Skip to content

بانگِ درا 63: محبّت

فہرست

تعارف

نظم ”محبّت“ علامہ اقبال کے تخیّل کا ایک حسین شاہکار ہے۔ اِس تمثیلی نظم میں ازل کے خاموش سُکُوت سے لے کر محبت کے خمیر تک کی داستان رقم کی گئی ہے، جہاں ایک کیمیا گر نے مختلف عناصر کو مِلا کر وہ اکسیر تیار کی جس کے چھڑکتے ہی ذرّہ ذرّہ انگڑائی لے کر جاگ اُٹھا اور کارِ عالم کی گِرہ کھُل گئی۔

نظم کی اشاعت اور پس منظر کے حوالے سے مولانا غلام رسول مہر رقم طراز ہیں:-

یہ نظم جنوری 1906ء میں شائع ہوئی تھی جب اقبالؔ کیمبرج پہنچے تھے۔ اِس نظم میں اقبالؔ نے محبّت کے متعلق بنیادی چیزیں بیان کی ہیں:-

1- محبّت اکسیر کا ایک ایسا نُسخہ ہے، جسے فرشتے آدمی سے پوشیدہ رکھنا چاہتے ہیں۔
2- محبّت ہی کی وجہ سے اِس دُنیا میں زندگی پیدا ہوئی اور کائنات وجود میں آئی۔
3- محبّت کائنات کی مختلف چیزوں کے خواص لے کر بنی اور کائنات کی تمام چیزوں کا حُسن محبّت ہی سے پیدا ہوا۔

مولانا غلام رسول مہر، مطالبِ بانگِ درا
سماعت فرمائیے
YouTube video

تشریح

شعر 1

عروسِ شب کی زُلفیں تھیں ابھی ناآشنا خَم سے
ستارے آسماں کے بے خبر تھے لذّتِ رم سے

معانیالفاظ
رات کی دُلہنعروسِ شب
زُلف کی جمع۔ بالوں کا لچھا۔ مراد تاریکیزُلفیں
ناواقف، نہ جاننےوالانا آشنا
مُڑے ہونا، پیچ، بلخم
دوڑ جانے کا لُطف، دوڑ کر غائب ہوجانے کا مزہ، تگ و دو کا مزہلذّتِ رم

تشریح:

ابتدائی اشعار میں اقبالؔ دنیا کے آغاز کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رات کی دلہن کی زلفیں ابھی پیچ و خم سے واقف نہ ہوئیں تھیں یعنی ابھی کائنات میں دن اور رات کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا اور آسمان کے ستارے ابھی گردش کی لذّت سے ناواقف تھے، یعنی ابھی کائنات وجود میں آرہی تھی۔

شعر 2

قمر اپنے لباسِ نَو میں بیگانہ سا لگتا تھا
نہ تھا واقف ابھی گردش کے آئینِ مسلّم سے

معانیالفاظ
چاندقمر
نیا لباسلباسِ نو
اجنبیبیگانہ
کسی شے کے گِرد چکّر لگاناگردِش
پکا قانون، پُختہ قائدہآئینِ مُسلّم

تشریح:

چاند اپنے نئے لباس (روشنی اور وجود) میں اجنبی سا لگتا تھا۔ ابھی وہ گردش کے قانون سے آگاہ نہ ہوا تھا۔

آئینِ مُسلّم: فطرت کا قانون جسے ہر شے تسلیم کرتی ہے۔

شعر 3

ابھی امکاں کے ظُلمت خانے سے اُبھری ہی تھی دنیا
مذاقِ زندگی پوشیدہ تھا پہنائے عالم سے

معانیالفاظ
ممکن ہوناامکاں
تاریک جگہ، اندھیرا گھرظُلمت خانہ
زندگی گزارنے کا سلیقہمذاقِ زندگی
چھُپا ہواپوشیدہ
دُنیا کی وسعت، جہان کی فراخیپہنائے عالم

تشریح:

ابھی دُنیا اندھیرے گھر سے تازہ تازہ پیدا ہوئی تھی، یعنی عدم سے وجود میں آئی تھی اور اس جہان کی فراخی میں زندہ رہنے کا ذوق ابھی چھپا ہوا تھا، ظاہر نہ ہوا تھا۔ مُراد یہ ہے کہ دنیا میں ابھی ذی روح پیدا نہیں ہوئے تھے۔

شعر 4

کمالِ نظمِ ہستی کی ابھی تھی ابتدا گویا
ہوَیدا تھی نگینے کی تمنّا چشمِ خاتم سے

معانیالفاظ
زندگی کے نظام کی اِنتہاکمالِ نظمِ ہستی
شروعاتاِبتدا
ظاہرہویدا
نگینے کی خواہشنگینے کی تمنّا
انگوٹھی کی آنکھچشمِ خاتم

تشریح:

کائنات کے نظام کا کمال ابھی شروع ہو رہا تھا یعنی ابھی قوانینِ فطرت جاری نہیں ہوئے تھے اور انگوٹھی کی آنکھ سے نگینے کی آرزو ٹپک رہی تھی (انگوٹھی نگینے کے بغیر نامکمل ہوتی ہے، اس حوالے سے کائنات کی ابتدائی تنظیم کی طرف اشارہ ہے)۔

اِن اشعار کا مطلب یہ ہے کہ دنیا پیدا ہوچکی تھی مگر اس کا کاروبار جاری نہ ہوا تھا۔ نہ راتیں بنی تھیں، نہ ستاروں اور چاند کی گردش کا سامان ہوا تھا، نہ زندگی کی چہل پہل شروع ہوئی تھی۔ البتہ اس کے لیے سر و سامان تیار ہو چکا تھا۔

شعر 5

سُنا ہے عالمِ بالا میں کوئی کیمیاگر تھا
صفا تھی جس کی خاکِ پا میں بڑھ کر ساغرِ جم سے

معانیالفاظ
اوپر کی دُنیا، عرشعالمِ بالا
علمِ کیمیا کا ماہرکیمیا گر
صفائیصفا
پاؤں کی خاکخاکِ پا
ایران کے مشہور بادشاہ جمشید کا پیالہ۔ کہا جاتا ہے کہ بادشاہ جمشید کے پاس ایک ایسا پیالہ تھا جس میں وہ ساری دُنیا کے حالات دیکھ لیا کرتا تھاساغرِ جم

تشریح:

یہ سننے میں آیا ہے کہ عالمِ ملکُوت میں ایک کیمیا گر رہا کرتا تھا جس کے پاؤں کی خاک پاکیزگی میں جمشید کے پیالے سے بھی بڑھ کر تھی یعنی وہ دانائے اسرار و رموز تھا۔

شعر 6

لِکھا تھا عرش کے پائے پہ اک اِکسیر کا نسخہ
چھُپاتے تھے فرشتے جس کو چشمِ رُوحِ آدم سے

معانیالفاظ
کیمیا، سونا بنانے کا فن، شے جو کسی شے کی ماہیت کو بدل دےاکسیر
آدم کی رُوح کی آنکھچشمِ رُوحِ آدم

تشریح:

خدا تعالی کے عرش کے پائے پر ایک اکسیر کا نسخہ لکھا ہوا تھا۔

فرشتے اُس نُسخے کو روحِ آدم کی آنکھوں سے چھپائے رکھنے کی کوشش کرتے تھے یعنی یہ چاہتے تھے کہ اکسیر کا یہ نسخہ انسان کو معلوم نہ ہو، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر آدم اس سے واقف ہو گیا تو وہ ساری کائنات پر حکمران ہو جائے گا، دوسرے الفاظ میں خدا کا نائب بن جائے گا۔

شعر 7

نگاہیں تاک میں رہتی تھیں لیکن کیمیاگر کی
وہ اس نسخے کو بڑھ کر جانتا تھا اسمِ اعظم سے

معانیالفاظ
گھات میں رہناتاک میں رہنا
اللہ تعالی کے ناموں میں سے ایک بزرگ تر نام جس کے وِرد سے ہر شے کو تسخیر کیا جاسکتا ہےاسمِ اعظم

تشریح:

عالمِ بالا کا کیمیا گر اس نسخہ کی تاک میں لگا ہوا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہ نسخہ اپنی تاثیر میں اسمِ اعظم سے بھی بڑھا ہوا ہے۔

اسمِ اعظم: لفظی معنی خدا کا سب سے بڑا اور متبرک ترین نام، مراد ہے اللہ کا وہ اسمِ صفت جس میں غیر معمولی تاثیرات پوشیدہ ہیں۔

شعر 8

بڑھا تسبیح خوانی کے بہانے عرش کی جانب
تمنّائے دلی آخر بر آئی سعیِ پیہم سے

معانیالفاظ
تسبیح پڑھنا، حمد کہنا، ذکرِ اِلہی کرناتسبیح خوانی
دِل کی آرزو پوری ہوناتمنّائے دِلی بر آنا
مُسلسل کوششسعیِ پیہم

تشریح:

آخر وہ خدائے پاک کا ذکر کرتے ہوئے عرش کی جانب بڑھنے لگا۔

لگاتار کوشش کے بعد اُس کے دِل کی مراد بر آئی اور اُسے وہ نسخہ معلوم ہوگیا۔

شعر 9

پھرایا فکرِ اجزا نے اُسے میدانِ امکاں میں
چھُپے گی کیا کوئی شے بارگاہِ حق کے مَحرم سے

معانیالفاظ
گھُماناپھِرانا
مراد ہے نسخہ کے اجزاء (مُفردات) کی تلاش / فکرفکرِ اجزاء
ممکنات کا میدانمیدانِ امکاں
اللہ تعالی کا درباربارگاہِ حق
محرم، راز جاننے والا، رازداںمحرم

تشریح:

پھر اس نسخے کے اجزاء کی تلاش میں وہ اس جہان کے کونے کونے میں پھِرا۔ وہ خدا کی بارگاہ کا رازدان تھا۔ بھلا اُس کی نظروں سے کون سی چیز چھپ سکتی تھی؟

اس نسخے کے لیے اس نے جو اجزاء جمع کیے، ان کی کیفیت یہ ہے:- (آگے اشعار میں)

شعر 10

چمک تارے سے مانگی، چاند سے داغِ جگر مانگا
اُڑائی تیرگی تھوڑی سی شب کی زُلفِ برہم سے

معانیالفاظ
سیاہ داغ جو چاند میں ہوتا ہے، جِگر کا دھبہداغِ جگر
سیاہی، تاریکیتیرگی
راتشب
بِکھرے ہوئے بالزُلفِ برہم

تشریح:

تارے سے اُس نے چمک مانگی، چاند سے جگر کا داغ لیا اور رات کی بکھری ہوئی زلفوں سے تھوڑی سی سیاہی چرا لی۔

شعر 11

تڑپ بجلی سے پائی، حُور سے پاکیزگی پائی
حرارت لی نفَسہائے مسیحِ ابنِ مریمؑ سے

معانیالفاظ
پاک صاف ہوناپاکیزگی
نفس کی جمع۔ نفس، سانس، پھونکیںنفسہائے
حضرت عیسیٰ کے نفس سے۔ حضرت عیسیؑ حضرت مریمؑ کے بیٹے جو پھونک مار کر اللہ تعالی کے حُکم سے مُردوں کو زندہ کردیا کرتے تھےنفسہائے مسیحِ ابنِ مریم

تشریح:

پھر بے قراری کی کیفیت بجلی سے اور پاکیزگی حور سے حاصل کی اور تپش اور حرارت حضرت مریمؑ کے فرزندِ ارجمند حضرت عیسیؑ کی سانس سے حاصل کر لی (حضرت عیسیؑ پھونک مار کر اور یہ کہہ کر کہ اللہ کے حکم سے اُٹھ جا، مردوں کو زندہ کر دیا کرتے تھے۔)

شعر 12

ذرا سی پھر ربوبِیّت سے شانِ بے نیازی لی
مَلک سے عاجزی، اُفتادگی تقدیرِ شبنم سے

معانیالفاظ
رب ہونا، پروردِگاریربوبیّت
بے پروا ہونے کی شانشانِ بے نیازی
خاکساری، انکساریعاجزی
گِر پڑنا، عاجزیاُفتادگی

تشریح:

اس کے بعد جنابِ باری تعالی سے تھوڑی سی بے نیازی (محتاج نہ ہونے کی صفت) کی شان مانگ لی۔ واضح ہے کہ اللہ تعاکی کی سب سے نمایاں صفت یہ ہے کہ وہ بے نیاز (الصمد) ہے، کسی رنگ میں کسی کا محتاج نہیں۔

فرشتے سے عاجزی اور شبنم کی تقدیر سے اُفتادگی (خاکساری) لے لی۔

شعر 13

پھر ان اجزا کو گھولا چشمۂ حیواں کے پانی میں
مرکّب نے محبّت نام پایا عرشِ اعظم سے

معانیالفاظ
زندگی کا چشمہ، جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کا پانی پینے والا ہمیشہ زندہ رہتا ہے، جبکہ یہ محض ایک فسانہ ہے۔ مشہور ہے کہ حضرت خضر نے آبِ حیات پیا ہوا ہےچشمۂ حیواں
مختلف چیزوں سے مِل کر بننے والی چیزمرکّب
بلند مرتبے والا، خدا کا تختعرشِ اعظم

تشریح:

پھر اس نے ان تمام اجزاء کو آبِ حیات میں گھول لیا اور اِس طرح جو مرکب تیار ہوا، اُسے عرشِ اعظم سے محبّت کا نام دیا گیا۔

آبِ حیات: وہ فرضی چشمہ جس کا پانی پی لینے کے بعد موت نہیں آتی، مراد ہے ہمیشگی یا ابدیّت، محبّت ایک ابدی شۓ ہے۔

شعر 14

مُہوّس نے یہ پانی ہستیِ نوخیز پر چھِڑکا
گرہ کھولی ہُنر نے اُس کے گویا کارِ عالم سے

معانیالفاظ
کیمیا گرمُہوّس
نئی وجود میں آئی زندگیہستیِ نوخیز
مُشکل حل کرناگِرہ کھولنا
دُنیا کا کاروبارکارِ عالم

تشریح:

کیمیا گر نے یہ پانی اس ہستی پر چھڑکا جو ابھی ابھی پیدا ہوئی تھی۔

اُس کی کاری گری نے دنیا کے کاروبار کی گرہ کھول دی یعنی زندگی کے کاروبار کی مشکلات دور ہو گئیں۔ کیمیا گر کے اس ”ہنر“ نے کائنات کی تمام دشواریوں کو حل کر دیا، دنیا کا کارخانہ جو بند پڑا تھا، جاری ہو گیا۔

شعر 15

ہوئی جُنبش عیاں، ذرّوں نے لُطفِ خواب کو چھوڑا
گلے ملنے لگے اُٹھ اُٹھ کے اپنے اپنے ہمدم سے

معانیالفاظ
حرکتجُنبش
ظاہر ہوناعیاں
نیند کا مزہلُطفِ خواب
ساتھی، دوستہمدم

تشریح:

جب محبّت کار فرما ہوئی تو ذروں نے لطفِ خواب کو چھوڑا یعنی ذرّاتِ مادی حرکت میں آگئے اور ایک دوسرے سے گلے ملنے لگے (یعنی ذرّات میں ترکیب کا عمل شروع ہو گیا)۔

شعر 16

خرامِ ناز پایا آفتابوں نے، ستاروں نے
چٹک غُنچوں نے پائی، داغ پائے لالہ زاروں نے

معانیالفاظ
ناز سے چلناخرامَ ناز
سورجآفتاب
کھِلناچَٹَک
دھبّہداغ
لالہ کے پھولوں کا باغ / کھیتلالہ زار

تشریح:

اس مرکب کے چھینٹوں کا یہ اثر ہوا کہ آفتاب نے اپنی گردش کا آغاز کر دیا اور ستارے بھی منزل کی جانب روانہ ہو گئے۔

باغوں میں غنچے چٹک کر پھول بن گئے اور لالے کو اس کا داغ حاصل وہ گیا۔ مراد یہ ہے کہ محبّت ہی وہ جذبہ ہے جس کے طفیل کائنات کی ہر شے متحرک ہے اور اس میں زندگی کی لہر دوڑ رہی ہے۔

تبصرہ

یہ نظم کائنات کے ذرے ذرے میں محبت کے ازلی حُسن اور حرکت کو دریافت کرنے کا شاہکار ہے۔ اقبالؔ واضح کرتے ہیں کہ آفتاب و مہتاب کی تابانی، کلیوں کا چٹکنا اور چمن کی شادابی سب اسی محبت اور تخلیقی عشق کے فیضان سے وابستہ ہیں۔

علامہ اقبال کی شاعری کے دوسرے دور کے آغاز اور نظم کے فنی ارتقا پر تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

یہ علامہ اقبال کی شاعری کے دوسرے دور کی پہلی نظم ہے جس کی بندش یہ بتا رہی ہے کہ اُنہوں نے اِس کو بہت غور و فکر کے بعد مرتّب کیا ہوگا۔ اِس کے شاعرانہ محاسن سے بخوفِ طوالت قطع نظر کرتا ہوں اور معنوی خوبیوں میں سے بھی صرف ایک خوبی کی تفصیل پر اکتفا کرتا ہوں۔

واضح ہو کہ تصوف کی مسلمہ تعلیم یہ ہے کہ ”حرکت بدونِ محبّت، محال ہے“ یعنی اگر محبّت نہ ہوتی تو حرکت نہ ہوتی اور حرکت نہ ہوتی تو کائنات بھی نہ ہوتی یعنی اس کائنات کا وجود محبّت پر موقوف ہے۔ اقبالؔ نےتصوف کی اسی بنیادی تعلیم کو شاعرانہ انداز میں پیش کیا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ:-

1۔ محبّت باعثِ ایجادِ عالم ہے۔ وہ ایسی لطیف طاقت ہے جو اس کائنات کی رگ و پے میں جاری ہے۔
2۔ محبّت غیر مادی شے ہے۔ اس کے عناصرِ ترکیبی سب غیر مادی ہیں۔
3۔ محبّت دراصل کائنات کے تمام محاسن کا مجموعہ ہے اس لیے اس میں حُسن بھی پوشیدہ ہے۔
4۔ اقبالؔ نے اس نظم میں کائنات کے حُسن کو بھی ضمنی طور سے واضح کر دیا ہے۔ جس طرح چمک تارے کا حُسن ہے، اُسی طرح رات کا زیور ہے۔
5۔ محبّت ایک غیر فانی شے ہے، نیز یہ کہ محبّت نہ ہوتی تو یہ دنیا بھی نہ ہوتی۔
6۔ اس نظم میں اقبالؔ نے اپنے فنِ شاعری کے اُس پہلو کو نمایاں کیا ہے جسے رمزیت کہتے ہیں۔
7۔ یہ نظم علامہ نے 1902ء میں لکھی تھی اور اس کے مطالعہ سے یہ بات عیاں ہو سکتی ہے کہ اُنہوں نے اپنا مقصدِ حیات اسی زمانہ میں متعین کر لیا تھا یعنی دنیا کو محبّت کا درس دینا۔ چنانچہ اُن کی آئندہ شاعری تادمِ آخر اسی مقصد کے لیے وقفِ عمل رہی۔
8۔ دنیا میں جہاں کہیں کوئی حُسن و خوبی یا نیکی و صداقت ہے، وہ سب محبّت ہی کا پرتُو ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی نظر میں حُسن، صداقت اور نیکی، یہ تینوں ایک ہی چیز (محبّت) کے تین پہلو ہیں۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بانگِ درا

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *