیف کا مطالعہ بہت غور سے کیا تھا، اور خود ایک مرتبہ مجھ سے کہا تھا کہ دنیا میں چار آدمی ایسے ہیں کہ جو شخص اُن میں سے کسی ایک کے طلسم میں گرفتار ہو جاتا ہے، مشکل ہی سے رہائی پاتا ہے۔ میں نے سراہا اشتیاق بن کر پوچھا، وہ کون ہیں؟ جواب دیا: ابنِ عربی، شنکر آچاریہ، بیدلؔ اور ہیگل۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح ضربِ کلیم
سماعت فرمائیے
YouTube video

ابلیس

شعر 1

اے خدائے کُن فکاں! مجھ کو نہ تھا آدم سے بَیر
آہ! وہ زندانیِ نزدیک و دُور و دیر و زُود

معانیالفاظ
وہ خدا جس نے کُن (ہو جا) کہا تو فکاں (سب کُچھ ہو گیا)، قرآنی آیت کی طرف اشارہ ہے، مراد کُل مخلوق کا خداخدائے کُن فکاں
دُشمنیبیر
قیدیزندانی
نزدیک اور دُور یعنی مکان کا قیدیزندانیِ نزدیک و دُور
دیر اور جلد یعنی زمان (وقت)، مراد زمان و مکان کے چکّر میں گرفتاردیر و زُود

تشریح:

ابلیس خدا کے حضور میں گِڑ گِڑا رہا ہے کہ اے وہ خدا! جس نے کن (ہو جا) کہا تو فکاں (سب کچھ) ہوگیا ( یعنی خدائے کن فکاں) کہ جس نے ساری کائنات اور اس میں جو کچھ ہے، پیدا کیا ہے۔ مجھے آدم سے کوئی دشمنی (بیر) نہ تھی، کہ جب تُو نے مجھے حکم دیا کہ اسے سجدہ کرو تو میں نے نہیں کِیا، میرا یہ انکار دشمنی کی وجہ سے نہ تھا۔ مجھے آدم سے دشمنی کی ضرورت ہی کیا تھی کہ وہ تو خود نزدیک اور دور، جلدی اور دیر کے (زندانیِ نزدیک و دُور و دیر و زُود) یعنی زمان ومکان کے گورکھ دھندوں میں پھنسا ہوا ہے۔

شعر 2

حرفِ ’اِستکبار‘ تیرے سامنے ممکن نہ تھا
ہاں، مگر تیری مشیّت میں نہ تھا میرا سجود

معانیالفاظ
غرور، تکبّر یا بڑائی کی باتحرفِ استکبار
مرضی، مراد ہے خدا کی مرضی / ارادہمشیّت
سجدہ کی جمع۔ مراد سجدہ کرناسجود

تشریح:

اور نہ ہی مجھ میں اس قدر جسارت ہو سکتی ہے کہ میں تیرے سامنے صاف لفظوں میں تیرے حکم کی تعمیل سے انکار کرتا۔ لیکن یہ انکار جسے اے خدا تُو ”حرفِ استکبار“ سے تعبیر کرتا ہے، اس لیے سرزد ہوا کہ تیری مشیّت (مرضی / ارادہ) ہی یہ نہ تھی کہ میں آدم کو سجدہ کرُوں، یعنی میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ میرا سجدہ نہ کرنا تیری مرضی اور ارادے کے مطابق تھا، پس میں کسی طرح قابلِ سرزنش نہیں ہوں۔

اور جب ہم نے حکم دیا فرشتوں کو کہ سجدہ کرو آدم کو تو سب سجدہ میں گِر پڑے سوائے ابلیس کے، اس نے انکار کیا اور تکبر (غرور) کیا اور اس تکبر کی بنا پر کافروں میں شامل ہو گیا۔
(القرآن: سورۃ البقرہ: آیت نمبر 34)

یزداں

شعر 3

کب کھُلا تجھ پر یہ راز، انکار سے پہلے کہ بعد؟

معانیالفاظ
کب روشن یا ظاہر ہواکب کھُلا
بھیدراز

تشریح:

خدا (یزداں) شیطان کی اس صفائی پر، جو اس نے مذکورہ بالا اشعار میں دی ہے اس سے پوچھتا ہے کہ اچھا، اے ابلیس ذرا یہ تو بتا کہ ہماری مشیّت (مرضی / ارادہ) کا یہ راز، جس کا تُو اب ذکر کر رہا ہے، تیرے آدم کو سجدہ کرنے کے انکار سے پہلے کھلا یا بعد میں؟

ابلیس

شعر 4

بعد، اے تیری تجلّی سے کمالاتِ وجود!

معانیالفاظ
جلوہتجلّی
وجود (قدرت) کے کمالاتکمالاتِ وجود

تشریح:

(خدا کے اس سوال پر ابلیس جواب دیتا ہے کہ) اے ذاتِ اقدس! ہستی کے تمام کمالات تیری ہی تجلّی کا کرشمہ ہیں، یہ راز مجھے پر انکار کے بعد کھُلا۔

یزداں (فرشتوں کی طرف دیکھ کر)

شعر 5

پستیِ فطرت نے سِکھلائی ہے یہ حُجتّ اسے
کہتا ہے ’تیری مشیّت میں نہ تھا میرا سجود

معانیالفاظ
فطرت کا پست ہونا، گھٹیا پنپستیِ فطرت
دلیلحُجّت
مرضی، مراد ہے خدا کی مرضی / ارادہمشیّت

تشریح:

اللہ تعالی نے ابلیس کا جواب سن کر فرشتوں کی طرف دیکھا اور ان سے مخاطب ہو کر فرمایا: سن رہے ہو یہ کیا عرض کر رہا ہے! اس کی فطرت کی پستی نے اِسے یہ دلیل سکھائی ہے کہ ”میں انکار پر مجبور تھا، کیونکہ تیری مرضی ہی نہ تھی کہ میں آدم کو سجدہ کروں“۔ انکارِ سجدہ اس نے اپنی مرضی سے کیا اور اب بہانہ کر رہا ہے کہ اے خدا! میں نے جو کچھ کیا تیری مرضی سے کیا ہے یعنی تیرے ارادے اور مرضی میں اگر میرا آدم کو سجدہ کرنا ہوتا تو میں ضرور آدم کو سجدہ کرتا، اس کی یہ بات بالکل غلط ہے۔

شعر 6

دے رہا ہے اپنی آزادی کو مجبوری کا نام
ظالم اپنے شُعلۂ سوزاں کو خود کہتا ہے دُود!

معانیالفاظ
آگ کی لپیٹشعلہ
جلا دینے والا شعلہشعلۂ سوزاں
دھواںدُود

تشریح:

دیکھو تو یہ فریب خوردہ کس قدر دروغ گوئی سے کام لے رہا ہے، اپنی کردہ گناہی کو خدا کی تقدیر بنا کر پیش کر رہا ہے اور تقدیر کا غلط مفہوم بتا رہا ہے۔ میں نے اس کو اس معاملہ میں آزادی دی تھی، یعنی اُسے اختیار بخشا تھا، خواہ یہ سجدہ کرے یا نہ کرے۔ یہ ظالم اپنے شعلۂ سوزاں کو خود ہی دھوئیں سے تعبیر کر رہا ہے، اختیار کو جبر سے تعبیر کر رہا ہے، آزادی کو مجبوری کا نام دے رہا ہے— یعنی سراسر غلط بیانی کر رہا ہے، خود ہی اپنے وقار اور مقام کی تذلیل کر رہا ہے۔

تبصرہ

یہ کلام دوٹوک طور پر ثابت کرتا ہے کہ انسان اپنے اعمال میں خود مختار ہے اور بے عملی یا گناہ کے بعد تقدیر کا بہانہ بنانا ابلیسی ذہنیت ہے۔ انسان اپنے شعلۂ سوزاں کو خود دھوئیں کا نام دے کر اپنی آزادی اور ذمہ داری سے فرار اختیار نہیں کر سکتا۔

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *