فہرست
تعارف
نظم ”کوششِ ناتمام“ مجموعۂ کلام ”بانگِ درا“ کے دوسرے دور کی ایک نہایت عمیق اور فلسفیانہ نظم ہے۔ اِس میں علامہ اقبال نے یہ واضح کِیا ہے کہ زندگی مسلسل حرکت، جدوجہد اور تَگ و دو پر موقوف ہے۔
تشریح
فُرقتِ آفتاب میں کھاتی ہے پیچ و تاب صُبح
چشمِ شفَق ہے خوں فشاں اخترِ شام کے لیے

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| جُدائی | فُرقت |
| سورج | آفتاب |
| بے چین ہونا، کشمکش | پیچ و تاب کھانا |
| آنکھ | چشم |
| طلوع اور غروبِ آفتاب کے وقت آسمان پر پھیلنے والی سُرخی | شَفَق |
| خوں رونے والی، خوں چھِڑکنے والی | خوں فِشاں |
| شام کا سِتارہ | اخترِ شام |
تشریح:
صبح کی روشنی سورج کی جدائی میں پیچ و تاب کھاتی ہے۔ شفق (شام کے وقت آسمان پر پھیلنے والی سُرخی) کی آنکھ شام کے تارے کی جُدائی میں خون کے آنسو روتی ہے۔
رہتی ہے قیسِ روز کو لیلیِ شام کی ہوس
اخترِ صبح مضطرب تابِ دوام کے لیے

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| مجنوں | قیس |
| شدید خواہش، آرزو، تمنّا | ہَوَس |
| صبح کا سِتارہ | اخترِ صبح |
| بے قرار، بے چین | مضطرِب |
| ہمیشہ چمکتے رہنا | تابِ دَوَام |
تشریح:
دِن کے مجنوں کو شام کی لیلیٰ کی آرزو رہتی ہے یعنی دِن شام کا آرزو مند ہے۔ صبح کا ستارہ اس لیے بے قرار ہے کہ اُسے ہمیشہ کی چمک مل جائے۔ چونکہ صبح کا ستارہ بہت جلد غروب ہو جاتا ہے اِسی وجہ سے اُسے تابِ دوام (ہمیشہ قائم رہنے والی چمک) کے لیے مضطر کہا ہے۔
کہتا تھا قطبِ آسماں قافلۂ نجوم سے
ہمرہو، میں ترس گیا لُطفِ خرام کے لیے

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| آسمان کا قطب نامی سِتارہ جو ہمیشہ ساکن اور ایک جگہ قائم رہتا ہے | قُطبِ آسماں |
| نجم کی جمع۔ مراد ستارے | نجوم |
| مراد ساتھیو | ہمرہو |
| چلنے کی لذت | لُطفِ خِرام |
تشریح:
قطب ستارہ، ستاروں کے قافلے سے کہہ رہا تھا کہ دوستو! میں تو چلنے کا لطف حاصل کرنے کے لیے ترس گیا ہوں۔ مراد یہ ہے کہ قطب ستارہ اپنی جگہ پر قائم رہتا ہے اور دوسرے ستاروں کی طرح گردِش نہیں کرتا، وہ چلنے کا مزہ لینا چاہتا ہے۔
سوتوں کو ندّیوں کا شوق، بحر کا ندّیوں کو عشق
موجۂ بحر کو تپش ماہِ تمام کے لیے

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| سوت کی جمع۔ پانی کے چشمے، نالے | سوتوں |
| سمندر | بحر |
| سمندر کی لہر | موجۂ بحر |
| پورا چاند۔ چودھویں کا چاند | ماہِ تمام |
تشریح:
سوتوں (نالوں) کو اِس بات کا شوق ہے کہ وہ ندیوں میں شامل ہو جائیں اور ندیاں سمندر میں شامل ہونے کے عشق میں مبتلا رہتی ہیں‘ جبکہ سمندر کی لہریں ماہِ کامل (چودھویں کے چاند) کے لیے تڑپتی اور بے قرار رہتی ہیں۔ سوتے ندیوں میں اور ندیاں سمندر میں شامل ہو جاتی ہیں۔ چودھویں کے چاند کی وجہ سے سمندر میں مدوجزر پیدا ہوتا ہے۔ لہروں کے ہِلتے رہنے کو تڑپ کہا ہے۔ یہ سب قدرت کا نظام ہے جو شروع سے چلا آ رہا ہے۔
حُسنِ ازل کہ پردۂ لالہ و گُل میں ہے نہاں
کہتے ہیں بے قرار ہے جلوۂ عام کے لیے

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| خدا کا حُسن | حُسنِ ازل |
| پوشیدہ، چھُپا ہوا | نِہاں |
| بے تاب، بے چین، مضطرِب | بے قرار |
| مراد کھُلا دیدار | جلوۂ عام |
تشریح:
حُسنِ ازل (محبوبِ حقیقی کا حُسن / جلوہ جو کائنات کی ہر شے میں ہے) جو لالہ اور گُلاب کے پھولوں کے پردے میں پوشیدہ ہے‘ سُنا ہے کہ وہ اپنے عام نظارے کے لیے بے قرار ہے۔
رازِ حیات پُوچھ لے خِضرِ خجستہ گام سے
زندہ ہر ایک چیز ہے کوششِ نا تمام سے

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| زندگی کا راز | رازِ حیات |
| ایک روایتی پیغمبر جن کو آبِ حیات پینے کی بدولت حیاتِ ابدی حاصل ہو گئی | خضرؑ |
| مبارک قدم رکھنے والا | خجِستہ گام |
| نامکمل جدوجہد | کوششِ ناتمام |
تشریح:
اے مخاطب! ان تمام باتوں کے باوجود اگر تُو زندگی کا راز پوچھنا چاہتا ہے تو مُبارک قدم (خجِستہ گام) والے خضرؑ سے پوچھ، وہ بتائیں گے کہ ہر چیز اُسی وقت تک زندہ ہے جب تک اُس کی کوشش ختم نہ ہو۔ جونہی کوشش ختم ہوگی زندگی کی بساط بھی لپٹی جائے گی۔
اِس نظم میں جدوجہد، حرکت اور کوشش کا سبق دِیا گیا ہے اور ثابت کِیا گیا ہے کہ کائنات کی ہر شے صرف تگ و دَو اور ایک دوسرے سے عشق کی بِنا پر زندہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت خضر نے آبِ حیات پِیا‘ جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ وہ کسی کو نظر نہیں آتے لیکن ہر وقت مصروفِ سفر رہتے ہیں (ملاحظہ ہو نظم خضرِ راہ) اور کسی نہ کسی صورت میں بھولے بھٹکے انسان کی رہنمائی اُن کا کام ہے۔
تبصرہ
یہ نظم اقبالؔ کے حرکیاتی فلسفۂ حیات کا خوبصورت ترین اظہار ہے۔ اُن کے نزدیک سکون اور ٹھہراؤ دراصل موت کی علامت ہے، جبکہ مسلسل حرکت اور نامکمل تمناؤں کی تگ و دو ہی زندگی کو تازگی بخشتی ہے۔ کائنات کا سارا اِرتقا اسی بے قرار جستجو کا مرہونِ منت ہے جو ہر ذرے کو مسلسل آگے بڑھاتی رہتی ہے۔
حوالہ جات
- شرح بانگِ درا از پروفیسر یوسف سلیم چشتی
- شرح بانگِ درا از ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی
- شرح بانگِ درا ا ڈاکٹر شفیق احمد
- شرح بانگِ درا از اسرار زیدی
- شرح بانگِ درا از پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی
- مطالبِ بانگِ درا از مولانا غلام رسول مہر
- آوازِ اقبال – بانگِ درا مع مطالب از نریش کمار شادؔ







